یہا کلک کریں
JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
آخرکار کو جب ان دونوں نے سرتسلیم خم کردیااور ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرادیا اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم تو نے خواب سچا کردکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اورہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ ۔الصافات:103-107
اس امت کی پہلی نیکی اور بہتری، یقین اور زہد ہے اور اس کی پہلی خرابی بخل اور دنیا میں زیادہ رہنے کی آرزو ہے۔ ۔شعب الایمان للبیہقی

میاں طفیل محمد

سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان

مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی نے اشاعت دین کے لیے علمی اور عملی سطح پر جس کار عظیم کو منظم تحریک کی صورت دی، اسے دنیا جماعت اسلامی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ یہ کام اسلامی تہذیب کو درپیش چیلنج کا جواب بھی ہے اور مثبت صورت میں دعوت و تنظیم اور فکر وعمل کا سیل رواں بھی۔
سید مودودی نے بہ یک وقت قرطاس و قلم اور تحریک و تنظیم کا کام شروع کیا۔ اس دوران انھوں نے قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ و روایت سے فیض پاتے ہوئے بے مثال اسلامی لٹریچر تخلیق کیا اور اسلامی تاریخ میں ایک قابل رشک تحریک منظم کی۔ اس جماعت کو منظم رکھنے، بنانے اور سنوارنے میں جس محسن شخصیت کا بجا طور پر مرکزی کردار ہے، اس رجل عظیم کا نام میاں طفیل محمد ہے۔
محترم میاں طفیل محمد1944ء سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل،1966 ء سے1971ء تک مغربی پاکستان کے امیر اور مرکزی نائب امیر اور پھر1972ء سے1987ء تک اس کے امیر رہے۔ اس دوران انھوں نے اسلامی تاریخ اور اسلامی تحریکات کی تاریخ میں ناقابل فراموش مجاہد کا کردار ادا کیا۔ میاں صاحب کی شخصیت صرف ایک رنگ میں رنگی ہوئی ہے' اور وہ ہے اللہ کا رنگ(صبغۃ اللہ)۔ ان کے ہاں نہ تصنع ہے اور نہ بڑے لوگوں کا سا گریز، بلکہ وہ سراپا محبت،خلوص اور دین حق کے لیے اپنی زندگی کے لمحے لمحے کو قربان کردینے کی عملی تصویر ہیں۔
آئیے! میاں طفیل محمد صاحب کے حالات زندگی پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

پیدائش

میاں طفیل محمد نومبر1913ء میں مشرقی پنجاب کی ریاست کپورتھلہ کے ایک گاؤں صفدر پور ارائیاں کے ایک کاشت کار گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ تین بھائیوں اور چھ بہنوں میں سب سے بڑے ہیں۔ دوبھائی محمد صدیق اور محمد رشید اور تین بہنیں بچپن میں انتقال کر گئے تھے۔ آپ کے والد میاں برکت علی کاشت کار کے ساتھ اسکول ماسٹر بھی تھے۔ گھر کا ماحول بحیثیت مجموعی پاکیزہ اور پابندِ صوم وصلوۃ تھا، خصوصاً آپ کی والدہ دینی احکامات کی پابندی کا بہت زیادہ اہتمام کرتی تھیں۔ اس لیے شروع سے ہی آپ کی تربیت مذہبی انداز میں ہوئی۔

تعلیم

پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی جبکہ مڈل اپنے گاؤں سے تین کلومیٹر قصبہ نڈالہ کے اسکول سے کیا جہاں آپ پیدل جایا کرتے تھے۔میٹرک کا امتحان کپور تھلہ کے رندھیر ہائی اسکول سے فرسٹ ڈویژن میں امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا ، بعد ازاں رندھیر انٹر کالج' کپور تھلہ میں ایف ایس سی(پری انجینئرنگ) کے مضامین میں داخلہ لے لیا، اورانٹر کا امتحان بھی امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔ایف ایس سی کے بعد کالج سے رخصت ہونے لگے تو پرنسپل پروفیسر اربیل سنگھ نے آپ کے سرٹیفیکیٹ پر یہ الفاظ لکھے کہ "مجھے اس کا استاد ہونے پر فخر ہے۔"

گورنمنٹ کالج میں

کپور تھلہ میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے کوئی ادارہ نہ تھا اس لیے آپ لاہور آگئے اور یہاں گورنمنٹ کالج میں ریاضی اور فزکس کے ساتھ بی ایس سی آنرز میں داخلہ لیا۔ ان مضامین کے انتخاب میں یہ بات پیش نظر رہی کہ ہندؤوں نے یہ پراپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ یہ مضامین مشکل ہیں اور مسلمان طلبہ کند ذہن ہونے کی وجہ سے یہ مضامین پڑھ ہی نہیں سکتے۔ آپ نے یہ پراپیگنڈہ غلط ثابت کر دکھایا اور بی ایس سی کا امتحان بھی درجہ اول کے ساتھ پاس کیا اور وظیفہ بھی حاصل کیا۔ اسی زمانے میں مسلمانوں کی حالت زار اور مختلف مشاہدات نے آپ کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ آپ مادی لحاظ سے اپنا مستقبل بنانے کی جدوجہد کرنے کے بجائےاپنے دین،ملک اور قوم کا مستقبل بنانے کی کوشش کریں گے اور انگریز کی ملازمت نہیں کریں گے۔ چنانچہ آپ کے ساتھی بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے لیکن آپ نے ملک و قوم کی بہتری کا مشن سنبھالا اور اسی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔

ریاست کے پہلے مسلمان وکیل

بی ایس سی آنرزکے بعد آپ فزکس میں ایم ایس سی کرنا چاہتے تھے لیکن گھر والوں کے اصرار پرایل ایل بی کے لیے پنجاب یونیورسٹی لا کالج،لاہور میں داخلہ لیا۔ پہلے سال کا امتحان آپ نے درجہ اول میں پاس کیا اور1937ء میں ایل ایل بی کے امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر آپ کے اساتذہ میں سے ہیں۔ایل ایل بی کرنے کے بعد آپ نے جالندھر میں شیخ محمد شریف(بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج) کے ہمراہ وکالت شروع کی۔ ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد آپ نے کپورتھلہ منتقل ہو کر وہاں اپنی آزاد وکالت کا آغاز کردیا۔ آپ ریاست کپورتھلہ کے پہلے مسلمان(ایل ایل بی) وکیل تھے۔

زیارت نبوی

کپور تھلہ کالج میں پہلے سال میں آپ کو حضور نبی کریم کی زیارت نصیب ہوئی۔ اپنا خواب بیان کرتے ہوئے میاں صاحب کہتے ہیں " میں نے خواب دیکھا کہ اپنے مکان کی ڈیوڑھی سے ملحق بیٹھک میں سویا ہوا ہوں کہ باہر سے کسی صاحب نے مجھے آواز دی۔ آواز سن کر میں نے ڈیوڑھی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا۔ میں نے دیکھا کہ دروازے کے سامنے نیم کے درخت کے نیچے ایک پچاس پچپن سال کے نہایت ہی متین بزرگ کھڑے ہیں۔ سفید پگڑی، گورا رنگ، خوبصورت آنکھیں، سیاہ ڈاڑھی جس میں چند بال سفید، گھٹنوں تک سفید کوٹ میں ملبوس اور تہبند میں ملبوس۔ جسم قدرے دبلا، قد درمیانہ، پیشانی کشادہ۔ میں دروازے سے باہر نکل کر جب ان کے قریب پہنچا تو انھوں نے کوئی بات کیے بغیر مجھے سینے سے لگا لیا۔ میرے دل میں یہ بات ابھری کہ آپ آنحضرت صلی اللہ وسلم ہیں۔ بس اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خواب کے دوران اور اس کے بعد میرے دل میں یہ بات نقش ہو گئی کہ مجھے حضور نبی کریم سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔"

مولانا مودودی سے تعارف

کپورتھلہ میں وکالت کے دوران مولانا مودودی کے اولین ساتھی مستری محمد صدیق نے آپ کو ترجمان القرآن مطالعے کے لیے دیا۔ یہ میاں صاحب کا ترجمان القرآن اور مولانا مودودی کے نام سے پہلا تعارف تھا۔23 مارچ1940ء کو مسلم لیگ کے قرار داد پاکستان والے اجلاس میں میاں صاحب شریک تھے۔ اجلاس کے بعد آپ اسلامیہ پارک میں واقع سید مودودی کے گھر پر مولانا سے ملاقات کی۔ اس کے بعد اپریل1940ء میں مولانا مودودی نے کپور تھلہ میں ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ میاں صاحب اس میں شریک تھے۔ اس موقع پر بھی مولانا مودودی سے مختصر ملاقات رہی۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تاکید

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے کپور تھلہ میں ایک اجتماع سے خطاب کے بعد میاں صاحب کے مولانا مودودی بارے ایک استفسار کے جواب میں کہا تھا" وکیل صاحب، خدا لگتی پوچھتے ہو تو کرنے کا اصل کام وہی ہےجو سید کا وہ لاہوری لعل(مولانا مودودی ) کہتا ہے۔ باقی تو یہ سب پیٹ کے دھندے ہیں۔ اگر ہمت ہے تو اسی سید کے پاس جاو اور اس کے ساتھ مل کر کام کرو۔" شاہ صاحب کی اس بے آمیز بات نے میاں صاحب کو مولانا مودودی کی فکر اور لائحہ عمل کے بارے میں یکسو کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اور ہر طرح کے حالات میں سید مودودی کا ساتھ دیا

جماعت اسلامی کے تاسیسی اجتماع میں شرکت

میاں طفیل محمد جماعت اسلامی کے تاسیسی ارکان میں سے ہیں۔ اس اجتماع میں شرکت کا واقعہ بھی کافی دل چسپ ہے۔ آپ اپنی اہلیہ کو گھر لانے کے لیے سسرال صفدر پورجا رہے تھے۔ کپور تھلہ پہنچے تھے کہ چودھری عبدالرحمن اور مستری محمد صدیق نے بتایا کہ "ایک صالح جماعت کی ضرورت" کی تجویز کے مطابق مولانا مودودی کی دعوت پر لاہور میں اجتماع ہو رہا ہے۔ انھوں نے آپ کو بھی شرکت کی دعوت دی چنانچہ آپ سسرال جانے کے بجائے ان کے ہمراہ لاہور چل دیے۔ پہلے دن جماعت کے لیے مجوزہ دستوری خاکے پر بحث ہوئی۔ آپ جماعت کا دستور مرتب کرنے والی دستور ساز کمیٹی میں شامل تھے۔ دوسرے دن سید مودودی کے خطاب کے بعد جب تمام لوگوں نے اپنے آپ کو رکنیت کے لیے پیش کیا تو آپ نے بھی اٹھ کر کہا کہ "میں بھی اپنے آپ کو جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے پیش کرتا ہوں۔"
اس وقت آپ کی عمر27 برس تھی اور آپ حسب معمول کوٹ،پتلون،ٹائی میں ملبوس اور کلین شیو تھے۔ چنانچہ مولانا منظور نعمانی اس وضع قطع کو دیکھ کر اعتراض کیا کہ"ان فرنگی آلائشوں کے ساتھ کسی شخص کو جماعت اسلامی کی رکنیت میں کیسے لیا جا سکتا ہے۔" بعض دوسرے حضرات نے اس مؤقف کی تائید کی۔آپ کے اصرار اور اصلاح احوال کے وعدے پر مولانا مودودی نے تجویز دی کہ اگر چھ ماہ کے اندر ذریعہ معاش اور دوسری قابل اصلاح چیزوں کو درست کر لیا تو رکنیت برقرار رہے گی ورنہ ساقط کر دی جائے گی۔ اس طرح26 اگست1941 ء کو تاسیس جماعت کے موقع پر ہی آپ جماعت میں شامل ہوگئے۔اور مقرر کردہ میعاد سے پہلے23 جنوری1942ء کو شرائط داخلہ پوری کردیں۔

آزمائش کاآغاز

جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کرنے کے بعد آپ نے وکالت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو والدین نے سختی سے مخالفت کی، بلکہ والد صاحب نے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی، دیگر اقارب نےبھی سرزنش کی، بلکہ ریاست کے تمام سرکردہ مسمانوں نے وکالت ترک کرنے کی مخالفت کی۔ ہائی کورٹ کے ہندو ججوں تک نے سمجھانے کی کوشش کی۔ سب کہتے کہ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے روشن مستقبل تمھارا انتظار کر رہاہے۔ لیکن آپ نے جس دعوت کو حق سمجھ کر قبول کیا تھا اس کو چھوڑنے سے انکارکردیا، چنانچہ آپ کے بارے میں کہاجانے لگا کہ "اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔"21 جنوری1942ء کو آپ نے وکالت ترک کردی، گھر کا سامان گاوں بھجوا دیا اور خود لاہور آگئے۔ یہاں آکر تجارت کو ذریعہ معاش بنانا چاہا مگر رشوت، دھوکہ دہی اور فریب کے قریب نہ جانے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ میاں صاحب کے بقول"معاشی اعتبار سے یہ انتہائی پریشانی مگر روحانی لحاظ سے بڑے سکون و اطمینان کا دور تھا۔"

قیم جماعت اسلامی

مارچ1944ء میں دارالاسلام پٹھانکوٹ میں جماعت کا کل ہند اجتماع منعقد ہوا۔ اس میں جماعت کے کام اور اس کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ جماعت کے تنظیمی کام میں امیر جماعت کی مدد کے لیے ایک ہمہ وقتی قیم(سیکرٹری جنرل) مقرر کیا جائے جو ملک میں پھیلے ہوئے ارکان، جماعتوں اور متاثرین سے رابطہ رکھے، ملک کا دورہ کرے،کام کی رپورٹیں لے، ساری صورتحال سے امیر جماعت کو باخبر رکھے اور ان کی رہنمائی میں جماعت اور اس کے حلقہ اثر کو بڑھانے کی کوشش کرے۔ چنانچہ اس وقت کے امیر جماعت اسلامی لاہور ملک نصر اللہ خان کی تجویز آپ کو قیم مقرر کردیا گیا اورآپ نے17 اپریل1944ء کو دارالاسلام پہنچ کر جماعت کے کام کا چارج سنبھال لیا۔ قیم جماعت بننے کے بعد آپ نے تنظیمی امور کی طرف خاص توجہ دی، ارکان جماعت کو فعال کیا۔ اور ارکان و کارکنان سے رابطے اور دعوت و تنظیم کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کے لیے ہندوستان بھر میں دورے کیے۔ اس دوران آپ مذہبی و سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے ان تک جماعت کی دعوت پہنچاتے۔
میاں صاحب نے آغاز سے ہی اپنی پوری توجہ جماعتی امور پر مرکوز رکھی تاکہ امیر جماعت سید مودودی کو اپنے علمی اور فکری کاموں کو زیادہ سے زیادہ یکسوئی کے ساتھ کرنے کا وقت مل سکے۔ جماعت اسلامی اور سید مودودی کے ساتھ اس سفر میں کئی مراحل آئے، بڑے لوگ اسے چھوڑ کر گئے لیکن میاں صاحب کے ذہن میں کبھی اس کا خیال نہیں آیا۔آپ نے ہمیشہ سید مودودی کا ایک وفادار کارکن کی طرح ساتھ دیا، اور امیر جماعت بننے کے بعد ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔

ہجرت

14 اگست1947ء کو تقسیم ہند کے بعد آپ نے15 دن دارالاسلام پٹھان کوٹ میں گزارے۔ اس دوران جہاں آپ نے دارالاسلام اور ارد گرد میں آباد مسلمانوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا وہیں غیر مسلم دیہات میں بلاخوف و خطر وفود کے ساتھ گئے اور وہاں کے عوام و خواص کو فساد کے فوری اور دوررس اثرات سے آگاہ کیا۔ ان وفود کے جانےسے بلوائیوں نے سمجھا کہ یہ بہادر اور نڈر لوگ ہیں، اس طرح دارالاسلام قتل و غارت گری سے محفوظ رہا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ملیں کہ دارالاسلام پر زبردست حملہ ہوگا اور اسے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ لیکن جماعت کے دفاعی انتظامات کی وجہ سےکسی کو حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
حالات کی خرابی کے پیش نظر30 اگست کو آپ سید مودودی اور جماعت کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ہجرت کر کے لاہور آگئے۔ ہجرت کے بعد خود جماعت کے ساتھیوں کو رہائش اور دیگر ضروریات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا تھا لیکن وہ اپنے اہل و عیال کو اسلامیہ پارک میں ایک کیمپ میں بٹھا کر واہگہ، والٹن، شاہدرہ اور باولی کے مہاجر کیمپوں میں مہاجرین کی دیکھ بھال، امداد اور بحالی کے کام پر چلے جاتے۔ جماعت کے کم وبیش چھ سو رضاکاروں نے منظم طور پر، دن رات اور اپنے گھر بار کی پروا کیے بغیر خدمات انجام دیں۔ میاں صاحب اس کام میں پیش پیش رہے۔

پہلی گرفتاری

پاکستان "پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ" کے نعرے کے ساتھ وجود میں آیا تھااور مسلمانان برصغیر سے اسلام نظام حیات کا وعدہ کیا گیا تھا مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد مسلم لیگ کے لیڈروں کی طرف سے کہا جانے لگا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست کے بجائے سیکولر ریاست ہونا چاہیے۔ چنانچہ جماعت اسلامی نے مسلمانان برصغیر کی قربانیوں کو رائیگاں ہونے سے بچانےکے لیے اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ زور و شور سے اٹھایا۔ یہ بات حکومتی کارپردازان کو سخت ناگوار گزری چنانچہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا، سید مودودی کو جہادِ کشمیر کا مخالف ظاہر کیا گیا، کئی اور جھوٹے الزامات لگائے گئے، سید مودودی نے اپنے اور جماعت کے دفاع میں کچھ کہنا چاہا تو ان کے بیانات پر سنسر شپ ، اورجماعت کے اخبارات و رسائل پر پابندی عائد کردی گئی۔ ان ہتھکنڈوں کے باوجود اسلامی نظام کا مطالبہ زور پکڑتا گیا تو حکومت نے زچ ہوکر اس مطالبے کی آواز کو دھیما کرنے کے لیے جماعت کے رہنماوں کی گرفتاریاں شروع کردیں چنانچہ4 اکتوبر1948ء کو آپ کو گرفتار کر کے قصور جیل منتقل کردیا گیا۔(4 اکتوبر کو ہی مولانا مودودی کو گرفتار کر کے پہلے فیصل آباد اور پھر ملتان جیل منتقل کردیا گیا تھا۔) جبکہ14 اکتوبر کو آپ کو قصور سے ملتان جیل بھیج دیا گیا۔ اپریل1950ء میں نظربندی کی مدت میں توسیع ہوئی لیکن اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ میں قرار دیا کہ"پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو اٹھارہ ماہ سے زیادہ قید نہیں رکھا جا سکتا"۔ چنانچہ28مئی کو آپ کو مولانا مودودی کے ہمراہ ملتان سے رہا کردیا گیا۔ جیل میں قید کے دوران آپ نے سید مودودی سے سورہ یوسف سے سورہ الناس تک قرآن مجید سبقاً پڑھا۔ حدیث کی مشہور کتاب مؤطا امام مالک مع متن سبقاً مولانا امین اصلاحی صاحب سے پڑھی اور انہی سے اس دوران عربی زبان سیکھی۔
سید مودودی اور آپ کی گرفتاری کے بعد اسلامی نظام کے مطالبے کی شدت میں کمی آنے کے بجائے اس میں اضافہ ہوگیا چنانچہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے مجبور ہو کر12 مارچ کو قرارداد پاس کی جسے اب قرارداد مقاصد کہا جاتا ہے۔ اسے مولانا شبیر احمد عثمانی نے تیار کیا تھا اور یہ جیل میں مولانا مودودی کو دکھائی گئی تھی۔ اس قرارداد کے پاس ہونے کے بعد جماعت اسلامی نے پاکستان کے باقاعدہ اسلامی ریاست ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

اسلامی دستور کی مہم

قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی نے اسلامی دستور کی مہم چلائی۔ آپ اس مہم میں بھی پیش پیش رہے۔ جماعت اسلامی نے لاہور و کراچی اور دیگر مقامات پر اسلامی دستور کے حق میں جلسے کیے اور اس کے لیے آٹھ نکاتی مطالبات پیش کیے۔ یہ مہم چل رہی تھی کہ قادیانیوں کےخلاف تحریک ختم نبوت شروع ہو گئی اور حکومت نے وسیع پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں۔ آپ کو بھی28 مارچ کو سیدمودودیکے ہمراہ گرفتار کر کے سنٹرل جیل لاہور میں بند کردیا گیا۔ (اسی دوران سید مودودی کو "قادیانی مسئلہ" نامی پمفلٹ لکھنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ فیصلہ قومی و بین الاقوامی سطح پر شدید احتجاج کی وجہ سے حکومت کو واپس لینا پڑاتھا۔)اس بار میاں صاحب گیارہ ماہ جیل میں رہے اور فروری1954ء کے آخر میں رہا ہوئے۔

پہلی دستور ساز اسمبلی کا مقدمہ

جماعت اسلامی نے حکومت وقت کی ساری رکاوٹوں اور مظالم کے باوجود اسلامی دستور کی جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر حکومت کو اس مطالبے کوتسلیم کرنا پڑا اور وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے اعلان کیا کہ وہ25 دسمبر1954ء کو قائد اعظم کی سالگرہ کے موقع پر قوم کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کا تحفہ دیں گے۔ لیکن گورنر جنرل غلام محمد نے25 دسمبر سے قبل ہی بوگرا حکومت اور دستور ساز اسمبلی کو برخواست کر دیا۔ پورے ملک میں دہشت کی فضا مسلط کردی گئی، چاروں طرف سناٹا چھا گیا۔ اس غیر قانونی اقدام کے خلاف جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جس نے آواز اٹھائی اور میاں صاحب نے بطور سیکرٹری جنرل بیان کیا کہ"گورنر جنرل کا یہ اقدام اپنے اختیارات سے تجاوز ہی نہیں بلکہ ان کا صریحاً غلط استعمال بھی ہے، اس لیے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔" افسوس کہ اس بیان کو کسی اخبار میں شائع نہ ہونے دیا گیا، البتہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اسے نشر کیا۔
سپیکر دستورساز اسمبلی مولوی تمیزالدین کو اس مقدمے کو عدالت میں لے جانے کے لیے میاں طفیل محمد صاحب نے ہی کراچی جا کر قائل کیا تھا اور اس کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ میں گورنر جنرل کے اقدام کے خلاف رٹ دائر کی گئی جس پر سندھ ہائی کورٹ نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔ مرکزی حکومت نے اس فیصلے کو فیڈرل کورٹ میں چیلنج کیا تو مولوی تمیزالدین کے وکیلوں کی فیس ایک مرتبہ پھر میاں صاحب نے فراہم کی۔ فیڈرل کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے برخلاف گورنر جنرل کا اقدام درست قرار دے دیا۔ اس وقت کے چیف جسٹس محمد منیر نے اسی مقدمے میں نظریہ ضرورت کا سہارا لیا تھا۔

ایوبی دور : جمہوریت، بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد

اکتوبر1961ء میں شاہ عالم مارکیٹ مسجد، لاہور میں جنرل ایوب خان کے جاری کردہ فیملی لا آرڈیننس کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں آپ کو گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جیل، لاہور میں بند کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ساہیوال جیل منتقل کردیا گیا۔ کم وبیش نو ماہ بعد 23جون1962ء کو رہائی عمل میں آئی۔قید کے دوران آپ نے سید علی ہجویری کی مشہور کتاب "کشف المحجوب" کا اردو ترجمہ کیا۔
7مئی1963ء کو آپ کو "بغاوت" کےمقدمے میں گرفتار کر کے ملتان جیل بھیج دیا گیا۔ جرم یہ تھاکہ آپ نے ڈیموکریٹک فرنٹ میں شامل جماعتوں کے مشترک اجلاس میں دیگر رہنماوں کے ساتھ مل کر جمہوریت اور بنیادی حقوق کی بحالی کے مطالبے پر مشتمل قرارداد پاس کی تھی۔ اس قرارداد اور مطالبے کو "بغاوت" قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ مختلف جماعتوں کے نو افراد کے خلاف تھا۔ ایک ایک لاکھ روپے کی ضمانت پر رہائی ہوئی۔ پھر 15 دسمبر1963ء کو "آفیشل سیکرٹ ایکٹ" کے تحت چودھری غلام محمد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ آپ نے سرکاری ملازموں کے جماعت سے دور رہنے کی ہدایت پر مشتمل ایک خفیہ سرکاری مراسلے کی مذمت کی تھی۔ اس مقدمے میں بھی ایک لاکھ روپے کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی۔

اسلامی دستور و بنیادی حقوق کی بحالی کی مہم

اکتوبر1963ء میں جماعت نے آپ کی سرکردگی میں پورے ملک میں اسلامی دستور اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے ایک محضر نامہ تیار کیا جس پر لاکھوں افراد کے دستخط کرائے گئے۔ یہ محضر نامہ ساڑھے تیرہ کلومیٹر طویل ہوگیاتھا۔ دسمبر1963ء میں اسے پارلیمنٹ کے ڈھاکہ اجلاس میں لے جایا اور پیش کیاگیا اور پارلیمنٹ کو منظور کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا نام"جمہوریہ پاکستان" کے بجائے "اسلامی جمہوریہ پاکستان" رکھ دیا گیا۔ اور حکومت کے اختیارات کو اللہ کی مقرر کردہ حدود کے تابع کردیا گیا۔ اس پسپائی کا غصہ جنرل ایوب خان نے6 جنوری1964 ء کو جماعت اسلامی پر پابندی کی صورت میں نکالا۔ ترجمان القرآن کا ڈیکلریشن منسوخ کردیا گیا اور مولانا مودودی، میاں صاحب اور جماعت کی مرکزی مجلس شوری کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔25ستمبر 1964ء میں جماعت کو سپریم کورٹ نے بحال کیا اور9 اکتوبر کو جماعت کے رہنماوں کی رہائی عمل میں آئی۔

مادر ملت کے ساتھ

1965ء میں مادر ملت فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان الیکشن میں جماعت نے مادر ملت کا ساتھ دیا۔ میاں صاحب نے مادر ملت کی صدارتی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور مشرقی و مغربی پاکستان میں ان کے حق میں مہم کو منظم کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے مہم کے دوران ریل گاڑی میں پورے پاکستان کا دورہ کیا تو دوسری جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ جماعت اسلامی کی طرف سے آپ مسلسل شریک سفر رہے۔

بطور نائب امیر جماعت

میاں صاحب نے1965ء تک قیم جماعت کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جنوری1966ء میں نائب امیر جماعت کی ذمہ داری پر فائز ہوئے۔ اس دوران آپ جماعت اسلامی مغربی پاکستان کے امیربھی رہے، جبکہ متعد مرتبہ آپ نے سید مودودی کی جگہ قائم مقام امیر کے فرائض انجام دیے۔1965ء میں جوائنٹ اپوزیشن (سی او پی)کا قیام عمل میں آیا تو میاں صاحب اس کے مرکزی رہنماؤں میں سے تھے۔ عوام میں جمہوری شعور پیداکرنے اور ملک میں جمہوریت کے حق میں ایک مضبوط تحریک چلانے کے لیے آپ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مشرقی و مغربی پاکستان کا دورہ کیا۔ اس تحریک نے ملک میں پہلی مرتبہ ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کو چیلنج کیا۔ بعد ازاں میاں صاحب نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) اور ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی(ڈیک) میں جماعت کی طرف سے نہایت فعال کردار اداکیا۔ انھی تحریکوں کا نتیجہ تھا کہ 1969ء میں ایوبی آمریت ختم ہوئی اور1970ء میں ملک میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ جولائی اگست1971ء میں جب مغربی پاکستان سے کوئی لیڈر مشرقی پاکستان جانے کے لیے تیار نہیں تھا، میاں صاحب نے مشرقی پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں کو اتحاد اور اسلامی بھائی چارے کا پیغام دیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان

نومبر1972ء میں آپ نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کا حلف اٹھایا۔ امیر جماعت بننے کے بعد آپ نے تربیت گاہوں کے ذریعے جماعت کے بنیادی لٹریچر سے تجدید کی مہم شروع کی۔ کارکنان کی تربیت اور قیادت سے براہ راست رابطے کے لیے مرکز میں ماہانہ دس روزہ تربیت گاہ کا اہتمام کیا۔ اسی طرح پورے ملک میں قرآنی حلقوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، اور کم از کم تین ہزار مقامات پر یہ حلقہ ہائے درس قائم ہوئے۔
مارچ1973ء میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل متحدہ جمہوری محاذ(یو ڈی ایف) کے قیام میں میاں صاحب نے بھرپور کردار ادا کیا۔ محاذ کی مسلسل جدوجہد سے قوم کو1973ء کا متفقہ آئین نصیب ہوا۔جنوری1977ء میں بھٹو فسطائیت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد(پی این اے) کے قیام میں بھی آپ نے کلیدی رول ادا کیا۔

بھٹو دور میں ابتلا

ذوالفقارعلی بھٹو کے دور حکومت میں موچی دروازہ لاہور کے جلسہ عام میں بلوچستان میں مرکزی حکومت کے فوجی ایکشن کے خلاف احتجاجی تقریر کی تو20 فروری1973ء کو بغاوت کے الزام میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس دوران جیل میں تشدد اور توہین آمیز سلوک سے سابقہ پیش آیا۔ جس پر بعد خود ذوالفقار علی بھٹو نے معذرت کی۔ 16مارچ1973ء کو سپریم کورٹ سے ضمانت ہوئی۔ بعدازاں1977ء میں پیپلزپارٹی کی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف پاکستان قومی اتحادکی تحریک کے دوران آپ کو متعدد بار گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران سہالہ جیل،راولپنڈی میں اتحاد کے دوسرے رہنماوں کے ساتھ اور بہاولپور جیل میں اکیلے نظربند رہے۔

خمینی سے ملاقات

فروری1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں ایران میں انقلاب آیا تو دنیا کی سبھی اسلامی تحریکوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے اس کی تائید کی۔ اسی بنا پر تمام اسلامی تحریکوں نے مشترک پروگرام بنایا کہ"ہمیں ایران جا کر اپنی اخلاقی تائید کا اعادہ اور ایران کی اسلامی تعمیر نو میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔" چنانچہ اخوان المسلمون، ترکی کی ملی سلامت پارٹی،امریکہ کی مسلم اسٹوڈنٹس یونین، اسلامک کونسل آف یورپ، جماعت اسلامی انڈیا سمیت دنیا کے دوسرے کئی ممالک سے اسلامی تحریکوں کے نمائندے کراچی میں اکٹھے ہوئے اور28 فروری1979ء کو انقلاب کے چند روز بعد میاں طفیل محمد صاحب کی قیادت میں ایران کی نئی حکومت کی خصوصی اجازت سے تہران پہنچے کہ ان دنوں تہران ائیرپورٹ بیرونی پروازوں کے لیے بند تھا۔ امام خمینی نے اپنی ملاقات میں علامہ محمد اقبال، امام حسن البنا اور سید مودودی کا نام لے کر کہاکہ قی الوقع ہمارے انقلاب کے یہ فکری رہنما ہیں۔ان کی فکر اور لٹریچر نے ہماری رہنمائی کی ہے، اس لیے یہ صرف ایران کا نہیں عالم اسلام کا انقلاب ہے۔ہماری رہنمائی کا سرچشمہ قرآن اور سنت رسول ہے، انھی کے مطابق ہم ایرانی معاشرہ تعمیر کریں گے۔ اس موقع پر امام خمینی نے میاں صاحب کو قبلہ اول مسجد اقصی کی تصویر سے بنے ہوئے سیپ کے بکس کا وہ تحفہ دیا، جس میں قرآن مجید تھا، اور جو انھیں فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے یہ کہتے ہوئے پیش کیا تھا"آپ ایران میں کامیاب انقلاب کے بعد بیت المقدس کو بھی آزاد کرائیں گے۔" خمینی صاحب نے یہ قیمتی تحفہ میاں صاحب کو پیش کرتے ہوئے کہا" اب یہ امانت میں آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سپرد کرتا ہوں۔"

جہاد افغانستان

آپ کی امارت کے دوران جب روس نے دسمبر1979ء میں افغانستان پر قبضہ کیا تو آپ نے اس کو دفاع پاکستان کی جنگ سمجھتے ہوئے افغانوں کا ساتھ دیا، اور جماعت اسلامی اپنے کارکنوں سے اور جو وسائل بھی اپنے اثرورسوخ سے فراہم کرسکی، ان سے افغان مجاہدین و مہاجرین کی اعانت کی۔ اور ساری قوم، حکومت پاکستان اور عالم اسلام کو ان کی پشت پر لا کھڑا کیا۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے بھرپور جوش و خروش سے جہاد افغانستان میں حصہ لیا۔ جماعت اسلامی اور حکومت پاکستان کے افغانوں سے تعاون اور خود افغان عوام کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں روس کو افغانستان سے پسپائی اختیار کرنی پڑی، اور وسطی ایشیا میں کئی مسلم ریاستیں وجود میں آئیں۔

امارت سے فراغت

میاں صاحب نے اکتوبر1987ء تک امیر جماعت کے فرائض انجام دیے۔ امارت سے فارغ ہونے کے بعد ادارہ معارف اسلامی، منصورہ کے چئیر مین اور عالمی مساجد کونسل کے رکن کی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ میاں صاحب نے جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ،بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، جمہوری عمل کو روبہ عمل میں لانے اور دستور کی حکمرانی قائم کرنے کی تحریکوں میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا۔

بیرون ملک دورے

مختلف اسلامی تحریکوں کی دعوت پر آپ نے1974ء میں برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا جبکہ1975ء میں عراق اور سعودی عرب کا دورہ کیا۔ کئی دیگر ممالک میں بھی آپ نے دعوتی دورے کیے۔ آپ رابطہ عالم اسلامی اور عالمی مساجد کونسل کے بانی ارکان میں سے ہیں۔1976ء میں آپ نے اسلامی فقہ کانفرنس میں شرکت کی۔

تصانیف

دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات(شریک مصنف)، دعوت اسلامی اور مسلمانوں کے فرائض،( اردوترجمہ) کشف المحجوب از سید علی ہجویری، نیز متعدد مقالات اور پمفلٹ۔
1959ء میں آپ نے اسلامک پبلی کیشنز کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد سید مودودی اور جماعت اسلامی کے دوسرے مصنفین کی تصانیف اور اسلامی و تعمیری لٹریچر کی تجارتی بنیادوں پر اشاعت کا اہتمام کرنا تھا۔



خرم مراد مرحوم
پیدائش، ابتدائی تعلیم

خرم مراد مرحوم وسط ہند کی مشہور مسلم ریاست بھوپال کے علاقے رائے سین میں3 نومبر1932 ء کوپیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق سہارن پور اور مظفر نگر سے ہے۔1937ء میں والد محترم کا تبادلہ گوہر گنج (بھوپال)میں ہوگیا، تو1941ء تک وہاں قیام پذیر رہے۔ تعلیم کا آغاز گھر پر والدہ محترمہ سے قرآن پاک اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے سے ہوا۔1943 ء میں باقاعدہ میں سکول داخلہ چھٹی کلاس میں لیا۔1947ء میں میٹرک کا امتحان پاس کر کے حمیدیہ کالج بھوپال، انٹر سائنس سال اول میں داخلہ لیا اورسالانہ امتحان میں اول آئے۔

جماعت سے تعارف

اسی سال نومبر دسمبر میں کالج کے ایک دوست حسن الزماں اختر کی دعوت پر ، جماعت اسلامی بھوپال کے اجتماع عام میں شرکت کی۔ بھوپال میں امیر جماعت سید ظہیر الحسن تھے۔ یہی اجتماع تحریک سے پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔ اکتوبر1948 ء میں اہل خانہ کے ساتھ بھوپال سے نقل مکانی کر کےدہلی اور لاہور سے ہوتے ہوئے کراچی آگئے۔

اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی

کراچی آمد کے بعد از خود جماعت اسلامی کراچی کے دفتر پہنچے تاکہ مقامی نظم سے باقاعدہ ربط و تعلق قائم ہو۔ چودھری غلام محمد صاحب نے اگلے روز آنے کا کہا، اور ظفر اسحاق انصاری صاحب کے ذریعے اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق جوڑنے کا راستہ سجھایا۔ چند ہفتوں بعد اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے رکن بن گئے۔ انٹر پاس کرنے کے بعد این ای ڈی انجنیئرنگ کالج کراچی کے شعبہ سول انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ سال کے آخر میں کراچی جمعیت کے ناظم منتخب ہوئے۔

سید مودودی سے پہلی ملاقات

جولائی1950ء میں مولانا مودودیؒ رہائی کے بعد پہلی مرتبہ کراچی تشریف لائے۔ یہیں پر مولانا محترم سے پہلی مرتبہ آپ کی ملاقات ہوئی، اور جمعیت کی طرف سے استقبالیہ دیا۔ اسی سال نومبر میں لاہور میں ہونے والے جمعیت کے تیسرے سالانہ اجتماع میں شرکت کی اور دسمبر میں کراچی جمعیت کی نظامت سے سبک دوش ہوگئے۔

ناظم اعلٰی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان

4 نومبر1951ء کو جمعیت کے چوتھے سالانہ اجتماع (لاہور) میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے تیسرے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔1952ء میں آپ کو اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی "دستور ساز کمیٹی" کا سربراہ مقرر کیا گیا جس نے آپ کی سربراہی میں جمعیت کا دستور مدون کیا۔ آپ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ دسمبر 1953ء میں جس روز جمعیت کی رکنیت سے فارغ ہوئے اسی روز جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے درخواست دے دی۔

ملازمت، شادی

خرم مراد مرحوم نے1953ء این ای ڈی انجنیئرنگ کالج سے بڑے اعزاز کے ساتھ اول پوزیشن میں سول انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔اور جنوری1954ء میں گیمن نامی انجینئرنگ کمپنی میں بطور انجینئر ملازمت اختیار کی۔ اسی سال ستمبر میں گیمن کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر" کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن" میں ملازم ہوگئے۔8جون1958 ء کو آپ کی شادی ہوئی، تقریب نکاح بھوپال میں منعقد ہوئی۔ آپ کی اہلیہ پاک و ہند کی مشہور دینی شخصیت نواب صدیق حسن کی اولاد میں سے ہیں۔

امریکہ کا سفر

ستمبر1957ء میں یونیورسٹی آف مینی سوٹا، میناپولس سٹی(ریاست مینی سوٹا، امریکہ) میں میرٹ پر وظیفہ ملا۔ اسی بنیاد پر انجنیئرنگ میں اعلیٰ تعلیم(MS) کے حصول کے لیے امریکہ گئے۔ مینی سوٹا یونیورسٹی میں قیام کے دوران وہاں عیسائی مشنریوں سے اسلام اور عیسائیت پر مکالمات کیے۔ وہاں کے گرجا گھروں اور سماجی تقاریب میں شرکت کی اور اسلام اور پاکستان کے بارے میں تقاریر کیں۔ یہیں پر پہلی مرتبہ انگریزی میں تقریر کی مشق ہوئی۔ آپ نے ایم ایس، سول انجینئرنگ A+کی امتیازی حیثیت اور اول پوزیشن میں پاس کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ امتحان نوماہ کی کم از کم مدت میں پاس کیا۔ پھر آٹھ نوماہ کے لیے یونیورسٹی ہی میں ایک عارضی تدریسی ملازمت اختیار کی تاکہ وطن واپسی کا کرایہ ہوسکے۔
امریکہ سے واپس آنے کے چند ہفتوں بعد خواجہ عظیم الدین کی پانی، بجلی اور تعمیرات کے بڑے منصوبوں کے لیے قائم کردہ ایک مشاورتی کمپنی"ایسوسی ایٹڈ کنسلٹنٹ انجنیئرز"(ACE) میں ملازمت اختیار کی۔ اسی دوران زیلن کافی ہاوس صدر کراچی میں علمی مکالمات و مباحث کی ہفت روزہ نشستوں میں شرکت کی، اور ان محفلوں میں تحریک کے زندہ مسائل پر بحث کو آگے بڑھایا۔1959ء میں پیر الٰہی بخش کالونی کی بلدیاتی کونسل کے الیکشن میں بطور ممبر منتخب ہوئے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی حتی المقدور کوشش کی۔

مشرقی پاکستان میں

1959ءآپ کی زندگی کا اہم سال ہے، جب آپ کی کمپنی نے دریائے برہما پتر پر بندبنانے کے لیے آپ کی جامع رپورٹ دیکھ کر آپ کو مشرقی پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ جنوری1960ء میں آپ اہل خانہ سمیت ڈھاکہ پہنچے۔ مارشل لا کے تحت جماعت اسلامی پر پابندی تھی، اس لیے مقامی قیادت سے سماجی سطح پر تعلق قائم کیا۔ دریائے برہما پتر پر آپ کی کمپنی ایک امریکی انجینئرنگ کمپنی کے اشتراک سے کام کررہی تھی۔ دونوں کمپنیوں نے انجینئرنگ رپورٹ کی تیاری کے لیے بطور پراجیکٹ انجینئر آپ کو امریکہ کے شہر ڈینور(Denver) میں جانے کی ہدایت کی۔ ڈینور سے واپسی پر آپ نے پہلی دفعہ عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ جون1962ء میں ماشل لا کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ میں جماعت کی سرگرمیوں میں فعال حصہ لینا شروع کیا۔ اسی سال آپ کی رکنیت منظور ہوئی۔

امیر جماعت اسلامی ڈھاکہ

مغربی پاکستان سے ہونے کے باوجود آپ فروری1963ء میں جماعت اسلامی ڈھاکہ کے امیر منتخب ہوئے۔ اس سے جہاں جماعت اسلامی کی یہ انفرادی خصوصیت واضح ہوتی ہے کہ اس میں ذات، برادری اور وطن کے بجائے للہیت و تقوی معیار وہیں اس سے خرم مراد مرحوم کی اجنبی ماحول میں ہردلعزیزی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ڈھاکہ جماعت کی امارت کے دوران آپ نے بنگلہ دیش میں قائم جمعیت طلبہ عربیہ کی تنظیم اور نظم کو تحریک اسلامی کے زیر اثر لانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ تنظیم بنگلہ دیش میں تحریک کے لیے بڑا قیمتی سر چشمہ ثابت ہوئی۔ بعد ازاں پاکستان میں بھی اس کا تجربہ کامیاب رہا۔آپ مشرقی پاکستان میں ایک عرصے تک جماعت اسلامی "شعبہ پارلیمانی امور" کے سربراہ رہے،اور جماعت کے منتخب ارکان اسمبلی کی پارلیمانی تربیت و رہنمائی کاکام خوش اسلوبی سے انجام دیا۔1963ء میں پہلی مرتبہ آپ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔

جمہوریت کے لیے جدوجہد

جنوری1964ء میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرکے حکومت نے6 جنوری کو فجر کے وقت آپ کو گھر سے گرفتار کرلیا۔ تین ماہ بعد5 اپریل کی شام رہا ہوئے۔ اسی سال صدر ایوب خان کی آمریت کے خلاف "متحدہ حزب اختلاف"(COP) کے اجلاسوں میں (کالعدم) جماعت اسلامی کی نمائندگی کی، اور شیخ مجیب الرحمن کی تجویز پر COPکے مرکزی خزانچی منتخب ہوئے، لیکن یہ ذمہ داری ادا کرنے سے معذرت پیش کردی۔ بعد ازاں صدر ایوب کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم چلانے کے لیے "متحدہ حزب اختلاف" کی "مشرقی پاکستان انتخابی کمیٹی" کے چیئرمین منتخب ہوئے اور محترمہ کے حق میں بھرپور مہم چلائی۔ اسی دوران آپ نے مزدوروں میں کام کا آغازکیا اور مزدور طبقے تک جماعت اسلامی کی دعوت پہنچائی۔ خرم مراد مرحوم نے جماعتی امور اور سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کمپنی کے کام پر بھی بھرپور توجہ دی چنانچہ اگست1966ء میں آپ کو کمپنی کی مشرقی پاکستان شاخ کا چیف انجینئر اور جنرل مینیجر مقرر کیا گیا۔
1967ء میں "پاکستان تحریک جمہوریت"(PDM) کے نام سے حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہوئیں، اس میں جماعت کی مستقل نمائندگی کے لیے چار نمائندوں میں آپ شامل تھے۔ جنور ی1969ء میں متحدہ حزب اختلاف کی "جمہوری مجلس عمل" میں جماعت کی نمائندگی کی۔1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں خرم مراد مرحوم نے انتخابی مہم کی تنظیم،حکمت عملی اور مالیات کو جمع اور تقسیم کرنے کا کام پوری تندہی سے انجام دیا۔ انتخابی مہم کے دوران بنگلہ زبان میں تقریریں کیں۔

تعلیم و تحقیق کے میدان میں

ڈھاکہ جماعت کی امارت کے دوران علمی و تحقیقی منصوبوں کی طرف آپ کی خاص توجہ رہی۔ انگریزی اور بنگالی میں بلیٹن جاری کیا جس کانام Search Lightتھا۔ اس بلیٹن کے متعدد شمارے خود ہی مرتب کیے۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی ڈھاکہ شاخ کے پہلے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد آپ نے "تفہیم القرآن" اور مولانا مودودی کی دیگر تمام کتب کے بنگلہ ترجمے کا منصوبہ بنایا، اور پھر اس منصوبے کے لیے مردان کار کا انتخاب اور وسائل فراہم کیے۔ ڈھاکہ سے بنگلہ ماہنامہ"پرتھوی" جاری کیا۔ یہ رسالہ "ترجمان القرآن کی طرح دینی اور علمی مضامین پر مشتمل تھا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے اس کی اشاعت5 ہزار تھی اور آج کل40 ہزار سے زائد ہے۔ بنگلہ زبان میں روزنامہ جاری کرنے کے لیے1968ء میں جملہ انتظامات کے لیے آپ کو پروجیکٹ انچارج مقرر کیا گیا۔17 جنوری1970ء کو روزنامہ "سنگرام" کے نام سے اس کی اشاعت شروع ہوئی۔ اس وقت یہ بنگلہ صحافت میں ایک باوقار اور مؤقر روزنامہ ہے۔ ڈھاکہ جماعت کی امارت کے دوران آپ نے عربک اسلامک یونیورسٹی ڈھاکہ کا منصوبہ پیش کیا اور انگریزی میں اس کے خد وخال پر ایک مبسوط مقالہ لکھا۔

سفر حج

1968ء میں پہلی مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ سفر حج کے اخراجات کی کفایت کے لیے1959ء ہی سے اپنے اخراجات میں سے ماہانہ تھوڑے تھوڑے روپے اکٹھے کرتے رہے۔

جنگی قیدی

مشرقی پاکستان میں بڑھتی ہوئی شورش کے پیش نظر آپ نے اکتوبر1971ء میں کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ 26نومبر کو اہل خانہ کو کراچی بھیج دیا،اور اپنی نشست5 دسمبر کے لیے محفوظ کرائی مگر3دسمبر کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھلی جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے یہ روانگی منسوخ ہوگئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد دسمبرکی آخری تاریخوں میں آپ جنگی قیدی بنا لیے گئے۔ اور 20 جنوری تک ڈھاکہ کیمپ گارڈ نمبر3 میں قید رہے۔ بعد ازاں جنگی قیدی کے طور پر انڈیا منتقل کردیا گیا جہاں آپ بطور جنگی قیدی"نمبر365 سویلین" محبوس ہوئے۔ قید کے دوران قیدی ساتھیوں کو ناظرہ اور ترجمہ قرآن پڑھانے کی کلاس کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ رہائی تک جاری رہا۔17 دسمبر1973ء کو بھارت کی قید سے رہائی پا کر واہگہ کے راستے لاہورپاکستان آئے۔ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کے بعد18 دسمبر کو کراچی پہنچے۔

خادم مسجد الحرام

1974ء میں کمپنی نے کالاباغ ڈیم پر کام کی پیش کش کی لیکن آپ نے کمپنی کے غیرملکی منصوبوں پر کام کو ترجیح دی۔ پہلے تہران(ایران) جبکہ بعد ازاں سعودی عرب میں تقرر ہوا۔ ریاض میں کمپنی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے مسجد الحرام کی توسیع کے منصوبے کی تکمیل کی، اور مطاف میں سنگ مرمر کا فرش بنانے اور چاہ زمزم کے علاقے میں ترمیم و تبدیلی کے منصوبے شروع کیے۔

برطانیہ میں

1977ء میں کمپنی سے طویل رخصت لے کر برطانیہ میں "دی اسلامک فاونڈیشن" لیسٹر جیسے بلند پایہ دینی، علمی اور اشاعتی ادارے سے بطور ڈپٹی ڈائریکٹر وابستگی اختیار کی۔1978ء میں "اسلامک فاونڈیشن" کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔اس دوران فاؤنڈیشن کے کام کو وسعت دی۔ سمعی و بصری منصوبے، نوجوانوں میں کام کے منصوبے اور بین المذاہب شعبے کا آغاز کیا۔ آپ نے کتب کے ترجمہ،تالیف اور اشاعت کے کام میں وسعت پیدا کی۔1979ء میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (ISNA) کی دعوت پر امریکہ کا طویل دورہ کیا۔ اس دوران مغرب میں اسلام کو آگے بڑھانے کے لیے لائحہ عمل پیش کیا۔
1980ء میں اسلام اور اسلامی دنیا سے متعلق یورپ شائع ہونے والی کتب کے جائزہ و تنقیح پر مبنی تبصروں کے لیے فاونڈیشن سے سہ ماہی مجلہ:Muslim World Book Review کا اجراء کیا۔ جس کے آپ مدیر تھے۔ اسی سال جماعت اسلامی نے یورپ میں دیگر اسلامی تحریکوں اور تنظیموں سے رابطے کے لیے نگران مقرر کیا۔

پاکستان واپسی

1986ء میں آپ پاکستان واپس آگئے۔ اکتوبر1987ء میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر منتخب ہوئے جبکہ دسمبر میں آپ کو جماعت اسلامی پاکستان کا نائب امیر مقرر کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے غیر ملکی دوروں کے درمیان آپ نے متعدد مرتبہ قائم مقام امیر کے فرائض انجام دیے۔

مدیر ترجمان القرآن

جولائی1991ء آپ ترجمان القرآن کے مدیر مقرر ہوئے، گویا سید مودودی کی علمی و فکری وراثت کے امین مقرر ہوئے۔ آپ نے اس کا حق ادا کیا اور ترجمان القرآن کے علمی و فکری معیار میں بہتری اور سرکولیشن مٰیں اضافے کے لیے انتھک محنت کی۔
آپ معیاری اور ارزاں تحریکی لٹریچر کی اشاعت و ترسیل کے لیے کوشاں رہے۔ اس سلسلے میں مہران اکیڈمی، سکھر اور ادارہ منشورات، لاہور کا قیام آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ادارہ سمع و بصر کی بہتری اور اس کے کام میں وسعت کے لیے بھی کوشاں رہے۔

وفات

جنوری1996ء میں ڈاکٹروں کے مشورے پر لیسٹر برطانیہ چلے آئے،تاکہ علاج کروا کے واپس پاکستان جائیں۔ مگر نومبر کے وسط میں طبیعت بگڑ گئی تو ہسپتال داخل ہوگئے۔ ڈاکٹروں نے دل کے تیسرے آپریشن کے لیے 18 دسمبر تاریخ مقرر کی۔18 دسمبر کو گرین فیلڈ ہسپتال داخل ہوئے مگر19 دسمبر بروز جمعرات آپریشن کے چند گھنٹوں بعد خالق حقیقی سے جاملے۔ انّاللہ واِنا الیہ راجعون

تصانیف

(اردو)
کارکنوں کے باہمی تعلقات،سیرت آئمہ اربعہ،احیائے اسلام اور معلم،اسلامی قیادت،سیرت رسول اللہ کے آئینے میں،چند تصویریں، سیرت کے البم سے، انتخابی حکمت عملی، مسائل و افکار، صحبت نبوی میں، میں نے جمعیت سے کیا پایا، تحریک اسلامی کا مستقبل، آپ کی یادوں پر مشتمل کتاب "لمحات"ادارہ منشورات نے شائع کی ہے۔

(انگریزی)

Way to the Quran, Shariah: The Way to God, Shariah: The Way to Justice, Sacrifice: The making of a Muslim, Dawah among Non Muslims in the West, Muslim Youth in the West, Key to Al-Baqqrah, The Quranic Treasures, Gift from Muhammad,
سمعی و بصری سطح پر Islam the Way of Peace کے عنوان کے تحت ایک سلائیڈ پروگرام اے حمید کے ساتھ مل کر تیار کیا۔ اس میں 34 سلائیڈیں اور کیسٹ اور وضاحتیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر مبنی ایک ویڈیو کے لیے سکرپٹ لکھا اور تیار کرایا۔ کیسٹ کا نام ہے: The Life of the Prophet Muhammad

بچوں کے لیے کتب

Love Your God, Love Your brother, Love Your neighbor, Love at Home, Stories of the Caliphs, The Brave Boy, The Kingdom of Justice, The Long Search: Story of Salman the Persia, The Desert Chief: Story of Thumama Ibn Uthal, A Great Friend of Children, The Persecutor Comes Home: Story of Umer, The Longing Heart: Story of Abu Dhar, The Wise Poet, The Broken Idol and the Jewish Rabbi

تراجم

مولانامودودی کی کتب "خطبات"،" شہادت حق"،"تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں" کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔مولانا کی کتاب"اسلام کا نظام حیات"کا ترجمہ پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ مل کر کیا۔

مجموعہ ہائے خطوط

ایوب خان کے زمانہ اقتدار میں قید کے دوران اہلیہ اور بچوں کے نام لکھے ہوئے خطوط پر مشتمل کتاب "لمعاتِ زنداں" جسے ان کی اہلیہ محترمہ لمعت النور نے مرتب کیا۔ جبکہ بھارت سے قید کے دوران اہل خانہ کو جو خطوط لکھے ان کا ایک انتخاب"جنگی قیدی کے خطوط" کے نام سے ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور نے شائع کیا۔



نعمت اللہ خان

ایک کامیاب وکیل، ایک متحرک فلاحی شخصیت اور ایک بے مثال ناظم کی پہچان رکھنے والے نعمت اللہ خان ہمہ پہلو شخصیت کے مالک ہیں، اور ضلعی نظامت کے دوران لازوال خدمت کرنے کے بعد "بابائے کراچی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کے خاندان نے1948ء میں شاہجہاں پور، انڈیا سے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور کراچی میں آ بسا۔ کراچی آمد کے بعد ابتدائی دنوں میں آپ کے اہل خانہ کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کئی سال تک ایک کمرے کے مکان میں زندگی گزارنا پڑی۔ اعلٰی تعلیم کے حصول اور خاندان کی بقا کے لیے آپ نے سخت جدوجہد کی اور پارٹ ٹائم جاب کے علاوہ ٹیوشن کے ذریعے زندگی کی گاڑی چلائی۔

پیدائش، تعلیم

نعمت اللہ خان یکم اکتوبر1930ء کو مشہور مسلم بزرگ خواجہ معین الدین اجمیری کی نگری اجمیر شریف کے علاقے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم شاہجہاں پور اور اجمیر سے ہی حاصل کی۔ پاکستان ہجرت کے بعد آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیاجبکہ فارسی لٹریچر میں ماسٹر ڈگری کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ کراچی یونیورسٹی سے ہی آپ نے صحافت میں ڈپلومے کے علاوہ ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں انکم ٹیکس وکیل کے طور پر وکالت کا آغاز کیا، اور تب سے ایک کامیاب وکیل اور انکم ٹیکس کے معاملات کے ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

تحریک پاکستان میں شمولیت

زمانہ طالب علمی میں آپ نے تحریک پاکستان میں ایک فعال کارکن کے طور پر کام کیا۔ اس وقت آپ کی عمر صرف15 برس تھی اور آپ ابتدائی کلاسوں کے طالب علم تھے۔ اسی زمانے میں آپ نے شاہجہاں پور کے مسلم رکن قانون سا زاسمبلی کے ہمراہ قائد اعظم کی سربراہی میں ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیجسلیٹرز کانفرنس" میں شرکت کی۔1946ء سے قیام پاکستان تک آپ مسلم لیگ نیشنل گارڈ ضلع اجمیر کے منتخب صدر رہے۔ قیام پاکستان کے لیے عہد طفولیت کی اسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج بھی نعمت اللہ خان پاکستان کا نام سن کر جذباتی ہو جاتے ہیں اور اس سے اپنی محبت کا اظہار کیے بنا نہیں رہتے۔

جماعت اسلامی کے ساتھ

تحریک پاکستان کے دوران اسلامیان برصغیر پاک وہند سے کیے جانے والے وعدوں کو عملی شکل دینے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بنانے کے لیے آپ نے1957ء میں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی، اور اس پیرانہ سالی کے باوجود اب تک اس خواب کی تعبیر پانے کے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے جماعت کی رکنیت کا حلف خانہ کعبہ میں اٹھایا۔ حلف لینے والے پروفیسر غفور احمد تھے۔ شاید اسی کا اثر ہے کہ آپ کی جماعت سے اٹوٹ وابستگی میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ اس کے بعد آپ کراچی جماعت کے نائب امیر اور ایک عرصہ تک امیر رہے۔ آج کل نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں

1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں آپ سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ اور اپوزیشن ارکان نے اسمبلی میں "اپوزیشن لیڈر" کے لیے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا۔1988ء میں اسمبلی کی تحلیل تک تقریباً ساڑھے تین سال اپوزیشن لیڈر کے منصب پر فائز رہے۔ اس دوران آپ نے کراچی اور سندھ کے عوام کی ترجمانی حق ادا کیا اور بھرپور انداز میں عوامی مسائل اسمبلی میں اٹھائے۔

کراچی کا پہلا ناظم

2001 ء میں متعارف کرائے جانے والے ضلعی حکومتوں کے نظام کے بعد نعمت اللہ خان کراچی کے پہلے ناظم منتخب ہوئے۔ ایک نئے نظام میں منی پاکستان کہلانے والے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی نظامت ایک بہت بڑا چیلنج تھی لیکن آپ نے عزم و ہمت، انتھک محنت اور امانت و دیانت کے ذریعے شہر کراچی اور اس کے باسیوں کی بے مثال خدمت کرکے اپنے آپ کو اس منصب کا اہل ثابت کیا، اور4 سال کے مختصر عرصے میں کراچی کی شکل یکسر بدل کے رکھ دی۔ باوجود اس کے کہ آپ کو ایم کیو ایم جیسی فاشسٹ لسانی تنظیم کے گورنراور صوبائی وزرا کے معاندانہ رویے کی وجہ سے شدید مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا تھا لیکن آپ نے جوانمردی اور استقامت سے ان کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا اور کراچی کی خدمت اور اس کے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کسی کمپرومائز سے ہمیشہ انکار کیا۔
نعمت اللہ خان جب ناظم کراچی منتخب ہوئے تو شہر کی آبادی5 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی تھی لیکن اس کے مقابلے میں شہر کے اندر شہری سہولیات کا فقدان اور ترقیاتی کاموں کا کہیں وجود نہیں تھا۔ شہری انفراسٹرکچر تباہ حال تھا اور پورا شہر کسی اجاڑ جنگل کا منظر پیش کر رہا تھا۔ تقریباً تمام بڑی شاہراہیں اور اندرونی راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے، بڑی چورنگیوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتا، سیوریج کا نظام ابتر تھا، اورکبھی روشنی کا شہر کہلانے والے کراچی کی سڑکیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ اس صورتحال سے گھبرانے کے بجائے بہتر حکمت عملی سے آپ نے اس تیز رفتاری سے ترقیاتی کام کرائے اور شہری سہولیات فراہم کیں کہ پاکستان اور اس خطے میں اس کی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔
نعمت اللہ خان نے اربوں روپے کی لاگت سے بڑی شاہراہوں کو تعمیر کرایا، کروڑوں روپے کی لاگت سے چورنگیوں کی تزئین و آرائش کے بعد ان کو سگنلائزڈ کیا، اور شہر میں سڑکوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور پلوں کا جال بچھادیا،ان شاہراہوں، چوراہوں اور گلیوں میں روشنی کا بہترین انتظام کر کے آپ نے ایک مرتبہ پھر کراچی کو "روشنیوں کا شہر" بنا دیا۔ ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کے لیے "اربن ٹرانسپورٹ سکیم" سکیم شروع کی اور باہر سے بسیں درآمد کرنے کے علاوہ کئی پرائیویٹ کمپنیوں کو بسیں چلانے کے لائسنس دیے۔ پہلی دفعہ500 بڑی، کشادہ اور ائیر کنڈیشن بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں نظر آئیں۔ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے درجنوں "پیڈیسٹرین برجز" کی تنصیب کے علاوہ ڈرائیوروں کی تربیت کے لیے ڈرائیور اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ470 مقامات پر خوبصورت بس شیلٹرز تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح ماس ٹرانزٹ کے لیے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ کیا گیا جس کے تحت87 کلومیٹر طویل مقناطیسی ریل چلائی جائے گی، جبکہ شہر میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی اورنگی، بلدیہ، کورنگی اور نارتھ کراچی تک اس کی توسیع کا منصوبہ منظور کرایا۔ شہر کے انفراسٹرکچر میں تبدیلی خاص کر ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا اثر اب شہر میں نظر آرہا ہے۔
نعمت اللہ خان نے کراچی میں تعلیم کی بہتری کے لیے خاص توجہ دی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں تعلیم کی مد میں ریکارڈ 31 فیصد رقم مختص کی۔ آپ کے ناظم بننے سے قبل بہت سے اسکولوں میں طلبہ کو کرسی اور ڈیسک اور گرلز اسکولوں میں ٹوائلٹ کی سہولت موجود نہ تھی، بہت سے اسکولوں میں پینے کا پانی تک مہیا نہیں تھا۔ آپ نے نئے اسکولوں کی تعمیر، پرانے اسکولوں کی تزئین و آرائش اور پانی کی فراہمی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے۔ آج کراچی کے اسکولوں کی بدلی حالت زار آپ کی انھی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آپ کی نظامت سے قبل سرکاری اسکولوں کے محض150 سے200 طلبہ اے یا اے ون گریڈ حاصل کر پاتے تھے، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کے مختلف جدید ٹریننگ کورسز اور "پروفیشنل ٹریننگ پروگرام" میں ہزاروں اساتذہ کی تربیت کے بعد یہ تعداد2000 تک پہنچ گئی تھی۔ آپ کے ناظم بننے سے قبل شہر میں88 کالجز تھے، آپ نے 4 سال کی مختصر مدت میں ریکارڈ32 نئے کالجوں کا اضافہ کیا، اور تمام کالجوں میں آئی ٹی لیب کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ ایک اور قابل ذکر کام تعلیمی اداروں میں سیلف فنانس سکیم ختم کر کے مرکزی داخلہ پالیسی کا نطام اپنانے کے بعد تمام کالجوں میں میرٹ پر داخلے کو یقینی بنانا ہے۔
کراچی کے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی طرف بھی آپ کی توجہ مرکوز رہی۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ آپ نے10 مختلف مقامات پر" پرچیسٹ پین سنٹر" کے قیام کا منصوبہ پیش کیا۔ اس میدان میں آپ کا خاص کارنامہ
KRACHI INSITITUTE OF HEART DISEASE
کے نام سے امراض قلب کے جدید ترین ہسپتال کا قیام ہے۔ ملیر میں نئے ہسپتال کی تعمیر کے علاوہ نیو کراچی میں اور کورنگی ہسپتال میں "کڈنی ڈائلیس سنٹر" کا قیام بھی آپ کے دور میں عمل میں آیا۔ اسی طرح ناظم شہر کے کیمپ آفس میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا جدید ترین "ڈائیگنوسٹک سنٹر" بھی آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ آپ کے دور میں کراچی کی ضلعی حکومت پاکستان کی واحد ڈسٹرکٹ گورنمنٹ تھی جس نے زیر تربیت ڈاکٹروں کو وظائف فراہم کیے۔
نعمت اللہ خان کی ایک پہچان"ماحول دوست" ناظم کی ہے۔ آپ نے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی ہیوی انڈسٹری کی شہر سے باہر منتقلی کی بھرپور مہم چلائی اور کراچی بلکہ ملک بھر میں پہلی دفعہ سی این جی پر چلنے والی بسوں کو متعارف کرایا۔ آپ نے محکمہ باغبانی کو متحرک کیا اور شہر میں اتنے پارکس اور پلے گراونڈز تعمیر کرائے کہ اب کراچی پارکوں اور سبزے کا شہر نظر آتا ہے۔ آپ نے4 برسوں میں300 پارکس کو ازسر نو تعمیر کرایا،300 پلے گراونڈز کی حالت بہتر کرائی، بیشتر میں فلڈ لائٹس کی تنصیب ہوئی، جبکہ کراچی کے 18ٹاونز میں سے ہر ٹاؤن کو کم از کم ایک ماڈل پارک بنا کر دیا۔ یہ ماڈل پارکس ملک بھر میں اپنی نوعیت کےمنفرد پارک ہیں۔ اسی طرح دامن کوہ، باغ ابن قاسم اور گٹر باغیچہ پارکس جیسے میگا پروجیکٹس کا آغاز بھی آپ کے دور میں ہوا۔ سفاری پارک میں پاکستان کا سب سے بڑا سفاری ایریا ہے جو مناسب اقدامات نہ ہونے کے سبب35 سال سے بند تھا، آپ نے اس پر کام شروع کیا، جانوروں کی تعداد میں اضافہ کیا، سفاری کوچز چلائیں، اور اب روزانہ ہزاروں افراد اپنی فیملیز کے ہمراہ یہاں آتے ہیں۔
پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے آپ نے "کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ" شروع کیا جس سے روزانہ دس لاکھ گیلن پانی شہریوں کو فراہم ہو سکے گا۔ اسی طرح آپ نے واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب اور سیوریج کے پانی کو ری سائیکل کر کے کارخانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کے معاہدے کیے۔ سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے اربوں روپے خرچ کیے۔ 50 سالہ پرانی پائپ لائنوں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی اور نئے پمپس کی تنصیب کرائی۔ کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھانے کے لیے500 سولڈ ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کیے۔
نعمت اللہ خان کراچی کی کچی آبادیوں کو شہر کے ماتھے کا جھومر کہتے ہیں۔ شہر کی52 فیصد آبادی رکھنے والی ان آبادیوں پر بھی آپ نے خصوصی توجہ دی۔ اس آبادی کا ایک خاص مسئلہ لیز پر زمین کی فراہمی ہے۔ آپ نے1999ء میں بڑھائے جانے والے لیز کے نرخ منسوخ کر کے1989ء کے نرخ بحال کیے جس سے لاکھوں غریب لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ اسی طرح اپنے صوابدیدی فنڈ سے ضرورتمند اور بےروزگار افراد میں سوا کروڑ روپے کی سلائی مشینیں، سائیکلیں، جہیز بکس اور دیگر سامان تقسیم کیا۔
نعمت اللہ خان نے شہری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے فروغ، دینی معلومات میں اضافے اور اسلامی فن و ثقافت کی ترویج اور کھیلوں کی ترقی کے لیے بھی مختلف عملی اقدامات کیے۔ شہریوں میں ابلاغ دین، قرآن وسنت کے پیغام کو عام کرنے اور معاشرے میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیا کے لیے "قرآن و سنہ اکیڈمی" قائم کی۔ اسی طرح "المرکز الاسلامی" کا منصوبہ مکمل کرایا جس میں ایک بڑی لائبریری، آڈیٹوریم، مسجد اور آرٹ گیلری برائے فنونِ لطیفہ شامل ہیں۔ سیٹیزن کمیونٹی بورڈ، تھانوں میں لائبریریرز کا قیام، پبلک مقامات پر ائیرکنڈیشن لائبریریوں کی تعمیر، ویمن اسپورٹس کمپلیکس اور ویمن لائبریری کمپلیکس کی تکمیل اور مختلف اسلامی، اصلاحی اور سماجی پروگرامات کا انعقاد آپ کی بہترین کاوشوں کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
کراچی میں پہلی بار سٹی گیمز کا انعقاد بھی آپ کا ایک کارنامہ ہے۔ کل21 کھیلوں کے یہ مقابلے18 ٹاونز کی تمام178 یونین کونسلوں کی سطح پر منعقدہ ہوئے۔ یہ کھیل شہر میں کھیلوں کے فروغ و صحت مند ماحول کی فراہمی اور اتحاد و یکجہتی کے جذبات کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوئے، اور گراس روٹ لیول سے کھیلوں کے بیش بہا ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں بھی انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔
نعمت اللہ خان کے مخالفین بھی ان کے اخلاص اور امانت داری کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ نے دیانت کی مثال قائم کی اور کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک منصوبہ کہ پی سی ون میں جس کا تخمینہ25 کروڑ روپے تھے، آپ کے دوبارہ ٹینڈر کرانے سے اس پر لاگت کا تخمینہ صرف6کروڑ روپے آیا۔ اسی طرح شاہراہ فیصل فلائی اوور پر26 کروڑ31 لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا مگر آپ نے اسے18 کروڑ میں مکمل کرایا۔ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی مد میں ساڑھے آٹھ کروڑ کی کرپشن کا خاتمہ کیا۔ آپ نے تمام ٹینڈرز اور معاہدوں کی جانچ پڑتال اور نیلامی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا، اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے تعاون سے Procurenment Mannual بنایا اور پھر اس کے نفاذ کو یقینی بنایا۔
نعمت اللہ خان نے اپنی انتھک محنت اور کوششوں کے بعد شہری حکومت کے بجٹ میں حیران کن حد تک اضافہ کیا اور اسے5 ارب سے43 ارب تک لے گئے۔29ارب کا "تعمیر کراچی پروگرام" بھی آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
ناظم کراچی کی حیثیت سے آپ نے ہفتے میں ایک دن عوامی رابطے کے لیے مختص کیا۔ اس دوران ساٹھ ہزار سے زائد عوامی مشکلات و مسائل کو حل کیا۔ ابتدائی تین سالوں میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور عامۃ الناس سے2 لاکھ خطوط، فائلیں، فیکس اور ای میلز موصول ہوئیں جس پرآپ نے مختلف محکموں کو احکامات جاری کیے۔ شہری مسائل کے حل کے لیے صدر پاکستان، گورنر، وزیر اعلٰی اور چیف سیکرٹری سندھ سے ملاقاتیں کیں، ورلڈ بنک اور ایشین بنک کے علاوہ کراچی میں مختلف ممالک کے قونصل جنرلز اور مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں اور تعلیمی وفود سے ملاقاتوں کے علاوہ2500 کے قریب عوامی جلسوں اور افتتاحی تقریبات میں شرکت کی۔ نعمت اللہ خان بلاشبہ کراچی کے سب سے بہترین اور کامیاب ترین مئیر تھے۔ آپ نےبر وقت عوامی مسائل کے حل، سہولیات کی تیز رفتار فراہمی، بے مثال ترقیاتی کاموں اور امانت کا جو معیار قائم کیا ہے، وہ کراچی کے عوام میں ایک "رول ماڈل" کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، اور اب وہ ہمیشہ نئے آنے والے ناظمین کی صلاحیتوں کا نعمت اللہ خان کی کامیابیوں کے ساتھ موازنہ کریں گے۔
نعمت اللہ خان کی بہترین شہری خدمات کے نتیجے میں2005 میں دنیا کے بہترین مئیرز کی فہرست میں شامل ہوئے، مگر حتمی نتیجہ آنے سے قبل ہی آپ کی مدت نطامت ختم ہو گئی۔ آپ کی لازوال خدمات کے نتیجے میں بلامبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر آپ کی نظامت کا عرصہ باقی ہوتا تو آپ کا نام "ٹاپ مئیرز آف دی ورلڈ" کی لسٹ میں آجاتا۔

مسیحا کے روپ میں

کسی بھی ناگہانی آفت و مصیبت کے وقت نعمت اللہ خان ہمیشہ متأثرین کی مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔ الخدمت ویلفئیر سوسائٹی کےخالق اور سربراہ ہونے کی حیثیت سے آپ نے کراچی کی غریب اور کم آمدنی والی آبادی کے لیے کئی ویلفئیر سکیمیں بنائیں اور پورے شہر میں ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، اسکولوں اور مدارس کا جال سا بچھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ1996ء میں دادو،سندھ میں سیلاب،1997ء میں ہرنائی، بلوچستان میں زلزلے،1998ء میں تربت وگوادر، بلوچستان میں سیلاب،1999ء میں کیٹی بندر، جاتی، بدین اور سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان کے موقع پر ریلیف آپریشنز کی قیادت کی اور دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھا۔
1997ء میں تھرپارکر میں آنے والے قحط کے دوران اور اس کے بعد نعمت اللہ خان نے تھرپارکر کے وسیع و عریض صحرا کے چپے چپے پر عوامی خدمت کا جو کام جماعت اسلامی کے نظم، کے تحت محدود وسائل سے کیا، وہ کروڑوں ڈالر کی بیرونی امداد پانے والی این جی اوز کے کام سے کہیں زیادہ ہے۔آپ نے تھرپارکر میں میٹھے پانی کی فراہمی کے لیے "زمزم پراجیکٹ" کے نام سے 363 کنویں کھدوائے جن سےہزاروں بے وسیلہ صحرانشینوں کو پانی فراہم ہو رہا ہے۔ اسی طرح1000 سے زائد دیہاتوں میں "العلم پراجیکٹ" کے نام سے ان مظلوم و محروم لوگوں کی نئی نسل کوزیور علم سے آراستہ کرنے کے لیے اسکول قائم کیے جو اکیسویں صدی میں بھی زمانہ قبل از تاریخ کے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ1997ء سے اب تک اس بے آب و گیاہ صحرا کے دور دراز گوشوں کا طویل، تکلیف دہ اور تھکا دینے والا سفر کر کے ان مفلوک الحال لوگوں کی خبر گیری کرتے رہے ہیں، اور ان کی ضرورت کی چیزیں ان کے گھروں کے دروازے تک پہنچاتے رہے ہیں۔
اکتوبر2005ء میں آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے آپ کو الخدمت پاکستان کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا۔ آپ نے زلزلہ متاثرین تک نہ صرف کروڑوں روپے کی مالی امداد پہنچائی بلکہ انھیں غذائی سامان، کپڑے، کمبل اور خیمے بھی مہیا کیے۔ آپ آج کل بے گھر متاثرین زلزلہ کے لیے گاوں بسانے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔
نعمت اللہ خان کی فلاحی سرگرمیاں صرف پاکستان تک محدود نہیں ہیں بلکہ اسلامی اخوت کے جذبے کے تحت دیگر اسلامی ممالک کے مصیبت زدہ عوام کی مدد کے لیے بھی آپ ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ گزشتہ سال اسرائیل نے لبنان پر جنگ مسلط کی تو نعمت اللہ خان نے مظلوم لبنانیوں کی داد رسی کے لیے وہاں کا دورہ کیا اور کروڑوں کی امداد بہم پہنچائی۔
حال میں آپ نے "فکر ملی ٹرسٹ" کے تحت ایک تھنک ٹینک ادار قائم کیا ہے۔ اس تھنک ٹینک سے چئیرمین آئی ایس پی آر پروفیسر خورشید احمد، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر جمیل جالبی، سابق چئیرمین یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ڈاکٹر پریشان خٹک، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد رفیق، معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی، معروف دانشور لیفٹننٹ جنرل(ر) حمیدگل اور سابق گورنر بلوچستان لیفٹننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ جیسے لوگ منسلک ہیں۔


 

 
چوہدری غلام محمد مرحوم

چودھری غلام محمد(یکم اکتوبر 1916 ء کو جالندھر کے مقام دکوہامیں پیدا ہوئے۔ اور29 جنوری 1970ء، کراچی میں انتقال ہوا )
آپ نے ( 1933 ء)  میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اسی سال آپ کے والد گرامی چودھری میراں بخش فوت ہو گئے۔آپ نے معاشی مجبوریوں کے پیش نظر ریلوے میں بکنگ کلرک کے طور پرملازمت اختیار کرلی۔ابتدا ء میں خاکسار تحریک سے متاثرتھے، لیکن بہت جلد اس سے تعلق ختم کرلیا۔
 1942  ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔
1946میں جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے قیم اور 1953 ء میں صوبہ سندھ و حلقہ کراچی کے امیر منتخب ہوئے۔
1957 ء میں دوماہ کے لیے جماعت سالامی پاکستان کے امیر مقرر ہوئے۔ بعدازاں ایک عرصے تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے۔ مختلف اوقات میں نظر بند رہے، نیز 1964 ء میں جماعت پر پابندی لگی تو پابند سلاسل ہوئے۔ چودھری صاحب نے جماعت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور مولانا مودودی کے ذاتی نمائندے کی حیثیت سے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں شمولیت کی۔اسلامک فاؤنڈیشن ، لیسٹر(برطانیہ) اور اسلامک فاؤنڈیشن، نیروبی کے قیام میں چودھری صاحب کی منصوبہ سازی کو دخل ہے۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد ڈاکٹر ناصر(سابق وزیر اعظم، انڈونیشیا) کے ہمراہ مسلم ملکوں کا وسیع دورہ کیا۔ علاوہ ازیں شاہ ولی اللہ اورنٹئل کالج منصورہ ، صوبہ سندھ (15 نومبر 1959 ء) ادارہ معارف اسلامی، کراچی ( 1963 ء)  روزنامہ جسارت ملتان، کراچی (1970ء) بنگلہ روزنامہ "سنگرام " ڈھاکہ (1970 ء) ماہنامہ"چراغ راہ" کے اجرا اور قیام و استحکام میں بھی ان کا اہم رول ہے۔ آپ کی نگرانی میں سواحلی اور یوگنڈی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہوئے۔عمرکے آخری حصے میں سرطان کا شکار ہوگئے۔ خدمت دین کے لیے آخری دم تک حتی الوسع جدوجہد کرتے رہے۔متفرق کتابچوں کے علاوہ انگریزی  The Middle East Crisis ان کی تصنیفی یاد گار ہے۔ غلام محمد مرحوم کے جنازے پڑھانے کے لیے مولانا مودودیؒ لاہور سے کراچی پہنچے اور نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعدفرمایا:
"چودھری غلام محمد مرحوم نے جس جوش، محنت وقت و مال کی قربانی کے ساتھ دین کی خدمت کی ہے، اس کی میں تعریف نہیں کرسکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں اور اس ملک کے لاکھوں باشندے گواہ ہیں کہ چودھری صاحب نے دین کی خدمت میں دانستہ کوئی کوتاہی نہیں کی۔اپنی حیات کا خطرہ مول لے کر انہوں نے یہ کام کیا۔ خرابی صحت کے باوجود انہوں نے بیرونی ملکوں کے سفر کیے۔ان کی کوششوں سے افریقہ میں اسلامی مرکز قائم ہوا۔ چوہدری صاحب فلسطین کے مسئلے پر تمام اسلامی ممالک میں ر ائے عامہ ہموار کرتے رہے ۔۔۔۔اللہ کے ہاں اس کے بندوں کی گواہی مقبول ہوتی ہے، اور آپ سب گواہ ہیں کہ چوہدری صاحب نے حتی الوسع دین کی خدمت کی۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی خدمات کو قبول کرے اور اگر کوتاہی ہوئی ہے تو وہ انہیں معاف کردے۔


ڈاکٹر نذیر احمد شہید

ڈاکٹر نذیر احمد شہید 12 فروی 1922 ء کو ضلع جالندھر کے مقام انوکھروال میں پیدا ہوئے اور 8 جون 1972 ء کو ڈیرہ غازی خان میں شہید ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اینگلو مڈل اسکول پھرالہ اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول راجن پور سے حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے ایمر سن کالج ملتان چلے گئے۔ کالج میں دوران تعلیم ساتھی طلبہ کی تعمیر کردار کے لیے اپنے طور پر ایک تنظیم "جمعیت اسلامی" کے نام سے قائم کی۔ 1945 ء میں ایف اے کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر سنٹرل ہومیو پیتھک کالج لاہور میں داخلہ لیا.انہی دنوں مولانا مودودی کی دعوت سے متعارف ہوئے اور اپنی تمام صلاحیتوں کو جماعت اسلامی کے لیے وقف کردیا۔ 1946 ء میں صوبہ بہار کے امدادی کیمپوں میں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں سید مودودی کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان کو مرکز دعوت و تبلیغ بنایا اور کسب معاش کے لیے ہومیو پیتھک پریکٹس شروع کی۔مرحوم انتہائی بے باک،مخلص اور جری انسان تھے۔شخصی خوبیوں اور عظمت کردار کے باعث عوام میں اس قدر مقبول تھے کہ  1970 ء میں جاگیرداروں اور سرداروں کے مضبوط گروپ کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1962 ء سے 1970 ء تک تیرہ مرتبہ گرفتار ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آپ کو گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ مختلف اوقات میں جماعت اسلامی کے مقامی اور ضلعی امیر، مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے رکن اور صوبہ پنجاب کے نائب امیر رہے۔ مرحوم شعر بھی کہتے تھے۔ ڈاکٹر نذید شہید کے مکاتیب کا مجموعہ"لب زنداں" شائع ہوچکا ہے۔



پروفیسر عبدالحمید صدیقی مرحوم

21 مئی 1923 ء کو فیروز والہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ اور 18 اپریل 1978 ء کو گوجرانوالہ ہی میں انتقال فرمایا۔ دینی تعلیم شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب سے حاصل کی۔ میٹرک اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی، اور بے۔ اے ڈی اے وی کالج راولپنڈی سے کیا۔والد صاحب کی وفات کے بعد کسب معاش کے لیے اسلامیہ ہائی سکول گوجوانوالہ میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔اسی اثناء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بطور پرائیویٹ امیدوار ایم اے معاشیات کیا۔ کچھ عرصہ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں پڑھایا۔ پھر اسلامیہ کالج لاہور آگئے۔ قیام پاکستان سے قبل ہی مولانا مودودی کی تحریروں کا گہرا اثر لے کر تحریک اسلامی کے مؤید و معاون بن گئے تھے۔1958ء میں ماہنمامہ ترجمان القرآن سے باقاعدہ وابستہ ہوگئے اور حین حیات اسے مرتب کرتے رہے۔ پروفیسرعبدالحمید صدیقی بہترین استاد، اعلیٰ درجے کے مصنف، محقق،مترجم اور انتہائی پر خلوص اور درویز منش انسان تھے۔ قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ و تفسیر ان کی بڑی خواہش تھی، لیکن دس پاروں سے زیادہ کی مہلت نہ مل سکی۔ان کی وفات مولانا مودودی کے لیے ایک عظیم صدمہ تھا، کیونکہ مرحوم ان کے لی دست و بازوکا درجہ رکھتے تھے۔
مولانا صدیقی صاحب کی وفات پر ترجمان القرآن میں لکھا: اس مجسمہ خیرانسان نے وفات پائی، جو ایک اچھے مسلمان کی زندگی کا نمونہ تھی۔اس روز اس خاد م دین نے وفات پائی ، جس نے اپنی زندگی کے پورے  25 سال اسلام کی خدمت میں بسر کردیئے۔اس روزدنیا سے وہ شخص اٹھ گیا، جو دین و دنیا کے علوم کا جامع تھا، اور جس کے قلم سے اردو اور انگریزی میں وہ تحریریں نکلیں، جو انشاء اللہ رہتی دنیا تک طالبین حق کو نفع پہنچاتی رہیں گی۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء۔
میں نے جو کچھ بھی تھوڑی بہت دین کی خدمت کی ہے، اس کے اجر میں بھی وہ میرے برابر کے شریک ہیں اور اپنی دینی خدمات کا اجر تو وہ پورا پورا خود ہی پائیں گے۔ ان شاء اللہ
"میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کو اپنے صالح بندوں میں شامل کرے اور انہیں آخرت میں وہ اجر عطا فرمائے جواس نے متقین و مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔
پروفیسر عبدالحمید صدیقی کی مشہور تصانیف و تراجم یہ ہیں: ایمان و اخلاق۔ اسلام و تھیا کریسی۔مذہب اور تجدید مذہب۔ عقیدہ ختم نبوت کے چند عمرانی پہلو۔ انسانیت کی تعمیر نو اور اسلام۔ پس چہ باید کرد۔انگریزی نظام تعلیم کا اساسی تخیل۔ اسلام کا روشن مسقتبل۔ ایمان اور زندگی۔ اسلام اور معاشی تحفظ



چوہدری نذیر احمدمرحوم

چودھری نذیر احمد1911 ء میں جمال پور ضلع کرنال میں پیدا ہوئے اور 11 ستمبر   1976 کو ملتان میں وفات پائی۔ آپ نے پٹیالہ کالج سے بی اے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ریاضی میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں نائب تحصیلدار ہوئے۔اسی دوران میں مولانا مودودی کی تحریروں سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انگریز کی ملازمت چھوڑ دی اور جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔حصول معاش کے لیے سرسہ میں ایک ادارہ قائم کیا۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے جہانیاں اور پھر بعد میں ملتان میں مستقلاً آباد ہوگئے۔یہاں ادارہ جامع العلوم کی بنیاد رکھی۔ جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ اسلامی جمعیت طالبات (قیام: ستمبر 1969 ء)کی داغ بیل آپ ہی کے گھر میں ڈالی گئی۔آپ کی بڑی بیٹی محترمہ شکورہ صاحبہ جمعیت طالبات کی پہلی ناظمہ اعلیٰ منتخب ہوئیں۔



ڈاکٹر محمدیعقوب خاں ایک روشن دیا جو بجھ گیا

ڈاکٹر محمد یعقوب خاں مرحوم صوبہ سرحد کی سیاست کا ایک معروف اور درخشندہ نام ہے۔ شاید ہی کوئی ہو جو ان کے نام سے واقف نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر محمد یعقوب خان پختون قوم کے مشہور قبیلے ترکلانی کی ذیلی شاخ مست خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ ضلع دیر کا علاقہ جندول بڑے عرصے تک اس قبیلے کے زیر تسلط اور اس علاقے کا پایہ تخت رہا۔ ڈاکٹر محمد یعقوب خان کے پردادا عمر خان انگریزوں کے خلاف دیر سے چترال تک ہر محاذ پر بڑی بے جگری سے لڑے مگرانگریزوں کے مقامی طفیلی نوابان دیر اور خوانین کی وجہ سے عمرخان کو شکست ہوئی تو مست خیل قبیلہ ظلم کے لامتناہی سلسلے میں گھر گیا۔
ڈاکٹر محمد یعقوب خان مرحوم کے دادا نے جندول چھوڑ کر میدان کے علاقہ سانیال میں رہائش اختیار کی اور 1929 ء کو یہیں ڈاکٹر محمد یعقوب خان کی پیدائش ہوئی۔

ابتدائی زندگی

والد صاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے مدرسہ حقانیہ سوات میں داخلہ لیا، اورمزید سیکھنے کی لگن میں مدرسہ عربیہ کلیانی مردان سے ہوتے ہوئے اکوڑہ خٹک جا پہنچے اور یہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی غافل نہ تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کی ڈگری حاصل کی جبکہ پشاور بورڈ سے ایف اے اور پشاور یونیورسٹی سے بی اے کے امتحانات پاس کیے ۔ واضح رہے کہ اس وقت دیر میں نوابان دیر کے جاہلانہ رویے کی وجہ سے کسی پرائمری سکول تک کا نام و نشان نہیں تھا۔
اس کے بعد1951 ء میں انجمن حمایت اسلام طبیہ کالج لاہور سے طب کی ڈگری حاصل کی اور اپنے علاقے میں واپس آ کر طبی پریکٹس شروع کردی۔ یہی پریکٹس اورعوام کی خدمت کا جذبہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ ان کے تعارف اور رابطے کا ذریعہ بنا،اور آپ علاقے کی ہردل عزیز شخصیت بن گئے، اورعوام نے ہمیشہ آپ کو اپنے نمائندہ کے طور پر منتخب کیا۔

جماعت اسلامی میں شمولیت

ڈاکٹر صاحب مرحوم کے مطابق اکوڑہ خٹک میں انھوں نے مولانا مودودی کی تصانیف کا مطالعہ کیا اور غیرمحسوس انداز میں جماعت اسلامی کے قریب تر ہوگئے۔ وہیں سے سید مودودی کے ساتھ خط و کتابت ہوئی،اور پھر لاہورمیں مولانا سےملاقات کے بعد جماعت اسلامی شامل ہوگئے۔ تحریکی اوراسلامی جذبہ اخوت اس قدر تھا کہ وہ کارکنان جماعت سے اپنے اہل وعیال کی طرح محبت کرتے تھے۔
ڈاکٹر مرحوم پیارومحبت اور دل میں خوف خدا رکھنے والے انسان تھے۔ ایک طرف بچوں سے محبت کا یہ حال کہ کبھی کسی بچے کے منہ پر تادیبی طور پر طمانچہ تک نہیں مارا، لیکن دوسری طرف ان کی تعلیم وتربیت کے لیے ہر قسم کا انتظام کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے بچوں کو ان کے دور اقتدار میں بھی کسی کے ساتھ بدتمیزی یا کسی قسم کی بدعنوانی کی جرات نہ ہوئی۔
سادگی،ایمانداری،سچائی اور خوفِ خدا کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے آخری وقت تک سفروحضر میں کبھی تہجد کی نماز قضا نہیں کی۔ گاڑی میں سفر کے وقت تلاوت قرآن سننا اور ساتھ ساتھ خود بھی آہستہ آواز میں قرأت کرتے جانا ان کی عادت تھی۔ دیانت داری کی حالت یہ تھی کہ میرافضل خان وزیر اعلیٰ سرحد کے دور حکومت میں مجھے(احسان الحق) اور دو اور افراد کو حکومت نے حج کے لیے رقم فراہم کی۔ ڈاکٹر صاحب کو جب ایبٹ آباد میں اس کی خبرہوئی تو فوری طور پر ہم سب کو حج پر جانے سے منع کیا اور اسی وقت رقم سرکاری خزانے میں واپس جمع کرا کے رسید ان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔
سادگی ایسی کہ زندگی کے آخری لمحات تک کچے مکان میں رہے، حتی کہ باتھ روم بھی کچا تھا۔ کبھی آسائشوں کی خواہش نہیں کی۔ فارغ وقت میں جو تھوڑی بہت زمین تھی اس میں اکثر خود اپنے ہاتھوں سے کام کرتے تھے۔ ان کی پوری زندگی سچائی سے عبارت تھی اور اس سیاست میں جس کانام ہی جھوٹ کا متبادل بن گیا ہے، انھوں نے کبھی جھوٹ کی سیاست نہیں کی، شاید یہی ان کی مسلسل کامیابیوں کا راز تھا۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے بچوں کی تربیت سے غفلت نہیں برتی، یہی وجہ ہے کہ اگر ہم میں کچھ اچھائی یا خوبی ہے تو وہ اللہ کے فضل اور ان کی تربیت کا نتیجہ ہے اور اگر کوئی خامی ہے تو ہماری ذاتی کمزوری ہے۔

عملی سیاست کا آغاز

ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ضلع دیر میں جماعت اسلامی کا کام بہت پہلے نواب دیر کے دورحکومت میں شروع کردیا تھا۔ جب ضلع دیر حکومت پاکستان کا حصہ بنا تو دیر کے اکثر نواب اور خوانین حسب روایت سرکاری مسلم لیگ کا حصہ بن گئے۔ اس وقت کی حکومت کا ارادہ تھا کہ سیاسی طور پر پسماندہ لوگوں کو(Nomination) کے نام پر دھوکہ دے کر انھی نوابوں اور خوانین کونامزد کردیاجائے۔ اس سلسلے میں جب پہلا باقاعدہ جرگہ منعقد ہوا اور ایوب خان کے نامزد ڈپٹی کمشنر ضلع دیر نے(دیر خاص) میں نامزدگی کی تجویز پیش کی تو مردِ درویش ڈاکٹر محمد یعقوب خان نے اٹھ کر واضح الفاظ میں کہا کہ نامزدگی حق رائے دہی کا متبادل نہیں اور پرزور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ دیر کے لوگوں کو حق رائے دہی کا حق دینا ہوگا۔ جرگے میں موجود سرکاری خوانین، نوابوں اور حکومتی اہلکاروں کے ماتھوں پر شکنیں تو آئیں لیکن وہ ڈاکٹر مرحوم کی بےباکانہ جرات کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ اس طرح ڈاکٹر صاحب کی ہمت اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کی جدوجہد سے دیر میں جمہوریت کے پودے کی ابتدا ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کی یہی بے باکیاور حق گوئی ہی تھی جس نے لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت بھر دی اور ملک کے پہلے جنرل الیکشن میں دیر کے لوگوں نے دیر کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں سیٹیں ان پر اعتماد کر کے جماعت اسلامی کی جھولی میں ڈال دیں، اس کے بعد مسلسل چار دفعہ آپ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس عرصے میں عوامی خدمت سے عوامی اعتماد پر پورے اترے۔
صوبائی اسمبلی میں ان کی کارکردگی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جتنا کام اس اکیلے مرد درویش نے کیا، وہ پوری اسمبلی کے کام سے زیادہ تھا۔ شراب پر پابندی، جوئے کو غیر قانونی قرار دینا، رقص و سرود کی محفلوں کی روک تھام اورنائٹ کلبوں کی روایات کا خاتمہ ڈاکٹر مرحوم کی مختلف قراردادوں کا نتیجہ تھا۔ اپنی سیاسی زندگی میں انھوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا، اور ایک محتسب کا کردار اس خوبی سے ادا کیا کہ اپنے پرائے اور سیاسی مخالفین بھی اس کے معترف ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں جنرل فضل حق مرحوم گورنر سرحد تھے، ایک پروگرام میں ڈاکٹر صاحب نے مارشل لا کے خلاف قرارداد پیش کی تو جنرل فضل حق نے کہا کہ یہ قرار داد واپس لیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے انکار کیا۔ گورنر نے صوبائی وزرا اور وزیراعلی کی موجودگی میں طیش میں آکر کہا ڈاکٹر صاحب، میں آپ کو اسمبلی سے نااہل کردوں گا۔ ڈاکٹر مرحوم نے اطمینان سے جواب دیا گورنر صاحب آپ مجھے اسمبلی سے نااہل کردو گے مگر مساجد کے محرابوں اور ممبروں سے کیسے دور رکھو گے۔ ڈاکٹر صاحب کے پختہ کردار کی وجہ سے وہ دن بھی آیا کہ وہی جنرل فضل حق سرحد اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور ڈاکٹرصاحب نے اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے واک آؤٹ کیا تو فضل حق بھی آپ کے ساتھ واک آؤٹ میں شامل تھے۔ اور اس موقع پرکہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب میرا ووٹ ہمیشہ آپ ہی کا ہوگا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ ہمیشہ حق ہی کا ساتھ دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ایک طرف سیاسی میدان میں انتھک محنت کرتے تھے تو دوسری طرف ضلع دیر میں دینی مدارس قائم کیے جو انھی کی زیر نگرانی کامیابی سے چلتے رہے۔ آج بھی جامعہ حیات المسلمین کوٹو اور جامعۃ المحصنات ان کی یادگار کے طور پر موجود ہیں اور طلبہ و طالبات کو دینی علوم سے آراستہ کرنے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سچ ہے کہ ان کی زندگی صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دن کو جہاد اور رات کو اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہوئے گذری ہے۔
انھوں نے خود کو اس وقت مرد آہن ثابت کیا جب 2002ء کے بلدیاتی انتخابات میں 70سال کی عمر میں آپ تمام سیاسی مخالفین اور حکومت وقت کی امیدوں کے خلاف ضلع ناظم بن گئے، اور مختصرعرصے میں ضلع دیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا۔ ضع دیر میں یونیورسٹی آف ملاکنڈ، بلامبٹ ایریگیشن چینل اور ملاکنڈ بورڈ جیسے بڑے منصوبے ہمیشہ ان کی خدمات کی یاد دلاتے رہیں گے۔ ضلع دیر جیسے پسماندہ علاقے میں سکولوں کا جال، واٹر سپلائی سکیمیں، سڑکوں کی تعمیر اور دور دراز علاقوں میں بجلی پہنچنا ان کی عوامی خدمت کا عظیم مظہر ہے۔
ڈاکٹر محمد یعقوب خان جماعت اسلامی ضلع دیر کے امیر اور صوبائی،مرکزی وضلعی شوریٰ کے تاحیات رکن رہے۔ صوبائی نائب امیر کے ذمہ داری بھی آپ کے کندھوں پر تھی۔ جب وہ ضلعی ناظم تھے تو دیر کے ضلعی امیر مولانا احمد غفورغواص کسی مسئلے میں چند لوگوں کے ہمراہ ڈاکٹرصاحب سے ملنے گئے۔ غواص صاحب بتاتے ہیں کہ جب ہم نے بات ختم کی تو ڈاکٹر صاحب مرحوم نے کہا:
مولانا صاحب! جماعت کے کارکن اور دیگر مسلمان جنت میں جائیں اور ڈاکٹر یعقوب جہنم میں جائے، ایسی نظامت اعلیٰ کے لیے میں ہرگز تیار نہیں ہوں۔ مجھے جنت میں جانے والا ناظم اعلیٰ رہنے دو۔
اوراس کے بعد فرمایا:
مولانا صاحب: ضلع دیر پائین کی حکومت ہمیں ملی ہے اور میری کوشش ہے کہ یہ حکومت اسلام کی رو سے مثالی ہو تاکہ لوگ مان لیں کہ اگر ہمیں صوبہ سرحد یا پاکستان کی حکومت مل جائے تو وہ بھی ان شاء اللہ اس طرح ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ چلا سکیں گے۔ یہی وہ متاع ہے جس کو ہم استعمال کر رہے ہیں۔

مضمون نگارڈاکٹر احسان الحق
(ڈاکٹر محمد یعقوب خان مرحوم کے صاحبزادے اور دیر کے ضلعی ناظم ہیں)

 


عبدالستار افغانی مرحوم

موت سے کس کو رستگاری ہے مگر بعض افراد کی موت کچھ اس شان کی ہوتی ہے کہ اس کی یادیں دل میں بسی رہ جاتی ہیں۔ جانے والا چلا جاتا ہے مگر اپنے پیچھے اپنے اعلیٰ کارنامے اور خوش گوار یادیں ہمیشہ کے لیےچھوڑ جاتا ہے جو تا دیر ذہن سے محو نہیں ہوپاتیں۔ محترم عبدالستار افغانی کی رحلت بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے۔ وہ جنھیں عوام نے شہر کی مثالی تعمیر و ترقی پر ''بابائے کراچی''کا خطاب دیا تھا، آّج ہم میں نہیں۔ 11  شوال  1427 ھ (5 نومبر 2006 ء )کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
عبد الستار افغانی کے آباؤ اجداد 150 سال قبل افغانستان میں غازی امان اللہ خان کی بغاوت کے بعد ممبئی میں منتقل ہوگئے۔ بعد ازاں ان کے خاندان کے افراد 50 سال ممبئی میں گزارنے کے بعد کراچی آگئے۔ وہ 1930ء میں کراچی کے علاقے لیاری میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے پی ایف اسکول لیاری سے حاصل کی اور پھر جامعہ کراچی سے بی اے کیا۔ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا رحجان ان کے اندراوائل عمر ہی سے موجود تھا۔ ابھی ان کی عمر صرف 14 سال تھی کہ وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے، اور پھر تادم مرگ اس سے وابستہ رہے۔ کسی بھی تحریک یا سیاسی جماعت سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے کی یہ ایک عظیم مثال ہے۔ سیاسی زندگی کا آغاز انھوں نے 1962ء میں ایوب خان کے زمانے میں بی ڈی سسٹم کا ممبر منتخب ہوکر کیا۔ پھر ایک عرصے تک وہ شہری کمیٹی کے رکن رہے مگر شہر کے سیاسی افق پر وہ اس وقت ابھر کر سامنے آئے جب 1979ء میں کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں چار سال کے لیے کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔ ستایش کی تمنااور صلے کی امید سے بے نیاز ہوکر عوام کی بے لوث خدمت پر کراچی کے عوام نے انھیں 1983ء دوبارہ میئر منتخب کیا۔2002ء کے قومی انتخابات میں کراچی کے عوام نے پھر ان پر اعتماد کیا اور انھیں اپنی نمائندگی کے لیے ممبر قومی اسمبلی منتخب کیا۔
ان کی اصول پسندی پر مبنی سیاست، حق گوئی و بے باکی اور عوامی خدمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے ان کی شبانہ روز کا وشوں کے سب ہی قائل ہیں۔ ان کی میئر شپ میں کراچی کی تعمیر و ترقی کا جس قدر کام ہوا ہے، کراچی کی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ " میں کراچی کا میئر ہوں اور کراچی کا ہر علاقہ اور ہربستی میری ہے۔ ان بستیوں کا بسانا اور ان کو ترقی دلوانا میرا اولین فرض ہے۔" یہی وجہ ہے کہ کراچی کی سیاسی جماعتیں اور عوام پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر ان کی خدمات کا اعتراف کرنے پر خود کو مجبورپاتے ہیں۔ان کی نما جنازہ میںتمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت عبدالستارافغانی مرحوم کی ہردلعزیزی کا کھلا ثبوت ہے۔
عبدالستارافغانی کی موت صرف ایک شخص اور پارلیمنٹیرین ہی کی موت نہیں بلکہ ایک زریں عہد کے خاتمے کا بھی اعلان ہے۔ بلا شبہ عبدالستار افغانی نے اپنے طرز حکومت سے قرون اولیٰ کی طرز حکمرانی کی یا د تازہ کردی۔ ان کی زندگی سادگی، ایثار، قربانی، جدوجہد، زہد، قناعت، صبر و شکر اور سب سے بڑھ کر عوامی خدمت سے مملو تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قحط الرجال کے اس دور میں عبدالستارافغانی کا دم ہمارےلیے کسی نعمت غیرمترقبہ سے کم نہ تھا۔

تحریر: نذیر الحسن


مولانا فضل معبود مرحوم

18 جنوری بھی اب تحریکی زندگی کی یادوں میں ایک گراں لمحہ بن گیا ہے۔ لیجیے محترم بھائی سید فضل معبود بھی رخصت ہوئے۔اَِنا للہ واِنا الیہ راجعون
یہ خبر بجلی کی کوندکی طرح دل پرپڑی اور میں ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگیا۔ جانتا ہوں کہ موت سب سے بڑی حقیقت ہے۔ بلاشبہ ہر انسان فانی ہے اور ہم سب اس قافلے کے شریک ہیں۔ منزل تو وہی ہے ، دنیا تو بس ایک درمیانی مرحلہ ہے لیکن اس سب سے بڑی حقیقت اور تقدیر سے اس ناگزیر ملاقات کو ہم بھولے رہتے ہیں۔ برادرمحترم مولانا سید فضل معبود کے لیے فوری دعائے مغفرت کے بعد جو خیال دل و دماغ پر چھایا رہا وہ رفیق اعلیٰ سے ملاقات کے بارے میں اپنی غفلت کا احساس تھا۔ نہ معلوم کیوں ان کے انتقال کی خبر غیر متوقع لگی اور اس کو اپنی بھول جان کر دل بے چین ہوگیا۔
فضل معبود صاحب سے میری پہلی ملاقات اسلامی جمعیت طلبہ کی نظامت اعلٰی کے زمانے میں ہوئی۔ سرحد کے دورے پر آیا تو وہ پشاور کی جماعت کے امیر تھے اور جس محبت ، شفقت اور بے تکلفی سے ملے وہ آج تک دل پر نقش ہے۔میں نے جن استاد سے قرآن پاک پڑھا ان کا تعلق بھی صوبہ سرحد سے تھا۔ پھر سرحد کے متعدد افراد سے مختلف حیثیتوں سے ملاقات رہی اور تعلقات استوار ہوتے رہے۔ لیکن میں اپنے حقیقی احساسات کے اظہار میں بخل کا مرتکب ہوں گا اگر یہ نہ کہوں کہ وہ پہلے پشتون تھے جن کے بارے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ پشتون تہذیب اور روایت کا نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر یوپی اور دلی کی ثقافت کے بھی بہت سے پہلو لیے ہوئے ہں۔ ڈاکٹر خورشید الاسلام کا ایک معرکہ آرا مقالہ شبلی نعمانی پر ہے جس کا پہلا جملہ ہے"شبلی وہ پہلے یونانی ہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوئے میں " ۔میں کوئی ایسی بات کہنے کی جسارت تو نہں کرسکتا لیکن اپنے اس حساس کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ سید فضل معبود پشتون اور گنگا جمنا کی ثقافت کا سنگم تھے۔، زبان و بیان اور اظہار ادا میں وہ دونوں ثقافتوں کا مرقع تھے اور کبھی ان کی زبان سے شین قاف اور تذکیر و تانیث میں کوئی لغزش محسوس نہیں کی۔ گفتگو میں نرمی اور مٹھاس، اردو زبان کے اسرارو رموز کا ادراک، نکھراادبی ذوق،علمی بالیدگی اور ان سب کے ساتھ خلوص اور سادگی۔ فضل معبود کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔ چھوٹوں کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنااور ان کوعزت دینا کوئی ان سے سیکھے۔
مولانا فضل معبود یکم اپریل 1918 ء کو ضلع مردان کے قریب ایک دیہات تہامت پور میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ اردو سے خصوصی شغف تھا اور اس زبان میں ایم اے کیا۔ ترجمان القرآن کے ذریعے مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی سے واقفیت ہوئی اور یہ رشتہ 1938ء میں قائم ہوا۔1945 ء میں جماعت اسلامی کے دوسرے کل ہند اجتماع میں جو پٹھان کوٹ میں منعقد ہوا، شرکت کی اور اپریل 1945 ء میں جماعت کی رکنیت اختیار کرلی۔ جو عہد اپنے رب سے تجدید ایمان کے ساتھ کیا اسے آخری لمحے تک نبھایا اور 18جنوری 2007 ء کو جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔
جماعت اسلامی میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔1946 ء سے 1967 ء تک پشاور شہر کے امیر رہے۔ ۔1950 ء میں مرکزی شوریٰ کے رکن بنے اور 2000 ء تک شوریٰ میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ کچھ عرصہ ریلوے کے محکمے میں ملازمت کی۔ 1958 ء سے 1964 ء تک روزنامہ "انجام" پشاور کے سب ایڈیٹر رہے۔ تین بار سنت یوسفی پر عمل کرتے ہوئے تحریک اسلامی کی خدمت کے صلے میں قیدو بند کی صعوبتیں ہنسی خوشی برداشت کیں۔ اس طرح دو سال سے زیادہ مدت جیل میں گزاری ۔ کچھ عرصے مرکزی اردو سائنس بارڈ کے ڈائریکٹر رہے۔ بی ڈی ممبر بھی بنے اور الخدمت کے محاذ سے مریضوں کی دیکھ بھال بھی کی۔ریڈیوں پاکستان سے پشتو اور اردو میں دینی اور سماجی موضوعات پر تقاریر کا سلسلہ بھی 1960 ء سے 2001 ء تک جاری رہا۔ غرض اجتماعی زندگی کے ہر شعبے اور میدان میں کچھ نہ کچھ کردار اداکیا۔
الحمد للہ آج صوبہ سرحد تحریک اسلامی کابڑا گہوارہ ہے اور صوبے کے طول عرض میں دعوتی ساتھیوں میں فصل بہار ہے۔ لیکن ایک مدت تک میرے لیے صوبہ سرحد نام تھا محترم خان سردار علی خان کا ، محترم تاج الملوک اور سید فضل معبود کا۔ ہر ایک اپنا اپنا مقام اور انداز کار۔ گویا

ہرگلے رارنگ و بوئے دیگر است

علمی اور ادبی ذوق ، تحریکی اخوت اور ہمہ جہت ثقافتی دل چسپی کے اعتبار سے میرا سب سے زیادہ قرب برادرم فضل معبود ہی سے رہا۔ چراغ راہ کی وجہ سے ایک خصوصی تعلق قائم ہوگیا۔ پھر شوراوں میں ہمیں مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ 1964 ء میں لاہور کی جیل میں ایک ہی بیرک میں ہم ساتھ رہے۔ میرے بزرگ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی مجھ سے خوردوں والا معاملہ نہیں کیا۔ محبت کے ساتھ جو احترام انہوں نے دیا، اس نے مجھے ان کا گرویدہ کردیا۔ اسلام سے وفاداری ، مولانا مودودی سے محبت ، تحریک کے منہج کے باب میں مکمل یک سوئی، دعوت اور تنظیم دونوں میں سلیقہ،طبیعت میں بلا کی نفاست ، معاملات میں کھرا ہونا اور تعلقات میں خلوص کے ساتھ مٹھاس، ان کی شخصیت کے ناقابل فراموش پہلو تھے۔ تحریک کے سچے مزاج شناس تھے اور 1957 ء کے ماچھی گوٹ کے معرکے میں ان کی یک سوئی اور پھر کوٹ لکھپت میں دستور جماعت کی تدوین میں ان کی معاونت میں کبھی بھول نہیں سکتا۔

 

مولانا فضل معبوود کو رسائل کے پورے پورے ریکارڈ رکھنے کا شوق تھا۔ مجھے ان کی ذاتی لائبریری دیکھنے کا موقع نہیں ملا لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس کتب ورسائل کا بڑا قیمتی ذخیرہ ہوگا۔ فضل معبود صاحب کا حافظہ بھی بہت اچھا تھا اور جب بھی ہمیں وقت ساتھ گزارنے کا موقع ملا ہے احساس ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی خوب یاد رہتی تھی۔صحت کی خرابی کے باعث آخری زمانے میں مجھے ان سے ملنے کا موقع نہیں ملا جس کا افسوس رہے گا۔الحمدللہ انہوں نے بھرپور تحریکی زندگی گزاری اور اس پورے عرصے میں پائے استقامت میں کوئی کمزوری نہیں آئی۔نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اپنے رب اورتحریکی ساتھیوں سے وفاداری کا معاملہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور خدمات کو قبول فرمائے، بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت کے اعلٰ مقامات پر جگہ دے۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

 

تحریر: پروفیسر خورشید احمد
بشکریہ: "ترجمان القرآن"


تاج الملوک مرحوم
پیدائش و خاندانی پس منظر

تاج الملوک 1910ء میں سوات کے ایک معزز اور مقتدر خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اور دادا اپنے علاقے کے ممتاز عالم اور معتبر اصحاب تھےاور ذمہ دار سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ ان کے چچا بھی والیِ سوات کے اعلیٰ عہدیدار تھے اور چھوٹے بھائی سیف الملوک بھی آخر وقت تک حاکمِ وقت کے معتمد اور وفادار رہے۔ اس اعتبار سے ان کا خاندان خاصا خوش حال اور معزز تھا اور انھیں مروجہ نوعیت کی ہرسہولت حاصل تھی۔
نوجوانی ہی میں والد کا سایہ سرسے اٹھ گیا۔ بھائیوں میں سب سے بڑے تاج الملوک ہی تھے، یوں والدہ اور چاروں بھائیوں کی ذمہ داری ان کے کندھوں پرآن پڑی، اور انھیں جلد عملی زندگی میں آنا پڑا۔ چنانچہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنےکےبعد وہ ایک مڈل سکول میں مدرس ہوگئے اور 1932ء سے 1934ء تک تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، مگر چونکہ بڑے ذہین اور زیرک تھے اور مزید تعلیم کا شوق فراواں رکھتے تھے، اس لیے ملازمت ترک کرکے 1934ء میں دہلی چلے گئے اور وہاں طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا، مگر جب کالج کے چند لائق ترین اساتذہ نے الگ ہوکر جامعہ طبیہ کالج کی بنیاد رکھی تو متعدد دوسرے طلبہ کے ساتھ تاج الملوک بھی اس میں منتقل ہوگئے اور 1937ء میں اس سے سندِ فراغت حاصل کی۔ اسی دوران میں انھوں نے منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کرلیا ۔ مولانا فضل معبود کی روایت کے مطابق منشی فاضل میں مشہور عالم دین اور مؤرخ مولانا سعید احمد اکبرآبادی بھی ان کے استاد تھے۔ قیام دہلی میں تاج الملوک نے قومی و دینی تحریکوں سے بھرپور استفادہ کیا اور ان سے متاثر بھی ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں تحریکِ آزادی بھرپور صورت میں آگے بڑھ رہی تھی، اور کوئی دن نہیں جاتا تھا جب دہلی میں کوئی نہ کوئی جلسہ نہ ہوتا اورمعروف ہندو مسلم رہنما خطاب نہ کرتے۔
تاج الملوک علماء کی شخصی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کی بنا پر عزت کرتے تھے اور خصوصاً مولانا عبدالکلام آزاد کا لٹریچر ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ چنانچہ اس دوران میں جب ایک مرتبہ محمد علی پارک دہلی میں انڈین نیشنل کانگرس کا اجلاس ہوا جس میں ہندو رہنماؤں کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد، اور مولانا حسرت موہانی نے بھی تقریریں کیں، تو تاج الملوک نے اس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شرکت کی۔ جلسہ گاہ کے باہر بانسوں کی ایک مسجد بنائی گئی تھی، جہاں مسلمان مندوبین باجماعت نماز ادا کرتے تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی اقتدا میں باری باری نماز ادا کی جاتی۔ تاج الملوک صاحب وضو کے لوٹے بھر کر تیار رکھتے اور علمائے کرام کو وضو کراتے تھے۔ انہوں نے اس کام کے لیے اپنے دوستوں کی پوری ایک جماعت لگا رکھی تھی۔
تاج الملوک ان سب علماء سے گہری عقیدت رکھتے تھے جو راست فکر اور با عمل تھے اور انگریزی استعمار کے خلاف مصروف جہاد تھے، چنانچہ وہ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا احمد علی لاہوری کے بڑے قدر دان تھے۔ حکیم محمد سعید خاں لکھتے ہیں کہ طالب علمی کے زمانے میں منشی فاضل ہونے کی وجہ سے فارسی کاعمدہ ذوق رکھتے تھے اور جامی، حافظ اور علامہ اقبال کے بے شمار شعر انھیں ازبر تھے۔

ملازمت:

جامعہ طبیہ سے فارغ ہوکر تاج الملوک 1937 ء میں واپس سوات آگئے اور درگئی ریلوے اسٹیشن پر بطور ریاست کے آؤٹ ایجنٹ مامور ہوئے۔انھی دنوں میں وہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے متاثر ہوئے اور پھر ہمیشہ کے لیے انھی کے ہو کر رہے گئے۔

جماعت سے تعارف:

ماہِ مئی 1941 ء میں تاج الملوک صاحب کا اپنے ایک عزیز محمد گل صاحب کے ذریعے سے پشاور میں فضل معبود صاحب سے رابطہ ہوا۔ پہلی دفعہ ان سے سید مودودی کی کتاب "پردہ" اور "تنقیحات" لے کر پڑھی تو اس سے بہت متاثر ہوئے۔ سوات جا کر تاج الملوک نے مولانا مودودی کی کتابیں منگوا لیں اور براہ راست دار السلام پٹھان کوٹ سے خط وکتابت شروع کردی اور فضل معبود صاحب سے بھی رابطہ رکھا۔ نتیجتاً ان کا تعلق جماعت سےگہرا اور مستحکم ہوتا چلا گیا۔
تحریک اسلامی سے باقاعدہ وابستہ ہونے کے بعد انھوں نے اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانا گویا اپنے آپ کے لیے فرض عین بنا لیا، وہ ایک ایک دوست اور رشتہ دار تک پہنچے اور انھیں اسلام کا انقلابی تصور سمجھانے کی پوری کوشش کی۔ اس حوالے سے انھوں نے پہلے اپنے اندر تبدیلیاں کیں، پہلے بے ریش تھے، اب ڈاڑھی بڑھائی، اہتمام کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرتےجبکہ اپنی وضع قطع بھی اسلامی بنالی۔
1946 ء تک تاج الملوک مرحوم جماعت کے ایک فعال اور انتھک کارکن کی حیثیت سے متعارف ہوچکے تھے۔1944 ء میں انھوں نے اپنے علاقے میں ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ شروع کردیا اور1945  ء میں جماعت کے پہلے کل ہند اجتماع میں بھی شرکت کی جس میں صوبہ سرحد سے بارہ افراد شامل ہوئے تھے۔1946 ء میں الہ آباد کے اجتماع میں صوبہ سرحد سے 42 اور 1947  ء کے دارالاسلام پٹھان کوٹ کے آخری سالانہ اجتماع میں ان کی تعداد 99  ہو گئی۔ یہ بنیادی طور پر تاج الملوک اور سردارعلی خاں مرحوم کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ تاج الملوک باضابطہ طور پر جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے قیم مقرر ہوئے تھے۔ امارت کی ذمہ داری سردار علی خاں پر تھی۔۔

ابتلاء وآزمائش

1946 ء میں تاج الملوک مرحوم کو دعوت دین کی پاداش میں والی سوات کی ناراضی مول لینا پڑی اور ابتلاء و آزمائش کا سامنا کرناپڑا۔ راہ حق پر استقامت کی وجہ سے والی سوات کے حکم پران کی جائیداد اوراثاث البیت لوٹ کرانھیں قید کردیا گیا۔ قید و بند کی صعوبتوں کی ہلکی سی جھلک انھی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔
" 12  اکتوبر ( 1946 ء ) کو مجھے قلعہ میں لے جایا گیا، تین راتوں کے بعد ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں جو چوبیس گھنٹے رہتی تھیں، مجھے ایک تنگ و تاریک تکونی کوٹھڑی میں بند کردیا گیا۔ اس کوٹھی میں مچھروں،پسؤوں اور دوسرے موذی جانوروں کی بہتات تھی۔ اسی کوٹھڑی کے اندر مجھے رفع حاجت سے بھی فارغ ہونا پڑتا تھا اور اسی کے اندر کھانا بھی دیا جاتا تھا۔ ماچس تک پاس رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ صرف دس بجے سے چار بجے تک نکالا جاتا تھا۔ باقی اٹھارہ گھنٹے اسی کے اندر بند رکھا جاتا۔ ہر قسم کی ملاقاتیں بند تھیں، ملازمین تک کو مجھ سے گفتگو کرنا منع تھا۔
میرے پاس قرآن مجید کا ایک نسخہ، رحمت اللعالمین، ترجمان القرآن، پیغام حق، تنقیحات اور Islam At The Cross Roads تھیں، جو تین روز بعد مجھ سے چھین لی گئیں۔ قرآن پاک کے لیے میں نے زور لگایا تو وہ ایک ماہ کے بعد سنسر ہو کر واپس ملا۔ یہی حالات چھ ماہ تک رہے۔"
آٹھ ماہ کی قید کے بعد رہا ہوئے، رہائی کے بعد حالات اتنے سازگار نہ تھے کہ سوات میں رہ کردعوت دین کا کام جاری رکھتے اس لیے 4  جون  1948 ء کو اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر پاکستان چلے آئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاج الملوک مرحوم کو تحریک اسلامی کا پہلا اسیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

روشنی کا سفر

تاج الملوک صاحب1947 ء میں ریاست سوات سے نکالے گئے تھے اور پھر چودہ سال بعد جون 1962 ء میں انھیں اپنے آبائی گھر جانے کی اجازت ملی۔ اس دوران اگرچہ وہ ریاست سے باہر تھے مگر ان کی محنت، دین حق کے لیے جذب و شوق اور قربانی و استقامت اپنا اثر دکھاتے رہے اور ریاست میں تحریک کی روشنی پھیلتی چلی گئی اورعلاقے میں تحریک اسلامی کے بہت سے سرگرم اور جان فروش کارکنان پیدا ہوگئے تھے۔ ان میں سے بعض کو تاج الملوک کی طرح والی سوات کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔

انتقال پرملال

صدر ایوب خاں نے مارشل لا ختم کیا اور انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں پر پابندی ختم ہونے کا اعلان ہوا، تو صورت حال پر غور کرنے کے لیے 12اگست 1962ء کو مردان میں مردان اور سوات کے اراکین کا اجتماع منعقد ہوا۔ تاج الملوک صاحب اس میں شرکت کے لیے موٹر سائیکل پرآئے۔ ان کے چھوٹے بھائی زین العابدین بھی ہمراہ تھے۔ اجتماع کے بعد واپس جا رہے تھے کہ کالج روڈ،مردان پر مخالف سمت سے آنے والے ٹرک کی ٹکر سے موقع پر ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔اِنا للہ واِنا الیہ راجعون
12 اگست کو ان کی میت ان کے آبائی گاؤں چنیدا پہنچی اور دوسرے دن صبح نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انھیں سپرد خاک کردیا گیا۔ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
سید ابوالاعلٰی مودودی نے ان کی وفات پر اپنے صدمے کا یوں اظہار کیا:
"تاج الملوک خاں صاحب کی اچانک وفات درحقیقت جماعت اسلامی پاکستان کے لیے من حیث الجماعت اور میرے لیے ذاتی حیثیت سے ایک نقصان عظیم ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ بالکل ابتدائی دور سے وابستہ تھے، اور صوبہ سرحد میں جن چند افراد کی بدولت ہماری تحریک سب سے پہلے روشناس ہوئی وہ ان میں سے ایک تھے۔انھوں نے کبھی کوئی خطرہ مول لینے، کوئی نقصان اٹھانے، کوئی مشقت برداشت کرنے میں تامل نہیں کیا۔ ذاتی طور پر مجھے اپنی زندگی میں جو مخلص ترین دوست اور رفیق ملے ہیں ان میں سے ایک مرحوم بھی تھے اور میں نے ان کے اندر محبت اور خلوص کے سوا کبھی کوئی شے محسوس نہیں کی۔"



مولانا جان محمد عباسی مرحوم
ایک تاریخ ساز شخصیت

مولانا جان محمد عباسی یکم جنوری 1925ء کو ضلع لاڑکانہ کے ایک گاؤں بیڑو چانڈیو میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اور پرائمری تعلیم اسکول میں حاصل کی مولانا کے والد مرحوم غلام رسول عباسی وقت کے ایک جید عالم دین، مدرس اور حکیم تھے، مولانا غلام رسول عباسی اپنے بیٹے جان محمد عباسی کو عالم دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے جان محمد عباسی صاحب کو اپنے ہی گھر میں عربی تعلیم کا آغار کرایا اور مزید تعلیم کے لئے سندھ کے نامور عالم دین مولانا علی محمد کاکیپوٹو جو فاضل دیوبند تھے، کے ہاں بھیجا۔ مولانا غلام رسول عباسی کچھ وقت بیڑو چانڈیو میں مدرس اور حکیم رہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ لاڑکانہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے محمد پور محلہ میں سکونت اختیار کی انہوں نے اللہ والی مسجد میں درس و تدریس کے کام کو جاری رکھا اور گذر اوقات کے لئے ایک شفا خانہ کھولا جس میں مولانا جان محمد عباسی ان کے ساتھ معاونت کرتے تھے۔
1940ء سے بھی پہلے لاڑکانہ سیاسی لحاظ سے سندھ کا برق ضلع مانا جاتا تھا۔ مرحوم بیرسٹر جان محمدجونیجو جو خلافت تحریک کے دور میں ھجرت کر کے افغانستان گئے تھے وہ بھی اسی ضلع سے تعلق رکھتے تھے اور لاڑکانہ سے ہی اسی ٹرین کا آغاز ہوا تھا جس میں لوگ ہندوستان سے ھجرت کر کے افغانستان گئے تھے۔ اس وقت سے لاڑکانہ سیاست کا گڑھ مانا جاتا تھا۔ یہاں کئی سیاسی و سماجی تنظیمیں متحرک تھی مسلم لیگ، کانگریس، ھاری تحریک، خاکسار اور کئی سیاسی و سماجی تحریکیں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لئے تگ و دو کر رہی تھیں، ھاری تحریک کے بانی حیدر بخش جتوئی کا تعلق بھی لاڑکانہ ہی سے تھا۔ وہ بھی لاڑکانہ کو مظبوط قلعہ بنانے کے لئے ورکرز کی تلاش میں تھے انہوں نے شہر کے دیگر کارکنان کے ساتھ مولانا جان محمد عباسی صاحب مرحوم کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں لیکن چونکہ ھاری تحریک مذھب کی روادار نہ تھی اس لئے مولانا کو متوجہ نہ کر سکے اس زمانے میں محمد ابراھیم قریشی اور عبدالسلام آرائیں صاحب لاڑکانہ میں جماعت اسلامی کا کام کرتے تھے۔ اور انہوں نے مسجد اللہ والی میں مولانا جان محمد عباسی کا درس قرآن سن کر بھانپ لیا تھا کہ یہ شخص جس انداز سے درس دے رہا ہے یہ ہمارے کام کا آدمی ہے لہذا انہوں نے اپنی پوری توجہ مرحوم جان محمد عباسی پر مرکوز رکھی رابطہ قائم کیا، لٹریچر پہنچایا اور مولانا جان محمد بھٹو سے ان کی ملاقات کرائی جس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے اور اس طرح مولانا جان محمد عباسی کے دل میں جماعت کی دعوت بیٹھ گئی اور انہوں نے اسلام کو روایتی طریقے سے سمجھنے کے بجائے اسلام کو ایک انقلابی تحریک کی حیثیت میں مطالعہ کرنا شروع کیا اور مولانا مودودی کا لٹریچر خصوصاً خطبات، دینیات اور ماھوار ترجمان القرآن کا باقاعدہ مطالعہ کرنے لگے۔ مولانا جان محمد عباسی جیسا کہ عالم دین سیاسی سوج بوجھ رکھنے والے ایک زیرک اور معاملہ فھم انسان تھے انہوں نے تحریکِ پاکستان میں بھی حصہ لیا اور اپنی فکر کو اصولِ پاکستان تک محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان کو اس کے نعرے کی بنیاد پر یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر قائم رکھنے اور چلانے کے عزم کے ساتھ کوششیں کرتے رہے۔ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان المبارک پاکستان تو قائم ہو گیا لیکن قیامِ پاکستان کے بعد لوگوں کی نقل مکانی، ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام، مھاجرین کی بحالی کا کام اور ملک کی خستہ حالی یہ سب مسائل پاکستان کو ورثے میں ملے تھے۔ ذی شعور انسان اس منجھدار سے ملک کو نکالنے کے فکر میں تھے اور دوسری طرف جن لوگوں کی قیادت میں ملک بنا تھا وہ اتنے فعال اور معاملہ فھم نہ تھے کہ ملک اور قوم کو ان حالات میں سنبھال سکتے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد ملک میں دستور سازی کے لئے آوازیں بلند ہوئیں مگر حکمران اس کے بھی اھل نہ رہے کہ اسلامی اور جمہوری دستور بنا سکیں۔ بھرحال ملک کی خیرخواہ جماعتیں دستور اور ملک کی خدمت میں رہیں ان میں جماعت اسلامی پیش پیش رہی۔ 1954 ء لاہور میں قادیانی مسئلے کی بنیاد پر مارشلا نافذ ہوا۔ جس میں مولانا مودودی کو پھانسی اور دیگر قائدین اور کارکنوں کو قید و بند کی سزائیں سنائی گئیں۔ مولانا مودودی کی رھائی کے لئے پوری ملک میں تحریک چلی اور مولانا جان محمد عباسی نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ مولانا مودودی کی پھانسی عمر قید میں تبدیل اور بعد میں معاف کر دی گئی۔ مولانا جان محمد عباسی جماعت اسلامی لاڑکانہ کے رکن بنے،اور اسی اجتماع ارکان میں اس وقت کے امیر شہر محمد ابراھیم قریشی نے یہ کہتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کیا کہ اب مجھ سے اھل افراد جماعت میں آ چکے ہیں۔ جس کے بعد ارکان نے جناب مولانا جان محمد عباسی صاحب کو لاڑکانہ شہر کا امیر منتخب کیا۔ مولانا عباسی جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ھوں کہ وہ بڑے زیرک، حالات کو گہری نظر سے دیکھنے والے اور بصیرت افروز انسان تھے۔ وہ حالات کو سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ مولانا عزم کے پکے، اپنے ارادوں میں مضبوط اور قول و کردار میں سچے تھے، لہٰذا وہ جماعت میں بڑھتے ہی چلے گئے۔لاڑکانہ ضلع کے امیر بنے، پھر خیر پور ڈویژن کے امیر بنے اور اس کے بعد صوبہ سندھ کے پہلے امیر بنے، اس سے پہلے مولانا عباسی، مرکزی شوریٰ کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے اور مرکزی شورائوں میں ملکی حالات کا تجزیہ پیش کرنے میں مولانا درک رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میاں طفیل محمد کے زمانے میں مولانا عباسی جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر نامزد ہوئے اور ساتھ ساتھ سیاسی، مالی اور دیگر کئی کمیٹیوں کے عرصہ دراز تک چیئرمیں بھی رہے۔
مولانا عباسی اپنے ہی شہر لاڑکانہ میں B.D کے دور میں اپنے حلقے سے دو مرتبہ چیئرمین منتخب ہوئے یہاں سے مولانا عباسی نے سیاسی زندگی کا ایسا آغاز کیا اور ایسے نقش قدم چھوڑے کہ لوگ بعد میں کئی سالوں تک یاد کرتے رہے عباسی صاحب کے سیاسی کریکٹر کو دیکھ کر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی رشک آیا کہ ایسا بے لوث خدمتگار اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا کارکن میرے ساتھ ہو مگر عباسی صاحب کی دینداری اور تقویٰ اس معاملے میں بھٹو کے آڑے آئی اور وہ عباسی صاحب کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مولانا عباسی 1963 میں ایوب کے دور میں مولانا مودودی کے ساتھ جیل گئے 9 مہینے 10 دن تک جیل میں رہے اور بعد میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دوسرے تحریکی ساتھیوں کے ساتھ رہا ہوئے۔ رہائی کے بعد ایک مرتبہ مولانا جان محمد بھٹو لاڑکانہ آئے اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ والو اب تمیں باہر سے لیڈر شپ لانے کی ضرورت نہیں پڑی گی جماعت نے آپ کو اپنے ہی شہر سے ایک بے باک اور بہادر لیڈر مہیا کیا ہے اور وہ ہے مولانا جان محمد عباسی۔ مولانا بھٹو کے یہ الفاظ اس وقت تو کارکنوں کی سمجھ میں نہ آئی لیکن جب 1970ء اور 1977ء کے انتخابات ہوئے تو معلوم ہوا کہ واقعی مولانا جان محمد بھٹو 9 مہینے 10 دن عباسی صاحب کی رفاقت میں رہنے کے بعد جو مولانا بھٹو نے مولانا عباسی صاحب کے لئے جن خیالات کا اظہار کیا تھا وہ حقیقت تھے۔ مولانا جان محمد عباسی کو جماعت اسلامی نے 1970ء کے انتخابات میں قومی اسیمبلی کی سیٹ پر نامزد کیا بھٹو کا طوفان تھا لوگ بات سننے کے لئے تیار نہ تھے لیکن یہ مولانا عباسی کا ہی خاصہ تھا کہ لوگو ں کو اسلام کی بات سمجھاتے اور جھوٹے نعروں کی قلعی کھولتے، بہرحال نتائج جو آنے تھے وہ آ گئے اس حلقے سے ممتاز بھٹوکامیاب قرار دیے گئے لیکن جو بات جماعت اسلامی لوگوں کو سمجھا رہی تھی وہی صحیح نکلی مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن کامیاب اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی نتیجہ یہ نکلا کہ ملک دو لخت ہو گیا مشرقی پاکستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے الگ ہو گیا اور مغربی پاکستان ہندستان کی زد میں تھا۔ پوری ملک میں مایوسی چھائی ہوئی تھی لوگ بد ظن تھے کہ ملک کو کون چلائے یحییٰ کا مارشلا تھا۔ جو بس ایک جنگل کا قانون سمجھا جاتا تھا جب بھٹو آئے تو ملک میں 1962ء کا دستور بھی معطل تھا یہ دنیا میں پہلی مثال قائم ہوئی کہ پاکستان میں ایک سویلین مارشلا ایڈمنسٹریٹر بنا۔ پوری جماعت اسلامی اپنے کارکنوں اور عوام کو دستور سازی کی طرف متوجہ کر رہی تھی کہ ملک اور قوم مارشل لا سے نکل آئے پونے چار سال ایوب کی مارشل لا اور دو سال سے یحییٰ کی مارشلا اور پھر سولین چیف مارشل لا ایڈمینسٹریٹر بھی ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس سے نکلنا بہت مشکل نظر آ رہا تھا جب دستور سازی کی بات ہوئی اور اسمبلی کے اندر جماعت کے کارکنوں نے اور باہر پوری جماعت نے دستور کے سلسلے میں زور لگایا کہ یہ دستور قرادادِ مقاصد کی بنیاد پر اسلامی ہونا چاہیے۔ بھٹو کے پانچ سالہ پارٹی آمریت کا دور تھا جس میں کسی کی نہیں سنی جاتی تھی لیکن مولانا جان محمد عباسی اپنی بات حکمت سے کہتے رہے اور قوم اور ملک کی اسی انداز میں تربیت بھی کرتے رہے یہاں تک کہ بھٹو کے خلاف P.N.A بنااورپوری اپوزیشن متحد ہو گئی 1977ء کے انتخابات میں بھٹو نے ریکارڈ دھاندلی کی۔ مولانا جان محمد عباسی کو بدنام زمانہ ایس پی محمد پنجل اور ڈی سی خالد کھرل کے ذریعے سے عباسی صاحب کو اپنی ہی بیٹھک سے اغوا کروایا گیا اور چار دن تک بمعہ 14 کارکنان کو تحصیل ڈوکری کے ایک ڈاک بنگلے جو دریا کہ حدود میں تھا میں حبس بے جا میں رکھا گیا ذہنی ٹارچر دیا گیا ڈرانے اور دھمکانے کی کوششیں کی گئیں لیکن عباسی صاحب پہاڑ کی طرح اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ جب فارم پُر کرنے کے اوقات گذر گئے تو سب کو رہا کیا گیا اور پھر بھٹو نے نیا چکر چلانے کے لئے افھام و تفھیم کا نیا انداز اختیار کیا P.N.A کو باتوں میں مصروف رکھنے کے لئے انہوں نے کئی چالیں چلیں مگر کامیاب نہ ہو سکا بالاخر 05 جولائی 1977ء کو ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہو گیا اور ذوالفقار بھٹو پیپلز پارٹی کی صف اول کی قیادت سمیت اور P.N.A کی صف اول کی قیادت 15 دن کے لئے سھالہ ریسٹ ہاوس میں نظر بند کی گئی۔ P.N.A کی تحریک کے زمانے میں بھی مولانا جان محمد عباسی لاہور میں گرفتار ہوئے اور بعد میں رہا کر دیے گئے۔
مولانا جان محمد عباسی اپنی جان میں انجمن تھے بلکہ ہر محاظ پر اسلام کی بالا دستی کے لئے کام کرنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے انہوں نے کئی سماجی اور ادبی تنظیمیں بنوائیں جیساکہ اپر سندھ میں محمد بن قاسم ادبی سوسائٹی اور لوئر سندھ میں ادبی مجلس بنوائی جس کے ذریعے سے وقت کے غلط رجحانات الحاد اور لادینیت کے خلاف بہترین لٹریچر تیار کروایا۔ کئی کتابوں کے ترجمے کروائے، کتابیں لکھوائیں جماعت اسلامی کے چیدہ چیدہ کتابوں کو سندھی زبان میں ترجمہ کروایا جیسا کہ تفھیم القرآن، پردہ، اسلامی نظام زندگی، خلافت ملوکیت وغیرہ وغیرہ۔ اصلاحی تنظیموں میں مولانا عباسی سے غریب آبادگار اور ھاریوں کی مدد کے سلسلے میں آبادگار بورڈ اور انجمن اصلاح عام بنوائی۔ اسلامی جمعیت طلبہ اورجمعیت طلبہ عربیہ جیسی طلبہ تنظیموں کی سرپرستی کی اور مستحق طلبہ کی امداد کی اور ذھین طلبہ کی آگے بڑھنے اور منزل تک پہنچنے کی ترغیب دلائی۔ انہی کی ذاتی توجہ سے سندھ اور بلوچستان میں ایک درجن سے زائد مدارس قائم ہوئے جو مستونگ، خضدار، لسبیلا اور مکران کے علاقوں میں آج بھی قائم ہیں۔
جماعت اسلامی خدمتِ انسانی کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی۔ سیلاب ہو یا زلزلہ جنگ ہو یا نادار لوگوں کی امداد کا مسئلہ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کے ذریعے سے متاثرہ اور مستحق لوگوں کی امداد میں ہمیشہ سب سے آگے رہی۔ خصوصاً سندھ میں جہاں کہیں بھی کوئی سیلاب آتا تو مولانا جان محمد عباسی مرحوم متاثریں کی امداد کے لئے ہر قسم کا تعاون اور معاونت کرتے۔ ضروریات زندگی کی چیزیں بھی کئی میلوں تک پانی کی کشتیوں کے ذریعے سے متاثرین تک پہنچائی جاتیں۔ جماعت اسلامی کے کارکن اپنے گھر بار کو چھوڑ کر متاثرین تک امداد پہنچانے میں مصروف رہتے۔ اور اس کام کی نگرانی مولانا جان محمد عباسی خود کرتے۔
صحافتی میدان میں جماعت کے سیل کو کمزور پا کر مولانا جان محمد عباسی آگے بڑھے کچھ با اعتماد لوگوں جمع کیا اور سب سے پہلے روزنامہ ”الوحید“ کا اجراء کیا یہ وہ نام ہے جس نے سندھ کے اندر پاکستان بنانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا اور مولانا خیر محمد نظامانی الوحید کے پہلے ایڈیٹر بنے اور بعد میں کریم بخش نظامانی نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ حیدرآباد سے ماھوار ”آئینو“ کا سلسلہ شروع کروایا جو 3 سال تک جاری رکھنے کے بعد گورنمینٹ کی زد م