یہا کلک کریں
JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
ہرچیزاللہ کی نظرمیں ہے،کیاتم دیکھتےنہیں ہو کہ اللہ کےآگےسربسجودہیں وہ سب جوآسمان میں ہیں اورجوزمین میں ہیں،سورج چاند،تارے،پہاڑاوردرخت اورجانوراوربہت سےانسان اوربہت سےوہ لوگ بھی جوعذاب کےمستحق ہوچکےہیں۔ اورجسےاللہ ذلیل وخوارکردے اسے پھرکوئی عزت دینےوالانہیں ہے،اللہ کرتاہےجوکچھ چاہتا ہے۔الحج:18
اللہ تعالٰی جس شخص کوبھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس پرمصیبت ڈال دیتا ہے۔صحیح بخاری:843

قاضی حسین احمد ( امیرجماعت اسلامی پاکستان )
سید منور حسن ( قیم جماعت اسلامی پاکستان )
نائب امراء
پروفیسر خورشید احمد
پروفیسر غفور احمد
چوہدری رحمت الٰہی
چوہدری محمد اسلم سلیمی
لیاقت بلوچ
حافظ محمد ادریس
پروفیسرمحمدابراہیم
مولانا عبدالحق بلوچ
نائب قیمین
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ
میاں مقصود احمد
ملک محمد اشرف
   

           قاضی حسین احمد
      امیر جماعت اسلامی پاکستان

   پیدائش وبچپن

   بانی جماعت سید ابوالاعلٰی مودودی اور میاں طفیل محمد صاحب کے بعدقاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے تیسرے منتخب امیر ہیں .قاضی صاحب 1938 ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ سرحد) کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا قاضی محمد عبدالرب صاحب ایک ممتازعالم دین تھے اوراپنے علمی رسوخ اور سیا سی بصیرت کے باعث جمعیت علمائے ہند صوبہ سرحد کے صدرچُنے گئے تھے۔
قاضی صاحب اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عتیق الرحمٰن صاحب اور مرحوم قاضی عطاء الرحمٰن صاحب اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھے۔ قاضی حسین احمد بھی ان کے ہمراہ جمعیت کی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگے۔ لٹریچر کا مطالعہ کیا اور پھر اپنا سب کچھ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے وقف کردیا۔

ابتدائی تعلیم اور عملی زندگی

قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنےوالدِ محترم سے حاصل کی۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔ بعد ازتعلیم جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرارتعیناتی ہوئی اور وہاں تین برس تک پڑھاتے رہے۔ جماعتی سرگرمیوں اور اپنے فطری رحجان کے باعث ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کردیا۔ یہاں بھی انہوں نے اپنی موجودگی کے نقوش ثبت کیے اور سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

سیاسی سفر

دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد آپ 1970 ء میں جماعت اسلامی کےرکن بنے،پھرجماعت اسلامی پشاورشہر اور ضلع پشاورکے علاوہ صوبہ سرحدکی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ 1978 ء میں آپ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور1987 ء میں آپ جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔ تب سے اب تک چارمرتبہ (1999،1994، 1992، 2004) امیرمنتخب ہو چکے ہیں۔

قاضی حسین احمد 1985 ء میں چھ سال کےلیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1992 ء میں وہ دوبارہ سینیٹرمنتخب ہوئے،تاہم انہوں نےحکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینٹ سے استعفٰی دے دیا۔ 2002 ء کے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کےرکن منتخب ہوئے۔

اتحاد امت اولین ترجیح

قاضی حسین احمد نے ہمیشہ اپنی ایک ہی شناخت پر فخرو اصرار کیا ہے اور وہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے امتی کی حیثیت سے شناخت ہے۔انہوں نے ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے اتحاد کی سعی کی ہے۔ تمام مکتبہ ہائے فکر کی اہم پارٹیوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل  (MMA) آپ کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ کسی منصب یا عہدے کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعدآپ کو اتفاق رائے سے اس کا صدرچن لیا گیا۔ اس سے پہلے شیعہ و سنی اختلافات کی بنیاد پر بھڑکائی جانے والی آگ پر قابو پانے کے لیےآپ کی کوششوں سے ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا، آپ اس کے روحِ رواں تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام بھی آپ کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔

80 ء  کےعشرے میں متحدہ شریعت محاذ وجود میں آیا تو آپ اس کے سیکرٹری جنرل تھے کراچی میں لسانی تعصبات کے شعلے بلند ہوئے تو آپ پشاور سے کاروانِ دعوت ومحبت لے کرکراچی پہنچے اور پورے ملک کو محبت و وحدت کا پیغام دیتے ہوئے واپس پشاور آئے۔ تحریک نظام مصطفٰی میں امت متحد ہوئی تو آپ نے صوبہ سرحد کا محاذ سنبھالا اور پسِ دیوارِ زنداں بھی رہے۔

اتحاد امت کی ان کوششوں کا دائرہ پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قاضی صاحب نے یہ پیغام دنیا بھر میں عام کیا ہے۔ سوویت یونین سے برسرِ پیکار افغان مجاہدین کے درمیان اختلافات افغان تاریخ کا سب سے افسوس ناک حصہ ہیں۔ قاضی حسین احمد صاحب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور علماء و مفکرین کوساتھ ملا کر ان اختلافات کو پاٹنے کی مسلسل کوششیں کیں۔ لیکن بدقسمتی سے صلح کا ہرمعاہدہ بیرونی سازشوں اور اندرونی بے اعتمادی کی نذر ہوگیا۔

قاضی صاحب نے اتحاد و وحدت کی یہی کاوشیں کشمیر میں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان کی کوششوں سے کشمیر میں مجاہدین کے درمیان پھیلائی جانے والی کئی غلط فہمیاں اور اختلافات پر بروقت قابو پالیا گیا ہے۔

سوڈان میں اسلامی تحریک کے بانی ڈاکٹر حسن ترابی اورصدر مملکت جنرل عمر حسن البشیر کے درمیاں اختلافات علیحدگی کی صورت اختیار کرنے لگے تو فریقین نے قاضی صاحب کو حکم تسلیم کیا۔ ایک بار صلح کا معاہدہ عمل میں بھی آگیا لیکن عالمی و علاقائی سازشوں کی نذر ہوگیا۔ اس کے باوجود قاضی صاحب کے مسلسل رابطے کے باعث اختلافات کو تصادم میں بدلنے کی کئی سازشیں ناکام ہوئیں۔

عراق کویت جنگ ہویا مسئلہ فلسطین، بوسنیا اور کوسوو میں مسلم کشی ہو یا چیچنیا میں قتل عام،برما کے خون آشام حالات ہوں یا اریٹریا کے غریب عوام کے مصائب، قاضی حسین احمد نےپورے عالم میں امت کی توانائیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیشہ امت کے زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

قاضی صاحب اور توسیع دعوت

قاضی حسین احمد نے امارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد توسیع دعوت پر خصوصی توجہ دی۔ ملک گیر کاروان دعوت و محبت کے علاوہ مؤثرافراد سے خصوصی رابطے اور مختلف قومی مشاورتی مجالس کی تشکیل اس سلسلے کی اہم سرگرمیاں تھیں۔اس ضمن میں 1997 ء میں ممبرسازی کی ملک گیر مہم شروع کی گئی اور پینتالیس لاکھ (45) افراد نے جماعت اسلامی کی دعوت و پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے تنظیم جماعت کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔

گرفتاریاں

قاضی حسین احمد صاحب نے بھی ہر حق گو کی طرح قیدو بند کی صعوبتوں اور گرفتاریوں کا سامنا کیا۔ تحریک نظام مصطفٰی کے دوران گرفتاری کے علاوہ افغانستان پر امریکی حملوں اور یورپ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمک کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں پر احتجاج کرنے کی پاداش میں بھی انہیں گرفتار کیاگیا۔ دوران گرفتاری انہوں نے متعدداہم مقالہ جات لکھے، جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔

عائلی زندگی

قاضی حسین احمدکے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اور وہ سب اپنی والدہ سمیت جماعت اسلامی کی دعوتی و تنظیمی سرگرمیوں میں پوری طرح فعال رہتے ہیں۔ قاضی صاحب منصورہ میں دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں، جماعت کے دیگر ذمہ داران بھی اسی طرح رہتے ہیں۔

قاضی صاحب کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی پر عبور حاصل ہے۔ وہ شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبال کے بہت بڑے خوشہ چین ہیں، انہیں فارسی و اردو میں ان کااکثر کلام زبانی یاد ہے اور وہ اپنی تقاریر و گفتگو میں اس سے استفادہ کرتے ہیں


سید منورحسن
قیم جماعت اسلامی(سیکرٹری جنرل)

سید منورحسن کا تعلق تقسیم برصغیرسے پہلے کے شرفا ئے دہلی سے ہے۔آپ اگست 1944 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آزادی کے بعد آپ کے خاندان نے پاکستان کو اپنے مسکن کے طور پر چُنا اور کراچی منتقل ہوگئے۔ آپ نے 1963 ء میں جامعہ کراچی سے سوشیالوجی میں ایم اے کیا۔ پھر1966 ء میں یہیں سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ زمانہ طالبعلمی میں ہی آپ اپنی برجستگی اور شستہ تقریر میں معروف ہوگئے۔ آپ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔علاوہ ازیں بیڈ منٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی ہیں۔ سید صاحب طلبہ کی بائیں بازوکی تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(NSF)میں شامل ہوئے،اور1959 ء میں اس تنظیم کے صدر بن گئے۔ آپ کی زندگی میں حقیقی تبدیلی اس وقت برپا ہوئی جب آپ نے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے کارکنان کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھااور مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی کی تحریروں کا مطالعہ کیا۔ نتیجتاً آپ 1960 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوگئےاورجلد ہی جامعہ کراچی یونٹ کے صدر اور مرکزی شورٰی کے رکن بنادیے گئے۔ بعد ازاں 1964 ء میں آپ اس کے مرکزی صدر (ناظم اعلٰی) بنے اور مسلسل تین ٹرم کے لیےاس عہدے پرکام کرتے رہے۔آپ کے عرصئہ نظامت میں جمعیت نے طلبہ مسائل، نظام تعلیم اور تعلیم نسواں کو درپیش مسائل کے سلسلے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی خاطر کئی مہمات چلائیں۔

آپ  1963 ء میں اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور اس کے سیکرٹری جنرل کے عہدے تک ترقی کی۔آپ کی زیِر قیادت اس اکیڈمی نے ستر (70)  علمی کتابیں شائع کیں۔

آپ نے ماہنامہ The criterion  اور  The Universal Message  کی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ سید منورحسن 1967 ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ جماعت اسلامی کراچی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، نائب امیراور پھر امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے۔آپ نے کئی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی جیسے یونائیٹد ڈیموکریٹک فورم اور پاکستان نیشنل الائنس (پاکستان قومی اتحاد) وغیرہ ۔ 1977 ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لےکر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1992 ء میں آپ کو جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور پھر 1993 ء میں مرکزی سیکرٹری جنرل بنادیا گیا۔
آپ متعدد د بین الاقوامی کانفرنسوں اورسیمینارزمیں شرکت کرچکے ہیں۔ نیزآپ ریاست ہائے متحدہ امریکہ،کینیڈا،مشرق وسطٰی ،جنوب مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے دورے کرچکے ہیں۔
سید منورحسن صاحب انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ اندرون اور بیرون ملک کی تقاریرکوبڑے شوق سے سنا جاتا ہے۔ آپ کی بیشتر تقریریں بالخصوص اردو کی تقاریر کیسٹ کی صورت میں دستیاب ہیں۔ قیم جماعت اسلامی (مرکزی سیکرٹری جنرل) کی حیثیت کے علاوہ آپ تحقیق کے دیگر کئی اداروں کے نگران ہیں۔


پروفیسرخورشید احمد
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

پروفیسرخورشیداحمد عالمی شہرت کے ماہر تعلیم، ماہر اقتصادیات ، ہمہ گیر مصنف اور ایک مبلغ اسلام ہیں۔ آپ 23مارچ  1932  ء کودہلی میں پیدا ہوئے۔آپ نے قانون اور اس کے مبادیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اکنامکس اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ایجوکیشن میں یونیورسٹی کی طرف سے انہیں اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔

پروفیسرصاحب کی اسلام ، تعلیم،عالمی اقتصادیات اور مجموعی اسلامی معاشرے کے لیے سرانجام دی جانے والی خدمات کا احاطہ بہت مشکل ہے۔ جس امتیازی وصف  نے پروفیسر صاحب کو قومی وبین الاقوامی سطح پر ممتاز مقام عطا کیا ہے وہ ان کا مشرقی ومغربی فلسفوں  کا گہراتقابلی مطالعہ ، اسلام سے ان کی کامل وابستگی، دین، تعلیم وتدریس، اقتصادیات اورآئینی معاملات ہیں۔

پروفیسر خورشید احمد صاحب کی چیدہ چیدہ علمی خدمات کا اجمالی خاکہ اس طرح ہے۔

• پروفیسر صاحب 1978 ء میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی رہے ہیں. وہ حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین بھی رہےہیں۔

• ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے 1955 ء سے لے کر 1958 ء تک کراچی یونیورسٹی میں پڑھایا۔
• آپ یونیورسٹی آف لیسٹر میں ریسرچ سکالر بھی رہے ہیں۔
•  1983 ء سے 1987 ء تک آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس کے چیئرمین رہے۔
•   1984  ء سے 1992 ءتک آپ انٹرنیشنل سنٹر فارریسرچ اِن اسلامک اکنامکس لیسٹر کے ایڈوائزری بورڈ کے ممبر رہے ہیں
•  1979 ء سے 1983 ء تک شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے وائس پریزیڈنٹ رہے۔
•  1974 ء سے 1978  ء تک اسٹینڈنگ کانفرنس آن جیوز، کرسچن، اینڈ مسلمزاِن یورپ برلن اینڈ لنڈن کے وائس پریذیڈنٹ رہے۔
•  پروفیسر صاحب Center for the study of islam and Christian - Muslim   Relations, Silly Oak colleges, Birmingham, UK1976 - 78  کی ایڈوائزری کونسل کے ممبر بھی رہےہیں۔
•  1978 ء سے لے کر 1983 ء تک قومی ہجرہ کمیٹی کے رکن رہے۔
•   1986 ء اور 1987 ء میں سوڈان کے اسلامی قوانین کا جائزہ لینے والی قانون دانوں کی کمیٹی کے رکن رہے۔
•  1988 ء اور  1989 ء میں اسلامی ترقیاتی بینک جدہ کے ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی جائزہ کمیٹی کےممبر رہے۔
• آپ  1985 ،1997 اور 2002 ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور اقتصادی و منصوبہ بندی کے چیئرمین کے طور پر کام بھی کیا۔
• پروفیسرخورشیدصاحب دو اداروں کے بانی چیئرمین ہیں۔ایک انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد، دوسرا لیسٹر(یوکے) کی اسلامک فاؤنڈیشن۔
• آپ اسلامک سنٹر زاریا (نائجیریا) ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، فاؤنڈیشن کونسل، رائل اکیڈمی فار اسلامک سولائزیشن عمان(اردن)کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن جبکہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی اور لاہور کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔
پروفیسر صاحب متعدد نظریاتی موضوعات پر مبنی رسائل وجرائد کی ادارت کرچکے ہیں۔ آپ نے اردو اور انگریزی میں سترکتابیں تصنیف کی ہیں۔ کئی رسائل میں اپنی نگارشات عطا کر چکےہیں۔ آپ سوسے زائد بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں ذاتی حیثیت میں یا نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوچکےہیں۔آپ نے پہلی مرتبہ اسلامی معاشیات کو بطورعلمی شعبہ کے ترقی دی۔ آپ کے اس کارنامے کے پیش نظر 1988 ء میں پہلا اسلامی ترقیاتی بینک ایوارڈآپ کو عطاکیا گیا۔ آپ کے کارناموں کے اعتراف میں 1990 ء میں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ عطاکیا گیا۔اسلامی اقتصادیات  ومالیات کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں آپ کو جولائی 1998 ء میں پانچواں سالانہ امریکن فنانس ہاؤس لاربوٰ یوایس اے پرائز دیاگیا۔ پروفیسر خورشید احمد 1949 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے۔ 1953 ء میں آپ کو ناظم اعلٰی منتخب کیاگیا۔ 1956 ء میں آپ جماعت اسلامی میں باضابطہ طور پر شامل ہوگئے۔ دوسری بہت سی مصروفیات کےعلاوہ فی الوقت آپ جماعت اسلامی کے ترجمان ماہنامہ ترجمان القرآن کے مدیر ہیں

                            پروفیسر غفور احمد
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان

  پروفیسرغفوراحمد پاکستانی سیاستدانوں میں بے حد محترم       شخصیت  ہیں۔ آپ 26 جون1927ء کوبریلی یوپی انڈیا میں پیدا ہوئے۔ 1948ء میں آپ نے لکھنؤ یونیورسٹی سے کامرس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انڈسٹریل اکاؤنٹس کا کورس مکمل کیا اور انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینیجمنٹ اکاؤنٹس کے فیلو ہوگئے۔
تجارتی اداروں میں کام کرنے کے علاوہ آپ نے متعدد تعلیمی اداروں میں بھی پڑھایا۔ ان میں انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹس پاکستان،انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل اکاؤنٹس اور اردو کالج کراچی شامل ہیں۔ تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں میں دلچسپی اور شغف کی بنا پرآپ کئی برس تک سندھ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی بورڈ فار کامرس کے نصاب سے منسلک رہے۔
پروفیسرغفوراحمد1950 ء میں23  برس کی عمر میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔ آپ کئی برس تک کراچی جماعت کے امیر رہےاوراب مدت دراز سے مرکزی نائب امیر جماعت کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ نے شروع ہی سے سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیا۔    1958 ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے ممبر منتخب ہوئے۔ بعد میں 1970 ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
1977ء میں وہ دوبارہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئےاور جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کے قائد بھی بنائے گئے۔آپ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ آپ قومی اتحاد کی اس مذاکرتی ٹیم میں شامل تھے کہ جس نے ذوالفقارعلی بھٹو سے مارشل لا کے نفاذ سے پہلے فیصلہ کن مذاکرات کیے۔
1978 ء سے لے کر1979ء تک آپ محض پاکستان قومی اتحاد کی قیادت کےحکم کی تعمیل میں بادل نخواستہ وفاقی وزیر صنعت رہے۔ بعد ازاں 1988 ء سے لے کر1992 ء تک اسلامی جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل کے طور پرکام کیا۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں وہ متعدد بار گرفتار ہوئے۔ گرفتاری کا طویل ترین دورانیہ نومہینے کا وہ عرصہ ہے جب جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دیاگیا تھا اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے بحال کیا تھا۔
پروفیسر غفوراحمد پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جوپاکستانی سیاست سے متعلق ہیں۔ پروفیسر صاحب اپنے متحمل جمہوری مزاج اور معتدل طبیعت کے باعث سیاسی حلقوں میں مقبول ہیں

چوہدری رحمت الٰہی
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

چوہدری رحمت الٰہی جہلم(پنجاب) میں 1923 ء میں پیدا ہوئے۔ گریجویشن کرنے کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کرلی۔ چونکہ ذہن وفکر پر دینی تعلیمات کا گہرا اثر تھا اور بالخصوص تحریک اسلامی سے وابستگی سے ان کے خیالات میں مزید پختگی اور دین سے قربت پیدا ہوئی اس لیے اس ملازمت پر زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکے ۔اور بالآخر 1951 ء میں استعفٰی دے دیا۔ وہ 1947 ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔
تحریک پاکستان میں جماعت کی طرف سے دار السلام پٹھان کوٹ (انڈیا) میں مہاجرین کی نگہداشت،خدمت اوران کو مشرقی پاکستان کی سرحد سے بحفاظت پاکستان پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ چوہدری صاحب نے قیام پاکستان کےبعد بھی لاہور کے گرد ونواح میں آباد ہونے والے مہاجرین کی بحالی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ ان خاموش طبع، گمنام اور سرگرم کارکنان میں سے ہیں کہ جن کی نظرفقط رضائے الٰہی پرمرکوز ہوتی ہے۔ چوہدری صاحب نے انتہائی مشکل اور دور ابتلا میں اہل حق کے ہراول دستے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
1953 ء کی تحریک ختم نبوت میں سیدابوالاعلٰی مودودی اور میاں طفیل صاحب کی گرفتاری کے دوران قائم مقام قیم جماعت اسلامی کی ذمہ داری ادا کی۔
 1957ء، 1965 ء، 1978 ء میں قیم جماعت اسلامی پاکستان رہے۔ان تمام دورانیوں کو ملاکر تقریباً تیرہ برس تک بحیثیت قیم جماعت خدمات انجام دے چکے ہیں۔
1979ء میں وہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان مقررہوئے، اس دوران امیر جماعت کی غیر موجودگی میں متعدد دفعہ قائم مقام امیر جماعت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ 1960ء کی دہائی میں محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان انتخابی مہم میں جماعت کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا۔ چوہدری رحمت الٰہی1977 ء میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے)کےپارلیمانی بورڈ کے ممبر رہے،اورتحریک نفاذ نظام مصطفٰی میں انہیں دوبار گرفتار کرکے جیل میں ڈالاگیا۔ انہوں نے پی این اے کے قائم مقام جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے راولپنڈی میں لانگ مارچ کی قیادت کی۔
جب پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) 1978 ء میں حکومت میں شامل ہوا تو چوہدری صاحب بجلی اورقدرتی وسائل کے وزیر بنائے گئے۔ نوماہ کے مختصر عرصے میں پی این اے نے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسلامائزیشن کے عمل کو شروع کیاگیا جو بعد میں حدودآرڈینینس،زکٰوۃ،معیشت سے سود کے خاتمے کا فیصلہ، تعلیمی پالیسی کی تشکیل،وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل، جس میں قرآن و سنت کے خلاف قوانین کو چیلنج کیاجاسکتا ہے،عمل میں لائے گئے۔اس کے علاوہ دیگربہت سارے اقدامات کیے گئے۔
نائب امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے چوہدری رحمت الٰہی جماعت اسلامی کی مزدور، کسان تنظیموں، مالیاتی شعبے اور اسلامی تعلیمی سوسائٹی کی خاص طور پر نگرانی کرتے رہے۔
چوہدری رحمت الٰہی نے کئی مرتبہ بیرونی سفرکیے، کئی یورپی اور مشرق وسطٰی کے ممالک کاسفر کیا ہے۔اپنی مادری زبان پنجابی کے علاوہ اردواورانگریزی میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔


        چوہدری محمد اسلم سلیمی
     نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان

چوہدی محمد اسلم سلیمی تیس(30) جون 1933 ء کو برج کلاں ضلع قصور(پنجاب) میں پیداہوئے۔چوہدی محمد اسلم سلیمی لاء گریجویٹ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے1957 ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔1973 ء میں انہوں نے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی۔ اس سے قبل1972 ء میں ٹیکسیشن اور لیبر لاز میں ڈپلومہ بھی کیا۔وہ عربی اور فارسی زبان سےبھی آگاہی رکھتے ہیںجبکہ تفسیر میں خصوصی کورس بھی کیا۔ وہ 1961 ء میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ بنے اورچند سال پریکٹس کی۔
اسلم سلیمی 1963 ء میں قصورشھر میں جماعت اسلامی پاکستان کے رکن بنے۔ اس کے بعد 1964 ء سے دسمبر1965 ء تک سب ڈویژن قصورکے علاقائی نظم کے امیر کی ذمہ داری ادا کی اور پھرجماعت کی مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔
 1966 ء سے 1970 ء تک مغربی پاکستان میں جماعت اسلامی کےسیکرٹری جنرل رہے۔ 1970 ء سے1987 ء تک جماعت اسلامی پاکستان کے نائب قیم(ڈپٹی سیکرٹری جنرل) اور 1987 ء سے 1993 ء تک قیم (سیکرٹری جنرل)رہے .بعد ازاں1993 ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر بنائے گئے۔
اسلامک پبلیکیشنزلمیٹڈ کمپنی کے1978 ء سے ڈائریکٹر چلے آرہے ہیں۔ ادارہ معارف اسلامی منصورہ کے نائب صدرکی ذمہ داری پر فائز ہیں۔ ویمن کمیشن جماعت اسلامی پاکستان کے ایڈوائزر اور مجلس شورٰی کی قانونی معاونت کمیٹی کے صدر ہیں۔
اپنی مادری زبان پنجابی کے علاوہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی جانتے ہیں اورگفتگو کرسکتے ہیں۔
چوہدری محمد اسلم سلیمی بیرون ملک خصوصًا سعودی عرب،کویت،متحدہ عرب امارات،بحرین، قطر،یمن،ایران،افغانستان،لیبیا، برطانیہ،امریکہ،ترکی اور کینیڈا کے دورے کرچکےہیں۔

                                               

حافظ محمد ادریس
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

حافظ محمدادریس ضلع گجرات کے ایک مذہبی اورتحریکی گھرانے میں7 اکتوبر1945 ء کوپیدا ہوئے. ان کے والد میاں  فیض محی الدین جماعت اسلامی کے مقامی امیررہے،اپنے قصبے کی ممتاز شخصیت  اور علاقے کے لوگوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ میاں صاحب مولانامودودی کے ابتدائی ساتھیوں اور جماعت اسلامی کے مشکل ادوار کے معاونین میں سے ہیں۔
حافظ محمدادریس نے ابتدائی تعلیم مقامی سکولوں سےحاصل کی۔ اس سے قبل انہوں نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔ وہ ایک ذہین اور محنتی طالب علم تھے اور ان کی تعلیمی زندگی بے شمار کامیابیوں سے مزین ہے ۔انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کے تمام امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اورپرائمری سے لے کر ایم اے تک ہر امتحان میں مختلف وظائف اور میڈلز جیتے۔ حافظ صاحب کو 1967 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے میں گولڈ میڈل دیاگیا۔ انہوں نے1969 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں پہلی پوزیشن اورگولڈ میڈل حاصل کیا اور پھر1971 ء میں جامعہ پنجاب ہی سے ایم اے اسلامیات کیا۔
حافظ محمد ادریس بچپن سے ہی دعوتِ دین میں دلچسپی رکھتے تھے. وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سرگرم ممبراورصوبہ وسط مغربی(جو پنجاب پر مشتمل ہوا کرتا تھا) و لاہور جمعیت کے ناظم رہے۔ 1968 ء سے 1970 ء تک اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی مرکزی  شورٰی کے ممبر رہے۔ 1970 ء میں پنجاب یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔1971میں جماعت اسلامی پاکستان کے رکن بنے۔ خدمت اور دعوت دین کا جذبہ دیکھتے ہوئےبانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی نے انہیں نیروبی، کینیا(افریقہ) میں دعوت اسلامی کا فریضہ سونپا۔ 1974 ء سے لے کر1985 ء تک انہوں نے نیروبی(کینیا)میں اسلامک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹرکی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ نیروبی میں قیام کے دوران انہوں نے بےشمار تعلیمی،رفاہی اور ابلاغیاتی مہمات شروع کیں تاکہ افریقہ کے لوگوں میں علم اور اسلام کی روشنی کو پھیلایاجائے۔
نومبر1985 ء میں پاکستان واپسی پر ان کو جماعت اسلامی پاکستان کا نائب قیم مقرر کیا گیا۔1991 ء میں وہ صوبہ پنجاب کے امیر منتخب ہوئے اور ستمبر2003 ء تک چار مرتبہ امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب منتخب ہوتے رہے۔بعد ازاں انہوں نے اس ذمہ داری سے استعفٰی دے ک