یہا کلک کریں
JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
ہرچیزاللہ کی نظرمیں ہے،کیاتم دیکھتےنہیں ہو کہ اللہ کےآگےسربسجودہیں وہ سب جوآسمان میں ہیں اورجوزمین میں ہیں،سورج چاند،تارے،پہاڑاوردرخت اورجانوراوربہت سےانسان اوربہت سےوہ لوگ بھی جوعذاب کےمستحق ہوچکےہیں۔ اورجسےاللہ ذلیل وخوارکردے اسے پھرکوئی عزت دینےوالانہیں ہے،اللہ کرتاہےجوکچھ چاہتا ہے۔الحج:18
اللہ تعالٰی جس شخص کوبھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس پرمصیبت ڈال دیتا ہے۔صحیح بخاری:843
دفعہ: 1   ۔۔نام دفعہ:  2  ۔۔تاریخ نفاذ
دفعہ:  3  ۔۔۔عقیدہ دفعہ: 4  ۔۔۔نصب العین
دفعہ: 5   ۔۔۔طریق کار دفعہ:  6  ۔۔۔شرائط رکنیت
دفعہ: 7  ۔۔۔طریق داخلہ دفعہ:9،8  ۔۔۔فرائض رکنیت
دفعہ:10  ۔۔۔رکن خواتین دفعہ: 11  ۔۔۔نظام جماعت کی نوعیت
دفعہ:12  ۔۔۔جماعت میں فرق مراتب کا معیار دفعہ: 13 ۔۔امرائے جماعت کے اوصاف
دفعہ:14۔۔۔مجالس شوریٰ کے ارکان کے اوصاف دفعہ: 15۔۔۔مرکزی نظام کے اجزائے ترکیبی
دفعہ:16۔۔۔ارکان کا اجتماع عام۔ تعریف، طریق انعقاد اور حیثیت دفعہ:17۔۔۔امیر جماعت اسلامی حیثیت، تقرر، اور میعاد
دفعہ:18۔۔۔حلف دفعہ:19۔۔۔امیرجماعت کے فرائض اور اختیارات
دفعہ:20۔ترکیب دفعہ:20۔الف۔۔۔ناظم انتخاب کاتقرر
دفعہ:21۔۔۔تشکیل
دفعہ:26۔۔۔اجلاس میں عام ارکان جماعت کی بطور سامعین شرکت دفعہ:27۔۔۔اجلاس میں غیرارکان شوریٰ کا شرکت
دفعہ:28۔۔۔حاضری کا نصاب دفعہ:29۔۔۔مجلس شوریٰ میں فیصلے کاطریقہ
دفعہ:30۔۔۔مرکزی مجلس شوریٰ کے فرائض و اختیارات دفعہ:31۔۔۔مجلس شوریٰ کی معزولی
دفعہ:33،32۔۔۔ضلعی جماعتوں کے امراء کی مجلس اور طلب کرنے کا ضابطہ دفعہ:34۔۔۔تقرر،حیثیت اور اختیارات
دفعہ:36۔۔۔نائب قیم
دفعہ:37۔۔۔مرکزی شعبوں کے ناظمین
دفعہ:39تا43۔۔۔امیر صوبہ ، عزل و نصب،حلف،فرائض واختیارات دفعہ:44تا 45۔۔۔صوبائی مجلس شوریٰ، ترکیب اور میعاد، افتتاحی اجلاس
دفعہ:51،50۔۔۔قیم صوبہ،تقرر اور برطرفی، فرائض ،حلف دفعہ:51۔الف۔۔۔صوبائی مجلس عاملہ، تقرر ،حیثت اور اختیارات
دفعہ:52۔۔حدود اور نظام
دفعہ:53۔۔۔امیرحلقہ دفعہ:54۔۔۔عزل ونصب
دفعہ:58۔۔ترکیب اور میعاد دفعہ:59۔۔افتتاحی اجلاس
دفعہ:60۔۔امیر حلقہ اور اس کی مجلس شورٰی کا باہمی تعلق
دفعہ:63۔۔۔فرائض و اختیارات
دفعہ:64۔۔۔قیم حلقہ ۔ تقرر اور برطرفی دفعہ:65۔۔فرائض
دفعہ:66۔(1) حدود اور نظام
دفعہ:66۔(2) امیر ضلع
دفعہ:67۔۔حیثیت
دفعہ:69۔۔۔حلف دفعہ:70۔۔۔فرائض و اختیارات
دفعہ:71۔۔۔ترکیب
دفعہ:73۔۔۔صدر دفعہ:74۔۔افتتاحی اجلاس
دفعہ:75۔۔۔امیر ضلع اور اس کی مجلس شوریٰ کا باہمی تعلق دفعہ:76۔۔۔معمولی اجلاس
دفعہ:77۔۔۔غیر معمولی اجلاس دفعہ:78۔۔۔فرائض و اختیارات
دفعہ:79۔۔۔قیم ضلع کا تقرر دفعہ:80۔۔۔فرائض
دفعہ:81۔۔۔مقامی جماعت دفعہ:83،82۔۔۔مقامی امراءکا تقرر
دفعہ:84۔۔۔مقامی امیر کی اہمیت دفعہ:85۔۔۔فرائض واختیارات
دفعہ:86۔۔۔مقامی مجلس شورٰی دفعہ:87۔۔۔ مقامی مجلس شورٰی کا ضابطہ
دفعہ:88۔۔۔خواتین کی تنظیم دفعہ:89۔۔۔مجالس شوریٰ کے ارکان کی معزولی
دفعہ:90۔۔جماعت اسے اخراج دفعہ:92،91۔۔۔جماعتوں کوتوڑنا اور معطل کرنا
دفعہ:93۔۔۔جماعت اسلامی پاکستان میں اختلاف کی حدود دفعہ:94۔۔۔بیت المال کا قیام
دفعہ:95۔۔۔بیت المال میں آمدنی کے ذرائع دفعہ:96۔۔ بیت المال سے صرف کے اختیارات
دفعہ:97۔۔۔تنقید و محاسبہ کی آزادی دفعہ:98۔۔۔قواعد سازی کے اختیارات
دفعہ:99۔۔۔دستور میں ترمیم کا طریقہ
حلف امارت
حلف رکنیت شورٰی
حلف برائے قیم
عہد رکنیت  



نام ، نصب العین اور شرائط و فرائض رکنیت
دفعہ:1۔۔۔نام

اس جماعت کانام”جماعت اسلامی پاکستان“اور اس دستور کانام ”دستور جماعت اسلامی پاکستان“ہوگا۔

دفعہ:2۔۔۔۔تاریخِ نفاذ

یہ دستور یکم جون  1957  ءمطابق ذی القعدہ  1376  ھ سے نافذ العمل ہوگا۔

دفعہ: 3۔۔۔۔۔عقیدہ

جماعت اسلامی پاکستان کا بنیادی عقیدہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہوگا۔ یعنی یہ کہ صرف اللہ ہی ایک الٰہ ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے رسول ہیں۔
تشریح: اس عقیدے کے پہلے جزو یعنی اللہ کے واحد الٰہ ہونے اور کسی دوسرے کے الٰہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے، سب کا خالق، پرور دگار،مالک اور تکوینی و تشریعی حاکم صرف اللہ ہے، ان میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔
اس حقیقت کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ :

1 ۔ انسان اللہ کے سوا کسی کو ولی و کار ساز، حاجت روا اور مشکل کشا ، فریاد رس اور حامی و ناصر نہ سمجھے، کیونکہ کسی دوسرے کے پاس کوئی اقتدا ر ہی نہیں ہے۔
2 ۔ اللہ کے سوا کسی کو نفع و نقصان پہنچانے والا نہ سمجھے، کسی سے تقویٰ اور خوف نہ کرے کسی پر توکل نہ کرے، کسی سے امیدیں وابستہ نہ کرے کیونکہ تمام اختیارات کامالک وہی اکیلا ہے۔
3 ۔  اللہ کے سو اکسی سے دعا نہ مانگے،کسی کی پناہ نہ ڈھونڈے، کسی کو مدد کے لیے نہ پکارے ، کسی کو خدائی انتظامات میں ایسا دخیل اور زور آور بھی نہ سمجھے کہ اس کی سفارش قضائے الٰہی کوٹال سکتی ہو، کیونکہ خدا کی سلطنت میں سب بے اختیار رعیت ہیں ،خواہ فرشتے ہوںیا انبیاءیا اولیائ،
۔  اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہ جھکائے، کسی کی پرستش نہ کرے، کسی کو نذر نہ دے اور کسی کے ساتھ وہ معاملہ نہ کرے جو مشرکین اپنے معبودوں کے ساتھ کرتے رہے ہیں، کیونکہ تنہا ایک اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔
  ۔ اللہ کے سوا کسی کو بادشاہ ، مالک الملک اور مقتدرِ اعلیٰ تسلیم نہ کرے، کسی بااختیارِ خودحکم دینے اور منع کرنے کا مجاز نہ سمجھے، کسی کو مستقل بالذات شارع اور قانون ساز نہ مانے اور ان تمام اطاعتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردے جو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اسکے قانون کی پابندی میں نہ ہوں، کیونکہ اپنے ملک کاایک ہی جائز مالک اور اپنی خلق کا ایک ہی جائز حاکم اللہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو مالکیت اور حاکمیت کا حق نہیں پہنچتا۔نیزاس عقیدے کو قبول کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ:
    ۔  انسان اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہوجائے، اپنی خواہشاتِ نفس کی بندگی چھوڑ دے اور اللہ کا بندہ بن کررہے جس کو اس نے الٰہ تسلیم کیا ہے۔
    ۔  اپنے آپ کو کسی چیز کا مالکِ مختار نہ سمجھے، بلکہ ہر چیز حتی کہ اپنی جان ، اپنے اعضاءاور اپنی ذہنی و جسمانی قوتوں کوبھی اللہ کی مِلک اور اس کی طرف سے امانت سمجھے۔
      ۔  اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذمہ دار اور جواب دہ سمجھے اور اپنی قوتوں کے استعمال اور اپنے برتاؤ اور تصرفات میں ہمیشہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھے کہ اسے قیامت کے روز اللہ کو ان سب چیزوں کا حساب دینا ہے۔
  ۔  اپنی پسند کا معیار ،اللہ کی پسند کو اور اپنی ناپسندیدگی کا معیار اللہ کی ناپسندیدگی کو بنائے۔
10  ۔  اللہ کی رضا اور اس کے قرب کو اپنی تمام سعی وجہد کا مقصود اور اپنی پوری زندگی کا محور ٹھہرائے۔
11   ۔  اپنے لیے اخلاق میں برتاؤمیں ، معاشرت اور تمدن میں ، معیشت اور سیاست میں ،غرض زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کی ہدایت تسلیم کرے اور ہر اس طریقے اور ضابطے کو رد کردے جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہو۔
12   ۔  اس عقیدے کے دوسرے جز یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سلطانِ کائنات کی طرف سے روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کو جس آخری نبی کے ذریعہ سے مستند ہدایت نامہ اور ضابطہِ قانون بھیجا گیا اور جس کواس ضابطہ کے مطابق کام کرکے ایک مکمل نمونہ قائم کردینے پر مامور کیا گیا، وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم  ہیں۔
اس امرِ واقعی کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ:
  ۔ انسان ہر اس تعلیم اور ہر اس ہدایت کو بے چون و چرا قبول کرے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔
  ۔ اس کوکسی حکم کی تعمیل پرآمادہ کرنے کے لیے اور کسی طریقہ کی پیروی سے روک دینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہو کہ اس چیز کا حکم یااس چیز کی ممانعت رسولِ خدا سے ثابت ہے۔
اس کے سوا کسی دوسری دلیل پر اس کی اطاعت موقوف نہ ہو۔
۔  رسول خدا کے سواکسی کی مستقل بالذات پیشوائی اور رہنمائی تسلیم نہ کرے۔ دوسرے انسانوں کی پیروی کتاب اللہ اور سنت رسول کے تحت ہو، نہ کہ ان سے آزاد۔
۔  اپنی زندگی کے ہر معاملے میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو حجت اور سند اور مرجع قرار دے، جوخیال یا عقیدہ یا طریقہ کتاب و سنت کے مطابق ہواسے اختیار کرے ۔
  ۔  تمام عصبیتیں اپنے دل سے نکال دے خواہ وہ شخصی ہوں یا خاندانی، یا قبائلی نسلی، یا قومی و وطنی، فرقی و گروہی۔ کسی کی محبت یا عقیدت میں ایسا گرفتارنہ ہو کہ رسولِ خدا کے لائے ہوئے حق کی محبت و عقیدت پر وہ غالب آجائے یا اس کی مدِ مقابل بن جائے۔
  ۔  رسولِ خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو، ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اسکو اسی درجے میں رکھے۔
۔  محمد ﷺ کے بعد پیداہونے والے کسی دوسرے انسان کا یہ منصب تسلیم نہ کرے کہ اس کوماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفروایمان کا فیصلہ ہو

دفعہ:4۔۔۔۔۔نصب العین

جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی جہد کا مقصود عملاً اقامتِ دین(حکومتِ الٰہیہ یا اسلامی نظام زندگی کا قیام) اورحقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اخروی کا حصول ہوگا۔
تشریح: ”الدین“ حکومت الٰہیہ اور اسلامی نظامِ زندگی۔ تینوں اس جماعت کی اصطلاح میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ قرآن مجید نے اپنے جس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے ”اقامت دین“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اسی مفہوم کو یہ جماعت اپنی زبان میں ”حکومتِ الٰہیہ“یا اسلامی نظام زندگی کے قیام سے ادا کرتی ہے۔ ان تینوں کا مطلب اس کے نزدیک ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی کے جس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے اس میں وہ برضاو رغبت اسی طرح اللہ کی تشریعی حکومت تسلیم کرے جس طرح دائرہ جبر میں کائنات کا ذرہ ذرہ چارو ناچار اس کی تکوینی حکومت تسلیم کررہا ہے۔ اللہ کی اس تشریعی حکومت کے آگے سرجھکانے سے جو طریقِ زندگی رونما ہوتا ہے وہی”الدین“ ہے وہی ”حکومت الٰہیہ“ ہے اور وہی ”اسلامی نظام زندگی ہے۔
اقامتِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں بلکہ پورے دین کی اقامت ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے ، نماز، روزہ اور حج زکوٰة سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے ۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیر ضروری نہیں ہے۔
پور ے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیہ و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے،ہر مومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیئے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہل ایمان کو مل کر اسکے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
اگرچہ مومن کااصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے ، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اور حقیقی نصب العین وہ رضائے الٰہی ہے جو اقامتِ دین کی سعی کے نتیجے میںحاصل ہوگی۔

دفعہ:5۔۔۔۔طریقِ کار

جماعت کا مستقل طریقِ کار یہ ہوگاکہ:
1    ۔ وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ خدا اور رسول کی ہدایت کیا ہے۔ دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیشِ نظر رکھے گی جہاں تک اسلام میں اس کی گنجائش ہوگی۔
2   ۔  اپنے مقصد اور نصب العین کے حصول کے لی جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔
3   ۔  جماعت اپنے پیشِ نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔یعنی یہ کہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعہ سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیاجائے جو جماعت کے پیش نظر ہیں۔
4   ۔ جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدوجہد خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔

دفعہ: 6 ۔۔۔۔شرائطِ رکنیت:

ہرعاقل و بالغ شخص (خواہ وہ عورت ہو یا مرد اور خواہ وہ کسی ذات، برادری یانسل سے تعلق رکھتا ہو)اس جماعت کا رکن بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ:
1   ۔ جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد شہادت دے کہ یہی اس کا عقیدہ ہے۔
2  ۔  جماعت کے نصب العین کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد اقرا ر کرے کہ یہی اس کا نصب العین ہے۔
3   ۔ اس دستور کا مطالعہ کرنے کے بعد عہد کرے کہ وہ اس کے مطابق جماعت کے نظم کی پابندی کرے گا۔
4   ۔ فرائضِ شرعی کا پابند ہو اور کبائر سے اجتناب کرتا ہو۔
5    ۔ کوئی ایسا ذریعہِ معاش نہ رکھتا ہو جو معصیت ِ فاحشہ کی تعریف میںآتا ہو،مثلاً سود،شراب،زنا، رقص و سرور، شہادتِ زور، رشوت، خیانت ، قمار وغیرہ
6   ۔ اگر اسکے قبضے میں ایسا مال (یاجائیداد) ہوجو حرام طریقے سے آیا ہو، یا جس میں حق داروں ک تلف کردہ حقوق شامل ہوں ، تو اس سے دست بردار ہوجائے اور اہل حقوق کو ان کے حق پہنچا دے۔
تشریح: یہ عمل صرف اس صورت میں کرنا ہوگا جب کہ حق دار بھی معلوم ہوں اور وہ مال بھی معلوم و متعین ہو جس میں ان کا حق تلف ہوا ہے۔ بصورتِ دیگر توبہ اور آئندہ کے لئے طرزِ عمل کی اصلاح کافی ہوگی۔
7    ۔ کسی ایسی جماعت یا ادارے سے تعلق نہ رکھتا ہو جس کے اصول اور مقاصد جماعت اسلامی کے عقیدہ نصب العین اور طریقِ کار کے خلا ف ہوں۔
نظمِ جماعت اس کے بارے میں مطمئن ہوجائے کہ وہ جماعت کی رکنیت کا اہل ہے۔

دفعہ: 7 ۔۔۔۔طریق داخلہ:

مذ کورہ بالا شرائط کے مطابق جماعت میں داخلہ کا طریقہ یہ ہوگا کہ امیدوار رکنیت، امیر جماعت یا اس کے مقرر کئے ہوئے کسی مجاز شخص کے سامنے اس بات کا اقرار کرے کہ:
اولاً، اس نے جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیاہے اور سمجھنے کے بعد اب پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ شہادت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور محمدّ اللہ کے رسول ہیں۔
ثانیاً، اس نے جماعت کے نصب العین کو اس کی تشریح کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور وہ اسے سمجھنے کے بعد اقرار کرتا ہے کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا ، اس کی زندگی کا نصب العین ہے اور اسی نصب العین کے حصول کی سعی کے لیے وہ خالصتاً للہ جماعت اسلامی میں داخل ہورہا ہے۔اور اس کام میں اس کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور فلاحِ اخروی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔
ثالثاً، اس نے دستورِ جماعت کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور وہ عہد کرتا ہے کہ اس دستور کے مطابق وہ نظامِ جماعت کا پوری طرح پابند رہے گا۔

دفعہ:8 ۔۔۔۔فرائض رکنیت:

داخلہ جماعت کے بعد جو تغیرات ہر رکن کو بتدریج اپنی زندگی میں کرنے ہوں گے وہ یہ ہیں:
1   ۔  دین کا کم از کم اتنا علم حاصل کرلینا کہ اسلام اور جاہلیت(غیر اسلام) کا فرق معلو م ہو اور حدود اللہ سے واقفیت ہوجائے۔
2   ۔ تمام معاملات میں اپنے نقطہِ نظر ، خیال اور عمل کو کتاب وسنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا،اپنی زندگی کے مقصد، اپنی پسند اور قدر کے معیار اور اپنی وفاداریوں کے محور کو تبدیل کرکے رضائے الٰہی کے موافق بنانا اور اپنی خود سری اور نفس پرستی کے بت کو توڑ کر تابع امرِ رب بن جانا۔
3    ۔ ان تمام رسومِ جاہلیت سے اپنی زندگی کو پاک کرنا جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ کے خلا ف ہوں اور اپنے ظاہر وباطن کواحکامِ شریعت کے مطابق بنانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا۔
4   ۔ ان تعصبات اور دلچسپیوں سے اپنے قلب کو ، اور ان مشاغل اور جھگڑوں اور بحثوں سے اپنی زندگی کو پاک کرنا جن کی بنانفسانیت یا دنیا پرستی پرہو اور جن کی کوئی اور اہمیت دین میں نہ ہو۔
5    ۔ فساق و فجار اور خدا سے غافل لوگوں سے موالات اور مؤدت کے تعلقات منقطع کرنا اور صالحین سے ربط قائم کرنا۔
6    ۔ اپنے معاملات کو راستی، عدل ،خداترسی اور بے لاگ حق پرستی پر قائم کرنا۔
اپنی دوڑ دھوپ اورسعی و جہدکو اقامت دین کے نصب العین پر مرتکز کردینا اور اپنی زندگی کی حقیقی ضرورتوں کے سوا ان تمام مصروفیتوں سے دست کش ہوجانا جو اس نصب العین کی طرف نہ لے جاتی ہوں۔
تشریح: ضروری نہیں کہ یہ تغیرات تمام اشخاص میں کمال درجے پر ہوں، مگر ہر شخص کو اس باب میں اپنی تکمیل کی کوشش کرنی ہوگی۔ کیونکہ انہی تغیرات کے اعتبار سے ناقص یا کامل ہونے پر ”جماعت اسلامی “ میں ہر آدمی کے مرتبے کا تعین ہوگا۔

دفعہ:9 ۔۔۔۔

ہررکنِ جماعت کے لیے لازم ہوگا کہ اپنے حلقہِ تعارف میں اور جہاں تک وہ پہنچ سکے بندگانِ خدا کے سامنے بالعموم جماعت کے عقیدے اور نصب العین(جس کی تشریح دفعہ 4,3  میں کی گئی ہے) کو پیش کرے ، جو لوگ اس عقیدے اور نصب العین کو قبول کرلیں انہیں اقامتِ دین کے لیے منظم جدوجہد کرنے پر آمادہ کرے اور جو لوگ جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہوں، انہیں جماعت اسلامی کے نظام میں شامل ہونے کی دعوت دے۔
تشریح: اگر کوئی شخص جماعت اسلامی کے نصب العین، طریقِ کار، پروگرام اور نظام جماعت سے اتفاق کا اظہار کرنے کے باوجود کس وجہ سے رکنیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کو جماعت کے حلقہ متفقین میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے تاکہ جس حد تک بھی اس کے لئے ممکن ہو وہ اقامتِ دین کی سعی میں جماعت کے ساتھ تعاون کرے۔

دفعہ: 10 ۔۔۔۔رکن خواتین کے فرائض:

جوعورتیں جماعت اسلامی میں داخل ہوں، ان پر اپنے دائرہ عمل میں دفعہ8,9 کے تمام اجزاءکا اطلاق ہوگا، نیز رکن جماعت ہونے کی حیثیت سے ایک عورت کے فرائض حسب ذیل ہوں گے۔

1    ۔ اپنے خاندان اور اپنے حلقہ تعارف میں جماعت کے عقیدہ و نصب العین کی دعوت پہنچائے۔
2   ۔ اپنے شوہر، والدین، بھائی ، بہنوں اور خاندان کے دوسرے افراد کو بھی اس کی تبلیغ کرے۔
3    ۔ اپنے بچوں کے دلوں میں نورِ ایمان پید اکرنے کی کوشش کرے۔
4   ۔ اگر اس کا شوہر یا بیٹے یا باپ اور بھائی جماعت میں داخل ہوں تو اپنی صابرانہ رفاقت سے ان کی ہمت افزائی کرے اور جماعت کے نصب العین کی خدمت میں حتی الامکان ان کا ہاتھ بٹائے اور نزولِ مصائب کی صورت میں صبرو ثبات سے کام لے۔
5   ۔ اگر اس کا شوہر یا اس کے سرپرست جاہلیت میں مبتلا ہوں، حرام کماتے ہوں یا معاصی کا ارتکاب کرتے ہوں تو صبر کے ساتھ ان کی اصلاح کے لیے ساعی رہے، انکی حرام کمائی اور ان کی ضلالتوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے اور ان کے ایسے احکام ماننے سے انکار کردے جو معصیت خدا اور رسول کے مترادف ہوں۔

(حصہ دوم)
نظامِ جماعت کی نوعیت اور اس کے چلانے والوں کے اوصاف
دفعہ:11 ۔۔۔۔نظامِ جماعت کی نوعیت:

جماعت اسلامی پاکستان کا نظام شورائی ہوگا اور تنظیمی لحاظ سے مرکزی اور مختلف علاقائی نظاموں پر مشتمل ہوگا۔
تشریح: نظام کے شورائی ہونے کا مطلب یہ ہے اس جماعت میں امیر اور اہلِ شوریٰ کا عزل و نصب ارکانِ جماعت کی رائے سے ہوگا اور جماعت کے ساتھ کام اسلامی احکام کے مطابق مشورے سے چلائے جائیں گے۔

دفعہ: 12۔۔۔۔جماعت میں فرقِ مراتب کا معیار:

اس جماعت میں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا تعین اس کے حسب و نسب اور علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا بلکہ اس تعلق کے لحاظ سے ہوگا جو وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اور جماعت کو اس کے اس تعلق کا ثبوت اس کی ان نفسی ، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا جو وہ اللہ کے دین کی راہ میں کرے گا۔
تشریح: اس دفعہ کا مقصود ارکانِ جماعت کے سامنے وہ اصولی معیار پیش کرنا ہے جس کے لحاظ سے وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جانچیں اور پرکھیں اور یہ رائے قائم کریں کہ اس جماعت کے نظام میں کس قسم کے لوگوں کو آگے اور کس قسم کے لوگوں کو پیچھے رہنا چاہیئے۔جہاں تک رکنیت کے حقوق کا تعلق ہے ، اس میں تمام ارکانِ جماعت مساوی ہیں، لیکن جہاں تک اخلاقی فضل و شرف کا اور نظامِ جماعت میں رہنمائی وپیش روی اور ذمہ دارانہ مناصب کے استحقاق کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ کسی کی خاندانی وجاہت، یا شہرت ناموری، یادولت و ثرت، یاعلمی اسناد کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ اس بنیا دپر ہوگا کہ کون اللہ اور رسول کے احکام کا زیادہ پابند ہے، دین کے فہم اور اس کے مطابق عمل میں زیادہ بڑھا ہوا ہے، تحریکِ اسلامی کے کام کو چلانے کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے اور اس جماعت کے نصب العین کی خاطر وقت ،محنت، ذہانت اور مال کی بے دریغ قربانی کرنے والا ہے۔
جولوگ دفعہ  6   کے مطابق رکنیت کی لازمی شرطیں پوری کردیں، مگر نہ تو دفعہ 8   کے مطابق اپنی تکمیل کی کوئی خاص کوشش کریں،نہ جماعت کے کاموں میں کس خاص سرگرمی کا اظہار کریں اور نہ اپنی حیثیت کے مطابق مال ، وقت اور قوت اس نصب العین کی راہ میں صرف کریں جس کے لیے یہ جماعت جدوجہد کر رہی ہے، وہ رکن جماعت تو رہ سکتے ہیں مگر اس کے اہل نہیں ہوسکتے کہ اس جماعت کے نظام میں ان کو پیش روی کا مقام دیا جائے یا ذمہ داری کے مناصب سونپے جائیں۔ایسے کسی شخص کواگر اس کی دوسری حیثیات کا لحاظ کر کے یہ مرتبہ دیا جائے گا تو وہ اس دستور کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

دفعہ: 13۔۔۔۔امرائے جماعت کے اوصاف:

امیر (خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کے انتخاب و تقرر میں حسب ذیل اوصاف کو مد نظر رکھاجائے:

1    ۔ یہ کہ نہ وہ امارت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہوجویہ پتہ دیتی ہو کہ وہ امارت کاخود خواہشمند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔
2    ۔ یہ کہ ارکانِ جماعت اس کے تقویٰ، علم کتاب و سنت، امانت و دیانت، دینی بصیرت ، تحریکِ اسلامی کے فہم، اصابتِ رائے، تدبر ، قوتِ فیصلہ، راہِ خدا میں ثبات و استقامت اور نظمِ جماعت کوچلانے کی اہلیت پراعتماد رکھتے ہوں۔
3   ۔ یہ کہ صوبہ و حلقہ کی امارت کی صورت میں کم از کم دو سال سے اور علاقائی یا ضلعی امارت کی صورت میں کم از کم ایک سال سے جماعت کارکن ہو، الا یہ کہ امیر جماعت اس کو اس شرط سے مستثنیٰ کرنے کی ضرورت سمجھے۔

دفعہ: 14۔۔۔۔مجالس شوریٰ کے ارکان کے اوصاف:

مجلس شوریٰ(خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کی رکنیت کے لیے کسی شخص کے انتخاب میں حسب ذیل اوصاف کو مدنظر رکھا جائے گا۔
1    ۔ یہ کہ نہ وہ مجلس کی رکنیت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہو جو یہ پتہ دیتی ہو کہ وہ رکنیت کا خواہشمند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔
2    ۔ یہ کہ وہ علم وتقویٰ، امانت و دیانت، فہم و بصیرت، خدا کی راہ میں ثبات واستقامت اور دعوت کے سلسلے میں خدمات کے لحاظ سے قابل اعتماد اور عام ارکان سے ممتاز ہو۔

﴿حصہ سوم﴾
مرکزی نظام ۔ اجتماعِ ارکان
امیر جماعت ، مرکزی مجلس شوریٰ