یہا کلک کریں
JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
ہرچیزاللہ کی نظرمیں ہے،کیاتم دیکھتےنہیں ہو کہ اللہ کےآگےسربسجودہیں وہ سب جوآسمان میں ہیں اورجوزمین میں ہیں،سورج چاند،تارے،پہاڑاوردرخت اورجانوراوربہت سےانسان اوربہت سےوہ لوگ بھی جوعذاب کےمستحق ہوچکےہیں۔ اورجسےاللہ ذلیل وخوارکردے اسے پھرکوئی عزت دینےوالانہیں ہے،اللہ کرتاہےجوکچھ چاہتا ہے۔الحج:18
اللہ تعالٰی جس شخص کوبھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس پرمصیبت ڈال دیتا ہے۔صحیح بخاری:843
ادارہ معارف اسلامی
ڈائریکٹر: حافظ محمد ادریس

1963 ء میں اس ادارے کی بنیاد سید ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی۔ ادارے کا بنیادی کام امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا تحقیقی جائزہ لینا اور ان کا اسلامی حل تلاش کرنا ہے۔ کئی ریسرچ اسکالرز کی تحقیقی پر مبنی کتب کے علاوہ ادارہ اب تک کئی اہم کتب کے تراجم کروا کر شائع کرچکا ہے۔ادارے کی طرف سے دینی میدان میں تخصص کرنے والے محققین کے لیے اسکالر شپس کا بھی اہتمام ہے۔ حالیہ دنوں میں قرآن و سنت، اسلامی قوانین کی تقنین(Codification) اور اسلام کے اقتصادی نظام اور عصر ی ضروریات کے مطابق اس کے عملی نفاذ کے لیے درکار بنیادی لٹریچر کی تیاری پر کام جاری ہے۔ ادارہ معارف اسلامی کی ایک شاخ کراچی میں بھی قائم ہے۔


مرکز علوم اسلامیہ
مہتمم : مولانا فتح محمد (سابق امیر جماعت اسلامی پنجاب)
             رابطہ نمبرز:5419509-42-92      فیکس:7834003-42-92

1980  ء میں اس ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت 200 طلبا اس ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ داخلہ کے لیے میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔ 8 سالہ تعلیمی دورانیے کے اختتام پر سند فراغت دی جاتی ہے۔ طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے گریجویشن کے امتحان میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہاں کے فضلا بالعموم ماسٹر ڈگری پاکستان کی یونیورسٹیوں سے کرتے ہیں۔ یہاں کے فارغ التحصیل سینکڑوں فضلا مختلف ممالک میں دینی و تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ہرسال شعبان اور رمضان کے مہینوں میں مرکز علوم اسلامیہ کے زیر انتظام دورہ تفسیرالقرآن منعقد کیاجاتا ہےجس میں سینکڑوں طلبا و طالبات شرکت کرتے ہیں۔
16 جید علماء کرام تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ دیگرعملہ کے 10 کارکنان بھی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ سابق امیر جماعت اسلامی پنجاب مولانا فتح محمد ادارے کے مہتمم جبکہ معروف عالم دین، ماہر علوم حدیث و صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان مولانا عبدالمالک شیخ الحدیث ہیں۔ مولانا عبدالمالک اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے رکن رہ چکے ہیں،اور2002 ء کے قومی انتخابات میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

سید مودودی انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ
ڈائریکٹر: ڈاکٹر عمر فاروق غازی

سید مودودی انسٹی ٹیوٹ کے بیشتر طلبہ ایسے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اسلامی تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں۔ یہاں کی تدریسی زبان انگلش اور عربی ہے۔ طلبہ کو باقاعدہ اردو بھی پڑھائی جاتی ہے۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ، معاشیات، سیاسیات، فلسفہ، سماجیات، تقابل ادیان اور کمپیوٹر کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
تعلیمی سال کے آخر میں ڈگری کے حصول کے لیے تحقیقی مقالہ لکھنا لازمی ہے۔

جامعۃ المحصنات
رابطہ نمبر:5419516-42-92

ابتداء فیصل آباد میں عائشہ عریبک اکیڈمی برائے اسلامک سٹڈیز قائم کی گئی۔ اس کا مقصد طالبات کی فکری و عملی تربیت کرنا اور انھیں دعوتی کام کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس کا دائرہ اثر بڑھانے کی خاطر بعد ازاں اسے جماعت کے مرکزی ہیڈ کرارٹر منصورہ لاہور میں منتقل کردیا گیا۔ تبھی سے یہ ادارہ جامعۃ المحصنات کےنام سے منصورہ میں کام کر رہا ہے۔ یہاں طالبات کوقرآن اور سنت کی بنیادی تعلیم سے آراستہ کیاجاتا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالبات چاہیں تو آگے تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں تاکہ مزید ایسے تعلیمی ادارے قائم کر سکیں جو نئی نسل کو دین کے حقیقی تصور سے روشناس کرا نے میں اپنا کردار اداکریں۔ جامعۃ المحصنات میں داخلے کے لیے طالبہ کا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔ تعلیمی سال کا آغاز یکم اگست سے ہوتا ہے۔ ادارے میں سہ ماہی بنیادوں پر امتحانات لیے جاتے ہیں۔ ادارہ رابطۃ المدارس الاسلامیہ سے الحاق شدہ ہے۔


اسلامک ایجوکیشن سوسائٹی

اسلامک ایجوکیشن سوسائٹی کا قیام 1982 ء میں عمل میں آیا۔ مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم اس کے بانی چیئرمین تھے۔ ان کے انتقال کے بعد چوہدری رحمت الٰہی (نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان) صدارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سوسائٹی کو ملک کے جید تعلیمی ماہرین کی خدمات حاصل ہیں۔ سوسائی کے تعلیمی اداروں میں مروجہ نصاب کے علاوہ قرآن، عربی اور اسلامیات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی سیرت سازی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
مندرجہ ذیل تعلیمی ادارے اس سوسائٹی کے زیر انتظام خدمات انجام دے رہے ہیں۔
1   -  منصورہ ماڈل ہائی سکول برائے طلبہ         2  -  منصوہ ماڈل سکول برائے طالبات
3  - منصورہ ماڈل ڈگری کالج ( طالبات)         4    ۔ منصورہ ماڈل ڈگری کاج (طلبہ)


منصورہ ہسپتال
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ: ڈاکٹر الیاس رفیع

منصورہ ہسپتال 1982 ء میں قائم ہوا۔ ابتداً اس کے قیام کا مقصد جہاد افغانستان کے متاثرہ لوگوں کا علاج معالجہ کرنا تھا۔ بعد ازاں طبی سہولیات کی فراہمی کا دائرہ کار مقامی آبادی تک بڑھا دیا گیا۔ اب مقامی آبادی کے علاوہ کشمیری مہاجرین بھی عملیات جراحی (Surgical operation) اور دیگر طبی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں۔ ہسپتال میں OPD  ، آپریشن تھیٹر، بلڈ بنک، اور ایمبولینس سروس کی سہولیات دستیاب ہیں۔ 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس کے علاوہ  Ecg ، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ اور بہترین آلات سے آراستہ کلینکل لیبارٹری موجود ہے۔ ہسپتال کا عملہ پرخلوص، پیشہ ورانہ مہارت اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہے جب کہ ہر مرض کے بہترین سپیشلٹ ڈاکٹرز کی خدمات ہسپتال کو حاصل ہیں۔


واپس اوپر^^designed by
aliftek