آج ہم جس شخصیت سے بات چیت کریں گےوہ امریکہ اور اس کےاتحادیوں کے لیے نہایت مطلوب ہے،لیکن پاکستان و افغانستان کے ہزاروں مسلمانوں کے لیے وہ محبوب لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس شخصیت نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سوویت یونین کے خلاف جہاد میں گزارا اورآج کل وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اعلان جہاد کرکے افغانستان کے پہاڑوں اور کوہساروں میں مصروف عمل ہیں۔آیئے ان سے بات چیت کرتے ہیں۔
س۔ ان دنوں آپ پاکستان میں مقیم ہیں یاافغانستان میں؟
گلبدین حکمتیار: اس وقت میراکوئی مستقل پتہ نہیں لیکن میں مجبور ہوں کہ میں اس سوال کاجواب ان الفاظ میں دوں کہ میں زمین کے اوپر اورآسمان کے نیچے رہتا ہوں۔ پانچ سال قبل 26 دسمبر کو ایران کی سرحد سے نکل کر افغانستان میں داخل ہوا اور چھ روز بعد ایسے علاقے میں آیا جہاں اونچے اونچے پہاڑاورجنگل تھے۔وہ پاکستان کا نام پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس سے وہ اپنی خفت مٹانا چاہتے ہیں۔ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ مجاہدین افغانستان کے اندر رہتے ہیں اور کاروائیوں کے لیے بھی پاکستانی سرحد کے پارنہیں جاتے۔
س۔ آپ نے امریکیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے لیکن امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے خلاف جو مزاحمت ہورہی ہے اسے القاعدہ اور طالبان سے منسوب کیا جا رہاہے۔اس مزاحمت میں آپ کا اور آپ کی جماعت کا کتنا حصہ ہے اورآپ کس سطح پر جہاد کرتے ہیں؟
گلبدین حکمتیار: ہمارا دشمن اپنے خلاف ہماری کاروائیوں کو تین دھڑوں سے منسوب کرتا ہے ، پہلے القاعدہ کا نام لیتے ہیں، پھر طالبان کانام لیا جاتا ہے اور آخر میں کہاجاتا ہےکہ حکومت کے دیگر مخالفین القاعدہ کے حامی دہشت پسند عناصر وغیرہ۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ ہمارا دشمن دنیا کو بتاناچاہتا ہےکہ وہ صرف ان دودھڑوں سے لڑائی میں مصروف ہے نہ کہ افغان عوام اور دیگر دھڑوں سے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ اتحادی افواج اعتراف کرتی ہیں کہ ہر ماہ انکےخلاف اوسطا600 حملے ہوتے ہیں۔ یعنی ہرروز تقریبا20حملے لیکن میڈیا میں صرف دو تین کاروایئوں کا ذکر ہوتا ہے،جنہیں القاعدہ اور طالبان سے منسوب کیاجاتا ہے ۔ آپ بتایئے کہ باقی سترہ کاروائیاں کس کی ہوتی ہیں۔
س۔ آپ نے اور طالبان نے بھی امریکہ کے خلاف جہاد کااعلان کیا ہے،آپ کی کمانڈ ایک ہے یاالگ الگ کاروائیاں کرتےہیں،اگر آپ مشترکہہ کمانڈ نہیں بناسکے تو کیا مستقبل میں طالبان کے ساتھ مل ایک کمانڈ کے تحت اپنی کاروائیوں کو مربوط کرانے کا کوئی ارادہ ہے؟
گلبدین حکمتیار: ہم نے ہمیشہ مجاہدین کی یکجہتی پرزوردیا ہے اور اپنے مجاہدین سے کہہ دیا ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ہراس بندے کی مدد کریں جوحملہ آوروں کے خلاف لڑرہے ہیں اور اپنے ملک میں اسلامی حکومت کے متمنی ہیں۔ ہم ابھی تک طالبان کے ساتھ کسی معاہدے پر منسلک نہیں، طالبان کے بعض لیڈروں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ آؤتاکہ دشمن کے خلاف اپنی جدوجہد کو یکجا کرلیں، مشترکہ شوریٰ بنائیں،مل کر کاروائیاں کریں اورافغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بھی لائحہ عمل مرتب کرلیں اور عوام کو اطمینان دلادیں کہ جارح افواج کے انخلا کے بعد آپس کی لڑائیوں میں نہیں الجھیں گے۔ ہم اپنے اقتدار کے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کی آزادی وخود مختاری کے لئے لڑ رہے ہیں،طالبان کے زیادہ لوگ اس اتحاد کے حامی تھے، لیکن افسوس بعض لیڈر نہ مانے اگرچہ طالبان کے ساتھ مذاکرت کاسلسلہ منقطع ہوگیا ہے لیکن اگر وہ اس کی ضرورت محسوس کریں تو ہم تیار ہیں۔
س: القاعدہ نے عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا، یہ کہاجاتا ہےکہ ایک عرصے سے آپ اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری ایک ساتھ رہ رہے ہیں یا وہ دونوں آپ کے پاس ہیں۔ کیاآپ کا رابطہ ابھی بھی ان کے ساتھ ہے اور کیا 11/9کے بعد اسامہ بن لادن یا ایمن الزواہری کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں یا یہ محض افواہ ہے؟
حکمت یار: دراصل امریکہ کی کوشش ہوتی ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں اپنے خلاف ہونے والی مزاحمت کو القاعدہ سے منسوب کرلیں۔ ان کا خیال یہ ہےکہ القاعدہ کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ ہوچکا ہے کہ کسی بھی دھڑے کو مقبول بنانے کے لئے یہ کافی ہے۔ امریکہ نےغلط پالیسیوں کے ذریعے اپنے لئے اس قدر دشمن پیدا کر لئے ہیں کہ اب دنیا کی اکثریت اس سے نفرت کرتی ہے۔ امریکہ کو فساد، لڑائیوں فقراور بھوک کا سبب قراردیاجاتا ہے امریکہ ہی میں امریکی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والے 200مسلح گروہ سرگرم عمل ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ امریکہ کو ملک کے اندراورباہر سابق سوویت یونین سےکئی گنا زیادہ مخالفتوں کا سامنا ہے۔ تاریخ میں دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف اتنی نفرت پیدا نہیں ہوئی تھی جتنی اس وقت امریکہ کے خلاف دنیا کے کونے کونے میں موجود ہے۔میراایمان ہے کہ اب امریکہ کا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جو سابق سوویت یونین کاہواتھا۔ 11/9کے حملوں کے بعد میری اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ یہ وہی وقت تھا جب ایران کے آزاد خیال چاہتے تھے کہ مجھے امریکہ کے حوالے کردیں چنانچہ میں ایرانی حکام کوآگاہ کیے بغیر ایران سے نکل آیا اور اپنے دیس میں آگیا۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہورہاتھا کہ مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ دودن کےلئے کرزئی تہران آرہے ہیں اور مجھ سے ملناچاہتےہیں۔ لیکن اس کے ساتھ مجھے بتایا گیا کہ ایرانی کابینہ کے اجلاس میں حتمی فیصلہ ہوا ہے کہ آپ ایران سے نکل جائیں۔ ایرانی پوچھ رہے تھے کہ ہمیں بتایا جائےکہ تم کہاں جاناچاہتے ہو،میں نےکہا کہ میں غور کروں گا لیکن اسی شام میں تہران سے نکل آیا۔ فجر کی نماز ایرانی سرحد کے قریب ادا کی اور 27 دسمبرکوجس روز افغانستان سے روسی افواج نکلی تھیں اس دن ایران سے نکل آیا۔ افغانستان پر امریکی حملےکے بعد میں نے اپنے لوگوں کوحکم دیا کہ اپنے انصار بھائیوں کوافغانستان سے نکال کرمحفوظ مقامات پر منتقل کردیں۔ جب تورابورا پرامریکی حملے کا آغاز ہوا اور بعض وطن فروش افغانوں نے اس حملے میں حصہ لینا شروع کیا اور ان کی مدد کی اور امریکہ کے زیرکمانڈ اس جنگ میں شرکت کی تو حزب اسلامی کے بعض بہادر اور ایماندار مجاہدین نے اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کو بعض دیگر ساتھیوں سمیت تورا بورا سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ میری ملاقات اس مقام پر ان کے ساتھ ہوگئی لیکن یہ بھی واضح کرناچاہتا ہوں کہ القاعدہ کے ساتھ ہمارا کوئی تنظیمی رابطہ نہیں۔ ہم افغانستان سے باہر کسی طرح کی مسلح سرگرمی پر یقین نہیں رکھتے نہ اب اور نہ روسیوں کے حملے کے دوران۔
س: کچھ عرصہ قبل آپ کا بیان شائع ہواجس میں آپ نے مجاہدین سے مطالبہ کیا تھا کہ ۔۔۔۔۔؟
گلبدین حکمتیار: ٍجی ہاں میں نےیہ بیان دیا تھا، میں نے وزیرستان کے مجاہدین کو مسلسل پیغامات بھجوائے کہ وہ لڑائی بند کردیں کیونکہ یہ لڑائی نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مجھے پیغام بھیجے کہ پاکستان کی حکومت نے ہمیں لڑائی پر مجبورکیا ہے اور ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں ہے یہ جنگ ہم نے نہیں شروع کی ہم تو اپنا دفاع کررہے ہیں۔ میں اب بھی مجاہدین سے کہتا ہوں کہ مسلمان کی اصل جنگ افغانستان میں برپا ہے اگر یہاں امریکی شکست کھاگئے تو امت مسلمہ کے بہت سے مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔ میں پاکستان کے جہادی اور سیاسی دھڑوں کو مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، میں ان سے صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ آؤ بڑھیں اصل دشمن کے خلاف مل کر جہادکریں۔میں انہیں کابل حکومت کے خلاف نہیں بلکہ غیر ملکی افواج کےخلاف جنگ کی دعوت دے رہا ہوں، اگر امریکہ اور اس کے اتحادی افواج ہزاروں کلو میٹر دور سے افغانستان آکر بے گناہ افغانوں پر بم برساتی ہیں تو تم مجھے بتاؤ کہ تمہاری اسلامی غیرت کہاں گئی کہ ان مظلوم افغانوں کے حق میں بلند آواز میں بات بھی نہیں کرسکتے ہو۔ میں ان لوگوں سےافغانوں کی حمایت کی توقع نہیں کرتا جنہوں نے ہمییشہ افغانوں کے دشمنوں کاساتھ دیا ہے جو کل تک روسیوں آج انگریزوں اور امریکیوں کاساتھ دے رہے ہیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اس خطے کے مسلمان افغانستان سے غیر ملکی افواج کو باہر نکالنے کےلئے کمربستہ ہوجائیں۔ اپنے مجاہدین پر بھی زوردیتا ہوں کہ وہ اپنی گولی کو اپنےاصلی دشمن کی طرف فائر کریں افغان کٹھ پتلی فوج کے سینکڑوں فوجیوں کو مارنے سے ایک امریکی کو زخمی کرنا بہتر ہے۔ جب امریکی نکال دیئے جائیں گے تو پھران کے کٹھ پتلیوں سے نمٹنا آسان ہے۔
س: کرزئی کے اہلکار آپ پر الزام لگاتےرہتے ہیں کہ طالبان اور ان کے دیگر مخالفین کو پاکستان سے امداد ملتی ہے اورآپ کے ساتھی کاروائی کے بعد کہاں پناہ لیتے ہیں؟
گلبدین حکمتیار: امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم باہر کی مدد کے بغیر اس جنگ کوجاری رکھنے کاعزم اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں،ہمیں ایران اور پاکستان میں کوئی بھی سپورٹ نہیں کررہا ہے۔ ایران کے آزاد خیال اور پاکستان کے جرنیلوں نے امریکہ کا ساتھ دیا،امریکی جانتے ہیں کہ سڑک پر چلتے ہوئے ایک امریکی کارواں کی راہ میں دھماکہ کرنے پر ہمارے اخراجات 100ڈالر سےبھی کم خرچ آتے ہیں۔ہمیں جنگ کے لیےبیرونی امدادواخراجات کی ضرورت نہیں ہے ، ان شاء اللہ ہم اس جنگ کو تنہا اور لمبے عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اگر ہم سال میں ہزار دھماکے کریں تو ہمارے مجموعی اخراجات100ہزارڈالر تک نہیں پہنچتے۔اگر امریکی ہرسال ہزار تابوتوں کو اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو افغانوں کی کمر ٹوٹ جائےاگر وہ اتنے اخراجات برداشت نہ کر سکیں۔ اگر انگریز ایک صدی قبل ہمارے باپ دادا کے افغانستان پر حکومت نہیں کرسکے تو ہم اپنے آباؤاجداد کی نافرمان اولاد ثابت ہوں گے کہ آج غیروں کے جھنڈے ہمارے ملک میں لہراتے رہیں اور دشمن ملک کے کسی بھی کونے میں ایک لمحہ آرام سے گزارسکے۔ ہرکوئی اس حقیقت کو جانتا ہے کہ افغانستان کے مسلمان مجاہدین نےصلیبی حملہ آوروں کے خلاف جہاد اپنے ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر شروع کیا ہے۔ جو لوگ اس مزاحمت کو غیر ملکیوں سے منسوب کرنا چاہتے ہیں وہ خود غیروں کے غلام ہیں۔ وہ کل روسیوں کے زیرقیادت اپنی قوم کے خلاف لڑے اور آج انگریزوں کے زیرکمانڈلڑرہے ہیں۔دوسروں سے اپنی حفاظت کراتے ہیں اور ان کے گھروں کے دروازوں پر امریکی کمانڈوز پہرے دیتے ہیں۔ یہ وہی بےغیرت اور بے ایمان افغان ہیں جنہوں نے آزاد زندگی کا مزا چکھا ہی نہیں وہ ہر ایک کو اپنےجیسا سمجھتے ہیں، وہ مجاہدین اور انکے جذبات سے ناآشنا ہیں۔عجیب بات ہےکہ بعض احمق مجاہدین کو پاکستان کے ساتھ نتھی کرتے ہیں حالانکہ پاکستان اب امریکیوں کا اڈا ہے پاکستان کا تعاون نہ ہوتا توامریکی نہ کابل پر قبضہ کرسکتے تھے اور نہ اب تک افغانستان میں قیام کرسکتے تھے۔ افغانستان پر امریکی حملے سے لے کر طالبان کی حکومت کے خاتمے تک پاکستان کی سرزمین سے 70ہزار جنگی پروازیں ہوئیں۔افغانوں پر بم برسانے والا ہرجہاز پاکستانی اڈوں سےاڑا، ابھی تک امریکیوں کو وسائل پاکستانی راستے سے مل رہے ہیں۔ کرزئی پاکستان ہی سے امریکی ہیلی کاپٹروں میں ارزگان اور پھر قندھار منتقل کئے گئے تھے،گوانتا نامو کی جیلیں ان مجاہدین سے بھری ہوئی ہیں جو پاکستان سے گرفتار کرکے ہتھکڑیوں میں امریکیوں کے حوالے کئے گئے۔ہم نہیں سمجھتے کہ واشنگٹن کو مطمئن کرنے اور مجاہدین کا ساتھ دینے کے طعنے سے بچنے کے لئےپاکستانی حکومت اس سے بڑھ کراور کیاکرسکتی ہے۔
س: ان دنوں امریکہ عراق میں بھی سیاسی حل کے بارے میں سوچنے لگا ہے، افغانستان میں ہلمند کے اندر نیٹو اور طالبان کے درمیان معاہدہ بھی طے پایاہے۔ اگر آپ کو بھی سیاسی حل کی پیشکش کی جائے تو کیا آپ امریکہ اور کرزئی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے اور مسئلے کا سیاسی حل تلا ش کرنے پر آمادہ ہیں۔
گلبدین حکمتیار:ہم مذاکرات کے ذریعے بحران کے ایک معقول حل کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، مغرور امریکیوں کا اس نتیجے پر پہنچ جانا کہ افغانوں کو جبرو تشدد سے غلام نہیں بنایاجاسکتا ایک مثبت پیش رفت ہے ہم امریکیوں کی طرف سے کرزئی حکومت کے حکام کو مجاہدین کے ساتھ گفت وشنید کی اجازت دینے کو بھی مثبت پیش رفت تصورکرتے ہیں۔ لیکن مذاکرات تب نتیجہ خیز ثابت ہوں گے جب امریکی کابل حکومت کو یہ بھی اجازت دیں کہ مجاہدین کے ساتھ غیر ملکی افواج کے غیر مشروط اور مکمل انخلا پر بھی اتفاق کرسکتے ہیں اورغیر ملکی افواج اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ مجاہدین اور افغان عوام کا اولین اور اصل مطالبہ غیر ملکی افواج کا انخلا ہے، اس کے بغیرافغان بحران حل نہیں ہوسکتا۔ پھربعدمیں معاہدے سے ثابت ہوا کہ غیرملکی افواج کی موجودگی جنگ اور ان کا انخلا امن کا ذریعہ ہے، اگر اسی نوع کا معاہدہ کابل سمیت تمام صوبوں میں ہوجائے تو ہم اس پر اتفاق کرسکتے ہیں۔
س:اسامہ بن لادن نے ایک انٹرویو میں دعوٰی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہے، آپ کی کیارائے ہے؟
گلبدین حکمتیار:اسامہ بن لادن کا معاملہ افغانستان اورافغانوں کے ساتھ منسلک کرنا مغالطے کے سوا کچھ نہیں،اگر واقعی امریکیوں نے افغانستان میں القاعدہ کے مراکز اور طالبان حکومت کےخاتمے کے لئے کاروائی کی تھی تواب انہیں نکل جاناچاہئے تھا۔ اب افغانستان میں القاعدہ کےمراکز موجود نہیں ہیں القاعدہ کے تمام مراکز عراق منتقل ہوگئے ہیں اور طالبان کی حکومت بھی ختم ہوگئی ہے یہ لوگ اب بھی یہاں رہنے کےلئے کیوں اصرارکررہے ہیں۔ اس بات سےثابت ہوتاہے کہ ان کے ارادے کچھ اور ہیں،وہ اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے، انہوں نے اس کاروائی کے ذریعے سینکڑوں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے لئے مزید مراکز پیدا کئے ہیں۔ آپ کومعلوم ہے کہ اسامہ بن لادن خوشحال زندگی گزارتے تھے سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دنوں میں وہ افغانستان آئے یہاں انہیں جہادی فکر نصیب ہوئی۔ انہوں نے امریکی فوج کی آمداور عراق جنگ کی مخالفت کی،سعودی حکومت نے انکی شہریت ختم کی چنانچہ وہ افغانستان میں رہنے پر مجبور ہوئے۔افغانستان سے سوڈان گئے لیکن امریکیوں نے سوڈان کی حکومت کو انہیں نکالنے پر مجبورکیا پھر وہ افغانستان آگئے اورحالات نے انہیں طالبان کا ساتھی بنادیا۔ اس وقت امریکی طالبان کےحامی تھےاور انکے ساتھ اسامہ بن لادن کی موجودگی پراعتراض نہیں تھا لیکن کینیا، تنزانیہ اور یمن میں امریکیوں کےخلاف کاروائیوں کے بعد امریکہ نے طالبان سے مطالبہ کیاکہ وہ اسامہ بن لادن کواس کے سپرد کردیں۔سعودی حکومت نے بھی یہ مطالبہ کیاطالبان کے اس وقت کے وزیرخارجہ مولوی متوکل ریاض سعودی عرب طلب کرلئے گئے،وہاں انہوں نے سعودی حکومت کے ساتھ اسامہ بن لادن کی سپردگی کا وعدہ کیا۔ کابل میں علماء کے نام پرشوریٰ تشکیل دی گئی اور اس شوریٰ نے بھی اسامہ بن لادن سے افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔ سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ ترکی الفیصل اسامہ بن لادن کو ہتھکڑیوں میں لے جانے کے لئے خصوصی جہاز میں قندھارآئے۔ وہ پانچ روز قندھارمیں رہے لیکن طالبان بعض وجوہات کی بنا پر اسامہ بن لادن کو ترکی الفیصل کے حوالے نہ کرسکے۔ اس دن کے بعد واشنگٹن اور ریاض طالبان کے مخالف بن گئے۔ واشنگٹن نے عراق میں ایٹمی ہتھیار ہونے کے شک میں حملہ کیا لیکن بعد میں پتا چلا کہ امریکی حکومت اپنے عوام اور دنیا سے جھوٹ بول رہی تھی۔ ہرکوئی جانتا ہے کہ القاعدہ پر امریکی الزام جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ، اگر عراق ایران اور لیبیا جیسے دولتمند ممالک ایٹمی ہتھیاروں کو بنانے پر قادر نہیں ہوئے تو القاعدہ کیونکر بناسکتا ہے۔تجربے سے ثابت ہوگیا کہ گیارہ ستمبر کی صورت میں القاعدہ نے امریکہ پرایساوارکیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ القاعدہ کا ایٹم بم وہ خودکش حملے ہیں جس کے مقابلے کی امریکی طاقت نہیں رکھتے ۔
س:فرض کریں اگر امریکی افغانستان سے نکل جائیں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مجاہدین آپس میں لڑائیوں کا آغاز کرکے سابقہ تاریخ کو نہیں دہرائیں گے۔ آپ اور طالبان بھی آپس میں نہیں لڑیں گے؟
گلبدین حکمتیار:یہ سوال تب پید اہوتا جب غیر ملکی افواج یہاں امن لاتیں اور ان کی موجودگی خوشحالی اور امن کا سبب ہوتی۔ تجربات سے ثابت ہوا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی جنگ کاسبب ہوتی ہے نہ کہ امن اوراستحکام کا۔نہ توسوویت یونین افغانستان میں امن لاسکی اور نہ امریکی عراق اور افغانستان میں امن لاسکے۔ حقیقت یہ ہےکہ افغانوں کے بیشتر مسائل کا سبب غیر ملکی مداخلت ہے،اگر یہ مداخلت نہ ہوتو افغان اپنے مسائل خود حل کرسکتےہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایران اور پاکستان ہمارے ملک میں مداخلت نہ کریں اور اپنے مفادات ہمارے ملک میں تلاش نہ کریں تو افغان آسانی کے ساتھ اپنی مشکلات حل کر سکتے ہیں۔ اب مجھے دنیا کی حالت ایسی دکھائی دیتی ہے کہ دوبارہ نہ ماسکو کے زیر قیادت اتحاد افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لئے راستے پائے گا اور نہ واشنگٹن کے زیرسرپرستی کوئی اتحاد ایسا کرسکے گا۔عراق اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ان شاء اللہ ہمارے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔
س:اس وقت آپ کے تعلقات پاکستانی حکام اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ کیسے ہیں اور پاکستان نے جو ماضی میں کرداراداکیا ہے اس کے تناظر میں آپ پاکستان اور پاکستانی خفیہ اداروں پردوبارہ اعتماد کرنے کے لئے تیار ہیں؟
گلبدین حکمتیار: افغانستان کے متعلق حکومت پاکستان کا موقف ہر ایک پر واضح ہے، پاکستان بڑے خلوص کے ساتھ امریکیوں کی مدد کررہا ہے افسوس ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور بالخصوص افغانستان سے متعلق پالیسی امریکہ تشکیل دیتا ہے۔ اس میں جس قدر امریکی مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے کسی اور چیز کا نہیں رکھا جاتا۔ لیکن پاکستانی حکام اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ امریکہ پاکستان کو تب تک اہمیت دے رہا تھا جب تک ہندوستان روس کے قریب تھا، وہ ہندوستان کودباؤمیں لانا چاہ رہاتھا۔ جب سے ہندوستان امریکہ کے قریب ہوا ہے، پاکستان نے اپنی اہمیت کھودی ہے۔سرد جنگ کے دوران بھی امریکی پاکستان پر ہندوستان کو ترجیح دیا کرتے تھے اب وہ دہلی کو خوش کرنے کے لئےپاکستان کے خلاف کچھ بھی کرنے کے لئے تیارہیں۔پاکستان کے ماضی کی حکومتوں نے امریکہ کے کنے پر وہی کچھ کیا ہے جس کا افغانستان کوبھی نقصان پہنچا اور خود پاکستان کو بھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ ربانی کو دومرتبہ وزیراعظم ہاؤس اورگورنر ہاؤس میں دیگر افغان دھڑوں پر مسلط کیا۔ کیونکہ ماسکو اور واشنگٹن آپس میں یہ فیصلہ کرچکے تھے، انہوں نے شمالی اتحاد تشکیل دیااور چاہ رہے تھے کہ ربانی اس حکومت کاسربراہ بن جائے۔اسلام آباد نے حزب اسلامی کے خلاف جو کچھ کیا ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں، میں پوری سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم پاکستانی حکومت اور اداروں کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں رکھتے۔ گذشتہ 13برس میں میں نے کسی پاکستانی عہدیدار سےکوئی ملاقات نہیں کی بلکہ نچلی سطح پر بھی کوئی رابطہ نہیں کیا اور بہت ہی بیوقوف انسان پاکستان کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ خیال کرسکتا ہےکہ وہ امریکہ کے خلاف مجاہدین کی مدد کرے گی۔
س:ایران کو امریکہ کادشمن نمبرایک سمجھا جاتا ہے، افغانستان کےاس پورے قضیے میں آپ حکومت ایران کے رول کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
گلبدین حکمتیار:مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس روز سے روسی فوج نے افغانستان سے نکل جانے کافیصلہ کیا ہے ایران اس روز سے ماسکو کا ہمنوا ہے بالخصوص افغانستان کے قضیے کے بارے میں جبل السراج کا اتحاد ایران کے ذریعے بنا۔ اس اتحاد میں کمیونسٹ، شوریٰ نظاراورایران کے حامی شیعہ دھڑے جمع کیے گئے اس کے لئے روسی نوٹ چھاپتے تھےاورایران اسلحہ بھجواتا تھا۔ ان دونوں کی یہ کوشش تھی کہ افغانستان میں مستحکم حکومت قائم نہ ہواور وسط ایشیا کا تیل اورگیس افغانستان کے راستے باہر نہ جائے۔ وسط ایشیا کی مارکیٹ امریکہ اور پاکستان کے ہاتھ نہ جانے پائے، وسط ایشیائی ممالک اپنا تیل و گیس پاکستان اوربحرہند کو منتقل نہ کرسکیں اور یہ ہاہم مارکیٹ دوسروں کے ہاتھوں میں نہ جائے۔ ایران نے بھی واشنگٹن کا ساتھ دیا اور شمالی اتحاد کو اس بات پر آمادہ کیاکہ وہ زمینی فوج کے طور پر امریکہ کے لئے لڑے۔ اسی طرح بون میں ایران کی شرکت پر امریکی اس قدر خوش تھے کہ بلند آواز میں اس کا شکر ادا کیا امریکہ نے وزیرخارجہ کی سطح پر ایران کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ بون کے اجلاس میں اس نے فعال کردار اداکیا۔ان کی کوششوں کے نتیجے میں بون کانفرنس کامیاب ہوئی اور امریکہ کی مرضی کی حکومت بن گئی۔خاتمی رفسنجانی اور خرازی نے اپنی پریس کانفرنسوں اور جمعے کے خطابات میں کہہ دیا کہ ایران ساتھ نہ دیتا تو امریکہ کابل اور بغداد میں قبضہ نہیں کرسکتا تھا۔ مجھےان لوگوں پر حیرت ہے جو ایران کے غلط اقدام پراعتراض کے بجائے اس کی تعریف کرتے ہیں ۔ مجھے ایران کی موجودہ حکومت کاموقف گذشتہ صلیبی جنگ میں اسلامی حکومت کے خلاف مصر کی فاطمی حکومت کے کردار جیسا لگتا ہے ۔چند روز قبل کابل کی امریکی حکومت کے وزیر خارجہ نے ایران کے موقف کی اس بناء پر تعریف کی کہ وہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی امن کے لئے لازمی قراردیتا ہے۔
س:آپ امریکی تعاون کے ذریعے جہاد کرنے کے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں او رکیا امریکہ کو دنیا کا واحدسپرپاور بنانے میں آپ لوگوں نے حصہ نہیں ڈالا؟
گلبدین حکمتیار:ہم نے روس کے خلاف امریکہ کی جنگ کی حمایت نہیں کی تھی ایسا نہیں تھا کہ امریکی دنیا کے کسی کونے میں لڑرہے تھے اور اس کے تعاون کے لئے ہم وہاں گئے تھے۔ دراصل ہم نے کمیونسٹوں کے خلاف جہاد کا آغاز کردیا تھا پھر جب کمیونسٹوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ہم اکثر صوبوں کو آزاد کرنے میں کامیاب ہوئے ، کابل کو ہم نے محاصرے میں لے لیا اور کابل پر قبضے کے لئے آخری قدم اٹھانے والے تھے کہ روسیوں نے افغانستان پر حملہ کردیا۔امریکہ کے اس وقت کے صدر جمی کارٹر نے اعلان کیا کہ اگر روس نے یہاں سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ کارٹر کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ افغانستان کے روس کے قبضے میں چلے جانے پر اسے اعتراض نہیں تھا۔ لیکن روسی افواج اس سے آگے جائیں تو امریکی مزاحمت کریں گے لیکن کارٹر کی یہ بات بھی محض دھمکی تھی۔ امریکہ نے ویتنام میں شکست کھائی تھی اور کسی طرح سوویت یونین کا سامنا کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے کابل سے اپنے حامی افسران نے خبربھیجی تھی کہ ہم آخری وار کے لئے تیار ہیں، لیکن معلوم ہوا ہے کہ روسیوں نے ازبکستان میں بہت ساری افواج جمع کی ہے اورشاید روس حملہ کردے۔ اگر ممکن ہوتو آپ امریکیوں سے معلوم کرلیں کہ اس حوالے سے ان کی کیا معلومات ہیں، اگر انہوں نے حملہ کیا تو ان کا ردعمل کیاہوگا۔میں نے حزب اسلامی کے سیاسی امور کے عہدیدارکو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے امریکیوں سے پوچھے۔ اس نے پشاور میں امریکی قونصل جنرل سے بات کی تو اس نے کہا کہ میں واشنگٹن سے پوچھ کر جواب دیتا ہوں۔ واشنگٹن کا جواب یہ تھا کہ ہمیں یقین نہیں کہ روسی افغانستان پر حملہ کریں گے، ہمیں ایسی معلومات نہیں ملی ہیں کہ ماسکو کابل پر حملے کا سوچ رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ہم دوکام کریں گے، جس میں سوویت یونین کے ساتھ ہرسطح کے مذاکرات منقطع کریں گے اور اسے غلے کی امداد دینا بند کریں گے۔ امریکی قونصل جنرل کے اس جواب سے واضح تھا کہ امریکہ نہ صرف ماسکو کے اقدامات سے باخبرنہ تھا بلکہ روس کےخلاف بھی کسی قسم کی کاروائی کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ہم نے مزاحمت جاری رکھی اور کسی کو یقین نہیں تھا کہ افغان روس کے خلاف مزاحمت کرسکیں گے۔ لیکن جب دنیا نے دیکھا کہ افغان روس کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور سرخ فوج کو شکست دے رہے ہیں تو اس وقت امریکہ نےافغان مسئلے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس نے پہلے پاکستان کے رستے خفیہ مدد شروع کی اور پھر آہستہ آہستہ مدد میں اضافہ ہوا اور کچھ عرصہ بعد اعلانیہ طور پر مزاحمت کوسپورٹ کیا۔ اب آپ بتائیں کہ روس کے خلاف لڑائی میں ہم نے امریکہ کی مدد کی ہے یا امریکہ نے کمیونزم کے خلاف افغانوں کی جنگ سے فائدہ اٹھایا ہے۔یہ نہ ہماری غلطی تھی اور نہ امریکیوں کی ہوشیاری تھی۔یہ ماسکوتھا جس نے افغانستان پر حملہ کیاآپ کو معلوم ہے کہ میں نے ایسے عالم میں امریکی صدر ریگن کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کردیاتھا۔ جب پاکستان کے صدر ضیاء الحق ایسا کرنے پر سختی کے ساتھ مطالبہ کر رہے تھے ، ریگن نےاپنی بیٹی کی سرکردگی میں ایک وفد میرےپاس بھیجا جس نے مجھے اگلے روز دس بجے وہائٹ ہاؤس میں اس کے ساتھ ملاقات کرنے کی دعوت دی ۔ لیکن میں نے وہ دعوت قبول نہیں کی،کیونکہ میں دنیا خصوصا مسلمانوں پر واضح کرنا چاہ رہا تھا کہ افغان جہاد امریکہ اور روس کی لڑائی نہیں بلکہ اسلام اور کمیونزم کے مابین جنگ ہے اوراس جنگ کامہار واشنگٹن کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خود افغانوں کے پاس ہے۔ سابقہ تاریخ کو چھوڑیں اب بھی ہم امریکہ سے لڑ رہے ہیں تو کیا یہ ثبوت نہیں کہ ہم کل اور آج بھی اسلام کے لئے لڑرہے ہیں۔ اس وقت تو پڑوسی ممالک ہماراساتھ دے رہے تھے لیکن اب دنیا کا کوئی ملک ہمارا ساتھ نہیں دے رہا۔ حتی کہ ہمارے پڑوسی ایران اور پاکستان امریکہ کے ساتھ مل گئے ہیں، آج اگر یہاں روس یا دنیا کا کوئی دوسرا ملک افغانوں کی مدد کے لئے آجائے اگرچہ اس کا امکان کم ہے تو آیا اس صورت میں مجاہدین کو ملامت کیاجائے گا اور میں نے اپنی پوری زندگی میں امریکیوں کے ساتھ کبھی کوئی لین دین نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بارہا مدد کی پیشکش کی، لیکن میں نے قبول نہیں کی،امریکہ کے نئے وزیردفاع جو ایک وقت میںCIAکے سربراہ تھے اس سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ حزب اسلامی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ چند سال قبل ایک انٹرویو کے دوران جب اس سے پوچھا گیاکہ امریکہ نے حزب اسلامی جیسے خطرناک اور ریڈیکل گروپ کو کیوں سپورٹ کیا تو اس |