یہا کلک کریں
JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
ہرچیزاللہ کی نظرمیں ہے،کیاتم دیکھتےنہیں ہو کہ اللہ کےآگےسربسجودہیں وہ سب جوآسمان میں ہیں اورجوزمین میں ہیں،سورج چاند،تارے،پہاڑاوردرخت اورجانوراوربہت سےانسان اوربہت سےوہ لوگ بھی جوعذاب کےمستحق ہوچکےہیں۔ اورجسےاللہ ذلیل وخوارکردے اسے پھرکوئی عزت دینےوالانہیں ہے،اللہ کرتاہےجوکچھ چاہتا ہے۔الحج:18
اللہ تعالٰی جس شخص کوبھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس پرمصیبت ڈال دیتا ہے۔صحیح بخاری:843
اسلام کا اخلاقی نظام اسلام کا سیاسی نظام
اسلام کا معاشرتی نظام
اسلام کا اقتصادی نظام
 اسلام کا روحانی نظام

 اسلام کا اخلاقی نظام

انسان کے اندر اخلاقی حِس ایک فطری حِس ہے جو بعض صفات کو پسند اور بعض دوسری صفات کو ناپسند کرتی ہے۔ یہ حس انفرادی طور پر اشخاص میں چاہے کم وبیش ہومگر مجموعی طور پر انسانیت کے شعور نے اخلاق کے بعض اوصاف پر خوبی کا اور بعض پر برائی کا ہمیشہ یکساں حکم لگایا ہے، سچائی، انصاف، پاس عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق سمجھا گیا ہے۔اور کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا جب جھوٹ، ظلم، بدعہدی اور خیانت کو پسند کیا گیا ہو۔ ہمدردی، رحم ، فیاضی اور فراخ دلی کی ہمیشہ قدر کی گئی ہے، اور خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ صبر و تحمل، اخلاقی بردباری، اولوالعزمی و شجاعت ہمیشہ سے وہ اوصاف رہےہیں جوداد کے مستحق سمجھے گئے اور بے صبری، چھچھورپن، تلون مزاجی، پست حوصلگی اور بزدلی پرکبھی تحسین و آفرین کے پھول نہیں برسائے گئے۔ ضبطِ نفس، خودداری، شائستگی اور ملنساری کا شمار ہمیشہ سے خوبیوں ہی میں ہوتا رہا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بندگیِ نفس، کم ظرفی، بدتمیزی اور کج خلقی نے اخلاقی محاسن کی فہرست میں جگہ پائی ہو۔ فرض شناسی، وفا شعاری، مستعدی اور احساسِ ذمہ داری کی ہمیشہ عزت کی گئی ہے اور فرض ناشناس، بے وفا، کام چور اور غیر ذمہ دار لوگوں کو کبھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ اسی طرح اجتماعی زندگی کے اچھے اور برے اوصاف کے معاملہ میں بھی انسانیت کا معاملہ تقریباً متفق علیہ ہی رہا ہے۔ قدر کی مستحق ہمیشہ وہی سوسائٹی رہی ہے جس میں نظم وانضباط ہو، تعاون اور امداد باہمی ہو، آپس کی محبت اور خیرخواہی ہو، اجتماعی انصاف اورمعاشرتی مساوات ہو۔ تفرقہ،انتشار،بدنظمی،بے ضابطگی،نااتفاقی،آپس کی بدخواہی، ظلم اور ناہمواری کو اجتماعی زندگی کے محاسن میں کبھی شمار نہیں کیا گیا۔ ایسا ہی معاملہ کردار کی نیکی و بدی کا بھی ہے۔ چوری، زنا ، قتل ، ڈاکہ، جعل سازی اور رشوت خوری کبھی اچھے افعال نہیں سمجھے گئے۔ بدزبانی، مردم آزاری،غیبت، چغل خوری،بہتان تراشی اور فساد انگیزی کو کبھی نیکی نہیں سمجھا گیا۔ مکار، متکبر، ریاکار، منافق، ہٹ دھرم اور حریص لوگ کبھی بھلے آدمیوں میں شمار نہیں کیے گئے۔ اس کے برعکس والدین کی خدمت، رشتہ داروں کی مدد، ہمسایوں سے حسنِ سلوک، دوستوں سے رفاقت، یتیموں اور بے کسوں کی خبر گیری، مریضوں کی تیمارداری اور مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت ہمیشہ نیکی سمجھی گئی ہے۔ پاک دامن، خوش گفتار، نرم مزاج اور خیراندیش لوگ ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھے گئے ہیں۔ انسانیت اپنا اچھا عنصر انھی لوگوں کو سمجھتی رہی ہے جو راست باز اور کھرے ہوں۔ جن پر ہر معاملہ میں اعتبار کیا جاسکے۔ جن کا ظاہر و باطن یکساں اور قول وفعل میں مطابقت ہو، جو اپنے حق پر قانع اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں فراخ دل ہوں، جو امن سے رہیں اوردوسروں کو امن دیں، جن کی ذات سے ہر ایک کو خیر کی امید ہو اور کسی کو برائی کا اندیشہ نہ ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسانی اخلاقیات دراصل وہ عالمگیر حقیقتیں ہیں جن کو سب انسان جانتے چلے آرہے ہیں ۔ نیکی اور بدی کوئی چھپی ہوئی چیز نہیں ہیں کہ انھیں کہیں سے ڈھونڈ کر نکالنے کی ضرورت ہو۔ وہ تو انسان کی جانی پہچانی چیزیں ہیں، جن کا شعور آدمی کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآّن مجید اپنی زبان میں نیکی کو معروف اور بدی کو منکر کہتا ہے۔ یعنی نیکی وہ چیز ہے جسے سب انسان بھلا جانتے ہیں۔ اور منکر وہ ہے جسے کوئی خوبی اور بھلائی کی حیثیت سے نہیں جانتا۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید دوسرے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے۔"فَاَلھَمھا فُجُورَھَا وتقوٰھَا"(الشمس)
"یعنی نفسِ انسان کو خدا نے برائی اور بھلائی کی واقفیت الہامی طور پر عطا کر رکھی ہے۔

اخلاقی نظاموں میں اختلاف کیوں؟

اب سوال یہ ہےکہ اگر اخلاق کی برائی اور بھلائی جانی پہچانی چیزیں ہیں اور دنیا ہمیشہ بعض صفات کے نیک اور بعض کے بد ہونے پر متفق رہی ہے، تو پھر دنیا میں یہ مختلف اخلاقی نظام کیسے ہیں؟ ان کے درمیان فرق کس بنا پر ہے؟ کیا چیز ہے جس کے باعث ہم کہتے ہیں کہ اسلام اپنا ایک مستقل اخلاقی نظام رکھتا ہے؟ اور اخلاق کے معاملہ میں آخر اسلام کا وہ خاص عطیہ (Contribution) کیا ہے جسے اس کی امتیازی خصوصیت کہا جاسکے۔
اس مسئلے کوسمجھنے کے لیے جب ہم دنیا کے مختلف اخلاقی نظاموں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو پہلی نظر میں جو فرق ہمارے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہےکہ مختلف اخلاقی صفات کو زندگی کے مجموعی نظام میں سمونے اور ان کی حد،ان کا مقام اور ان کا مصرف تجویز کرنے اور ان کے درمیان تناسب قائم کرنے میں یہ سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پھر زیادہ گہری نگاہ سے دیکھنے پراس فرق کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ دراصل وہ اخلاقی حسن و قبح کا معیار تجویز کرنے اور خیر و شر کے علم کا ذریعہ متعین کرنے میں مختلف ہیں۔ اور ان کے درمیان اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ قانون کے پیچھے قوتِ نافذہ(Sanction)کون سی ہے جس کے زور سے وہ جاری ہو اور وہ کیا محرکات ہں، جو انسان کو اس قانون کی پابندی پر آمادہ کریں۔ لیکن جب ہم اس اختلاف کی کھوج لگاتے ہیں تو آخر کار یہ حقیقت ہم پر کھلتی ہے کہ وہ اصلی چیز جس نے ان سب اخلاقی نظاموں کے راستے الگ کردیے ہیں، یہ ہے کہ ان کے درمیان کائنات کے تصور، کائنات کے اندر انسان کی حیثیت، اور انسانی زندگی کے مقصد میں اختلاف ہے اور اسی اختلاف نے جڑ سے لے کر شاخوں تک ان کی روح، ان کے مزاج اور ان کی شکل کو ایک دوسرے سے مختلف کردیاہے۔ انسان کی زندگی میں اصل فیصلہ کن سوالات یہ ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو وہ ایک ہے یا بہت سے ہیں؟ جس کی خدائی مانی جائے اس کی صفات کیا ہیں؟ ہمارے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے؟ اس نے ہماری رہنمائی کا کوئی انتظام کیا ہے یا نہیں؟ ہم اس کے سامنے جواب دہ ہیں یا نہیں؟ جواب دہ ہیں تو کس چیز کی جواب دہی ہمیں کرنی ہے؟ اور ہماری زندگی کا مقصد اور انجام کیاہے جسے پیش نظر رکھ کر ہم کام کریں؟ ان سوالات کا جواب جس نوعیت کا ہوگا اسی کے مطابق نظام زندگی بنے گا اور اسی کے مناسبِ حال نظامِ اخلاق ہوگا۔
اس مختصر گفتگو میں میرے لیے یہ مشکل ہے کہ میں دنیا کے نظام ہائے حیات کا جائزہ لے کر یہ بتا سکوں کہ ان میں سے کس کس نے ان سوالات کا کیا جواب اختیارکیا ہے اور اس جواب نے اس کی شکل اور راستے کے تعین پر کیا اثر ڈالا ہے ۔ میں صرف اسلام کے متعلق عرض کروں گا کہ یہ ان سوالات کا کیا جواب اختیار کرتا ہے اور اس کی بنا پر کس مخصوص قسم کا نظام اخلاق وجود میں آیا ہے۔

اسلام کا نظریہ زندگی واخلاق:

اسلام کا جواب ہے کہ اس کائنات کا خدا ہے اور وہ ایک ہی خدا ہے۔ اسی نے اسے پیدا کیا ہے، وہی اس کا لا شریک مالک، حاکم اور پروردگار ہے۔اور اسی کی اطاعت پر یہ سارا نظام چل رہا ہے۔ وہ حکیم ہے، قادرمطلق ہے، کھلے اور چھپے کا جاننے والا ہے، سبوح وقدوس ہے(یعنی عیب، خطا، کمزوری اور نقص سے پاک ہے)اور اس کی خدائی ایسے طریقے پر قائم ہے جس میں لاگ لپٹ اور ٹیڑھ نہیں ہے۔ انسان اس کا پیدائشی بندہ ہے، اس کا کام یہی ہے کہ اپنے خالق کی بندگی و اطاعت کرے۔ اس کی زندگی کےلیے کوئی صورت بجز اس کے صحیح نہیں ہے کہ وہ سراسر خدا کی بندگی ہو۔ اس بندگی کا طریقہ تجویز کرنا انسان کا اپنا کام نہیں ہے بلکہ یہ اس خدا کاکام ہے جس کا وہ بندہ ہے۔ خدا نے اس کی رہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں اور کتابیں نازل کی ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ اپنی زندگی کا نظام اسی سرچشمہ ہدایت سے اخذ کرے۔ انسان اپنی زندگی کے پورے کارنامے کے لیے خدا کے سامنے جوابدہ ہے اور یہ جوابدہی اسے اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کرنی ہے۔ دنیا کی موجودہ زندگی دراصل امتحان کی مہلت ہے اور یہاں انسان کی تمام سعی و کوشش اس مقصد پر مرکوز ہونی چاہیے کہ وہ آخرت کی جواب دہی میں اپنے خدا کے حضور کامیاب ہو۔ اس امتحان میں انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ شریک ہے۔ اس کی تمام قوتوں اور قابلیتوں کاامتحان ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کا امتحان ہے، پوری کائنات میں جس جس چیز سے جیسا کچھ بھی اس کو سابقہ پیش آتا ہے اس کی بے لاگ جانچ ہونی ہے کہ انسان نے اس کے ساتھ کیسا معاملہ کیا اور یہ جانچ وہ ہستی کرنے والی ہے جس نے زمین کے ذروں پر، ہوا پر اور پانی پر، کائناتی لہروں پر اور خود انسان کے اپنےدل ودماغ اور دست و پا پراس کی حرکات وسکنات ہی کا نہیں، اس کے خیالات اورارادوں تک کو ٹھیک ٹھیک ریکارڈ کر رکھا ہے۔

اخلاقی جدوجہد کا مقصود:

یہ ہے وہ جواب جو اسلام نے زندگی کے بنیادی سوالات کا دیا ہے۔ یہ تصور کائنات و انسان اس اصلی اور انتہائی بھلائی کو متعین کردیتا ہے جس کو پہچاننا انسانی سعی وعمل کا مقصود ہونا چاہیے اور وہ ہے خدا کی رضا! یہی وہ معیار ہے جس پر اسلام کے اخلاقی نظام میں کسی طرزعمل کو پرکھ کر فیصلہ کیاجاتا ہے کہ وہ خیر ہے یا شر۔اس کے تعین سے اخلاق کو وہ محور مل جاتا ہے جس کے گرد پوری اخلاقی زندگی گھومتی ہے، اور اس کی حالت بے لنگر کے جہاز کی سی نہیں رہتی کہ ہوا کے جھونکے اور موجوں کے تھپیڑے اسے ہر طرف دوڑاتے پھریں۔ یہ تعین ایک مرکزی مقصد سامنے رکھ دیتا ہے جس کے لحاظ سے زندگی میں تمام اخلاقی صفات کی مناسب حدیں، مناسب جگہیں اور مناسب عملی صورتیں مقرر ہوجاتی ہیں اور ہمیں وہ مستقل اخلاقی قدریں ہاتھ لگ جاتی ہیں جو تمام بدلتے ہوئے حالات میں اپنے جگہ ثابت و قائم رہ سکیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ رضائے الٰہی کے مقصود قرار پاجانے سے اخلاق کو ایک بلند ترین غایت مل جاتی ہے جس کی بدولت اخلاقی ارتقا کے امکانات لامتناہی ہوسکتے ہیں اور کسی مرحلہ پر بھی اغراض پرستیوں کی آلائشیں اس کو ملوث نہیں کرسکتیں۔

اخلاق کی پشت پر قوتِ نافذہ:

پھر اسلام کے اسی تصور کائنات و انسان میں وہ قوت نافذہ بھی موجود ہے جس کا قانون اخلاق کی پشت پر ہونا ضروری ہے اور وہ ہے خدا کا خوف، آخرت کی باز پرس کا اندیشہ اور ابدی مستقبل کی خرابی کا خطرہ۔ اگرچہ اسلام ایک ایسی طاقتور رائےعامہ بھی تیار کرنا چاہتا ہے جو اجتماعی زندگی میں اشخاص اورگروہوں کو اصولِ اخلاق کی پابندی پر مجبور کرنے والی ہو۔ اور ایک ایسا سیاسی نظام بھی بنانا چاہتا ہے جس کا اقتدار اخلاقی قانون کو بزور نافذ کرے لیکن اس کا اصل اعتماد اس خارجی دباؤ پر نہیں ہے بلکہ اس اندرونی دباؤ پر ہے جو خدا اور آخرت کے عقیدے میں مضمر ہے۔اخلاقی احکام دینے سے پہلے اسلام آدمی کے دل میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ تیرا معاملہ دراصل اس خدا کے ساتھ ہے جو ہروقت ہر جگہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو دنیا بھر سے چھپ سکتا ہے مگراس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ دنیا محض تیرے ظاہر کودیکھتی ہے مگر وہ تیری نیتوں اور ارادوں تک کو دیکھ لیتا ہے۔ دنیا کی تھوڑی سی زندگی میں تو چاہے جو کچھ کرے، بہرحال ایک دن تجھے مرنا ہے اور اس عدالت میں حاضر ہونا ہے جہاں وکالت،رشوت،سفارش،جھوٹی شہادت،دھوکا اور فریب کچھ نہ چل سکے گا، اور تیرے مستقبل کا بے لاگ فیصلہ ہوجائےگا۔ یہ عقیدہ بٹھا کر اسلام گویا ہر آدمی کے دل میں پولیس کی ایک چوکی بٹھا دیتا ہے جو اندر سے اس کو حکم کی تعمیل پر مجبور کرتی ہے، خواہ باہر ان احکام کی پابندی کرانے والی کوئی پولیس،عدالت اور جیل موجود ہو یا نہ ہو۔ اسلام کے قانونِ اخلاق کی پشت پر اصل زور یہی ہے جو اسے نافذ کراتا ہے۔ رائے عامہ اور حکومت کی طاقت اس کی تائید میں موجود ہو تو نورعلی نور، ورنہ تنہا یہی ایمان مسلمان افراد، اور مسلمان قوم کو سیدھا چلا سکتا ہے، بشرطیکہ واقعی ایمان دلوں میں جاگزیں ہو۔
اسلام کا یہ تصور کائنات انسان کو وہ محرکات بھی فراہم کرتا ہے جو انسان کو قانونِ اخلاق کےمطابق عمل کرنے کےلیے ابھارتے ہیں۔ انسان کا اس بات پر راضی ہوجانا کہ وہ خدا کو اپنا خدا مانے اور اس کی بندگی کو اپنی زندگی کا طریقہ بنائے اور اس کی رضا کو اپنا مقصد زندگی ٹھہرائے، یہ اس بات کے لیے کافی محرک ہے کہ جو شخص احکام الٰہی کی اطاعت کرے گا اس کےلیے ابدی زندگی میں ایک شاندار مستقبل یقینی ہے۔ خواہ دنیا کی اس عارضی زندگی میں اسے کتنی ہی مشکلات، نقصانات اورتکلیفوں سے دوچار ہونا پڑے۔ اور اس کے برعکس جو یہاں سے خدا کی نافرمانیاں کرتا ہوا جائے گا اسے ابدی سزا بھگتنی پڑے گی، چاہے دنیا کی چند روزہ زندگی میں وہ کیسے ہی مزے لوٹ لے۔ یہ امید اور یہ خوف کسی کے دل میں جاگزیں ہو تو اس کے دل میں اتنی زبردست قوت محرکہ موجود ہے کہ وہ اسے ایسےمواقع پر بھی نیکی پر ابھار سکتی ہے جہاں نیکی کا نتیجہ دنیا مییں سخت نقصان دہ نکلتا نظر آتا ہو اور ان مواقع پر بھی بدی سے دور رکھ سکتی ہے جہاں بدی نہایت پرلطف اور نفع بخش ہو۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام اپنا تصور کائنات، اپنا معیارِ خیر و شر، اپنا ماخذ علم اخلاق، اپنی قوتِ نافذہ اور اپنی قوتِ محرکہ الگ رکھتا ہے اور انھی چیزوں کے ذریعہ سے معروف اخلاقیات کے مواد کو اپنی قدروں کے مطابق ترتیب دے کر زندگی کے تمام شعبوں میں جاری کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ کہنا صحیح ہے کہ اسلام اپنا ایک مکمل اور مستقل بالذات اخلاقی نظام رکھتا ہے۔
اس نظام کی امتیازی خصوصیات یوں تو بہت سی ہیں مگر ان میں تین سب سے نمایاں ہیں جنھیں اس کا خاص عطیہ کہا جاسکتا ہے۔
پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ رضائے الٰہی کو مقصود بنا کر اخلاق کے لیے ایک ایسا بلند معیار فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے اخلاقی ارتقاء کے امکانات کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ ایک ماخذ علم مقرر کر کے اخلاق کو وہ پائیداری اور استقلال بخشتا ہے جس میں ترقی کی گنجائش تو ہے مگر تلون اور نیرنگی کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام خوفِ خدا کے ذریعہ سے اخلاق کو وہ قوتِ نافذہ دیتا ہے جو خارجی دباؤ کے بغیر انسان کے اندر خود بخود قانون اخلاق پر عمل کرنے کی رغبت اور آمادگی پیدا کرتی ہے۔
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ خواہ مخواہ کی اُپج سے کام لے کر کچھ نرالے اخلاقیات نہیں پیش کرتا اور نہ انسان کے معروف اخلاقیات میں سے بعض کو گھٹانے اور بعض کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ انہی اخلاقیات کو لیتا ہے جو معروف ہیں اور ان میں سے چند کو نہیں بلکہ سب کو لیتا ہے۔ پھر زندگی میں پورے توازن اور تناسب کے ساتھ ایک ایک کا محل، مقام اور مصرف تجویز کرتا ہے اور ان کے انطباق کو اتنی وسعت دیتا ہے کہ انفرادی کردار، خانگی معاشرت، شہری زندگی، ملک، سیاست، معاشی کاروبار، بازار، مدرسہ، عدالت، پولیس لائن، چھاؤنی، میدان جنگ، صلح کانفرس، غرض زندگی کا کوئی پہلو اور شعبہ ایسا نہیں رہ جاتا جو اخلاق کے ہمہ گیر اثر سے بچ جائے۔ ہر جگہ، ہرشعبہ زندگی میں وہ اخلاق کو حکمران بناتا ہے اور اس کی کوشش یہ ہے کہ معاملات زندگی کی باگیں خواہشات، اغراض اور مصلحتوں کے بجائے اخلاق کے ہاتھوں میں ہوں۔
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انسانیت سے ایک ایسے نظام زندگی کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے جو معروف پر قائم اور منکر سے پاک ہو۔ اس کی دعوت یہ ہےکہ جن بھلائیوں کو انسانیت کے ضمیر نے ہمیشہ بھلا جانا ہے، آؤ انھیں قائم کریں اور پروان چڑھائیں اور جن برائیوں کو انسانیت ہمیشہ سے برا سمجھتی چلی آئی ہے، آؤ انھیں دبائیں اور مٹائیں۔ اس دعوت پر جنھوں نے لبیک کہا انھی کو جمع کر کے اس نے ایک امت بنائی جس کانام "مسلم" تھا۔ اور ان کے ایک امت بنانے سے اس کی واحد غرض یہی تھی کہ وہ معروف کوجاری و قائم کرنے اور منکر کو دبانے اور مٹانے کے لیے منظم سعی کرے۔اب اگر اسی امت کے ہاتھوں معروف دبے اور منکر قائم ہونے لگے تو یہ ماتم کی جگہ ہے خود اس امت کے لیے بھی اور دنیا کے لیے بھی

اسلام کا سیاسی نظام

اسلام کے سیاسی نظام کی بنیاد تین اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ توحید، رسالت اور خلافت۔ ان اصولوں کو اچھی طرح سمجھے بغیر اسلامی سیاست کے تفصیلی نظام کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے سب سے پہلے میں انھی کی مختصر تشریح کروں گا۔
توحید کے معنی یہ ہیں کہ خدا اس دنیا اور اس کے سب رہنے والوں کا خالق، پروردگار اور مالک ہے۔ حکومت و فرماں روائی اسی کی ہے، وہی حکم دینے اور منع کرنے کا حق رکھتا ہے اور بندگی و طاعت بلاشرکت غیرے اسی کے لیے ہے۔ ہماری یہ ہستی جس کی بدولت ہم موجود ہیں، ہمارے یہ جسمانی آلات اور طاقتیں جن سے ہم کام لیتے ہیں اور ہمارے وہ اختیارات جو ہمیں دنیا کی موجودات پر حاصل ہیں اور خود یہ موجودات جن ہم اپنے اختیارات استعمال کرتے ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہماری پیدا کردہ یا حاصل کردہ ہے اور نہ اس کی بخشش میں خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے، اس لیے اپنی ہستی کا مقصد اور اپنی قوتوں کا مصرف اور اپنے اختیارات کی حدود متعین کرنا نہ تو ہمارا اپنا کام ہے نہ کسی دوسرے کو اس معاملہ میں دخل دینے کا حق ہے۔ یہ صرف اس خدا کا کام ہے جس نے ہم کو ان قوتوں اور اختیارات کے ساتھ پیدا کیا ہے اور دنیا کی یہ بہت سی چیزیں ہمارے تصرف میں دی ہیں۔ توحید کا یہ اصولِ انسانی حاکمیت کی سرے سے نفی کردیتا ہے۔ ایک انسان ہو یا ایک خاندان، یا ایک طبقہ یا ایک گروہ یا ایک پوری قوم ، یا مجموعی طور پر تمام دنیا کے انسان، حاکمیت کاحق بہرحال کسی کو بھی نہیں پہنچتا۔ حاکم صرف خدا ہے اور اسی کا حکم "قانون" ہے۔
خدا کا قانون جس ذریعے سے بندوں تک پہنچتا ہے اس کانام"رسالت"ہے۔ اس ذریعے سے ہمیں دو چیزیں ملتی ہیں۔ ایک "کتاب"جس میں خود خدا نے اپنا قانون بیان کیا ہے۔ دوسری کتاب کی مستند تشریح جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے اپنے قول وعمل میں پیش کی ہے۔
خدا کی کتاب میں وہ تمام اصول بیان کردیے گئے ہیں جن پر انسانی زندگی کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ اور رسول نے کتاب کے اس منشا کے مطابق عملاً ایک نظامِ زندگی بنا کر، چلا کر، اور اس کی ضروری تفصیلات بتا کر ہمارے لیے ایک نمونہ قائم کردیا ہے۔ انھی دو چیزوں کے مجموعے کانام اسلامی اصطلاح میں شریعت ہے اور یہی وہ اساسی دستور ہے جس پر اسلامی ریاست قائم ہوتی ہے۔
اب خلافت کو لیجیے۔ یہ لفظ عربی زبان میں نیابت کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے دنیا میں انسان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ زمین پر خدا کا نائب ہے یعنی اس کے ملک میں اس کے دیے ہوئے اختیارات استعمال کرتا ہے۔ آپ جب کسی شخص کو اپنی جائیداد کا انتظام سپرد کرتے ہیں تو لازماً آپ کے پیش نظر چار باتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ جائیداد کے اصل مالک آپ خود ہیں نہ کہ وہ شخص۔ دوسرے یہ کہ آپ کی جائیداد میں اس شخص کو آپ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ تیسرے یہ کہ اسے اپنے اختیارات کو ان حدود کے اندر استعمال کرنا چاہیے جو آپ نے اس کے لیے مقرر کردی ہیں۔ چوتھے یہ کہ آپ کی جائیداد میں اسے آپ کا منشا پورا کرنا ہوگا نہ کہ اپنا۔ یہ چار شرطیں نیابت کے تصور میں اس طرح شامل ہیں کہ نائب کا لفظ بولتے ہی خود بخود انسان کے ذہن میں آجاتی ہیں۔ اگر کوئی نائب ان چاروں شرطوں کو پورا نہ کرے تو آپ کہیں گے کہ وہ نیابت کے حدود سے تجاوز کرگیا اور اس نے وہ معاہدہ توڑ دیا جو نیابت کے عین مفہوم میں شامل تھا۔ ٹھیک یہی معنی ہیں جن میں اسلام انسان کو خدا کا خلیفہ قرار دیتا ہے اور اس خلافت کے تصور میں یہی چاروں شرطیں شامل ہیں۔ اسلامی نظریہ سیاسی کی رو سے جو ریاست قائم ہوگی وہ دراصل خدا کی حاکمیت کے تحت انسانی خلافت ہوگی، جسے خدا کے ملک میں اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر کام کرکے اس کا منشا پورا کرنا ہوگا۔
خلافت کی اس تشریح کے سلسلے میں اتنی بات اورسمجھ لیجیے کہ اس معنی میں اسلامی نظریہ سیاسی کسی ایک شخص یا خاندان کو خلیفہ قرار نہیں دیتا بلکہ اس پوری سوسائٹی کو خلافت کا منصب سونپتا ہے جو توحید اور رسالت کے بنیادی اصولوں کو تسلیم کرکے نیابت کی شرطیں پوری کرنے پر آمادہ ہو۔ ایسی سوسائٹی بحیثیت مجموعی خلافت کی مثال ہے اور یہ خلافت اس کے ہر فرد کو پہنچتی ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں اسلام میں"جمہوریت " کی ابتدا ہوتی ہے۔اسلامی معاشرے کا ہرفرد خلافت کے حقوق اور اختیارات رکھتا ہے۔ ان حقوق و اختیارات میں تمام افراد بالکل برابر کے حصے دار ہیں۔ کسی کو کسی پر نہ ترجیح حاصل ہے اور نہ یہ حق پہنچتا ہے کہ اسے ان حقوق واختیارات سے محروم کرسکے۔ ریاست کا نظم ونسق چلانے کے لیے جو حکومت بنائی جائے گی وہ انھی افراد کی مرضی سے بنے گی۔ یہی لوگ اپنے اختیاراتِ خلافت کا ایک حصہ اسے سونپیں گے۔ اس کے بننے میں ان کی رائے شامل ہوگی اور ان کے مشورے ہی سے وہ چلے گی۔ جو ان کا اعتماد حاصل کرے گا وہ ان کی طرف سے خلافت کے فرائض انجام دے گا اور جو ان کا اعتماد کھو دے گا اسے حکومت کے منصب سے ہٹنا پڑے گا۔ اس لحاظ سے اسلامی جمہوریت ایک مکمل جمہوریت ہے،اتنی مکمل جتنی کوئی جمہوریت مکمل ہوسکتی ہے البتہ جو چیز اسلامی جمہوریت کو مغربی جمہوریت سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مغرب کا نظریہ سیاسی "جمہوری حاکمیت" کا قائل ہے اور اسلام" جمہوری خلافت"کا ۔ وہاں اپنی شریعت جمہور آپ بناتے ہیں، یہاں ان کو اس شریعت کی پابندی کرنی ہوتی ہے جو خدا نے اپنے رسول کے ذریعہ سے دی ہے۔ وہاں حکومت کا کام جمہور کا منشا پورا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں حکومت اور اس کے بنانے والے جمہور سب کا کام خدا کا منشا پورا کرنا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ مغربی جمہوریت ایک مطلق العنان خدائی ہے جو اپنے اختیارات کو آزادانہ استعمال کرتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی جمہوریت ایک پابندِآئین بندگی ہے جو اپنے اختیارات کو خدا کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرتی ہے۔
اب میں آپ کے سامنے اس ریاست کا ایک مختصر مگر واضح نقشہ پیش کروں گا جو توحید، رسالت اور خلافت کی ان بنیادوں پر بنتی ہے۔
اس ریاست کا مقصد قرآن میں صاف طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ان بھلائیوں کو قائم کرے، فروغ دےاور پروان چڑھائے جن سے خداوندِعالم انسانی زندگی کوآراستہ دیکھنا چاہتا ہے اور ان برائیوں کو روکے، دبائے اور مٹائے جن کا وجود انسانی زندگی میں خداوندِعالم کو پسند نہیں ہے۔اسلام میں ریاست کا مقصد محض انتظام ملکی ہے اور نہ یہ کہ وہ کسی خاص قوم کی اجتماعی خواہشات کو پورا کرے۔ اس کے بجائے اسلام اس کے سامنے ایک بلند نصب العین رکھ دیتا ہے جس کے حصول میں اس کو اپنےتمام وسائل و ذرائع اوراپنی تمام طاقتیں صرف کرنی چاہییں، اور وہ یہ ہے کہ خدا اپنی زمین میں اور اپنے بندوں کی زندگی میں جو پاکیزگی، جو حسن،جو خیر و صلاح،جو ترقی و فلاح دیکھنا چاہتا ہے وہ رونما ہو، اور بگاڑ کی ان تمام صورتوں کاسد باب ہو جو خدا کے نزدیک اس کی زمین کو اجاڑنے والی اور اس کے بندوں کی زندگی کو خراب کرنےو الی ہیں۔ اس نصب العین کو پیش کرنے کے ساتھ اسلام ہمارے سامنے خیروشر دونوں کی ایک واضح تصویر رکھتا ہے جس میں مطلوبہ بھلائیوں اور ناپسندیدہ برائیوں کو صاف صاف نمایاں کردیا گیا ہے۔اس تصویر کو نگاہ میں رکھ کر ہر زمانے اور ہر ماحول میں اسلامی ریاست اپنا اصلاحی پروگرام بناسکتی ہے۔
اسلام کا مستقل تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی اصولوں کی پابندی کی جائے۔ اس لیے وہ اپنی ریاست کے لیے بھی یہ قطعی پالیسی متعین کردیتا ہے کہ اس کی سیاست بے لاگ انصاف، بے لوث سچائی اور کھری ایمان داری پر قائم ہو، وہ ملک یا انتظامی یا قومی مصلحتوں کی خاطر جھوٹ، فریب اور بے انصافی کو کسی حال میں گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ملک کے اندر راعی اور رعیت کے باہمی تعلقات ہوں یا ملک کے باہر دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات، دونوں میں وہ صداقت، دیانت اور انصاف کو اغراض و مصالح پر مقدم رکھنا چاہتا ہے۔ مسلمان افراد کی طرح مسلم ریاست پر بھی وہ یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ عہد کرو تو اسے وفا کرو، لینے اور دینے کے پیمانے یکساں رکھو، جو کچھ کہتے ہو وہی کرو اور جو کچھ کرتے ہو وہی کہو، اپنے حق کے ساتھ اپنے فرض کو بھی یاد رکھو، اور دوسرے کے فرض کے ساتھ اس کے حق کو بھی نہ بھولو، طاقت کو ظلم کے بجائے انصاف کے قیام کا ذریعہ بناؤ۔ حق کو بہرحال حق سمجھو اور اسے ادا کرو، اقتدار کو خدا کی امانت سمجھواوراس یقین کے ساتھ اسے استعمال کرو کہ اس امانت کا پورا حساب تمھیں اپنے خدا کو دینا ہے۔
اسلامی ریاست اگرچہ زمین کے کسی خاص خطے ہی میں قائم ہوتی ہے مگر وہ نہ انسانی حقوق کو ایک جغرافی حد میں محدود رکھتی ہے اور نہ شہریت کے حقوق کو۔ جہاں تک انسانیت کا تعلق ہے اسلام ہر انسان کے لیے چند بنیادی حقوق مقرر کرتا ہے، اور ہر حال میں ان کے احترام کا حکم دیتا ہے، خواہ وہ انسان اسلامی ریاست کے حدود میں رہتا ہو یا اس سے باہر، خواہ دوست ہو یا دشمن، خواہ صلح رکھتا ہو یا برسر جنگ ہو۔ انسانی خون ہر حالت میں محترم ہے اور حق کے بغیر اسے نہیں بہایا جاسکتا۔ عورت، بچے بوڑھے، بیمار اور زخمی پر دست درازی کرنا کسی حال میں جائز نہیں۔ عورت کی عصمت بہرحال احترام کی مستحق ہے، اور اسے بےآبرو نہیں کیا جاسکتا۔ بھوکا آدمی روٹی کا، ننگا آدمی کپڑے کا، زخمی یا بیمار آدمی علاج اور تیمارداری کا بہرحال مستحق ہے خواہ دشمن قوم ہی سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ اور ایسے ہی چند دوسرے حقوق اسلام نے انسان کو بحیثیت انسان ہونے کے عطا کیے ہیں اور اسلامی ریاست کے دستور میں ان کو بنیادی حقوق کی جگہ حاصل ہے۔ رہے شہریت کے حقوق تو وہ بھی اسلام صرف انھی لوگوں کو نہیں دیتا جو اس کی ریاست کی حدود میں پیدا ہوئے ہوں بلکہ ہر مسلمان خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے میں پیدا ہوا ہو، اسلامی ریاست کے حدود میں داخل ہوتے ہی آپ سے آپ اس کا شہری بن جاتا ہے(یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ مسلمان کسی اسلامی ریاست کا شہری ہو۔ اگر وہ کسی غیر اسلامی حکومت کی رعایا ہو تو وہ صرف اس صورت میں اسلامی ریاست کا شہری بن سکتا ہے جبکہ وہ ہجرت کر کے آئے۔)اور پیدائشی شہریوں کے برابر حقوق کا مستحق قرار پاتا ہے۔ دنیا میں جتنی اسلامی ریاستیں بھی ہوں &