یہا کلک کریں
JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
آخرکار کو جب ان دونوں نے سرتسلیم خم کردیااور ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرادیا اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم تو نے خواب سچا کردکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اورہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ ۔الصافات:103-107
اس امت کی پہلی نیکی اور بہتری، یقین اور زہد ہے اور اس کی پہلی خرابی بخل اور دنیا میں زیادہ رہنے کی آرزو ہے۔ ۔شعب الایمان للبیہقی
تاریخ کی میراث

تحریکوں اوران پر قائم ہونے والی جماعتوں کا آغاز کبھی اچانک نہیں ہوتا بلکہ ان کی جڑیں دورِ ماضی میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ سیاسی واقعات وحوادث، تہذیبی و ثقافتی نظریات،دینی و مذہبی تصورات، معاشرتی اور اقتصادی حالات،مخالف افکارو نظریات سے تصادم اوران سے معاشرے پرمرتب ہونے والے اثرات اور اس دور کے فکری و سیاسی تناظرمیں سعی و عمل تحریکوں اور جماعتوں کو وجود میں لانے میں اہم حصہ لیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان تحریکوں اور جماعتوں کو لے کر جولوگ اٹھتے ہیں ان کا مزاج، ان کا کردار حتیٰ کہ ان کی نفسیات تک انہیں رنگ و روغن دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ لوگ جماعت اور تحریک کے وجود میں آنے تک افکار و نظریات اور عملی جدوجہد کے جن مراحل سے گزرتے ہیں وہ اس جماعت اور تحریک پرلازماً اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں ایک مخصوص مزاج اور کردار بخشنے میں بنیادی حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے کسی جماعت یا تحریک کی تاریخ قلمبند کرتے یا اس کا تنقیدی جائزہ لیتے وقت ان احوال و ظروف، واقعات و حوادث، نظریات و تصورات اور سعی و عمل کی اس پوری تاریخ کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ جماعت یا تحریک عالم وجود میں آتی ہے۔ اسی طرح ان تمام عناصر کو بھی نگاہ میں رکھنا لازم ہے جنہوں نے اس جماعت اور تحریک کو ایک مخصوص مزاج، کردار اور رنگ و آب دینے میں حصہ لیا ہوتا ہے۔سیاسی ومعاشرتی اور فکری و نظریاتی پس منظر کسی جماعت یا تحریک کی تاریخ کا جزوِ لاینفک ہوتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اورحقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے ،ایسا کبھی نہیں ہوتاکہ کوئی داعی اپنی دعوت کے پہلے روز ہی سے کسی جماعت یا تحریک کی تشکیل اور اس کے مراحل کا ایک مکمل منصوبہ لے کر میدان میں آئے اور پھر اس نقشے(Blue-Print) کے مطابق مراحل پر مراحل اورمیدان پر میدان سر کرتا چلاجائے۔ اسے اپنے نصب العین اور قصد و مطلوب کو متعین عملی صورت دینے کے لیے ہی بسا اوقات لمبا فکری و ذہنی سفر کرنا پڑتا ہے۔ پھر اس نصب العین تک پہنچنے کے مراحل اور منازل ،راہ اور موڑ سب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اس طرح گویاوہ اپنے دعوتی سفر کا آغاز فکرو عمل کے افق پر پھیلے ہوئے دھندلکوں میں کرتا ہے۔کتاب و سنت کے دیے ہوئے اصولوں کو برتتے ہوئے وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے اس کی دعوت منطقی عمل کی صورت اختیار کرتی جاتی ہے اور گردو پیش کے سیاسی و معاشرتی(Socio-Political )حالات اور داخلی ماحول کے ساتھ کشمش اور تصادم کی جو نوعیت بھی ہوتی ہے اس کے فطری نتیجے میں اس سفر کے مرحلے اور منزلیں متعین ہوتی چلی جاتی ہیں۔ داعی کا یہ دعوتی سفر اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی کسی جماعت اور تحریک کی تاریخ کا یک تشکیلی حصہ بن جاتا ہے اور اسے یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ اس کا تعلق داعی کے فکری و ذہنی سفر سے ہے ، جماعت اور تحریک سے نہیں۔
ان حقائق کے پیشِ نظر وہ جماعت جو3 شعبان 1360 ھ (26اگست 1941ء) کو لاہور میں "جماعت اسلامی" کے نام سے قائم ہوئی اور تقریباً نصف صدی سے کارزارِ حیات کے مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی چلی جا رہی ہے، اپنا ایک تاریخی اور دینی و سیا سی پس منظر رکھتی ہے اور ایک تدریجی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔اس جماعت کے قیام کی ضرورت اس کے مقصد،اس کی تشکیل اور اس کے اب تک کے کام کواس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک جس خطے اور جس ملت میں یہ دعوت اٹھی اس کی تاریخ، اس کے آس پاس کی دنیا اور اس کے فکری،نظریاتی،سیاسی اور معاشرتی پس منظر اور اس کے بانی کے دعوتی سفر کو نظر میں نہ رکھاجائے۔

تاسیس و قیامِ جماعت

قیا م جماعت کے لیے اذان پکار دینے کے بعد، اس ضمن میں صفر1360ھپریل1941ء) کے ترجمان القرآن میں اسلامی تحریک کے لیے کام کرنے والی جماعت کے نظریہ،مقصد،اور نصب العین سے اتفاق اور اس کے لیے مجوزہ نقشہ کار کے مطابق عملی جدو جہد کرنے کی تڑپ رکھنے والوں کے اجتماع کا اعلان شائع ہوا ۔ چنانچہ اس دعوت کے جواب میں لبیک کہنے کے منتظر افراد کی طرف سے اطلاعات پہنچنے لگیں۔

اہل جنون کی آمد

لوگ 28  رجب ہی سے آنے لگے۔ یکم شعبان تک تقریبا ساٹھ اصحاب پہنچ چکے تھے، باقی آنے والوں کا انتظار تھا۔ بعض دیگر وجوہ کی بنا پر بھی اجتماع یکم شعبان کو شروع نہ ہوسکا۔ یہ سارا دن آنے والوں نے باہمی ملاقاتوں ، تعارف اور تحریک کے متعلق تبادلہ خیال میں گزار دیا اور یہ سلسلہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں صبح سے شام تک جاری رہا۔شام کو لوگ دیرتک ترجمان القرآن کے دفتر میں بیٹھے رہے۔ تقریباً ہر شخص کے مرکزِ توجہ سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ وہ جن کی پکار ان سب کو یہاں کھینچ لائی تھی۔ لوگ مختلف نوعیت کے مسائل پیش کرتے اور سید صاحبؒانہیں حل کرتے رہے۔ نماز عشاءتک یہی رنگ محفل رہا۔

قافلہ شوق کا رنگ وآھنگ

اگلے روز 2شعبان1320ھ (26اگست1941ء) کو صبح آٹھ بجے باقاعدہ اجتماع شروع ہوا۔75افراد ہندوستان کے گوشے گوشے سے اسلامیہ پارک پونچھ روڈ لاہور کی مبارک (حال ریاض قدیر)مسجد کے سامنے فصیح منزل سے متصل ایک مکان مملوکہ مستری عبداللہ میں واقع ترجمان القرآن کے دفتر میں سمٹ آئے تھے اور ایک ایسا فیصلہ کرنے چلے تھے جو وقت اور تاریخ کے دھارے کو متاثر کرنے والا تھا۔ مندرجہ ذیل اصحاب تاسیسی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔

1 ۔ مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی
2 ۔ مولانا محمدمنظور نعمانی مدیرالفرقان بریلی
  ملک نصراللہ خان عزیز بی اے(لاہور)بقول میاں طفیل محمد، ملک صاحب تاسیسی اجتماع میں شامل نہیں تھے۔
   میاں طفیل محمد بی اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ کپورتھلہ
5 ۔ چوہدری عبدالرحمن صاحب (راہوں ضلع جالندھر)
6- مولانا سید عبدالعزیز شرقی(جالندھر)
7- چوہدری محمد اکبر ایم اے بی۔ٹی(سیالکوٹ)
 8-  مستری محمد صدیق صاحب سلطان پوری لودھی ریاست کپور تھلہ
 9-  حافظ فتح اللہ (راہول ضلع جالندھر)
10 -  جناب نعیم صدیقی (فضل الرحمن)ضلع چکوال
11 -  قمرالدین خان ایم اے بنارس
12 -  مولانا صدرالدین اصلاحی ضلع اعظم گڑھ یوپی انڈیا
13 -  مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری(فاضل دیوبند دارالارشاد مدراس)
14 - مولانا سید محمودجعفر شاہ پھلواروی خطیب شاہی مسجد کپورتھلہ
15 - مولانا نذیرالحق میرٹھی
16-  ڈاکٹر سید نذیر علی زیدی (الٰہ آباد)
17- جناب محمد بن علی علوی کاکوروی،لکھنو
18-  شیخ فقیرحسین بی اے سلطان پورلودھی ریاست کپورتھلہ
19-  ماسٹرعزیز الدین صاحب شہرکپورتھلہ، قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد آکر آباد ہوئے۔کوہ نور مل کے پاس انہوں نے جماعت کو مقامی مرکز کے لیے اراضی دی۔
20 -  شیخ نذر محمد (یہ شیخ فقیرحسین کے بھائی تھے)
21-  شیخ فضل محمد
 22-  مولوی محمد علی ،فیروزپور
 23- سید محمد شاہ ایم اے
24- چوہدری عبدالغنی گہلن، چک نمبر9نزد پتوکی ضلع قصور
25- قاضی حمیداللہ بی اے،سیالکوٹ
26- ملک غلام علی بی اے(جسٹس ریٹائرڈ)خوشاب
27- عبدالجبار غازی ایم اے بی ٹی(پرنسپل اینگلو عریبک کالج دہلی)
28-  سید محمد حسنین جامعی بی اے
29- چوہدری نصرت حسین (گوجرہ)
30- چوہدری غلام جیلانی بی اے
31-
  شیخ عبدالحمید پھگوار ریاست کپورتھلہ
32- عطاءاللہ پتواکھالی(بنگال)
33-  مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانوی
34-  مولانا محمد علی کاندھلوی
35-  مولانا محمد عبداللہ ،روڑی حصار
36-  مولانا محمد عبداللہ(مدراس)
37- مولانا محمدالیاس ندوی گوندلوی ضلع گوجرانوالہ
38- مولانا الٰہی بخش ڈیرہ جاڑہ،سرگودھوی
39-  مولانا عبدالقادر عاجز قصوری
40-  محمد عبداللہ مصری (یوپی)
 41-  سید محمد یوسف (بھوپال)
42-  چوہدری چراغ دین، سابق مینیجر ماہنامہ ترجمان القرآن (گورداسپور)
43-  سردار محمد اکبر خان (کیمل پور)
44-  سلطان محمود غازی، مردوال (خوشاب)
45-  عبدالمجید صدیقی ،پرانی انارکلی (لاہور)
46-  منظوراحمد
47- حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی (یوپی)
 48-   شمس الحق صدیقی (یوپی) سکھر آکر فوت ہوئے۔
49- حافظ محمد زکریا (امرتسر) سرگودھاآکرفوت ہوئے
 50-  ماسٹر حاجی محمد شفیع (امرتسر) گوجرانوالہ آکرفوت ہوئے۔
51- چوہدری رفیع الدین (بارہ بنکی) یوپی
52-  مولوی محمد یونس (حیدرآباد دکن)
53-  عبدالقادر صاحب (حیدرآباد دکن)
54-  صوفی صابر علی (لدھیانہ) راولپنڈی میں وفات پائی۔
55-  عطاءاللہ سجاد (کپورتھلہ)
56-  سیدعظمت علی شاہ (کپورتھلہ) بعد میں اوکاڑہ آکر چوہدری عبدالرحمن وغیرہ کے ساتھ مل کر بس سروس قائم کی۔
57-  حکیم سید محمد حسن بخاری (کپورتھلہ) ملتان آکرفوت ہوئے۔
58-  حاجی محمد صاحب (پتوکی)
59-  حافظ محمد شریف احسن (سرگودھا)
60-  چوہدری محمد شفیع بی اے بی ٹی(گجرات)
61-  چوہدری عبدالرحمن ( کپورتھلہ ) تقسیم کے بعد اوکاڑہ جماعت کے امیر رہے۔
 62 -  مولوی محمد فاضل ضلع گورداس پور
 63 -   حکیم شیر محمد (لدھیانہ) ضلع ملتان میں آکر آباد ہوئے اور وہیں فوت ہوئے۔
64 -  مولوی محمد ابراہیم (فیروز پور)اب شہداد پور سندھ میں ہیں۔
 65-  بابا محمد بخش (سرگودھا)
 66-  بابا احمد بخش (سرگودھا)
 67-  حکیم محمد خالد (الٰہ آباد)
 68-  محمد اسحاق صاحب (الٰہ آباد)
 69-  ناظرشمسی (دہلی)پاکستان سروس سے ریٹائر ہوکراب گلبرگ لاہور میں ہیں۔
 70-  ماسٹر اکبر علی (فیصل آباد)
71-  ڈاکٹر محمد اسلم چغتائی(امرتسر) سرگودھا میں فوت ہوئے۔
 72- صابر علی صاحب (الٰہ آباد)
 73- شاکر علی صاحب (الٰہ آباد)
 74-  ظہور احمد جاراللہ (الٰہ آباد)
 75-  عبدالمجید چھوٹانی (بمبئی)
 76-  مولوی عبدالقادر (پتوکی)
 77-  محمد انور (لاہور)
 78-  تسنیم قریشی (لکھنو)
79-   مولوی امام الدین فائق (پٹنہ)
80-   چوہدری شفیع احمد (یوپی)

جماعت اسلامی کی تاسیسی ارکان کی اس فہرست سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ سید مودودی کے اثرات کہاں کہاں پہنچ چکے تھے۔ ان میں قابل لحاظ تعداد علماءکی تھی۔ اسی تناسب کے ساتھ اعلیٰ جدید تعلیم یافتہ افراد تھے، ایسے اصحاب بھی تھے جو متوسط تعلیم یافتہ تھے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد وہ تھی جو کالجوں اور یونیورسٹیوں اور قدیم دینی مدارس سے تازہ دم فارغ ہوکر آئے تھے یا ہنوز قدیم و جدید درسگاہوں میں زیر تعلیم تھے۔ ان میں شہری بھی تھے اور دیہاتی بھی، سرکاری ملازم بھی تھے اور ہنر مند اور پیشہ ور بھی ، کالجوں اسکولوں اور مدرسوں کے اساتذہ بھی تھے اور ڈاکٹراور صحافی بھی، کاشتکار بھی تھے اور زمینداربھی، تاجر بھی تھے اور دستکار بھی۔ان کی  اکثریت مسلم معاشرہ کے نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔خود سید صاحب کا تعلق بھی متوسط طبقہ ہی سے تھا۔ ان میں جو زمیندار تھے وہ بھی چھوٹے زمیندار تھے یا طبقہ اوسط سے آئے تھے۔ عمر کے لحاظ سے یہ لوگ انیس بیس برس سے لے کر چالیس پچاس برس کے پیٹے میں تھے۔ان میں سب سے معمر ڈاکٹر نذیر علی زیدی تھے جن کی عمر 52برس تھی۔خود سید مودودی اس وقت 38 برس کے تھے جیسا کہ ہر دعوت اور تحریک کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں،یہی کیفیت دعوتِ اسلامی کی تھی۔ اس پرلبیک کہنے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔اقتصادی اور معاشی اعتبار سے یہ حضرات چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ ترغریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔جن لوگوں کی اقتصادی اور معاشی زندگی مستحکم اور استوار ہوچکی تھی وہ بڑی حد تک خود کفیل تھے۔خوشحال عنصر نہ ہونے کے برابر تھا۔دینی فکر اور مسلک کے لحاظ سے یہ لوگ اہل السنہ کے تقریباً ہرمکتب فکر سے آئے تھے۔یہ لوگ بولی (Dialect) نسل، رنگ، لباس اورعام رہن سہن ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ پھر یہ جن علاقوں سے آئے تھے ان میں ہزاروں میل کی مسافتیں تھیں تاہم جس دین نے انہیں ایک امت بنادیا تھا اور ان کے اندر فکری و تہذیبی اشتراک پیدا کردیا تھا،اس نے ساری دوریاں اور فاصلے ختم کردیے تھے۔ ان کی سوچ یکساں تھی،ان کے جذبات یکساں تھے، ان کے دل ایک مقصد اور نصب العین کے لیے دھڑک رہے تھے۔

اجتماع کاپس منظر

پھر ان لوگوں کو محض کسی حادثے نے یہاں جمع نہیں کردیا تھا اور نہ انہیں بلانے والے نے اپنے دل میں اٹھنے والی کسی وقتی موج کی پکار پر اپنی قیادت و سیادت کا سکہ جمانے اور چودھراہٹ قائم کرنے کے لیے بلایا تھا۔ بلکہ اس کے پیچھے گہرے مطالعہ، سوچ بچاراور دعوت و تبلیغ کا ایک پورا دور کار فرما رہاتھا۔ سید مودودی  کے اپنے الفاظ میں یہ ان کے 22 سال کے مسلسل تجربات، مشاہدات،مطالعے اورغوروخوض کا نچوڑتھا۔ جس نے ایک اسکیم کی شکل اختیار کی تھی اور جس کی طرف وہ گزشتہ نوبرس سے شب وروز بلاتے رہے تھے۔ پھر جماعت تشکیل دینے سے پہلے سید صاحب متواتر چار برس تک اس وقت برصغیر میں کام کرنے والی مسلمان جماعتوں اور قیادتوں کو توجہ دلاتے رہے کہ ان کے کرنے کاکام ہے تو یہ ہے۔ اگر ان کے پیش نظر آزاد ہندوستان یا پاکستان میں واقعی اسلامی نظام کا نفاذ ، مسلمانوں کا تہذیبی تحفظ اور اسلامی حکومت کا قیام ہے تو پھر انہیں اپنی جماعتوں کو اسلامی خطوط پر منظم کرنا اور اسلامی نصب العین کو مرکزِ جہدوعمل بنانا چاہیے۔ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے کارکنوں کے فکر و کردار کی تربیت اور ایک مشنری کی حیثیت سے اسلامی طریق کار کو اختیار کرتے ہوئے سعی و جہد کرنی چاہیے۔

افتتاحی خطاب

تاریخ ساز لمحات آپہنچے تھے۔ اجلاس کا افتتاح سید مودوی کے خطاب سے ہوا۔ یہ ایک طویل اور اہم خطاب تھا۔ ابتدا میں سید صاحب نے اپنے ذہنی سفر کی روداد بیان کی اور ان حالات پر تبصرہ کیا جن میں وہ مختلف مراحل سے گزر کر ان تاریخ ساز لمحات تک پہنچے تھے۔ اس کے بعد سید صاحب نے مجوزہ نئی جماعت کے متعلق مختلف بنیادی امور کی وضاحت کی اور ملک میں مسلمانوں کی دوسری جماعتوں کے موجودہوتے ہوئے ایک نئی جماعت کی تاسیس و تشکیل کے اسباب بیان کیے اور ان جماعتوں اور مجوزہ اسلامی جماعت اور تحریک کے درمیان اصولی فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک مسلمان جماعتیں یا تو اسلام کے کسی جزو کولے کر اٹھی ہیں یا کسی ایسے دنیوی مقصد کو جس کا اسلام کے ساتھ براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کی تنظیم دنیا کی غیر مسلم جماعتوں اور انجمنوں کے خطوط پرکی گئی ہے،ان میں ہر قسم کے لوگ اس مفروضے پر بھرتی کرلیے گئے ہیں کہ وہ مسلمان قوم میں پیدا ہوئے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان جماعتوں کے عام ارکان کی صفوں ہی میں نہیں کارکنوں اور لیڈروں کی صفوں میں بھی ایسے لوگ داخل ہوگئے جن کی نہ سیرتیں اور کردار لائق اعتماد تھیں اور نہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کے بار امانت کو اٹھانے کی اہلیت ہی اپنے اندر رکھتے ہیں۔پھر یہ جماعتیں صرف نسلی مسلمانوں تک محدود رہی ہیں، غیر مسلموں کے لیے ان کے اندر کوئی کشش اور جاذبیت نہیں بلکہ ان میں سے اکثر کی سرگرمیاں غیر مسلموں کے اسلام کی طرف آنے میں سد راہ بن گئی ہیں۔اس کے برعکس ہم پورے کے پورے اور عین اسلام کو لے کر چل رہے ہیں۔ہم ٹھیک وہ نظام جماعت اختیار کررہے ہیں جو شروع میں رسول اللہ کی قائم کردہ جماعت کا تھا، ہمارے جماعتی ضوابط ایسے ہیں کہ مسلمانوں میں سے صرف صالح عنصر ہی آگے بڑھے ، جو کلمہ طیبہ کے معانی و مفہوم اور مقتضیات کو جان کر اس پر شعوری ایمان لانے کا اقرار کرے۔ جماعت میں رہنے کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ اسلام میں جو کم سے کم مقتضیات ایمان ہیں ان کو پورا کرے، ہم نے جماعت کی دعوت ملک کے اندر یا عالم اسلام کے محض پیدائشی مسلمانوں تک محدود نہیں رکھی بلکہ اس کا خطاب تمام روئے زمین پر بسنے والی سعید روحوں سے عام ہے۔

پھر سید مودودی نے نئی جماعت کانام جماعت اسلامی رکھنے کی وجہ بتائی اور فرمایاکہ جب جماعت کا عقیدہ ، نصب العین ،نظام جماعت اور طریق کار بلا کسی کمی بیشی کے وہی ہے جو اسلام کا ہمیشہ رہا ہے تو اس کے لیے اسلامی جماعت کے سواکوئی دوسرانام نہیں ہوسکتا اور جب یہ عین اسلام کے نصب العین کی طرف اسلامی طریق پرہی حرکت کرتی ہے تو اس کی تحریک اسلامی تحریک کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دو زبردست خطرات

پھر سید صاحب نے ان دو زبردست خطرات سے متنبہ کیا جن سے دور نبوت کے بعد اسلام کاکام کرنے والی جماعتیں دوچار ہوتی رہی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے آپ کو وہی حیثیت دینے لگتی ہیں جو انبیاءعلیہم السلام کے زمانے میں اسلامی جماعت کی تھی۔وہ اسلام و ایمان کو صرف اپنے اندر حصر کرلیتی ہیں۔ ان کے نزدیک جو شخص ان کی جماعت میں نہیں وہ مومن نہیں ہے۔یہ غلط فہمی اس جماعت کو مسلمانوں کا ایک فرقہ بنا کر رکھ دیتی ہے اور پھر اس کا سارا وقت اصل کام کی بجائے دوسرے مسلمانوں سے الجھنے اور مناظرے کرنے میں کھپ جاتا ہے،دوسرا یہ کہ ایسی جماعتیں جس شخص کو اپنا امیر یا امام تسلیم کرتی ہیں اس کو وہی حیثیت دے دیتی ہیں جو نبی کے بعد خلفائے راشدین کی تھی، جس کی گردن میں اس امام کی بیعت کا قلادہ نہیں ہوتا اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتی ہیں۔ اس طرح اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر اپنی ساری تگ ودو اپنے امیر یا امام کی امارت وامامت کو منوانے پر مرکوز کردیتی ہیں۔ سید صاحب نے ان دونوں غلط فہمیوں سے بچ کر چلنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ ہماری حیثیت نبی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی جماعت کی سی نہیں ہے جو دنیا میں واحد اسلامی جماعت کی ہوتی ہے اور جس کے دائرے سے باہر صرف کفر ہی ہوتا ہے، بلکہ ہماری حیثیت اس جماعت کی ہے جو اصل نظام جماعت کے درہم برہم ہوجانے کے بعد اس کو تازہ کرنے کے لیے اٹھتی ہے۔ایسی جماعتیں بیک وقت کئی ہوسکتی ہیں اور ان میں سے کسی کوبھی یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ بس ہم ہی اسلامی جماعت ہیں اور ہمارا امیر ہی امیر المومنین ہے۔ سید صاحب نے فرمایا کہ ہمیں اس غلو سے پرہیزکرنا اور فرقہ بننے سے بچنا چاہیے۔

اسلامی تحریک کی ہمہ گیری

تیسری بات جو سید صاحب نے اپنے خطاب میں فرمائی وہ جماعت اسلامی کے کام اور اس کے دائرہ عمل کے بارے میں تھی۔انہوں نے فرمایا کہ جماعت کے سامنے کوئی محدود کام نہیں ہے بلکہ یہ پوری انسانی زندگی پرحاوی ہے۔اسلامی تحریک ایک ہمہ گیر نوعیت کی تحریک ہے اور اس کو ہر قسم کے اور ہر درجے کی صلاحیت اور ہر میدان اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، البتہ یہ کام کوئی آسان اور ہلکا کام نہیں ہے، یہ بڑا ہی مشکل اور کٹھن کام ہے۔ دنیا کے پورے نظام ، اس کے اخلاق،تہذیب،سیاست، تمدن، معیشت اور معاشرت ہر چیز کو بدلنے اور اس کی جگہ خدا کی اطاعت پر مبنی نظام قائم کرنے کاکام ہے۔اس راہ پر قدم بڑھانے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کس خارزار میں قدم رکھ رہا ہے۔

دستور جماعت کی منظوری

افتتاحی خطاب کے بعد سید مودودی نے دستور کامسودہ پڑھنا شروع کیا۔ یہ مسودہ سید صاحب نے خود تیار کیا تھا۔کچھ کاپیاں چھپوا لی گئی تھیں اور تمام آنے والوں کودے دی گئی تھیں تاکہ وہ اس پر غور کرلیں۔ اس دستور کا ایک ایک لفظ پڑھا گیااور اس پر بحث ہوئی۔ ہرشخص کواظہار رائے کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ اجلاس دن بھر جاری رہا۔ مغرب کے قریب جاکر ہر مسئلہ پر بحث مکمل ہوگئی اور دستور بعض ترمیموں اور اضافوں کے ساتھ پورا کا پورا بااتفاق کلی منظور کرلیاگیا۔

دستورجماعت کی نظریاتی بنیاد

یہ ایک رسمی (Formal)  قسم کا اورتنظیمی نوعیت اور عہدہ و مناصب کے حصول کا طریقِ کار  متعین کرنے والا دنیوی دستور نہ تھا۔سید صاحب نے اس دستور کی مختلف امتیازی خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئے قیام جماعت کے بعد اگلے ہی ماہ تحریر فرمایا:
”اس دستور کی بنیاد جس خیال پر رکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اسلام میں سے کسی ایک مقصد کو لے کر نہ اٹھیں بلکہ اصل اسلام اور پورے اسلام کو لے کراٹھیں۔جس مقصد کے لیے انیباءعلیہم السلام دنیا میں تشریف لائے وہی ہمارا مقصد ہو، جس چیز کی طرف انہوں نے دعوت دی اسی کی طرف ہم دعوت دیں،جس طرز پر وہ ایمان لانے والوں کی جماعت بناتے تھے اسی طرز پر ہم جماعت بنائیں،جونظام جماعت ان کا تھا وہی ہمارا ہو،جن ضوابط کو وہ اپنی جماعت میں نافذ کرتے تھے انہی کو ہم بلا کسی کمی بیشی کے نافذ کریں اور جس طریقہ سے وہ اپنے نصب العین کے لیے جدوجہد کرتے تھے اسی طریقے سے ہم جدوجہد کریں۔

دستور کی بنیاد اور مرکز و محور لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کا عقیدہ قرار پایا۔ اس کی تشریح میں وہ سارے امور سمٹ آئے تھے جنہیں اسلام اپنے ماننے والوں پر اعتقادی طور پر لازم قرار دیتااور ان پر ان کی انفرادی واجتماعی زندگی کو استوار کرتا ہے۔اس زندگی بخش عقیدہ کو عمل کے پیکر میں ڈھالنا اور اس کو سربلند کرنا، خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے خدا کی زمین پر خدا کی حکومت۔۔۔حکومت الٰہیہ۔۔۔قائم کرنا جماعت اسلامی کا مقصد وجود اور نصب العین قرار پایا۔ دستور میں حکومت الٰہیہ کی تشریح بھی کی گئی تھی اور دنیا میں قائم دوسرے تمام نظام ہائے حیات کو مسترد کردیاگیا تھا کہ یہ نظام اللہ کے خلاف صریح بغاوت پر مبنی تھے۔ دستور میں کہا گیا تھا کہ "مومن کا کام اس بغاوت کو دنیا سے مٹانا اور خدا کی زمین پر خدا کے سوا ہر ایک کی خداوندی ختم کردینا ہے۔ مومن کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ جس طرح خدا کا قانونِ تکوینی تمام کائنات میں نافذ ہے اسی طرح خداکاقانون شرعی بھی عالم انسانی میں نافذ ہو۔ مومن کی تمام مساعی کا ہدف اور مقصود یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کوخدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالے اور صرف خداکابندہ بنائے"جماعت کے دروازے قوم،نسل اور ملک کی کسی تمیز کے بغیر ہراس مردوزن پر کھلے تھے جوعقیدہ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کواس کے پورے مفہوم کے ساتھ سمجھ کرشہادت دے کہ یہی اس کا عقیدہ ہے۔اس شرط کے سوا جماعت میں داخل ہونے کی کوئی شرط نہیں تھی،البتہ ادائے شہادت کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اپنی زندگی میں ان تغیرات کولانا ضروری تھا،کچھ فوری طور پر اور کچھ تدریج کے ساتھ۔دستور میں قرار دیاگیا تھا کہ ادائے شہادت کے بعد کسی شخص کی زندگی میں اگر یہ تغیرات رونما نہیں ہوں گے تو اسے جماعت میں نہیں لیاجائے گا اور اگر لیا جاچکا ہوگا تو اسے خارج کردیاجائے گا۔

"تغیرات جو ایک شخص کو اپنی زندگی میں بتدریج لانے تھے،ان کا دائرہ بڑا وسیع تھا اور یہ فکری وعملی دینی، اخلاقی، معاشرتی اور معاملات زندگی کے تمام گوشوں میں مطلوب تھے۔ مثلاً:دین کا کم سے کم اتنا علم حاصل کرنا کہ وہ اسلام اور غیر اسلام میں تمیز اور فرق کرسکیں۔تمام معاملات زندگی میں نقطہ نظر،طرزِ خیال اور عمل کو ہدایت الٰہی کے مطابق ڈھالنا اور اپنی پسند و ناپسند کے معیار اور وفاداریوں کے محورکورضائے الٰہی کے مطابق ڈھالنا اور اپنی پسند و ناپسند کے معیار اور وفاداریوں کے محور کو رضائے الٰہی کے تابع کرنا،رسوم جاہلیت سے اپنی زندگی کوپاک کرنا، فاسقین اور فجار اور خدا سے غافل لوگوں سے تعلقات منقطع کرنا اور صالحین سے رابطہ قائم کرنا،جاہلیت کے خادم اور حاکمیت رب العالمین کے مخالف اداروں سے تعلق توڑ لینا،اپنے معاملات کوراستی، عدل،خداترسی،بے لاگ حق پرستی پر قائم کرنا،اپنی دوڑ دھوپ اور سعی وجہد کو قیام حکومت الٰہیہ کے نصب العین پر مرتکز کرنا اور ان تمام مصروفیتوں سے دستکش ہوجانا جو اس نصب العین کی طرف نہ لے جاتی ہوں۔دستور میں قرار دیاگیا کہ جماعت میں کسی شخص کے مرتبہ و مقام کا تعین انہی تدریجی تغیرات کے ناقص اور کامل ہونے پر کیاجائے گا۔

نظم جماعت بالکل سیدھا سادہ تھا۔ اس میں شامل ہونے والوں کو جماعت اور اس کے مقصد و نصب العین کے ساتھ تعلق اور وابستگی کی بنیاد پر تین طبقات میں تقسیم کیا گیاتھا:۔
صفِ اول کے وہ لوگ تھے جو نصب العین کے حصول کی جدوجہد میں ہرقربانی کے لیے تیار ہوں، اپنے آپ کو کلی طور پر جماعت کے حوالے کردیں،جنہیں جماعت جب پکارے لبیک کہیں اور جو خدمت سونپے اسے انجام دیں اور جان،مال ،اولاد،عزیزو اقارب  دوست غرض کسی چیز کوخداورسول اور مقصد اسلامی سے زیادہ عزیز نہ رکھیں۔ دستور کی رو سے یہی لوگ جماعت کے اصل کارکن اور کارفرما عنصر تھے اور رہنمائی اور سربراہی انہی کے ہاتھ میں تھی،احکام شرعیہ کی پابندی اور اس معاملے میں کسی قسم کی ڈھیل روا نہ رکھنا ان پر لازم تھا۔یہ بھی لازم تھا کہ وہ مسلمانوں کی زندگی کا عملی نمونہ پیش کریں اور رخصتوں کا سہارالینے کی بجائے عزیمت کی راہ اختیار کریں۔ غیرالہی عدالت میں یہ لوگ نہ مستغیث بن کرجاسکتے تھے نہ مدعی بن کر۔۔ مدعا علیہ یا مستغاث علیہ کی حیثیت سے عدالت میں جانے کی صرف اسی صورت میں اجازت دی گئی تھی کہ یا تو کسی غیر معمولی نقصان کا خطرہ ہو یا گواہ کی حیثیت سے انہیں طلب کیاجائے۔

صفِ دوم میں وہ لوگ شامل تھے جو اپنے آپ کو نہ توجماعت کے لیے کلی وقف کرسکتے ہوں نہ خطرات اور قربانیوں کا پورا پورا بار اٹھانے کی ہمت وطاقت رکھتے ہوں، مگر اپنے وقت ، اپنے مال اور اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کا ایک حصہ راہِ خدا میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ دینی فرائض اور احکامات الٰہی کی اطاعت کریں،حرام اور ناجائز وسائل کسب رزق اور مشاغل سے اجتناب کریں،جماعت اوراس کے نصب العین کے صدق دل سے وفادار رہیں، جماعت کی طرف سے جو خدمات سپرد کی جائیں انہیں راضی خوشی انجام دیں، دستور میں یہ طے کیاگیا کہ اس صف کے لوگوں کو ذمہ داری کا کوئی منصب نہیں سونپا جائے گا، البتہ وہ جماعتی مشوروں میں شریک ہوسکیں گے۔

صفِ سوم ان لوگوں کے لیے تھی جو کلمہ اسلام پراصولی حیثیت سے ایمان لائیں اور شخصی زندگی کی حد تک احکام شرعی کی پابندی بھی قبول کریں مگر غیر الٰہی نظام سے وابستہ اپنے مفادات کا نقصان گوارا نہ کرسکیں۔ انہیں دوسری وفاداریوں پر خدا کی وفاداری کو مقدم رکھنا ہوگا، وہ غیر الٰہی نظام کو ترقی درجات کا وسیلہ نہ بنائیں گے اور نہ ان کے لیے کوشاں ہوں گے اور جماعت کو ہرجائز امکانی طریقے سے مدد دیں گے،یہ اصحاب جماعتی مشوروں میں اپنے اخلاص اور جماعت کو ان پر جس قدر اعتماد ہوگااس کے مطابق شریک ہو سکیں گے۔

یہ تینوں درجہ بندیاں جماعت میں شامل کسی بھی شخص کے لیے جامد اورغیر متغیر نہ تھیں بلکہ شخصی حالات کے تغیرو تبدل کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلی رونما ہوسکتی تھی۔صفِ سوم کاآدمی جماعت کے نصب العین کی راہ میں پیش قدمی کرتا ہوا صفِ اول میں پہنچ سکتا تھا۔ اور صفِ اول کا شخص عقیدہ و عمل کے مطلوبہ معیار سے گرجانے کی بنا پر صفِ سوم میں بھیجا جاسکتا تھا۔دستور میں غیرالٰہی نظام کے ساتھ ان تینوں طبقات کے مطلوبہ رویے بھی متعین کردیے گئے تھے۔ان رویوں کے منافی طرز عمل کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو جماعت کے لیے قابل قبول یا لائق استرداد بناسکتا تھا۔

دستور کی رو سے جماعت کا ایک خواتین ونگ بھی تھا۔ ان پر دستور کی وہ تمام اعتقادی و نظریاتی دفعات اور نظم جماعت سے متعلق دفعات لاگو ہوتی تھیں جن کا اطلاق مردوں پر ہوتا تھا۔البتہ مردوں سے الگ تخلیقی صلاحیتوں اور اسلامی معاشرے میں مخصوص حیثیت کی بنا پر ان کے لیے ان کا فطری دائرہ عمل متعین کیاگیا۔ ان کاکام اپنے گھر،اپنے خاندان،اپنے شوہروں اور بھائیوں اور اپنے حلقہ تعارف میں دوسری عورتوں کے اندر دعوت و تبلیغ اور تجدید ایمان اور اصلاح سیرت و کردارکرنا اور اپنے بچوں کے اندر نورایمان اور اسلامی اخلاق پیدا کرنا تھا اور اگر ان کے شوہر،بیٹے اوربھائی جماعت اسلامی میں داخل ہوں تو صبروعزیمت کے ساتھ ان کی رفاقت اور ہمت افزائی کرنا اور نصب العین کی راہ میں آنے والی مصیبتوں اور مشکلات میں صبرو ثبات کے ساتھ ان کا ہاتھ بٹانا تھا۔

دستور کے ابتدائی مسودہ میں منصب امارت اور امیر کے انتخاب کے بارے میں کوئی دفعہ نہیں رکھی گئی تھی۔ غالباً سید مودودی نے جماعتی تنظیم اور تحریک اسلامی کے اس ابتدائی مرحلے میں از خود کوئی مستقل دفعہ دستور میں شامل کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کام کو جماعتی تنظیم وجود میں آنے کے بعد ارکان جماعت پر چھوڑ دیا کہ وہ اس سلسلے میں اجتماعی طور پر خود فیصلہ کریں۔ چنانچہ 3 شعبان کو کئی گھنٹوں کی طویل بحث وتمحیص اور غور و خوض کے بعد دستور میں دفعہ دہم شامل کی گئی۔اس دفعہ میں کہا گیا تھا کہ جماعت اسلامی کا یک امیر ہوگا جو معروف اصطلاح میں امیر المومنین نہیں بلکہ محض جماعت کا رہنما ہوگا۔اس کی اطاعت فی المعروف جماعت کے تمام افراد کریں گے۔ اس کے انتخاب میں تقویٰ، علم دین میں بصیرت، اصابت رائے اورعزم و حزم کو ملحوظ رکھاجائے گا،جماعت کی دعوت اپنے امیر کی شخصیت اور اس کی امارت کی طرف نہیں اپنے عقیدے اور نصب العین کی طرف ہوگی۔امیر کی خداترسی اور احساس ذمہ داری سے یہ توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے سے زیادہ اہل آدمی کے آجانے پرخود اس کے لیے جگہ خالی کردے گا۔ایسی صورت میں جبکہ جماعت اپنے نصب العین کے مفاد کے لیے ضرورت محسوس کرے وہ امیر کو معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔

رکنیت کی حلف برداری

دستور کی منظوری کے بعد شرکائے اجتماع نے جماعت میں شرکت کا حلف اٹھایا۔ سب سے پہلے سید مودودی اٹھے کلمہ شہادت اشہد اَن لااِلٰہ الااللہ واشہد اَن محمداً عبدہ وَرسولہ کا اعادہ کیا اور فرمایا:لوگو!گواہ رہو کہ میں آج ازسرِنو ایمان لاتا اور جماعت اسلامی میں شریک ہوتاہوں۔
سید صاحب کے بعد مولانا محمد منظور نعمانی صاحب کھڑے ہوئے اورکلمہ شہادت اداکرکے جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔پھر باری باری دوسرے اصحاب کھڑے ہوتے اور کلمہ شہادت ادا کرکے جماعت میں شریک ہوتے گئے۔پوری مجلس پررقت کاعالم طاری تھا، اکثرحضرات کی آنکھوں سے آنسوجاری تھے۔ہرشخص کلمہ شہادت اداکرتے ہوئے کانپ رہا تھا۔ شدت جذبات سے ہچکی بندھنے لگتی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شہادت کی اس ذمہ داری کو وہ زمین اورآسمان کے بوجھ سے زیادہ وزنی سمجھ کراٹھارہاہے۔ بہت سے زار زار رو رہے تھے۔مولانا محمد منظور نعمانی کا تاثر سب سے شدید تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔

ادائے شہادت کا مرحلہ ہوچکا تو سید مودودی نے اسلامی جماعت کی حیثیت ،اس کے منشاءاور نصب العین پر پھر ایک مرتبہ روشنی ڈالی اور حاضرین کو آگاہ کیا کہ انہوں نے آج کتنا بڑا عہد کیا ہے اور اس کو کس طرح نباہنا چاہیے۔پھرفرمایا کہ اب جماعت اسلامی کی تشکیل ہوگئی ہے۔آیئے ہم سب مل کررب العالمین سے دعا کریں کہ وہ ہماری جماعت کو استقامت اور استقلال بخشے اور ہم کو اپنی کتاب اوراپنے رسول کی سنت کے مطابق چلنے کی توفیق عطا کرے۔پھرمولانا محمد منظور نعمانی نے دعا شروع کی اور دیر تک لوگ خداکے حضور روتے اورگڑگڑاتے رہے۔ اجتماعی دعا کے یہ لمحات بھی بڑے اثر انگیز اور کیف آور تھے۔ایسے کیف آور کہ میاں طفیل محمد کے بقول"اس اجتماع میں جولوگ شریک تھے وہ اس کی کیفیات کو عمر بھر نہ بھول سکے ہوں گے"
دعا کے بعداجتماع اگلے روز کے لیے برخاست ہوگیا۔

انتخاب امیر

3 شعبان (27اگست)  صبح آٹھ بجے پھر اجتماع شروع ہوا۔اس کا اہم ترین موضوع امیر جماعت کا انتخاب تھا۔ اس موقع پر کہ جماعتی زندگی کا آغاز ہورہا تھا، سید صاحب نے اسلامی نقطہ نظر سے اس زندگی کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں آپ نے جو طویل تقریر کی اس کے نمایاں نکات حسب ذیل تھے:
  جماعت کے ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے صدق دل کے ساتھ نظام جماعت کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔جماعت کی بدخواہی یا افراد جماعت سے کینہ، بغض، حسد،بدگمانی اور ایذا رسانی اللہ اوراس کے رسول کے فرمان کے مطابق ایمان کے منافی بدترین جرائم ہیں۔
2 ۔  جماعت اسلامی کی حیثیت دنیوی پارٹیوں کی سی نہیں ہے جو"میری پارٹی خواہ حق پر ہویا ناحق پر"کی بنیاد پر اپنا رویہ متعین کرتی ہیں،ہمیں اللہ پرایمان کے رشتے نے ایک دوسرے سے جوڑا ہے اس ایمان کااولین تقاضا یہ ہے کہ ہماری دوستی اور دشمنی، محبت اور نفرت، جو کچھ بھی ہو اللہ کے لیے ہو۔ ہم اللہ کی نافرمانی میں نہیں، فرمانبرداری میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔
3 ۔
  ایما ن باللہ کاتقاضا یہ ہے کہ ہم جماعت کی خیر خواہی کریں۔ اس کو بیرونی حملوں اور اندرونی امراض سے بچانے کے لیے ہر وقت مستعد رہیں، اس کو راہِ راست سے ہٹنے نہ دیں۔اس کے اندر غلط مقاصد،غلط خیالات اور غلط خیالات اور طریقوں کو پھیلنے سے روکیں، اس کے اندر نہ تو نفسانی دھڑے بندیاں پیدا ہونے دیں اور نہ کسی کااستبداد چلنے دیں،کسی دنیوی غرض اور شخصیت کو بت نہ بننے دیں اور اس کے دستور کو بگڑنے سے بچائیں۔
4 ۔ رفقائے جماعت کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں،اس خیر خواہی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی جماعت کے آدمیوں کی بے جا حمایت کریں اور ان کی غلطیوں میں ان کا ساتھ دیں بلکہ یہ ہے کہ معروف کے کاموں میں باہم تعاون کریں اور منکر میں نہ صرف عدم تعاون کریں بلکہ دوستانہ درد مندی اور اخلاص کے ساتھ ان کی اصلاح  کی عملاً کوشش کریں،ا نہیں راہِ راست سے نہ بھٹکنے دیں اورکوئی ساتھی اپنے نفس پر ظلم کررہا ہوتو اس کا ہاتھ پکڑ لیں۔
 5 - جماعت کے اندر جماعت بنانے کی کبھی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ سازشیں،جتھابندیاں، نجوٰی(Convessing)، عہدوں کی امیدواری، حمیت جاہلیہ اور تنابزباا لا لقاب  اور بدظنی جماعتوں کی زندگی کے لیے مہلک بیماریاں ہیں ان سے بچنا چاہیے۔
6 -  جماعتی کاموں میں رفقائے جماعت سے مشورہ لینا جماعتی ذمہ داروں کا فرض ہے۔ جس سے مشورہ لیاجائے اس کا فرض ہے کہ اپنی صوابدید کے مطابق اپنی رائے صاف صاف بیان کردے ۔ایسا نہ کرنا جماعت پر ظلم کے مترادف ہے اور کسی مصلحت کی بنا پر اپنی صوابدید کے خلاف رائے دینا جماعت کے ساتھ غداری اور مشاورت کے موقع پر اپنی رائے کوچھپانا اور جب اپنی منشاءکے خلاف کوئی بات طے ہوجائے تو جماعت میں بددلی پھیلانے کی کوشش کرنا جماعت کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔
 7-  جماعتی مشورے میں کسی شخص کو اپنی رائے پر اتنا اصرار نہیں کرنا چاہیے کہ یاتو اس کی بات مانی جائے ورنہ وہ جماعتی فیصلوں کوقبول کرنے سے انکار کردے۔ ایسا اصرار بالآخر پورے نظا م جماعت کو درہم برہم کر کے رکھ دیتا ہے۔

ان عمومی ہدایات کے بعد سید مودودی نے امیر کے انتخاب میں جن امور کو ملحوظ رکھنا ضروری تھا ان کی نشاندہی کی۔
1 ۔  امارت کے امیدوار کسی شخص کو ہرگز امیر منتخب نہ کیاجائے۔اس عظیم ذمہ داری کو محض اقتداروسیاست کا خواہاں شخص ہی اٹھانے کے لیے آگے بڑھ سکتا ہے اور ایسا شخص اللہ کی نصرت وامداد سے محروم ہوتا ہے۔
2 ۔  شخصی حمایت و موافقت کے جذبات کودل سے نکال کربے لاگ طریقے سے ایسے شخص کو منتخب کیاجائے جس کے تقوٰی، علم کتاب وسنت،دینی بصیرت،تدبر معاملہ فہمی،اور راہِ خدا میں ثبات و استقامت پر آپ کو سب سے زیادہ اعتماد ہو۔
3 ۔ اس طریقے سے جس شخص کو منتخب کرلیاجائے اس کی خیرخواہی،اس کے ساتھ مخلصانہ تعاون،معروف میں اس کی اطاعت اور منکر میں اس کی اصلاح کی کوشش ہر رکن جماعت پر فرض ہے۔

سب سے آخر میں ایک اسلامی جماعت کے امیر اور مغربی جمہوریتوں کے صدر کے درمیان فرق کی وضاحت کی اور فرمایا کہ دیانت،تقوٰی اور خوف خدا کی صفات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس شخص کوآپ اپنا امیر منتخب کرلیں اس پر مکمل اعتماد کریں، اس پر وہ پابندیاں عائد نہ کریں جو مغربی جمہوریتوں میں صدور پر عائد کی جاتی ہیں اس لیے کہ وہاں طریق انتخاب ہی ایسا ہے کہ معاشرے کا سب سے عیار اور جوڑ توڑ کے فن میں ماہر شخص ہی منتخب ہوتا ہے۔اور جس کو منتخب کرتے وقت تمام دوسری صفات دیکھی جاتی ہیں، مگر دیانت اور خوف خدا کی صفات نہیں دیکھی جاتیں،چنانچہ اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اس پر طرح طرح کی قدغنیں لگا دی جاتی ہیں۔ جس شخص کی دیانت اور تقوٰی آپ کے نزدیک اس قدر مشتبہ ہے کہ اس پر اعتماد نہیں کرسکتے تواس کو سرے سے منتخب ہی نہ کیجئے۔
یہ تقریراس لحاظ سے بڑی اہم تھی کہ اس میں اسلامی ہیئت اجتماعی اور نظام جماعت پر پہلی بار جدید زبان میں بات کی گئی تھی۔مسلمانوں میں اب تک جو جماعتیں کام کر رہی تھیں ان میں صدر جماعت اور دوسرے عہدیداروں کا انتخاب مغربی جمہوریتوں میں مروجہ طور طریقوں کے مطابق کیاجاتاتھا اور جماعت کے در و بست پر قابض رہنے کے لیے ہر طرح کے جوڑ توڑ اور حربے جائز اور روا رکھے جاتے تھے۔ سید صاحب نے برصغیر ہی کی نہیں غالباً پورے عالم اسلام کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار اسلامی نقطہ نظر سے اس طریق انتخاب قیادت پر تنقید کی اور ان خرابیوں کو واضح کیا جو یہ طریق انتخاب اپنے دامن میں رکھتا تھا۔اور پہلی بار ان صفات کی نشاندہی کی جو اسلام ایک اسلامی جماعت اور اس کی قیادت کے لیے ضروری گردانتا ہے۔
یہ تقریر اس اعتبار سے بھی سید صاحب کی اہم ترین تقریر تھی کہ اس میں جو ہدایات جاری کی گئیں ان پر اس سختی سے عمل کیاگیا کہ وہ گویا جماعت کا مزاج بن گئیں۔ جب کبھی کسی فرد یا عنصر نے اس مزاج کے برعکس رویہ اختیار کیا تو جماعت کی فضا کو اپنے خلاف پایا اور اسے بالآخر جماعت سے نکلنا پڑا یا منصب سے ہٹنا پڑا۔دوسرا اہم پہلو جس پراس تقریر میں سید صاحب نے زور دیا وہ امور تھے جنہوں نے اس سے پہلے مسلمانوں کی جماعتوں میں رونما ہوکر انہیں افتراق و انتشار کی راہ پر ڈالا اور بالآخر انحلال سے دوچار ہوئے۔سید صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں جماعت کو فرقہ اور گروہ میں تبدیل ہونے سے بچنے کی ہدایت کی تھی۔ اب اس تقریر میں انہوں نے ارکان جماعت کے سامنے وہ خطوط رکھ دیے جن کی پابندی کرکے جماعت اسلامی اپنے اس عظیم مقصد اور نصب العین کو حاصل کرسکتی تھی۔جس کے لیے وجود میں آرہی تھی۔

سید صاحب کی تقریر کے بعد امیر جماعت کے انتخاب کا مسئلہ زیربحث آیا۔ شرکاءنے اس بحث میں آزادانہ حصہ لیا۔ بحث خاص کسی ایک یا دو شخصیتوں کے بارے میں نہ تھی کہ ان میں سے کون ایسا شخص ہے جو کتا ب و سنت میں دی گئی ہدایت کے مطابق (جن کی نشاندہی سید صاحب نے اپنی تقریر میں فرمائی تھی) منصب امارت کے لیے موزوں ترین اور سب سے زیادہ لائق اعتماد ہو بلکہ یہ بحث منصب امارت کی نوعیت اور اس کی مدت و میعاد کے بارے میں تھی۔ اس بحث میں تین مختلف نقطہ نظر ابھر کر سامنے آئے۔
1 ۔   ایک گروہ کی رائے تھی کہ اس وقت جماعت میں اس قدر کم آدمی ہیں کہ انتخاب کی کچھ زیادہ گنجا ئش نہیں،اگر اس وقت کوئی متعین امیر منتخب کرلیا گیا تو آئندہ جب جماعت بڑھے گی اور اہل تر آدمی آئیں گے تو اس وقت نہ صرف دقت پیش آئے گی بلکہ نئے آنے والوں کے لیے یہ بات تامل کا باعث ہوگی کہ انہیں ایک ایسے شخص کو امیر ماننا پڑے گا جس کے انتخاب میں ان کی رائے شامل نہ تھی۔اس طرح اس وقت انتخاب امیر آگے چل کر توسیع جماعت کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گا۔اس بنا پر اس گروہ کی رائے یہ تھی کہ سردست جماعت کا امیر عارضی مدت کے لیے منتخب کیاجائے۔
 2 ۔  دوسرے گروہ کے شبہات بھی پہلے گروہ سے مختلف نہ تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ ابھی انبیاءکا جانشین بننے کا اہل کوئی مرد کامل نظر نہیں آتا۔ اس لیے اس وقت سرے سے امیر منتخب ہی نہ کیاجائے بلکہ جماعت کا انتظام اور رہنمائی چند آدمیوں کی ایک مجلس کے سپرد کردی جائے اور اس مجلس کے لیے ایک صدر منتخب کرلیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ گروہ جماعت کے لیے اجتماعی قیادت(Leadership Collective ) کی تجویز پیش کررہا تھا۔
3 ۔  تیسرے گروہ کی رائے پہلے دونوں گروہوں سے مختلف تھی۔ اس کے خیال میں جماعت بلا امیر بے اصل بات تھی، مدت معینہ کے لیے انتخاب امیر کا بھی کتاب و سنت میں کوئی نشان نہیں ملتا، پھر یہ بات بھی خلاف حکمت و تدبر ہے کہ ہم ایک انقلابی نظریہ لے کر لڑنے تو دنیا بھر کی شیطانی قوتوں سے چلے ہیں، لیکن جماعت کا اپنا نظام اتنا ڈھیلا رکھیں کہ وہ کسی بڑی جدوجہد کا متحمل نہ ہوسکے۔ امارت کے بغیر یاعارضی امارت کی بنیاد پر قائم ہونے والا نظام کبھی پختہ نہ ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ امیرکا انتخاب اسی وقت کیاجائے اور غیر معینہ وقت کے لیے کیاجائے۔

کئی گھنٹے تک بحث ہوتی رہی، مگر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ آخرظہر کے قریب اس مسئلے کو سات آدمیوں کی ایک کمیٹی کے سپرد کردیا گیا جنہیں ارکان جماعت نے متفقہ طور پر منتخب کیاتھا۔قرار پایا کہ یہ کمیٹی جو کچھ طے کرے گی اسے سب قبول کرلیں گے۔ کمیٹی کے ارکان حسب ذیل تھے۔

  1 - مولانا محمدمنظور نعمانی

 2 - سید صبغةاللہ بختیاری
 3 - سید محمد جعفرپھلواروی
 4 - مولانا نذیر الحق میرٹھی
 5 - مستری محمد صدیق
 6-  ڈاکٹر سید نذیرعلی زیدی
7- محمد ابن علی کا کوروی
اس مجلس نے بڑے غوروخوض اور بحث وتمحیص کے بعد پہلے دونوں گروہوں کی رائیں مسترد کردیں اور تیسرے گروہ کی رائے سے اتفاق کیا کہ علم کتاب وسنت اور حکمت عملی دونوں کا تقاضا ہے کہ جماعت بلاامیر نہ رہے اور امیر کا انتخاب کسی مدت کے ساتھ مقید نہ کیاجائے۔کمیٹی نے اس سلسلے میں اتفاق رائے سے جو دستوری تجویز مرتب کی اس میں ان دونوں گروہوں کے اعتراضات کو رفع کرکے مطمئن کردیاگیا۔
چار بجے شام دوبارہ اجتماع ہوا۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے مجلس منتخبہ کی جانب سے اس تجویز کو پڑھ کر سنایا اور اس کی مختصر تشریح کی، جماعت نے اسے بالاتفاق قبول کر لیا اور طے کیاکہ یہ پوری تجویزدفعہ دہم کے حیثیت سے دستور میں بڑھادی جائے۔
اس کے بعد مولانا محمد منظور نعمانی نے سید مودودی کانام امارت کے لیے پیش کیااور تمام ارکان جماعت نے اتفاق کامل سے اس کو منظور کرلیا۔ نعمانی صاحب نے سید صاحب  کا نام تجویز کرتے ہوئے وضاحت کی کہ دستور کے لحاظ سے امیر میں جو صفات ہونی چاہییں خدا کے فضل سے وہ سب ان میں موجودہیں اور اس حیثیت سے جماعت موجودہ ارکان میں وہ فائق و ممتاز ہیں۔

انتخاب امیر کے اس سارے عمل میں کچھ مزید روایات کی بنیاد پڑ گئی جن کو جماعت جب تک اپنائے رہے گی ان خرابیوں اور مفاسد سے بچی رہے گی جومغربی طرز کی سیاسی پارٹیوں کا طرہ امتیاز بن چکی ہیں:
 1 ۔   جماعت میں کسی بھی عہدے کے لیے از خود امیدواری کے نظام اور اس کے لیے کنویسنگ کو ہمیشہ کے لیے مسترد کردیاگیا۔
 2  .  امیر کے منتخب کرتے وقت کسی لسانی ، علاقائی عصبیت یا شخصی موافقت اور پسند کو نہیں بلکہ ان صفات کو ملحوظ رکھا گیا جو کتاب و سنت اسلامی جماعت کی قیادت کے لیے لازمی قرار دیتی ہیں۔
3  ۔ مسائل پر بحث ومباحثہ چاہے ارکان جماعت کی سطح پر ہویا مقامی و مرکزی شوریٰ کی سطح پر ہمیشہ کھلی فضا میں کیاگیا۔
4 ۔ معاملات و مسائل کو اتفاق رائے سے طے کرنے کو ہمیشہ ترجیح دی گئی۔اتفاق کلی(Consensus)حاصل کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے بلکہ دو دو دن بحث کی جاتی۔ جماعت اسلامی کی طویل تاریخ میں دوتین مرتبہ سے زیادہ اس کی نوبت نہیں آئی کہ مسائل کا فیصلہ کثرت رائے سے کیاگیا، ورنہ تمام فیصلے اتفاق رائے پر مبنی ہوتے رہے ہیں۔
اس کے بعد امیر جماعت کی اطاعت کے حوالے سے دستور کی دفعہ دہم پر عمل کرتے ہوئے نصب العین کے حصول کے لیے امیر جماعت کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا عہد کیاگیا۔

امیر جماعت کا پہلا پالیسی بیان

بیعت عام کے بعد سید مودودی نے ایک مختصر تقریر کی۔ یہ تقریر بنیادی طور پر تین نکات پر مشتمل تھی۔پہلا نکتہ خود ان کی اپنی ذات کے بارے میں تھا اور دوسرے دو نکات کو پالیسی بیان  (Policy Statement)   سمجھنا چاہیے جو انہوں نے امیر جماعت منتخب ہونے کے بعد ان منصبی فرائض کے سلسلے میں دیا جن پر وہ خود اور اپنے رفقاکو کاربنددیکھنا چاہتے تھے۔مولانا مودودی نے فرمایا:۔
"میں آپ کے درمیان نہ سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، نہ سب سے زیادہ متقی ، نہ کسی اور خصوصیت میں مجھے فضیلت حاصل تھی۔۔۔مجھے اس تحریک کی عظمت اور خود اپنے نقائص کا پورا احساس ہے، میں جانتا ہوں کہ یہ وہ تحریک ہے جس کی قیادت اولوالعزم پیغمبروں نے کی ہے اور زمانہ نبوت گزرجانے کے بعد وہ غیر معمولی انسان اس کو لے کر اٹھتے رہے ہیں جو نسل انسانی کے گل سرسبد تھے۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اپنے بارے میں یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں اس عظیم الشان تحریک کی قیادت کا اہل ہوں،بلکہ میں تو اس کو ایک بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت اس کارِ عظیم کے لیے آپ کو مجھ سے بہتر کوئی آدمی نہ ملا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے فرائض امارت کی انجام دہی کے ساتھ برابر تلاش میں رہوں گا کہ کوئی اہل تر آدمی اس کابار اٹھانے کے لیے مل جائے اور جب میں ایسے آدمی کو پاؤں گا تو سب سے پہلے اس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا، نیز میں ہمیشہ ہر اجتماع عام کے موقع پر جماعت سے بھی درخواست کرتا رہوں گا کہ اگر اب اس نے کوئی مجھ سے بہتر آدمی پالیا ہے تو وہ اسے اپنا امیر منتخب کرلے،میں اس منصب سے بخوشی دستبردار ہوجاؤں گا۔میں اپنی ذات کو کبھی خدا کے راستے میں سدراہ نہ بننے دوں گااور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دوں گا کہ ایک ناقص آدمی اس جماعت کی رہنمائی کررہا ہے،اس لیے ہم اس میں داخل نہیں ہوسکتے"۔
پالیسی بیان کے سلسلے میں سید صاحب نے فرمایا
 1 ۔  میں حد وسع تک انتہائی کوشش کروں گا کہ اس کام کو پوری خدا ترسی اور پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ چلاؤں اور قصداً اپنے فرض کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہ کروں۔ میں اپنے علم کی حد تک کتا ب اللہ اور سنت رسول اللہ اور خلفائے راشدین کے نقش قدم کی پیروی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں گا۔
2  ۔  مجھ سے کوئی لغزش ہویا آپ میں سے کوئی محسوس کرے کہ میں راہِ راست سے ہٹ گیا ہوں تو مجھ پر بدگمانی نہ کرے کہ میں عمداً ایسا کررہا ہوں، بلکہ حسن ظن سے کام لے اور نصیحت سے مجھے سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔
3  ۔  آپ کامجھ پر یہ حق ہے کہ میں اپنے آرام وآسائش اور اپنے ذاتی فائدوں پر جماعت کے مفاد اور اس کے کام کی ذمہ داریوں کو ترجیح دوں، جماعت کے نظم کی حفاظت کروں ، ارکان جماعت کے درمیان عدل اور دیانت کے ساتھ حکم کروں، جماعت کی طرف سے جو امانتیں میرے سپرد ہوں ان کی حفاظت کروں ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے دل و دماغ اور جسم کی تمام طاقتوں کو اس مقصد کی خدمت میں صرف کردوں جس کے لیے آپ کی جماعت اٹھی ہے۔
4  ۔   میرا آپ پر یہ حق ہے کہ جب تک میں راہِ راست پر چلوں آپ اس میں میرا ساتھ دیں،میرے حکم کی اطاعت کریں، نیک مشوروں سے امکانی امداد واعانت سے میری تائید کریں اور جماعت کے نظم کو بگاڑنے والے طریقوں سے پرہیز کریں۔
اس پالیسی بیان کا اہم ترین حصہ وہ ہے جس میں سید صاحب نے جماعت اسلامی کو فقہی مکتبہ فکر میں تبدیل ہوجانے سے روکنے کی ہدایت فرمائی۔ماضی میں بھی آئمہ عظام کا طرز عمل یہ رہا ہے کہ وہ اپنی فقہی آراءکو امت کے لیے لازمی نہ گردانتے تھے امام مالک نے تو اپنی کتاب موطا کو عباسی سلطنت کا قانون بنانے کی اجازت دینے سے معذرت کردی تھی، دراصل وہ جانتے تھے کہ کسی بھی صاحب علم کی فقہی آراءسے منسلک ہوجانے کے نتائج جمود ، اندھی تقلید، فرقہ بندی اورفقہی مجادلے کی صورت میں نکلتے ہیں۔ جو بالآخر امت سے تحرک اور جدوجہد کی زندگی چھین لیتے ہیں، اصول ترک ہوجاتے ہیں اور فروعات اصول کی جگہ لے لیتے ہیں، ان کے اہل علم کا کام اپنے امام اور فقیہ کے کلام و اقوال کو بطور حجت پیش کرنے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کروانے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا اور ان کے عوام انہی فقہی آراءکو اول و آخر اسلام سمجھ بیٹھتے ہیں، کتاب و سنت کے احکام و تعلیمات ثانوی حیثیت کرلیتی ہیں اور فقہی آراءاتنی اہمیت کا مقام حاصل کر لیتی ہیں کہ ایک فقہی مسلک کے حامل لوگ، دوسرے مکتب فقہ سے تعلق رکھنے والوں کو کافر قرار دینے لگتے ہیں۔امت اپنے مقصد وجود کو تج کر ٹکڑیوں میں بٹ جاتی ہے اور سرپھٹول میں مصروف ہوجاتی ہے۔ سید صاحب جن کا تاریخی شعوربڑا توانا تھا،ان کی اس پوری صورتحال پر نظر تھی۔
چنانچہ انہوں نے اعلان فرمایا:۔
"فقہ و کلام کے مسائل میں میرا ایک خاص مسلک ہے جس کو میں نے ذاتی تحقیق کی بنا پر اختیار کیا ہے۔۔۔اب میری حیثیت اس جماعت کے امیر کی ہوگئی ہے۔ فقہ وکلام کے مسائل میں میں جوکچھ آئندہ لکھوں گا یا کہوں گا اس کی حیثیت امیر جماعت اسلامی کے فیصلہ کی نہ ہوگی بلکہ میری ذاتی رائے کی ہوگی۔ ارکان جماعت کو میں خداوند برترکاواسطہ دے کر ہدایت کرتا ہوں کہ کوئی شخص فقہی وکلامی مسائل میں میرے اقوال کو دوسروں کے سامنے حجت کے طور پر پیش نہ کرے۔ اسی طرح میرے ذاتی عمل کو بھی جسے میں نے اپنی تحقیق کی بنا پر جائز سمجھ کراختیار کیا ہے،نہ دوسرے لوگ حجت بنائیں اور نہ بلا تحقیق محض میرا عمل ہونے کی حیثیت سے اس کا اتباع کریں۔ان معاملات میں ہر شخص کے لیے آزادی ہے، جو لوگ علم رکھتے ہوں،وہ اپنی تحقیق پر اور جو علم نہ رکھتے ہوں وہ جس کے علم پر اعتماد رکھتے ہوںاس کی تحقیق پر عمل کریں۔ نیز ان معاملات میں مجھ سے اختلاف رائے رکھنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے میں بھی سب آزاد ہیں۔ہم سب جزئیات و فروع میں اختلاف رائے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے بالمقابل بحث واستدلال کرتے ہوئے بھی ایک جماعت بن کر رہ سکتے ہیں جس طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین رہتے تھے"

جماعت کی پہلی مجلس شوریٰ

امیر کے انتخاب سے جماعت مکمل طور پر وجود میں آگئی۔اسی شام امیر جماعت نے اصحاب شوریٰ کا انتخاب کرلیااور اس طرح نظم جماعت اپنی بالکل سادہ شکل میں مکمل ہوگیا۔ اگلی صبح4شعبان(28اگست1941ء) آٹھ بجے صبح مجلس شوریٰ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں تحریک کے مستقبل اور جماعت کے لائحہ عمل پر سوچ بچار کیاگیا اور خاصے غوروخوض اور بحث وگفتگو کے بعد جماعت کے کام کو پانچ شعبوں میں تقسیم کردیاگیا۔
1  ۔  شعبہ علمی و تحقیقی
2  ۔  شعبہ نشرواشاعت
3  ۔   شعبہ تنظیم جماعت
4  ۔  شعبہ مالیات
5  ۔  شعبہ دعوت و تبلیغ
اجتماع کا اختتام
اسی روز پھر اجتماع عام منعقد ہوا جس میں امیر جماعت نے ارکان جماعت کو اس لائحہ عمل کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور پھر کام کرنے کے لیے ہدایات دیں۔ان ہدایات کے بعد امیر جماعت اور شوریٰ کے ارکان نے ارکان جماعت کو علیحدہ علیحدہ بلا کر ہر ایک کے احوال اور صلاحیتوں سے آگاہی حاصل کی اور ان حالات اور صلاحیتوں کے لحاظ سے انہیں کام سپردکیا۔ جہاں مقامی جماعتیں بن چکی تھیں وہاں ان کے لیے امراءکا تقرر کیا۔ 5شعبان کو جو کام باقی رہ گیاتھا اسے انجام دیا اور اجتماع ختم ہوگیا۔
جماعت اسلامی کی تشکیل کے موضوع پر ایک مرتبہ سید مودودی نے بڑی مفصل گفتگو کی تھی، اور ان امور کا ذکر فرمایا تھا جو انہوں نے اسلامی نظام کے قیام کو جماعت اسلامی کانصب العین قرار دیتے ہوئے پیش نظر رکھے تھے، انہی امور نے دوسری جماعتوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کو وہ خصوصیات دے دی تھیں جن میں وہ آج تک ممتاز اور منفرد چلی آتی ہے۔ سید صاحب نے فرمایا:۔
"جو چیز میں نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھی وہ یہ تھی کہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ اپنی انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابل اعتماد ہوں۔ مسلمانوں کی جماعتوں اور تحریکوں کو جس چیز نے آخر کار خراب کیا وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بہت سے ناقابل اعتماد لوگوں کا شریک ہوجانا تھا۔ انھی مشاہدات کی بنا پر میں نے یہ رائے قائم کی کہ اصل اہمیت کثرت تعداد کی نہیں بلکہ قابل اعتماد سیرت و کردار رکھنے والے کارکنوں کی ہے۔ خواہ تھوڑے ہی افراد ملیں مگر بہرحال ہماری جماعت صرف ایسے لوگوں پر مشتمل ہونی چاہیے جن میں سے ایک ایک فرد کی سیرت قابل اعتماد ہو جس کے قول اور عمل پر لوگ بھروسا کرسکیں۔ مسلمانوں کی تحریکوں کے ناکام ہونے یا ابتدا میں کامیاب ہوکر آخر کار ناکام ہوجانے کے اہم اسباب میں سے ایک سبب تنظیم کی کمی بھی ہے۔میں نے فیصلہ کیا کہ جماعت اسلامی کا نظم نہایت سخت اور مضبوط ہونا چاہیے۔ اس میں ذرہ برابر بھی ڈھیل گوارا نہیں کرنی چاہیے۔ ایک غیر منظم جماعت کبھی ایسی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی جو تنظیم کے ساتھ اٹھنے والی ہوں۔
"ایک اور چیز جس کو ہم نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھا وہ یہ تھی کہ جدید اور قدیم تعلیم یافتہ دونوں قسم کے عناصر کو ملا کر ایک تنظیم میں شامل کیا جائے اور یہ دونوں مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کی ایک تحریک چلائیں۔جماعت اسلامی نے جدید اور قدیم تعلیم یافتہ لوگوں کو ملا کر ایک مزاج اور ایک طرزفکر رکھنے والی مشترک قیادت فراہم کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے علماءجب کبھی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ ملے ہیں محض ایک مددگار قوت کی حیثیت سے ملے ہیں، قیادت میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا ہے۔۔ ان کاکام صرف یہ تھا کہ جس قیادت کی بھی وہ تائید کریں اس کے پیچھے مسلمانوں کو لگا دینے کی خدمت انجام دیں۔
"جماعت نے یہ کوشش بھی کی کہ ہر فرقہ اور مسلک کے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کیاجائے۔۔۔ جماعت اسلامی بنی ہی اس اصول پر ہے کہ آپ اپنا جو مسلک بھی رکھتے ہوں اس پر عمل کیجےے مگر دوسرے پر زبردستی اس کو نہ ٹھونسےے، جس عمل کو آپ صحیح نہیں سمجھتے وہ نہ کیجےے لیکن اس بات کا مطالبہ بھی نہ کیجےے کہ دوسرا بھی اسے صحیح نہ سمجھے اور اسے چھوڑدے۔ اس کے بعد ہم سب مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کریں۔
جماعت اسلامی کے نظام کو خرابیوں سے پاک رکھنے کے لیے ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ ارکان کے اجتماعات میں کھلا کھلا محاسبہ ہوتا ہے، صاف صاف تنقید ہوتی ہے جس شخص میں کوئی کمزوری ہویا جس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو بے تکلف اس پر گرفت کی جاتی ہے اور اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ تھی وہ جماعت جو ۳شعبان۱۳۶۰ھ27اگست 1941ءکو وجود میں آئی اور جو اپنی انھی خصوصیات کی بنا پر ولفریڈ کنٹویل سمتھ کے بقول پاکستان کی اہم ترین قوتوں میں سے ایک قوت بن گئی۔

دینی و سیاسی رہنماؤں کو دعوتی خطوط

اب سید صاحب نے پہلی بار جماعتی سطح پر برصغیر کے اصحا ب علم و فضل، علماءکرام اور دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوتی خطوط کے ذریعے مخاطب کیا۔ اس لحاظ سے ان خطوط کی نوعیت، خصوصی دعوت نامہ کی تھی۔ نعیم صدیقی اور مسعود عالم ندوی کے نام خطوط سے اس دعوت نامہ کی نوعیت اور اس کے مندرجات کا اندازہ کیاجاسکتا ہے جو اسی زمانے میں تحریر کیے گئے تھے۔ نعیم صدیقی کے نام لکھے گئے مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دعوت نامہ کتنے اور کن لوگوں کے نام لکھا گیا تھا۔ چند مسائل کے بارے میں نعیم صاحب نے استفسارکیا تھا۔ ان میں سے ایک کے جواب میں یکم اکتوبر1941ءکو لکھتے ہیں:۔
"میں نے ہندوستان کے تقریباً پچاس نمایاں اشخاص کو خطوط لکھے ہیں اور دستور جماعت اور پہلے اجتماع کی روداد روانہ کردی ہے۔ جب جوابات آنا شروع ہوں گے تو اندازہ ہوگا کہ مختلف حلقوں میں اس چیز کا کس طرح استقبال ہوا ہے۔ مسلم لیگ، احرار، جمعیت العلماء، کانگرس سب کے سب مسلمان لیڈروں اور اخبار نویسوں کو خطاب کیاگیا ہے۔
مولانا مسعود عالم ندوی کے نام جو مکتوب سید صاحب نے تحریر فرمایا، اس میں اس دعوت نامہ کی کچھ جھلک ملتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دعوت نامہ مِن وعن انہیں الفاظ میں دوسرے اصحاب کو بھی بھیجا گیا ہو۔ دستور جماعت اور تاسیسی اجتماع کی روداد بھیجتے ہوئے سید صاحب اپنے خط میں رقمطراز ہیں:
سکون کے لمحات میں صبر کے ساتھ ان کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ پھر اپنے قلب سے شہادت طلب کریں کہ جو جماعت اس عقیدہ اور نصب العین اور اس جماعتی نظام پرمبنی ہو، آیا حق اس کا ساتھ دینے میں ہے یا اس سے الگ رہنے میں،یا ا س کی مخالفت کرنے میں۔پھر آپ کا قلب جو شہادت دے اور جس پہلو کو اختیار کرنے میں آپ محسوس کریں کہ آخرت کی جوابدہی سے سبکدوش ہوسکیں گے اس کو اختیار فرمائیں۔

خاموشی اور طوفان

ان خطوط کے جواب میں کہیں سے کوئی رسپانس(Response) نہ ملا۔مکمل خاموشی طاری رہی۔ نصر اللہ خان عزیز کی روایت کے مطابق صرف ایک بزرگ نے جواب دینے کی زحمت گوارا کی، جنہوں نے اپنے جواب میں تحریر فرمایا کہ آپ نے ہمیں آزمائش میں ڈال دیا ہے، اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو دنیا بھر سے لڑنا پڑتا ہے،اور اس کی صداقت و اہمیت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔
دعوت نامہ کاجواب تو مسلمان قوم کے رہنماؤں اور صحافیوں کے طبقہ خواص نے دیا یا نہیں،عمومی سطح پر تاسیس جماعت کا ردِ عمل مختلف طبقات کے محدود دائرے کے اندر مختلف انداز میں ہوا۔ سید مودودی نے اسی زمانے میں ترجمان القرآن کے اشارات میں اس رد عمل کا جسے وہ استقبال کانام دیتے ہیں،ان الفاظ میں کیاتھا:
"جماعت اسلامی کی تشکیل کا استقبال مختلف حلقوں میں مختلف طور پرہوا ہے۔ کچھ اللہ کے بندے تو ایسے ملتے ہیں جو اس چیز سے واقف ہوتے ہی اسے اس طرح قبول کرتے ہیں گویا کہ وہ پہلے ہی اس کے طالب تھے۔ کچھ دوسرے لوگ اس پر غور کرتے ہیں اور مختلف قسم کے شبہات پیش کر کے مزید توضیح چاہتے ہیں۔ کچھ اور لوگوں کے دل نے گواہی دی ہے،کہ مخالف کے لائق اگر کوئی چیز ہے تو یہی ہے۔ اور ایک گروہ کثیر تربص و انتظار کی رو کو ترجیح دے رہا ہے۔
مثبت ردِ عمل کا ذکر تو ہم کسی اگلے باب میں کریں ، منفی رد عمل دو نوعیت کا تھا۔ ایک وہ جو محدود انفرادی سطح پر ہورہا تھااور دوسرا وہ جو اگرچہ تھا تو انفرادی ہی لیکن وہ پوری طرح ملکی سطح پر پھیلا ہوا تھا۔ پہلے گروہ میں جدید تعلیم یافتہ افراد اور خوددعوت قبول کرنے والوں کی برادری اور خاندان والے شامل تھے،جو اپنے محدود حلقے میں اس کا اظہار کررہے تھے اور دوسرے گروہ میں وہ اصحاب شامل تھے جو لوگوں کی عقیدتوں کا مرکز تھے یا علم وفضل اور ادب و صحافت کی دنیا میں اپنا مقام رکھتے تھے اور اس مقام کے حوالے سے ان کی کہی ہوئی بات مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کے ایک بڑے حصے تک پہنچتی تھی۔
جدید پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھنے والے اشتراکیت زدہ اور لادینیت کے علمبردار تو خاموش تھے۔ البتہ اس طبقے کے مسلمان ذہن کے حامل اعیان(elites)اپنے محدود دائرے میں جوردِ عمل ظاہر کر رہے تھے، وہ اس ذہنیت جو زندگی کے ہر نظریے کے بارے میں اپنے اندر رجا اور امید پاتی تھی، لیکن اسلامی زندگی کی نشاة ثانیہ اور احیاءکے لیے اس کے پاس مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔یہ ذہنیت جماعت اسلامی کی دعوت اور نصب العین کو سراہنے اور اس سے اتفاق کرنے کے باوجود اسے خیالی باتیں اور جنگل میں چیخنے کے مترادف سمجھتی تھی۔اور اس دعوت سے متاثرہ نوجوانوں کی زندگی میں جوتبدیلیاں رونما ہورہی تھیں انہیں غیر فطری نشوو نما گردانتی تھی،اس کا کہنا تھا کہ سید صاحب لاحاصل مقاصد کے لیے لڑ رہے ہیں۔
اس طبقے سے متعلق ایک بہت بڑے زعیم کا خیال تھا کہ بس یہ چند برسوں کا کھیل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودودی صاحب نے جن اصولوں پر اپنی جماعت قائم کی ہے وہ بتا رہے ہیں کہ یہ جماعت ایک دو سال سے زیادہ نہیں چلے گی۔ ان کے خیال میں یہ ایک دو سال بھی اس لیے کہ جنگ جاری ہے اور برطانوی حکومت کو اس کی جانب توجہ دینے کی فرصت نہیں ہے۔
دوسرا ردِ عمل دعوت اسلامی سے متاثر جماعت اسلامی میں شریک ہونے والوں کے اہل خاندان اور عزیزوں اور رشتہ داروں کا تھا۔ اس کی بھی کچھ تفصیلات آگے چل کربیان ہوں گی، تاہم یہ ردِ عمل بالکل فطری تھا۔ جب بھی خالص اسلام کی دعوت اٹھی ہے اس پر لبیک کہنے والے اسی قسم کے ردعمل سے دوچار ہوئے ہیں۔یہی کیفیت اب پیدا ہوگئی تھی۔وہ سب لوگ جن کے دنیوی مفادات پر ان کے بیٹوں اور عزیزوں کے اسلامی دعوت قبول کرنے سے ضرب پڑتی تھی مخالفت پراتر آئے تھے۔

جماعت اسلامی کا نصب العین

جماعت اسلامی کے نصب العین کا ذکر پہلے دستور جماعت کی دفعہ ۲ میں مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا گیا تھا:"جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود دنیا میں حکومت الٰہیہ کا قیام اور آخرت میں رضائے الٰہی کا حصول ہے"
"مومن کا کام بغاوت کو مٹانا ہے اور خدا کی سرزمین پر خدا کے سوا ہر ایک کی خداوندی ختم کردینا ہے۔مومن کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ جس طرح خدا کا قانون تکوینی تمام کائنات میں نافذ ہے، اسی طرح خدا کا قانون شرعی بھی عالم انسانی میں نافذ ہو۔ مومن کی تمام مساعی کا ہدف یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالے اور صرف خد کا بندہ بنائے۔ یہ کام فی الاصل تو نصیحت،فہمائش،ترغیب اور تبلیغ ہی سے کرنے کا ہے، لیکن جو لو گ ملک خدا کے ناجائز مالک بن بیٹھتے ہیں اور خداکے بندوں کو اپنا بندہ بنالیتے ہیں وہ عموماً اپنی خدا وندی سے محض نصیحتوں کی بنیا دپر دستبردار نہیں ہوجایا کرتے اور نہ وہ اس کو گوارا کرتے ہیں کہ عوام الناس میں حقیقت کا علم پھیلے کیونکہ اس سے ان کو خطرہ ہوتا ہے کہ ان کی خداوندی خود بخود ختم ہوجائے گی۔ اس لیے مجبوراً جنگ کرنی پڑتی ہے تاکہ حکومت الٰہیہ کے قیام میں جو چیز سدِ راہ ہو اسے راستے سے ہٹا دے"
"اقامت دین سے مقصودپورے دین کی اقامت ہے خواہ اس کا تعلق افرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے یا نماز، روزہ ،حج اور زکوٰة سے ہو یا معیشت و معاشرت یا تمدن و سیاست سے"
"جس چیز کو ہم قائم کرنا چاہتے ہیں اس کا جامع نام قرآن کی اصطلاح میں دین حق ہے یعنی وہ نظام زندگی (دین) جو حق (پیغمبروں کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق اللہ کی بندگی و اطاعت)پر مبنی ہو۔اس کے لیے ہم نے کبھی کبھی حکومت الٰہیہ کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے جس کا مفہوم دوسروں کے نزدیک چاہے جو کچھ ہو، ہمارے نزدیک صرف یہ ہے کہ (انسان) اللہ کو حاکم حقیقی مان کر پوری انفرادی واجتماعی زندگی اس کی محکومیت میں بسر کرے۔اس لحاظ سے یہ لفظ بالکل اسلام کا ہم معنی ہے۔ اسی بنا پر ہم تینوں اصطلاحوں (دین حق،حکومت الٰہیہ اور اسلام) کو مترادف الفاظ کی طرح بولتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کانام ہم نے اقامت دین، شہادت حق اور تحریک اسلامی رکھا ہے جن میں سے پہلے دو لفظ قرآن سے ماخوذ ہیں اور تیسرا لفظ عام فہم ہونے کی وجہ سے اختیار کیا گیا"
"مسلمانوں کو ہم جس چیز کی طرف بلاتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ادا کریں جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔وہ ذمہ داریاں کیا ہیں، وہ صرف یہی نہیںہیں کہ آپ نکاح ، طلاق ، وراثت وغیرہ معاملات میں اسلام کے مقرر کیے ہوئے ضابطے پرعمل کریں، بلکہ ان سب کے علاوہ ایک بڑی اور بہت بھاری ذمہ داری آپ پر یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ تمام دنیا کے سامنے اس حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں جس پرآپ ایمان لائے ہیں۔ مسلمان کے نام سے آپ کو ایک مستقل امت بنانے کی واحد غرض جو قرآن میں بیان کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ آپ تمام بندگان خدا پر شہادت حق کی حجت قائم کریں۔ اسی شہادت کے لیے انبیا ءعلیہم السلام دنیا میں بھیجے گئے تھے اور اس کاادا کرنا ان پر فرض تھا۔ پھر یہی شہادت تمام انبیاءکے بعد ان کی امتوں پر فرض ہوتی رہی اور اب خاتم النبیین کے بعد یہ فرض امت مسلمہ پر بحیثیت مجموعی اسی طرح عاید ہوتا ہے جس طرح حضور پر آپ کی زندگی میں شخصی حیثیت سے عاید ہوتاتھا۔شہادت حق کی یہی وہ ذمہ داری ہے جس کے لیے جماعت اسلامی قائم ہوئی۔ انفرادی طور پر افراد اور مختصر سے دائرے کے اندر ادارے پہلے بھی نیکی اور اصلاح کاکام کر رہے تھے، جماعت کی دعوت یہ تھی کہ یہ کام محدود سے دائرے میں نہیں زندگی کے وسیع میدانوں میں اجتماعی طور پر پوری امت ادا کرے اور اپنے قول و عمل سے شہادت حق کی اس ذمہ داری کو پورا کرے جو اس کوخاتم النبیین کی طرف سے سونپی گئی ہے۔اور یہ قولی و عملی شہادت اس وقت مکمل ہوسکتی ہے جبکہ "ایک اسٹیٹ انہی اصولوں پر قائم ہوجائے اور وہ پورے دین کو عمل میں لاکر اپنے عدل اور انصاف سے ،اپنے اصلاحی پروگرام سے، اپنے حسن انتظام سے، اپنے امن سے ،اپنے باشندوں کی فلاح و بہبود سے، اپنے حکمرانوں کی نیک سیرت سے، اپنی صالح داخلی سیاست سے ، اپنی راست بازانہ خارجی پالیسی سے ، اپنی شریفانہ جنگ سے اور اپنی وفادارانہ صلح سے ساری دنیا کے سامنے اس بات کی شہادت دے کہ جس دین نے اس اسٹیٹ کو یہ سب کچھ دیا ہے وہ درحقیقت انسانی فلاح کا ضامن ہے اور اسی کی پیروی میں نوع انسانی کی بھلائی ہے۔
یہ ہے وہ حکومت الٰہیہ جسے جماعت اسلامی نے اپنا نصب العین بنایا اور شہادت حق کا وہ فریضہ جس کی ادائیگی کی طرف مسلمانوں کو دعوت دے رہی ہے۔ یہی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے۔اسی کی شہادت نبی نے حجة الوداع کے موقع پر مجتمع امتیوں سے لی تھی اور پوچھا تھا کہ کیا میں نے حق کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔اور جب انہوں نے جواب دیا کہ پہنچا دیاہے تو فرمایاتھا: اے اللہ گواہ رہنا!"

جماعت اسلامی کی دعوت کے بنیادی نکات

اس مقصد اور نصب العین تک پہنچنے کے لیے جماعت اسلامی نے مسلمانوں کو جو دعوت دی وہ تین امور پر مبنی تھی۔ اول یہ کہ بندگان خدا بالخصوص مسلمان اللہ کی بندگی اختیار کریں۔ دوسرے یہ کہ اسلام قبول کرنے اور اس کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے اپنی زندگیوں کوتناقض، تضادات، اور منافقت سے پاک کریں اور مخلص مسلمان بن کر اسلام کے رنگ میں یک رنگ ہوجائیں۔ تیسرے یہ کہ زندگی کے باطل نظام کو جو باطل پرستوں اور فساق اور فجار کی قیادت میں چل رہا ہے اور معاملات کی زمام کار جو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے اسے بدلا جائے اور رہنمائی اور امامت نظری اور عملی دونوں حیثیتوں سے مومنین صالحین کے ہاتھ میں منتقل ہو
اور یہ تیسرا آخری کام اسی وقت انجام دیا جاسکتا ہے جب:
"اہل صلاح کا ایک ایسا گروہ منظم کیاجائے جو نہ صرف اپنے اپنے ایمان میں پختہ اور نہ صرف اپنے اسلام میں مخلص و یک رنگ اور نہ صرف اپنے اخلاق میں صالح و پاکیزہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ان تمام اوصاف اور قابلیتوں سے بھی آراستہ ہوجو دنیا کی کارگاہ حیات کو بہترین طریقے پر چلانے کے لیے ضروری ہیں، صرف آراستہ ہی نہ ہو بلکہ موجودہ کار فرماؤں اور کارکنوں سے ان اوصاف اور قابلیتوں میں اپنے آپ کو فائق ثابت کردے۔

طریقِ کار

جماعت اسلامی کا مستقل طریقِ کار یہ ہوگا کہ:۔

1  -  وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ خد اور رسول کی ہدایت کیا ہے۔ دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیشِ نظررکھے گی جہاں تک اسلام میں ا س کی گنجائش ہوگی۔
-  اپنے مقصد اور نصب العین کے حصول کے لیے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔
3  -  جماعت اپنے پیشِ نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔ یعنی یہ کہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعہ سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیاجائے جو جماعت کے پیش نظر ہیں۔
4  -  جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جدوجہد خفیہ تحریکوں کی طرز پر پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔
دعوت میں حکمت اور موعظہ حسنہ کا پہلو
اس طریقِ کار کاایک پہلووہ ہے جو قرآن کریم نے تعلیم کیا ہے ،وہ یہ ہے کہ تبلیغ کاکام حکمت اور موعظہ حسنہ سے کیاجائے۔حکمت کا مطلب یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر اسے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ایسے بہترین انداز میں کیاجائے کہ اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں۔ تاریخ اور فطری ترتیب کو ملحوظ رکھ کر کام کیاجائے، پہلے بنیادی اصولوں کی طرف دعوت دی جائے پھر ان کے مقتضیات اور لوازم کی طرف بلایا جائے، لوگوں کو اتنی ہی خوراک دی جائے جسے وہ ہضم کرسکیں اور جب دیکھیں کہ ان کی تبلیغ ودعوت کوئی اثر پیدا نہیں کر رہی ہے تو اپنے انداز ِتبلیغ کا جائزہ لیاجائے اور اس کے اندر کوئی خامی پائیں تو اسے دور کیاجائے اور اگر قصور دل کی زمین کا پائیں تو اس کو ترک کردیاجائے اور حق کی دعوت کا بیج بونے کے لیے دوسری زمین تلاش کی جائے۔ موعظہ حسنہ سے مراد یہ ہے کہ نہ تو زجر و توبیخ کا انداز اختیار کیاجائے اور نہ ایسا رویہ کہ گویا آپ داروغہ ہیں۔ بلکہ اپنی بات نرمی اور درد مندی سے کہی جائے، مخاطب محسوس کرے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی خیر خواہی کے لیے کہہ رہے ہیں۔ آپ کا رویہ وہ ہونا چاہیے جو ڈاکٹر کا اپنے مریض کے ساتھ ہوتا ہے۔ مخاطب کا رد عمل اگر ناگوار ہوتو اشتعال میں نہ آئیں اور اس کی ہر بات کشادہ دلی سے برداشت کریں:
"فروع کو اصولوں پر اور جزئیات کو کلیات پر مقدم نہ کریں۔ بنیادی خرابیوں کو رفع کیے بغیر ظاہری برائیوں اور بیرونی شاخوں کو چھانٹنے اور کاٹنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔غفلت اور اعتقادی و عملی گمراہیوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ نفرت و کراہیت کا برتاؤ کرنے کے بجائے ایک طبیب کی سی ہمدردی و خیر خواہی کے ساتھ ان کے علاج کی فکر کریں۔گالیوں اور پتھروں کے جواب میں دعائے خیر کرنا سیکھیں۔ ظلم اور ایذارسانی پر صبر کریں،جاہلوں سے بحثوں اور مناظروں اور لسانی مجادلوں میں نہ الجھیں۔ لغواور بیہودہ باتوں سے عالی ظرف اور شریف لوگوں کی طرح درگزر کریں۔ جو لوگ حق سے مستغنی بنے ہوئے ہیں ان کے پیچھے پڑنے کے بجائے ان لوگوں کی طرف توجہ کریں جن میں کچھ طلب حق پائی جاتی ہو،خواہ وہ دنیوی اعتبار سے کتنے ہی ناقابل اعتناءسمجھے جاتے ہوں اور اپنی تمام سعی و جہد میں ریا اور نمودونمائش سے بچیں۔ اپنے کارناموں کو گنانے اورفخر کے ساتھ ان کا مظاہرہ کرنے اور لوگوں کی توجہات اپنی طرف کھینچنے کی ذرہ برابر کوشش نہ کریں۔ بلکہ جو کچھ کریں اس نیت اور یقین واطمینان کے ساتھ کریں کہ ان کا سارا عمل خدا کے لیے ہے اور خدا بہرحال ان کی خدمات سے بھی واقف ہے اور ان خدمات کی قدر بھی اسی کے ہاں ہونی ہے خواہ خلق اس سے واقف ہوں یا نہ ہواور خلق کی طرف سے جزا ملے یا سزا"

صبر،محنت اور قربانیوں کا طلبگار کام

اور یہ کام کچھ آسان نہیں، بڑا ہی مشکل اور محنت طلب ہے اور اس کے ثمرات پکے ہوئے سیب کی طرح دوچار دن میں جھولی میں نہیں آ گریں گے بلکہ یہ کام برس ہا برس کی ان تھک محنت و مشقت چاہتا ہے اور اس عمل میں بسا اوقات قیامتیں سر سے گزرجاتی ہیں،اور ان کٹھنائیوں میں سے گزرے بغیر کارکنوں میں وہ اہلیت و صلاحیت اور بصیرت و پختہ کاری پیداہی نہیں ہوتی جو اس عظیم الشان کام کے لیے مطلوب ہے:
یہ طریقِ کار غیر معمولی صبراور حلم اور لگاتار محنت چاہتا ہے۔ اس میں ایک مدت دراز تک مسلسل کام کرنے کے بعد بھی شاندا نتائج کی وہ ہری بھر فصل لہلہاتی نظر نہیں آتی جو سطحی اور نمائشی کام شروع کرتے ہی دوسرے دن سے تماشائیوں اورمداریوں کا دل لبھانا شروع کردیتی ہے۔ اس میں ایک طرف خود کارکن کے اندر وہ گہری بصیرت، وہ سنجیدگی، وہ پختہ کاری اور معاملہ فہمی پیدا ہوتی ہے جو اس تحریک کے زیادہ صبر آزما اور زیادہ محنت و حکمت چاہنے والے مراحل میں درکار ہونے والی ہے اوردوسری طرف اس سے تحریک اگرچہ سست رفتار سے چلتی ہے مگر اس کاایک ایک قدم مستحکم ہوتا چلاجاتا ہے"
یہی وہ طریق کار ہے جس سے سوسائٹی کے بہترین جوہر رکھنے والے انسان تحریک کو میسر آتے ہیں:
صرف اسی طریقے سے سوسائٹی کا مکھن نکال کر تحریک میں جذب کیاجاسکتا ہے۔ اوچھے اور سطحی لوگوں کی بھیڑجمع کرنے کے بجائے اس طریق تبلیغ سے سوسائٹی کے صالح ترین عناصر تحریک کی طرف کھینچے جا سکتے ہیں اور سنجیدہ (Serious)   کارکن تحریک کو میسر آتے ہیں جن میں سے ایک ایک آدمی کی شرکت ہزار بوالفضولوں کے انبوہ سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔


نظام باطل کے ساتھ عدم تعاون

"ہمارے اس عقیدے اور ہمارے اس دعوے سے خود بخود یہ بات لازم آجاتی ہے کہ ہم اپنے حقوق کی بنیاد کسی غیر الٰہی قانون پر نہ رکھیں،حق اور غیر حق کا فیصلہ کسی ایسے حاکم کی حکومت پر نہ چھوڑیں جس کو ہم باطل سمجھتے ہیں۔اپنے عقیدے کے تقاضے کو اگر ہم سخت سے سخت نقصانات اور انتہائی خطرات کے مقابلے میں بھی پورا کر کے دکھا دیں تو ہماری راستی اور ہماری مضبوطی سیرت اور ہمارے عقیدے اور عمل کی مطابقت کاایسا بین ثبوت ہوگا جس سے بڑھ کر کسی دوسرے ثبوت کی حاجت نہیں رہتی۔ اور اگر کسی نفع کی امید یا کسی نقصان کا خطرہ یا کسی ظلم و ستم کی چوٹ ہم کو مجبور کردے کہ ہم اپنے عقیدے کے خلاف کام کر گزریں تو یہ ہماری کمزوری کا اور ہماری سیرت کے بودے پن کابھی ایک نمایاں ثبوت ہوگا جس کے بعد کسی دوسرے ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔

انقلابی اثرات

اب تک دعوت اسلامی، ترجمان القرآن کے ذریعے لوگوں تک انفرادی سطح پر پہنچ رہی تھی۔جماعت کی تشکیل کے بعد یہ جدوجہد منظم صورت اختیار کرگئی اور لوگ ان دائروں میں پہنچنے لگے جہاں ابھی تک ترجمان القرآن نہیں پہنچا تھا۔ اب دعوت کا لٹریچر منظم طریقے سے پھیلنے اور اپنے اثرات پیدا کرنے لگا۔ مردہ ضمیر زندہ اور سوئے ہوئے بیدار ہورہے تھے، ذہنوں کے سانچے بدل رہے تھے اور رسمی دینداری کی جگہ شعوری دینداری لے رہی تھی۔
زندگی کو دین و دنیا کے دو خانوں میں بانٹ دیا گیا تھا، اب ان کی تفریق مٹنے لگی تھی۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ حقیقت آنے لگی تھی کہ اپنے تمام معاملات اور انتظام دنیا کو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پرچلانے کا نام دین ہے۔اور دین قائم کرنے کی جدودجہد سے دانستہ کوتاہی برتنے کے بعد زہد و تقدس کے سارے مظاہر لاحاصل ہیں۔ بے مقصد زندگیاں بامقصد بن گئی تھیں۔ خیالات کی پراگندی دور ہونے لگی تھی اور اتحاد فکر پیدا ہونے لگا تھا۔

سلگتے مسائل

دعوت کادائرہ آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا، تاہم جتنا بھی تھا اس کے اندر صواب و ناصواب کے بارے میں بے چینی اور راہ حق کی تلاش و جستجو کا جذبہ فراواں تھا۔ دعوت سے متاثرہونےوالے معاشرہ کے کم و بیش ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ طبقات گونا گوں مسائل سے دوچار تھے،اور ان مسائل کے بارے میں ان کے اندر نئے نئے سوالات ابھر رہے تھے اور لوگ ان کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر معلوم کرنا چاہتے تھے۔خصوصاً معاشی و اقتصادی زندگی کے مسائل کے متعلق تجسس کی یہ رو بہت ہی تیز تھی، پھر ان میں جدید سیاسی و تہذیبی مسائل بھی تھے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے بڑے سوالات بھی۔ اسلامی ریاست میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟کافر حکومتوں کی ملازمتوں اور غیر اللہ کی اطاعت کے بارے میں قرآن و سنت کیا کہتے ہیں، غیر اسلامی اسمبلیوں کی رکنیت ، اشتہاری تصویریں،آڑھت کے ناجائز طریقے اوراس کاکمیشن، رشوت دینے کی مجبوری اور نامجبوری ،کاروبار میں اسلامی اخلاق کے تقاضے ، چور بازاری ، بچوں کے کھلونے، اشتہاروں کے ذریعے کیلنڈرکا استعمال، محصول سے بچنے کی تدبیریں اور مساعی، پردہ ، دار الکفر میں سودخوری،بکری ٹیکس ، والدین کی مشتبہ جائیداد اور کمائی، الغرض بیسیوں قسم کے فکری تہذیبی اور سیاسی وتمدنی اور معاشی وکاروباری مسائل تھے جن سے انہیں قدم قدم پر واسطہ پڑ رہا تھا۔ گندگی کا ایک تالاب تھا جو اچھل اچھل کر باہر آرہا تھا اورجس میں لوگ طوعاً وکرھاً کسی نہ کسی شکل میں آلودہ ہورہے تھے اور جس کا اس سے پیشتر اس طرح کبھی احساس تک نہ ہوا تھا،اب یہ صورت حال ایک مسلسل اضطراب کا باعث ہوتی جارہی تھی۔ اس سے پیدا ہونے والے سوالات اس امر کی علامت تھے کہ دلوں میں ان کے بارے میں ہلچل مچ گئی ہے۔
رکنیت کی ذمہ داریوں کا احساس
رکنیت اختیار کرتے وقت ہزار بار سوچنا پڑتا۔ یہ کوئی اعزاز نہ تھا کہ اس پر فخر کیاجاتا اور بڑھ بڑھ کر اس پر ہاتھ مارا جاتا، دوسرے طبقے کے ارکان مہینوں بلکہ ایک ایک دو دو برس آگے بڑھنے کی سوچتے رہتے۔ یہ ایک پہاڑ سے بھی بڑھ کر بھاری ذمہ داری تھی جس کو اٹھانے اور نبھانے کا امیدواررکنیت عہد کرتا۔اس ذمہ داری کا احساس اس کیفیت سے عیاں ہوتا جو حلف اٹھاتے وقت اس پر طاری ہوتی تھی۔نعیم صدیقی کے الفاظ میں امیدواررکنیت کے لیے یہ حشر کا وقت ہوتا۔۔۔ حلف اٹھاتے وقت وہ لرزتا اورکانپتا۔ بعض اوقات اس کی آواز منہ سے نہ نکل پاتی۔ وہ چند الفاظ بولتا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ اس کو یوں محسوس ہوتا گویا وہ اجتماع ارکان میں نہیں بلکہ عرصہ محشر میں کھڑا ہے اوراپنی کارکردگی کی جوابدہی کررہا ہے۔
جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے کو امیر جماعت اللہ سے ڈرتے رہنے،اس کی رضا چاہنے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنے کی وصیت کرتے اور تلقین فرماتے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار رہیں کہ اللہ کے فضل سے آپ کو اتنی قوت مل جائے کہ جو وفاداری بھی کسی وقت اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے منافی ہو اس کوآپ قربان کرسکیں"
رکنیت اختیار کرتے ہی ذہنی طور پر تبدیلی آجاتی۔ دعوت سے متاثر ہونے کے بعد رکنیت کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ایک شخص کو بڑی زبرست جدوجہد کرنا پڑی ، ایک لحاظ سے اپنے آپ کو مانجھنا اور جاہلی دور کے داغ دھبوں کوکھرچنا پڑتا۔ رکنیت اختیار کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ایک نیا انسان وجود میں آرہا ہے، جو میل کپٹ اور داغ دھبے باقی رہ جاتے رات دن ان کو صاف کرنے اور اصلاح قلب و نظر کی فکر دامن گیر رہتی۔ اب وہ دعوت اسلامی کا امین ہی نہ تھا، مبلغ بھی تھا اور اور معاشرے کے اندر اس کا نمائندہ بھی۔ وہ محسوس کرنے لگتا کہ سارا معاشرہ اس پر نگاہیں جمائے بیٹھا ہے کہ اسلامی دعوت کواپنانے اوردین کو قائم کرنے کا اتنا بڑا دعویٰ کرنے والا اپنے عمل و کردار کے لحاظ سے کتنا سچا ہے۔ اسے یہ بھی احساس ہوتا کہ جب وہ اس دعوت کو اپنے گردو پیش کی دنیا میں لے کرجائے گا تو وہ سب سے پہلے خود اس کی ذات کو اس دعوت کی کسوٹی پر پرکھے گی کہ خود اس کی اپنی زندگی اس پر کھرا سونا ثابت ہوتی ہے یا ایسی کھوٹی دھات جس پر سونے کا ملمع چڑھا دیا گیا ہو۔پھر دنیا والوں کا احتساب ہی نہیں آخرت کی مسﺅلیت کا احساس بھی اسے ہر وقت اپنے آپ کی اصلاح کے لےے مضطرب اور بے چین رکھتا۔ اس تصور سے وہ لرزاٹھتا کہ کہیں آخرت میں اس پر لِم تقولون مالا تفعلون کا جرم کبیر عاید نہ کردیا جائے۔

دعوت و تربیت کا انداز

فکر و نظر کی راستی ، اعمال و کردار کی صحت، جذبہ ذوق و شوق اور روح حیات برقرار رکھنے اور اسے ترقی دینے کے لیے تعلیم وتربیت کی طرف پوری توجہ دی جاتی۔ تحریکی لٹریچر کا مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ یہی وہ سرچشمہ تھا جس سے دینی و تحریکی شعور پاکرجماعت اسلامی وجود میں آئی تھی۔ نعیم صدیقی کے الفاظ میں "لٹریچر ہماری تحریک کی روح ہے۔ اس کو چھوڑ دینے کا مطلب اپنی روح سے کٹ جانا ہے"
لٹریچر کے مطالعہ کا شغف اتنا گہراتھا اور اسے اتنے ذوق و شوق سے بار بار پڑھا اور دوسروں سنایاجاتا تھاکہ اکثرارکان اورہمدردوں کو اس کے بعض حصے از بر ہوگئے تھے۔ تاہم تحریکی لٹریچر ہی پر اکتفا نہ کیاجاتا بلکہ کتاب و سنت کاعلم حاصل کرنے اور اس کے عطا کردہ فہم دین سے دامن دل بھرنے کی بھی کوشش کی جاتی کہ تحریکی لٹریچراسی کٹھالی میں تیار ہوا تھا۔ جماعت کے اجتماعات محض رپورٹیں دینے اور وصول کرنے اور مزید تبلیغی منصوبے بنانے ہی کے لیے نہ ہوتے بلکہ علم دین حاصل کرنے کا ذریعہ بھی تھے۔درس قرآن و حدیث کا باقاعدہ اہتمام کیاجاتا۔اس اہتمام ہی کا یہ مظہر تھا کہ کوئی مجلس ایسی نہ ہوتی جس میں دین کی بات نہ ہوتی۔
دعوت وتبلیغ کاکام بجائے خود ایک مسلسل جدوجہد کا طالب تھا۔ ارکان تھے یا ہمدرد اور متفق ہنگامہ آرائی کے طور طریق اختیارکرنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ ایک ایک دل کے دروازے پر دستک دیتے۔انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے تبادلہ خیالات کرتے اور لٹریچر کے ذریعے اسلامی فکر و نظر کی تبلیغ کرتے۔ ہر کارکن اپنی صلاحیت کے مطابق اپنے لیے دائرہ کارخود متعین کرتا یا مقامی جماعت اس کے لیے تفویض کرتی۔ دعوت وتبلیغ کاآغاز اپنے اعزہ و اقربا،اپنے دفتروں اور کارگاہوں میں کاموں کے ساتھیوں اور اہل محلہ سے کیاجاتا اور اسے پھیلانے اور دعوت کے بیج کو چلتے پھرتے بکھیرتے چلے جانے کے بجائے اپنے دائرے کے چیدہ چیدہ افراد پر توجہ مرکوز کی جاتی، جن کے اندر خیر وصلاح کو جذب کرنے کی صلاحیت محسوس کی جاتی ان پر خصوصی توجہ دی جاتی۔ ان کو مطالعے کے لیے لٹریچر دیاجاتا، ملاقاتیں کی جاتیں، ان کے شکوک و شبہات دور کیے جاتے اور اعتراضات کاجواب دے کر مطمئن کیاجاتا۔بحث مباحثے اور مجادلے سے گریز کیاجاتا، کوشش کی جاتی کہ افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔ اس طرح جس شخص سے رابطہ قائم کیاجاتا اسے جماعت کے اجتماعات میں شرکت کی دعوت دی جاتی تاکہ وہ دعوت کے ساتھ ساتھ جماعت کوبھی سمجھ لے۔ان اجتماعات میں قرآن و حدیث کا درس دیاجاتا۔ اس طرح قرآن و سنت سے واقفیت ، علم و فکر کو جِلا دیتی اور سیاسی و اجتماعی شعورپیدا کیاجاتا۔ ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا جاتا۔ جولوگ اس طرح جماعت سے متاثر ہوتے وہ اپنے اپنے حلقے میں انہی خطوط پر کام کرتے اور جماعت کا حلقہ آہستہ آہستہ بڑھتا اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا چلاجاتا۔ تبلیغ دین میں کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتے اور کوئی کوتاہی ہوجاتی تو استغفار کرتے اور زیادہ مستعدی سے کام کرتے اور اللہ سے زیادہ خدمت کی توفیق مانگتے۔

تنظیم سازی کاکام

فکرونظرکے اس انقلاب اور عمل و کردار کی اصلاح وتعمیر کے جذبہ فراواں کے ساتھ ساتھ دعوت پر لبیک کہنے والوں کی تنظیم کاکام بھی جاری تھا۔ تاسیسی اجتماع کے اختتام سے پہلے جو ہدایات امیرجماعت نے آخری اجلاس میں دی تھیں ان کے مطابق جس بستی میں دو یا اس سے زائد ارکان جماعت موجود ہوتے وہاں مقامی جماعت قائم ہوجاتی اور ارکان جماعت اپنے اندر سے صالح تر آدمی کو امیر منتخب کرلیتے۔اس انتخاب میں ان صفات کو سامنے رکھاجاتا جو اسلام نے مسلمانوں کے ہیئت اجتماعی کے سربراہ کے لیے متعین کی ہیں، یعنی وہ اپنے ساتھیوں میں تقوٰی، بصیرت، اصابت رائے اور عزیمت و حزم میں سب سے بڑھ کرہوتا۔اس انتخاب کی حتمی منظوری مرکز دیتا، اگر امیر جماعت ، جماعتی مصالح کی بنا پر کسی مقامی امیر کی امارت منظور نہ کرتے اور اس کے بجائے کسی دوسرے شخص کوامیر مقرر کرتے یا کسی کو معزول کر کے کسی اور کو مقرر فرماتے تو ہدایت تھی کہ اس پر برانہ مانا جائے،امیر جماعت پراعتماد کیاجائے اور ان کے فیصلے پر خوش دلی اور ڈسپلن کی پابندی اور اطاعت امیر کے جذبے کے ساتھ عمل کیاجائے۔ جو بھی نیا شخص جماعت میں داخل ہوتا تجدید ایمان کے بعد داخل ہوتا۔ امیر جماعت نے اپنی ہدایت میں یہ وضاحت کردی تھی کہ تجدید ایمان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شخص اب تک کافر تھا اور اب اسلام لا رہا ہے بلکہ یہ کہ جو عہد اس کے اور خدا کے درمیان پہلے سے موجود تھا ،آج وہ اسے تازہ اور خالص اور مضبوط کررہا ہے۔ آج سے وہ اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کررہا ہے، وہ زندگی جوایک بامقصد زندگی ہے، اس زندگی کو وہ خدا اور اہل ایمان کو گواہ بنا کر پورے شعور کے ساتھ اپنا رہا ہے اور اس مقصد زندگی کو غالب کرنے کی سعی و جہد کرنے اور اس راہ میں تن من دھن لٹادینے کا عہد کررہاہے۔

اہل قافلہ کے اوصاف

ان ہدایات کی روشنی میں دعوت و تبلیغ کاکام جاری تھا،دعوت سے متاثر ہونے والے جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے تھے، کاروان شوق میں اضافہ ہورہاتھا۔ اہل قافلہ گردوپیش کی ہنگاموں کی دنیا سے الگ تھلک تحریک کے نصب العین کو فکر و عمل کا مرکز بنائے۔ قدم بہ قدم منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔اسی زمانے میں جماعت کے نائب امیر مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے ایک مضمون میں حق کو قبول کرنے والوں کے جواوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان میں چند کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا تھا:۔
 -   وہ ہرقسم کے گروہی تعصبات اور آبائی تقیدات سے بالکل آزاد ہوتے ہیں۔
-   وہ اندھی تقلید کی بیماری سے پاک ہوتے ہیں، دوسروں کے پیچھے چلتے ہوئے خود اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھتے ہیں۔
-   وہ حق کی کسوٹی صرف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو مانتے ہیں۔ اشخاص کو حق و باطل کا معیار نہیں بناتے۔
-    اخلاقی اعتبار سے اپنی سوسائٹی میں نمایاں ہوتے ہیں، پست ہمت ، ضمیر فروش اور خود غرض نہیں ہوتے اور نہ باطل کا مقابلہ کرنے میں بزدل ہوتے ہیں۔
-    وقت کے نظام باطل سے ان کی وابستگی ہوتی بھی ہے تو خودغرضانہ نہیں ہوتی۔
-     وہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے کہ اپنی ذات اور اپنے حلقے سے باہر نہ کسی خیر کا تصور کرسکیں اور نہ کسی کی رہنمائی قبول کرسکیں۔
ان اوصاف کی روشنی میں انہوں نے تحریک اسلامی اور جماعت میں شریک ہونے والوں کے متعلق تحریر کیا تھا کہ یہ لوگ ہر گروہ اور ہر طبقے کے افراد ہیں۔ وہ بھی ہیں جوانگریزی درسگاہوں کی قتل گاہوں سے بچ کر آئے ہیں،وہ بھی ہیں جو عربی مدرسوں سے نکل کر آئے ہیں، وہ بھی ہیں جو وقت کی مختلف تحریکوں سے متاثر رہے ہیں، وہ بھی ہیں جو مذہبی گروہوں اور حلقوں سے کسی نہ کسی نوعیت سے وابستہ رہے ہیں۔ ہر طرح کے لوگ اس جماعت میں آکے شامل ہوئے ہیںلیکن ان میں سے ہر شخص اپنے اندر وہ خوبیاں ضرور رکھتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں اور وہی خوبیاں تھیں جو اس کو اس دعوت کی طرف کھینچ کر لائیں جو اقامت دین کے لیے اس کے سامنے بلند کی گئی۔

توسیع دعوت کے لیے منصوبہ بندی

تاسیس جماعت کے اجتماع میں رفقائے جماعت کو اجتماعی میدان عمل میں رخصت کرتے وقت سید صاحب نے جو ہدایات دی تھیں ان کے مطابق جماعتی زندگی اور دعوت کاآغاز ہوگیا تھا اور تاسیس جماعت تک دعوت سے متاثرہونے والے اصحاب اس اجتماعی زندگی کے ساتھ منسلک ہورہے تھے اور گردو پیش کے ہنگاموں سے جن کا تحریک کے نصب العین سے کوئی تعلق نہ تھا ان سے الگ ہو کر اپنے کام میں لگ گئے تھے اور نئے نئے دائروں میں پہنچ رہے تھے۔ جماعت کے شعبہ جات میں دعوت وتبلیغ سب سے اہم شعبہ تھا اور اسی کی کارکردگی پر ساری کامیابی کا انحصار تھا۔ جماعت اسلامی میں شامل ہونے والا ہر رکن اس شعبہ کارکن تھا۔ ہدایات تھیں کہ اسے ہمیشہ ایک مبلغ کی زندگی بسر کرنی ہوگی۔اس کے لیے لازم تھا کہ جہاں جس حلقے میں بھی اس کی پہنچ ہوسکے جماعت کی دعوت کو پھیلائے اور جماعت کے نظام کی وضاحت کرے۔اس مقصد کے لےے آٹھ حلقے متعین کردیے گئے تھے۔
1  -  کالجوں اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا حلقہ
2  -  علماءاور مدارس عربیہ کا حلقہ
 3  -  صوفیا اورمشائخ طریقت کا حلقہ
4  -  ریاسی جماعتوں کا حلقہ
5  -    شہری عوام کا حلقہ
 6  -   دیہاتی عوام کا حلقہ
7  -  حلقہ خواتین
8  -   غیرمسلموں کا حلقہ
ہدایت کی گئی تھی کہ جماعت کا ہر رکن اپنے متعلق ٹھیک ٹھیک اندازہ کرکے صرف انہیں حلقوں میں تبلیغ کرے جن میں وہ کام کرنے کی اپنے اندر صلاحیت واہلیت پاتا ہو۔ اگرتجربہ سے کسی رکن کو معلوم ہوجاتا کہ وہ اپنے منتخب شعبے میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ہدایت تھی کہ وہ اس شعبے میں تبلیغ کرنے سے پرہیزکرے ورنہ وہ لوگوں کو قریب لانے کے بجائے انہیں دور پھینک دینے کا موجب ہوسکتاہے۔

مبلغین کی رہنمائی

دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں بنیادی ہدایت یہ تھی کہ جزئیات کے بجائے اپنی توجہ اصل الاصول پر مرتکز کی جائے،فروع کی کانٹ چھانٹ اور اصلاح پر صلاحیتیں اورقوتیں صرف کرنے کے بجائے اصل کی اصلاح کی جائے، فروع کی اصلاح خود بخود فطری نتیجے کے طور پر ہوجائے گی۔ مقامی حالات کاجائزہ لے کر لوگوں کی جزئی گمراہیوں اصل اسباب کا پتہ چلانا چاہیے،اور پھران اسباب کو دور کرنے کے لیے ان پر ضرب لگائی جائے۔اس کام کے دوران میں شاخ در شاخ پھیلی ہوئی خرابیوں کی کثرت سے نہ تو گھبرانا چاہیے اور نہ حوصلہ ہارنا چاہیے۔خرابیوں کی جڑ کاٹنے کی جانب متوجہ رہنا چاہیے کہ جڑ کاٹ دی گئی تو شاخیں خود بخود کٹ جائیں گی۔ اسی طرح جن اچھائیوں کو فروغ دینا ہے ان کی جڑ کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر پوری جانفشانی کے ساتھ اس کی آبیاری میں لگ جانا چاہیے۔ جڑ اگر مضبوطی سے قائم ہوگئی تو پتے اور پھل خود بخود نمودار ہوتے جائیں گے۔ جماعت کا لٹریچر اسی اصول پر لکھا گیا تھا۔ اس میں بنیادی امور کو مستحکم کرنے کے لیے پورا زور استدلال صرف کیاگیا تھا، مگر جزئیات اور فروعات کو بالعموم نظر انداز کردیاگیا تھا۔ شاخوں کو کاٹنے چھانٹنے کی بجائے جڑ اور تنے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور اسے عملاً اپنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ ہدایت بھی تھی کہ تبلیغ کاکام کرنے والے اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کریں کہ جس زمین میں وہ ہل چلانے چلے ہیں وہ ایک چٹیل میدان ہے جو جھاڑ جھنکار سے بھرا پڑا ہے۔ اس زمین کو کاشت کے قابل بنانے اور پھربیج بوکر پھل حاصل کرنے تک کے مراحل بڑے محنت طلب اور صبرآزما ہیں۔اس مقصد کے لیے ایک لمبے عرصے تک بے پناہ محنت درکار ہے، محنت کیجےے اور نتیجے کواللہ پر چھوڑ دیجےے۔
ہدایت تھی کہ لوگوں کوجماعت کی طرف نہ بلایا جائے بلکہ جماعت کے بجائے عقیدہ اور نصب العین کی طرف دعوت دی جائے جن پر جماعت قائم ہوئی تھی۔
ایک اہم ہدایت یہ تھی کہ جماعت کو کمیت  (quantity)  نہیں کیفیت  (quality)  مطلوب ہے۔انتشار فکر کی شکار بھیڑ جمع نہ کی جائے،بلکہ ایسے لوگوں کومجتمع کیاجائے جن کا عقیدہ پختہ ہو اور جو جماعت کے نصب العین اور طریق کار کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں اور پھر جو بھی آئے اس کے بارے میں یکسو ہوکر آئے۔
تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں ایک ہدایت یہ تھی کہ وہ اپنے اندر خلوص پیدا کریں اور ایسا رویہ اختیار نہ کریں جن سے آپ دعوت پھیلانے کے سب سے اہم ہتھیاروں سے محروم ہوجائیں۔ چنانچہ ایک بار رپورٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:"مخالف جماعتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان پر چوٹ نہ کریں اور نہ طعن و طنزکی زبان اختیار کریں کہ انسان کے قول و فعل میں خلوص نہیں پیدا ہوتا اور خلوص کے بغیر دعوت حق کودوسروں کے دل ودماغ میں اتارنا ناممکن ہے۔ اگر دعوت کو دلوں میں اتارنا چاہتے ہیں تو غضب، طنزو تعریض،درشت زبانی اور تلخ گفتاری کے ہتھیار کھول ڈالیے۔ آپ کسی سے لڑنے نہیں جارہے، تعلیم وتبلیغ کی مہم درپیش ہے اور اس کے لیے دل سوزی، ہمدردی اور احساس اخوت کے اسلحہ ہی مفید ہوسکتے ہیں۔

ملاقاتیں

انفرادی ملاقاتوں اور لٹریچرکودعوت کے کام میں بنیادی اہمیت حاصل تھی اور اس میں داعی اور مبلغ کا تحریکی جذبہ گویا زندگی کی روح بھردیتا تھااور جماعت اسلامی کے اس ابتدائی دور کے ارکان اس جذبہ حیات افزا سے بھرپور سرشار تھے۔ نعیم صدیقی کے الفاظ میں:
"توسیع دعوت کا خبط تھا۔یہ جذبہ کہ جو حق ہمیں ملا ہے دوسروں تک بھی پہنچ جائے۔ چلتے پھرتے، دفتر،دکان پرہرجگہ ہم کو دعوت پھیلانے کی فکر رہتی تھی۔ گھر میں ہوتے تو بچوں کو دین کی تعلیم دیتے۔ اس کی فکر کرتے کہ ہمارا کوئی فعل ایسانہ ہو جس سے بچوں کو غلط سبق ملے۔ ہمارا وطیرہ ہوتا تھا کہ اجتماع سے گھر آتے تواجتماع کی روداد سب سے پہلے اپنے گھر والوں سے بیان کرتے۔ اس طرح ہمارا گھریلو ماحول ہمارے لیے سد راہ بننے کے بجائے سازگار ہوتا چلا گیا۔ پھر گھرسے باہر نکلتے تو دعوت کی کوئی چیز ہمارے پاس ضرور ہوتی۔ ہم لوگوں کے پاس چل کرجاتے اور یہ توقع نہ رکھتے کہ وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ جماعت کا ہر کام خود کرتے۔ اس سے ہمارے تحریکی جذبے کو تقویت ملتی۔ پوسٹر ہاتھوں سے لگانے سے جو جذبہ ابھرتا ہے وہ کرائے پر لگوانے سے نہیں ابھرتا۔ (دیہات میں دعوت لے کر گھومتے خود میاں طفیل محمد صاحب گشت کرتے)۔ پاکستان پہنچے تو اچھرہ کی ایک ایک گلی چھان ماری۔ ہم کو اس کی پروا نہ تھی کہ کوئی ہماری دعوت قبول کرے گا یانہیں۔ ہمارے ذہن میں فقط ایک بات بیٹھی ہوئی تھی کہ ہمیں اپنی بات پہنچانی ہے۔
اس زمانے میں جماعت کے کسی کارکن کا تصور اس کے ہاتھ میں تھیلے کے بغیر کیاہی نہیں جاسکتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت کارکنوں کے ہاتھ میں تھیلا ہوتا جس میں کچھ کتابیں کتابچے وغیرہ ہوتے جس سے گفتگو کرتے دعوت اسلامی ان کا موضوع ہوتا۔ملاقاتی کو پڑھنے پر مائل پاتے تواسے کوئی کتاب یا کتابچہ پڑھنے کے لیے دے دیتے۔ خوددعوت کے داعیوں کو اس مہم پر نکلنے سے پہلے اپنے آپ کو جس سانچے میں ڈھالنا ضروری تھا سید صاحب اس کے متعلق بھی وقتاً فوقتاً ہدایات دیتے رہتے تھے کہ ایک داعی کی صفات سے مزین کیے بغیر اس مہم پر نکلنا نہ تو خود داعی ہی کو زیب دیتا ہے اور نہ اس کی دعوت میں ایسی تاثیر پیدا ہوسکتی ہے کہ وہ دلوں میں اتر جائے۔چنانچہ سید صاحب کی جماعت کے تینوں طبقات سے متعلق افراد کو ہدایت تھی کہ "وہ اپنی شصی اصلاح کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہیں اور اپنے اندر وہ اخلاقی اوصاف حسنہ پیدا کریں جوکسی داعی الی اللہ فرد یا جماعت کے لیے قرآن و سنت ضروری قرار دیتے ہیں،منظم و مربوط ہوں، آپس میں تعاون کریں اور شانہ سے شانہ ملا کر چلیں۔ اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کریں کہ اس کے بغیر مجاہدہ ممکن نہیں ہے۔ جلد بازی سے شدید اجتناب کریں۔ جدوجہد کے دوران جودشواریاں، مخالفتیں اور مزاحمتیں پیش آئیں تو ان کے مقابلے میں استقامت دکھائیں۔ مقصد کی راہ میں بڑے بڑے خطرات ، نقصانات اور خوف و طمع کے مواقع پیش آئیں تو قدم کو لغزش نہ آنے دیں۔ اشتعال جذبات کے سخت سے سخت مواقع پر بھی اپنے ذہن کا توازن نہ کھوئیں۔ وقت ،محنت اور مال کا ایثار پیدا کرنے کی اپنے اندر صفت پیدا کریں، دل کی لگن سے کام کریں، دل کے اندر کم از کم ایسی آگ بھڑک اٹھنی چاہیے جو اپنے بچے کو بیمار دیکھ کر ہوجاتی ہے۔مسلسل اور پیہم سعی اور منضبط (Systematic)طریقے سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ ہنگامہ خیزی اور ہنگامہ آرائی سے گریز کریں، اپنی اس محنت اور جدوجہد کے صلے اور داد کے صرف اللہ سے طالب ہوں اور دنیا کا کوئی مقصد اور مفاد سامنے نہ رکھیں، فوری نتیجے کی خواہش بھی نہ رکھیں اپنی ساری عمر بھی کھپانی پڑے تو کھپادیں۔ اپنے اندر للٰہیت اور آخرت کی جوابدہی کااحساس پیدا کریں، اپنے آپ کا احتساب کریں اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی فکر کریں۔

دعوت و تبلیغ کے ذرائع

ان ہدایات کے ساتھ کارکن اپنے سامنے وسیع میدان میں پھیل گئے۔ دائرہ کار دو حصوں پر مشتمل تھا۔ اندرون ملک اور بیرون ملک، دعوتی جدوجہد کے یہ دونوں دائرے دیتے۔
انفرادی ملاقاتوں کے علاوہ دو دو تین تین آدمیوں کے وفود بنالیتے اور اپنے گردو پیش کی بستیوں میں جاتے اور ہر پڑھے لکھے انسان (مسلم و غیر مسلم)تک اپنا لٹریچر پہنچاتے۔ کوشش کرتے کہ ہر بستی میں کم سے کم ایک شخص ایسا مل جائے جو س کارِ خیر میں عملاً جماعت کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہواور اپنی بستی اور نواحی بستیوں میں کام کا مرکز بن جائے۔ان وفود کے سلسلے میں ہر رکن اور ہمدرد کو لازماً وقت دینا ہوتا، تاہم ہدایت تھی کہ یہ وقت اتنا اور ایسا ہونا چاہیے جو وہ بہ آسانی دے سکیں۔ کوئی شخص مہینے میں ایک ہی دن دے سکتا اس سے ایک ہی دن لیاجاتا، پڑھے لکھے لوگوں تک لٹریچر پہنچانے کے ساتھ عام دیہاتیوں کو کلمہ طیبہ کے معنی اور اس کے تقاضے سمجھاتے اور بتاتے کہ اس کلمہ کے پڑھنے والوں پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، میاں طفیل محمد اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"جب اسلامیہ پارک میں مولانا مرحوم رہتے تھے، اس زمانے میں ہم نیاز بیگ ، ہنوال ، کھاڑک اور ڈھولن وال وغیرہ میں وفود کی شکل میں جایا کرتے تھے۔ آدمی اپنے کھیتوں میں اپنا ہل یا رہٹ چلا رہا ہوتا اور ہم اس کے پیچھے چلتے اور اسے دین کی باتیں سمجھاتے

لٹریچر:

جماعت کی دعوت پھیلانے میں لٹریچر سب سے اہم ذریعہ تھا۔ یہ لٹریچر اپنے وقت کا بہترین اور مؤثر ترین اسلامی لٹریچر تھا، قلب ونظر کی دنیا میں انقلاب لے آنے والا لٹریچر۔ ابتدا میں یہ لٹریچر صرف اردو زبان میں تھا۔ اگرچہ اردو برصغیر کے ہر گوشے میں بولی اور سمجھی جاتی تھی اور دعوت کے مخاطبین اول یعنی مسلمانوں کے پڑھنے لکھنے کی زبان یہی تھی تاہم وسیع و عریض رقبے میں پھیلے ہوئے نیم براعظم میں مقامی زبانیں اور بولیاں بجائے خود بڑی اہمیت رکھتی تھیں۔،اور اسلام کی تعلیمات اور اقامت دین کی دعوت پھیلانے کے لیے ضرورت تھی کہ ان لوگوں کو ان کی مقامی زبانوں میں مخاطب کیاجاتا ااور ان تک پہنچایا جاتا۔ چنانچہ تاسیس جماعت کے بعد بالکل ابتدائی برسوں ہی میں فیصلہ کرلیاگیا کہ تحریک اور جماعت کے لٹریچر کو مقامی و علاقائی زبانوں میں منتقل کرنے کے لیے دار الاشاعت قائم کیے جائیں اور وہاں کے باشندوں تک ان کی اپنی زبانوں میں پہنچایا جائے۔چنانچہ6۔1945ءتک سندھی، گجراتی،ملیالم،ٹامل، کنٹری اور بنگلہ اور پشتو زبانوں میں لٹریچر منتقل کرنے کا بندوبست ہوچکا تھااور دارالاشاعت قائم ہوچکے تھے اور کام ہونے لگا تھا۔ اگرچہ یہ کام مالی اور ملک کے سیا سی حالات کی وجہ سے بہت سست رفتاری سے ہورہا تھا تاہم ہر جگہ کام کی بنیاد پڑ گئی تھی اور جیسے جیسے لٹریچر ان زبانوں میں منتقل ہورہا تھا دعوت کا دائرہ وسیع ہورہا تھا۔

خطابات:

اشاعت و تبلیغ کا تیسرا ذریعہ خطابات اور تقریریں تھیں تاہم اس سلسلے میں احتیاط کی ضر ورت پر زور دیاجاتا۔مجمع کی نفسیات اور ذہنی کیفیت کو مدنظررکھ کر خوراک دینےکی تلقین کی جاتی اور یہ تاکید کی جاتی کہ حتی الامکان لٹریچر میں پیش کی ہوئی باتوں کے علاوہ اور کوئی بات نہ کہی جائے۔ فروعات میں الجھنے سے مکمل اجتناب کیا جائے اور اپنے موضوع کو اصولی باتوں تک محدود رکھاجائے۔تقریراس وقت کی جائے جب لوگ خود بلائیں اور پرزور مطالبہ کریں یا پھر کسی خطرناک اقدام کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہو۔
جماعت کے مزاج اور طریق کار کے مطابق مقررین تیار کرنے کے لیے ارکان کے فکری و عملی تربیتی اجتماعات میں تقریروں کی مشق کرائی جاتی اور پھر مرکز سے ایسے لوگوں کو مقرر کیاجاتا جو جماعت کے مزاج اور طریق کار کے مطابق تقریریں کرنے کی پوری طرح تربیت حاصل کرلیتے۔ مرکزی اجتماعات میں بھی اور مرکز کی نگرانی میں ہونے والے علاقائی اجتماعات میں بھی کئی برس تک سید مودودی صاحب اور مولانا امین احسن اصلاحی ہی خطاب کیاکرتے تھے۔ بعد ازاں قیم جماعت میاں طفیل محمد اور ملک نصر اللہ خان عزیز بھی ضرور ت کے وقت تقریر کرتے۔ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی کہ اس زمانے میں بے لگام جذباتی تقریریں کرنے کا عام رواج تھا۔ مقررین جوش تقریر میں پھکڑ بازی پراترآتے اور بے سروپاباتیں کہہ جاتے۔

اجتماعات

توسیع دعوت کا چوتھا بڑا ذریعہ اجتماعات تھے۔ دعوت کو کامیابی سے پھیلانے کے لیے ضروری تھا کہ ارکان ، ہمدردوں اور متفقین کے درمیان باہم نہایت گہرا رابطہ ہو، وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ اجتماعات اس مقصد کو پورا کرتے جہاں بھی جماعت قائم تھی یا ہمدردوں کا حلقہ موجود تھا اجتماعات کا اہتمام و التزام کیاجاتا۔ مقامی طور پر ہفتہ وار اجتماعات ہوتے، بعض اضلاع کے لوگ ہر ماہ مل کر بیٹھتے اور دعوت پھیلانے کے لیے آپس میں تعاون کی راہیں نکالتے، گزشتہ کاموں کا جائزہ لیتے اور آئندہ کے لیے کام کو بڑھانے کی صورتیں سوچتے اور پروگرام بناتے، ڈویژن کی سطح پر سہ ماہی اجتماعات ہوتے۔ یہ اجتماعات ہمیشہ بدل بدل کر مختلف مقامات پر کیے جاتے جن میں ایک نہ ایک ایسا اجلاس ضرور رکھا جاتا جس میں عامة الناس کو شرکت کی دعوت دی جاتی۔ اس طرح ان مقامات اور ان کے گردو نواح میں جماعت کی دعوت کو پھیلانے کے نئے نئے مواقع سامنے آتے اور اس علاقے کے متاثرین ایک محور پر سمٹتے چلے آتے۔

درس قرآن وحدیث

جماعت کے اجتماعات میں ارکان اور ہمدردوں کے فکر و کردار کی تربیت اور دعوت کی صحیح خطوط پر اشاعت و توسیع کے لیے درس قرآن و حدیث بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ تاہم جہاں کہیں بھی ہوسکتا ان اجتماعات سے الگ بھی درس قرآن و حدیث کا اہتمام کیاجاتا۔ یہ درس بالعموم مساجد میں ہوتے۔ جہاں کہیں کوئی عالم دین رکن ہوتے وہی یہ درس دیا کرتے۔ جماعتی اجتماعات میں درس قرآن دینے کی تربیت دی جاتی تھی کہ ایک ہفتے تک مختلف ارکان قرآن مجید کے دو دو چار چار رکوع مختلف تفسیروں کی مدد سے پڑھتے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں اور ضروری نوٹس لے لیں۔تفسیروں کے سلسلے میں بھی رہنمائی کی جاتی۔ اردو تفسیروں میں احسن التفاسیر، مواہب الرحمن، بیان القرآن اور مولانا ابولکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن اور عربی تفسیروں میں ابن کثیر ، کشاف اور بیضاوی سے مدد لینے کی تلقین کی جاتی۔ حدیث کے لیے مشکوة شرےف شروع کی ہو تو اس کی اردو شرح مظاہر حق اور عربی شرح التعلیق الصحیح سے مدد لینے کو کہتے۔ مشکلات پیش آئیں تو ہدایت تھی کہ ان کے نوٹس لے لیں اور مقامی علماءسے حل کرائیں۔ یہ تلقین بھی ہوتی کہ درس دیتے وقت حتی الامکان خیالات کی بلند پروازی سے کام لینے کی کوشش نہ کی جائے۔

دارالمطالعہ

پڑھے لکھے لوگوں تک پہنچنے کا یک اہم ذریعہ دار المطالعے تھے جو مقامی جماعتوں اور حلقوں نے یا انفرادی طور پر ارکان نے قائم کررکھے تھے۔ دارالمطالعہ کی نگرانی جن اصحاب کے ذمہ تھی وہ لوگوں کو محض کتابیں دینے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ یہ بھی دیکھتے رہتے کہ کون لوگ کیا پڑھتے ہیں اور کس حد تک دلچسپی لیتے ہیں۔ اس مطالعہ کی روشنی میں ارکان اور ہمدرد اور متفقین ان لوگوں سے شخصی طور پر ملتے اور تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کرتے اور ان کی فکری الجھنوں کو سلجھاتے، ان کے شکوک و شبہات رفع کرتے اور بتدریج اپنے نقطہ نظر کے قریب لاتے۔ اس طرح اندازہ ہوجاتا کہ کس قسم کے لوگ کس حد تک جماعت کے خیالات سے متاثر ہیں اور ان کی ہم خیالی سے کہاں تک فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ سید صاحب دوسرے امور کی طرح دار المطالعہ کے بارے میں بھی اجتماعات کے مواقع پر وقتاً فوقتاًہدایات دیتے اور اس اہم کام کی طرف توجہ دلاتے رہتے۔ یہ دار المطالعے مستقل بھی ہوتے اور سفری لائبریری کی صور ت میں بھی۔ اس طرح نہ صرف لٹریچر زیادہ سہولت کے ساتھ بڑی تعداد میں پہنچ جاتا، بلکہ جو لوگ خریدنا چاہتے وہ بھی آسانی سے خرید لیتے۔

تعلیم بالغاں

توسیع دعوت میں جو ذرائع استعمال کیے جارہے تھے ان میں تعلیم بالغاں کا سلسلہ بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ سید صاحب اس کام پر بڑا زور دیتے تھے اور اسے عوام تک اپنی دعوت پہنچانے اور انہیں اپنے قریب لانے کا بہت ضروری ذریعہ قرار دیتے۔ چنانچہ کارکنوں کو اپنی ہدایات میں اس کے خطوط کار کی برصغیر میں آخری اجتماعات تک میں وضاحت کرتے رہے۔ اجتماع ٹونک اپریل  1947 ء  کے اختتامی اجلاس میں اس سلسلے میں ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:
'اگر آپ کو آگے چل کر کام کرنا ہے اور اپنی تحریک کو دیہاتوں میں،مزدوروں میں اور عام شہریوں میں پھیلانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ عوام سے قریب ہونے کی کوشش کریں اور ان کے اندر کام کرنے کے لیے خود ان میں سے کارکن تیار کریں۔ تعلیم بالغاں سے یہی مقصد ہمارے پیش نظر ہے۔ اپنی بستی کے ان پڑھ عوام کے ساتھ اپنے روابط بڑھائیے اوران کی روزانہ زندگی اور معاملات میں دلچسپی لیجےے۔ ان کے سامنے ان پڑھ رہنے کے نقصانات واضح کیجےے۔ پھر جب ایک دو آدمی بھی پڑھنے کے لیے تیار ہو جائیں تو بلا معاوضہ ان کو پڑھانا شروع کردیجئے۔ اس سلسلے میں جس سامان کی ضرورت ہو وہ خود مہیا کیجئے۔
تاہم یہ ہدایت بھی کی کہ اَن پڑھ لوگوں کو محض ضابطے کی تعلیم دینے سے وہ نتائج نہیں نکل سکتے جو مطلوب ہیں۔ اس خدمت کے ساتھ اپنے اخلاق سے انہیں متاثر کیجئے، ان کے ساتھ محبت ، ہمدردی اور مساوات کا برتاؤ کیجئے، ہر مصیبت میں کام آئیے اور ان کے سچے دوست مخلص مشیر بن کر رہیے۔ان کی اخلاقی اور دینی اصلاح میں بے صبری سے کام نہ لیجئے، براہ راست تبلیغ کی نسبت بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب وہ اردوعبارت پڑھنے کے قابل ہوجائیں تو انہیں جماعت کے لٹریچر میں سے آسان چیزیں کورس کے طور پر پڑھانی شروع کریں۔ اس طرح آپ دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ ان کے عقائدواخلاق اور اعمال سے درست ہوتے چلے جائیں گے اور آگے چل کر یہی لوگ اپنے طبقے میں اس تحریک کے کارکن بن جائیں گے۔
سید صاحب نے اجتماع دارالسلام  (1945ء)  کے اختتامی اجلاس میں اپنی تقریر میں فرمایا:"میں چاہتا ہوں کہ یہ کام ہر جگہ شروع ہوجانا چاہیے۔ اس سے ایک تو اللہ کی را ہ میں باقاعدہ طور پر وقت کی قربانی کرنے کی عادت پڑے گی۔ دوسرے عوام سے آپ کا براہِ راست رابطہ ترقی کرے گا اور آپ ان سے بلاواسطہ خطاب کے مواقع حاصل کریں گے۔ نیز آپ تعلیم کو پھیلا کر اپنے لٹریچر کو پھیلانے اور اپنے پیغام کو فروغ دینے کے لیے بہت وسیع میدان تیار کرلیں گے۔ جو لوگ بھی آپ کی اس بلا معاوضہ خدمت سے فائدہ اٹھائیں گے وہ آپ کے اخلاق سے اتنے متاثر ہوجائیں گے کہ نہایت آسانی سے آپ کی بات ان کے دلوں میں اتر جائے گی۔
مدارس کا قیام
درسگاہیں بھی توسیع دعوت کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔ چنانچہ رفقائے جماعت جہاںبھی مالی اور افرادی قوت موجود پاتے، ان کے قیام کی کوشش کرتے۔ رپورٹوں میں اس کا ذکر آیا تو امیر جماعت نے اس پر اظہار مسرت فرمایا۔ تاہم ہدایت کی کہ درسگاہیں قائم کرتے وقت یہ بات پیش نظر رکھیں کہ یہ توسیع دعوت کا ذریعہ بنیں نہ کہ محض درسگاہیں قائم کرنا ہی مقصد بن کر رہ جائے" ہمیں تعلیم کو حصول مقصد کے ذریعے کی حیثیت ہی سے استعمال کرنا چاہیے۔ ماضی میں یہی لغزش بہت سے لوگوں سے ہوچکی ہے کہ انہوں نے مدرسہ چلانے کو ذریعے کے بجائے مقصد کی حیثیت دے دی۔ اس لیے جب بھی آپ لوگ محسوس کریں کہ آپ کا مدرسہ مقصد کی جگہ لے رہا ہے یا مقصد کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے توایسے مدرسے کو مسمار کردیجےے اور اس کے کھنڈروں کو روندتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھیے، آپ کو اپنا نصب العین ہمیشہ نگاہوں کے سامنے رکھنا چاہیے۔

رہنماؤں کے دورے

توسیع دعوت میں ایک اہم کردار جماعت کے رہنماؤں کے دوروں کا تھا۔ مرکزی رہنما، مرکزی یا علاقائی اجتماعات کی صورت میں مختلف مقامات پر پہنچتے تو جہاں وہ اجتماع عام میں مسلم اور غیر مسلم (masses)سے خطاب کرتے اور اپنی دعوت لوگوں تک پہنچاتے وہاں وہ اس علاقے کے ممتاز افراد اور معروف رہنماؤں سے بھی ملاقات کرتے۔ جماعت کی زندگی کے ابتدائی برسوں میں سید صاحب خصوصی مقالات لکھ کر لے جاتے اور مختلف تعلیمی اداروں کی انجمنوں کے طلب کردہ خصوصی اجتماعات میں پڑھتے۔ ان اجتماعات میں بالعموم اس مقام کے تقریباً تمام ممتاز اصحاب علم ودانش اور نوجوان طلبہ شریک ہوتے اور تحریک اسلامی کے افکار سے مستفید ہوتے۔ اگست 1941ءمیں جماعت قائم ہوئی۔ اس سے پہلے اسی سال سید صاحب دو مرتبہ لکھنو تشریف لے گئے۔ اس سفر میں مولانا نے لکھنو یونیورسٹی میں اپنا مقالہ "انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل"پڑھا جس میں انہوں نے اس عہد میں پہلی بار دنیا میں چھائے ہوئے معاشی نظریات(سرمایہ داری اور کمیونزم)کوچیلنج کیا اور اسلام جو حل پیش کرتا ہے اس کو اعلیٰ اور افضل ترین ثابت کیا تھا اور ایک تیسرے اور قابل اطمینان حل کے طور پر پیش کیاتھا۔ سید ابوالحسن علی ندوی کے بقول ان پر نوجوان پروانہ وار امڈ آئے تھے۔ اسی سفر میں وہ دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو کے لیے ایک مقالہ " نیا نظام تعلیم" لکھ کر لے گئے تھے جو انہوں نے طلبہ کی انجمن الاصلاح میں پڑھا۔ اس دور کے دوسرے متعدد مقالوں کی طرح جن میں سید صاحب نے دنیا پر مسلط گمراہ کن فکر کو چیلنج کیا تھا اور اس کے مقابلے میں متبادل فکر پیش کی تھی، اس مقالے میں بھی انہوں نے اسلامی دنیا کے ایک بہت بڑے مسئلے پر پہلی بار ایک انقلابی زاویے سے اظہار خیال کیا تھا اور مسلمانوں میں رائج قدیم و جدید نظام تعلیم کی اصلاح ،اس کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ اور نئی پیوند کاری کے ذریعے کرنے کے بجائے نئے سرے سے نئی بنیادوں پر اور نئے مقاصد کے ساتھ کلیتاً نیا نظام وضع کرنے کی سوچ دی۔ اسی طرح ایک مرتبہ سید صاحب علی گڑھ یونیورسٹی تشریف لے گئے جہاں انہوں نے طلبہ کی انجمن تاریخ و تمدن میں اپنا مقالہ " اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے"پڑھااور اسلامی حکومت کے خدوخال اور اس کے قائم کرنے کے طریق کار پر مدلل بحث کی۔ یہ پہلا مقالہ تھا جس میں اس دور کے تناظر میں اسلام کے اجتماعی نظام  (Polity)  کے بارے میں جدید زبان میں رہنمائی کی گئی تھی۔ علی گڑھ کے اس دورے میں بھی سید صاحب نے یونیورسٹی اور شہر کے ممتاز اہل علم حضرات سے ملاقات کی۔ میاں طفیل محمد قیم جماعت اسلامی کی حیثیت سے دورے پر لکھنو گئے تو مولانا سید سلیمان ندوی اور سید ابوالحسن علی ندوی سے (جو اس وقت جماعت چھوڑ چکے تھے)ملاقات کی۔ اسی طرح دلی میں مفتی کفایت اللہ صاحب سے اور حیدرآباد دکن میں نواب بہادر یار جنگ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ لکھنو میں سید سلیمان ندوی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے میاں طفیل محمد نے آگے چل کر لکھا کہ انہوں نے ان سے فرمایا کہ "اسلامی نظام کی اصطلاح کو سب سے پہلے انہوں نے ہی استعمال کیاتھا۔میں نے عرض کیا: پھر تو آپ پر اور بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس تحریک کی آگے بڑھ کر رہنمائی کریں"۔

اندرون ملک مختلف طبقات میں دعوت کاکام

جہاں تک جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں دعوت کے نفوذ و فروغ کا تعلق تھا، یہ دوسرے طبقات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہورہا تھا۔ اس کے کچھ بنیادی وجوہ و اسباب تھے۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ تحریک کا اولین مخاطب مسلمانوں کا وہ تعلیم یافتہ طبقہ تھا جو پوری طرح انگریزی تہذیب و تمدن کے زیر اثر آ کر فکر وعمل میں اسلام سے بہت دور ہٹ گیا تھا اور یہی گروہ تھا جس کے ہاتھ میں عملاً مسلمانوں کی قیادت کی باگ تھی، پورے معاشرے کے اندر تحریک کاکام اسی وقت ثمرآور ہوسکتا تھا جب اس طبقہ کی ایک مضبوط اور موثر تعداد کو اسلام کی طرف لایا جاتا۔ چنانچہ اس گروہ کی اسی اہمیت کی بنا پر اس پر ا ولین توجہ مرکوز کی گئی اور لٹریچر کے ذریعہ سے بھی اور اپنی انفرادی و اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعے سے بھی، اس بات کی کوشش کی گئی کہ جن نظریات و افکار سے یہ گروہ مرعوب ہے ان کی ہیبت ان کے دلوں سے دور ہواور وہ اسلام کو سمجھنے اور اسلامی نظام زندگی کو اپنانے کی طرف مائل ہو۔
تعلیم یافتہ طبقہ میں دعوت کاکام کرنے والوں کو ہدایت تھی کہ ان کی ذہنی افتاد اور مزاج کو ملحوظ رکھاجائے۔ ان سے بحث مباحثے میں نہ الجھا جائے۔ اس کے بجائے ان کے اندر لٹریچر کو پھیلایاجائے۔ ان کی ذہنیت کو سمجھا جائے اور پھراسے ملحوظ رکھ کر جماعت کے لٹریچر میں سے خاص خاص چیزیں ایک صحیح ترتیب سے اس کے مطالعہ کے لیے تجویز کی جائیں،ان کے مطالعہ کے بعد اگر کچھ امور کی تفہیم کی ضرورت پیش آئے تو ان پر زبانی گفتگو کرلی جائے، لیکن بحث و مناظرہ سے احتراز کیاجائے۔
علماءو مشائخ کا حلقہ
یہ دعوت کے لحاظ سے جس قدر اہم حلقہ تھا اسی قدر اس میں کام بڑا نازک تھا۔علماءو مشائخ ہی ہر زمانے میں دعوت دین پھیلانے میں رہبری کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ اصحاب نہ تو جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی طرح دعوت دین سے ناواقف تھے اور نہ اپنے فرائض سے بے خبر تھے، ان سے سید صاحب پہلے دن سے توقع کر رہے تھے کہ وہ آگے بڑھیں گے اور اپنے کرنے کاکام انجام دیں گے، اس حلقے کی خاصی بڑی تعداد دعوت سے متاثر بھی ہو رہی تھی اور بعض نمایاں اصحاب دعوت کی توسیع میں حصہ بھی لے رہے تھے، مگر جو توقع سید صاحب کو تھی اس کے برعکس ان کی بہت بڑی تعداد نے یا تو اس دعوت سے غیر متعلق ہونے کا رویہ اختیار کررکھا تھا یا اس کو حق سمجھنے کے باوجود اکابر کی عقیدتیں اس حق کو آگے بڑھ کر