تاریخ کی میراث
تحریکوں اوران پر قائم ہونے والی جماعتوں کا آغاز کبھی اچانک نہیں ہوتا بلکہ ان کی جڑیں دورِ ماضی میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ سیاسی واقعات وحوادث، تہذیبی و ثقافتی نظریات،دینی و مذہبی تصورات، معاشرتی اور اقتصادی حالات،مخالف افکارو نظریات سے تصادم اوران سے معاشرے پرمرتب ہونے والے اثرات اور اس دور کے فکری و سیاسی تناظرمیں سعی و عمل تحریکوں اور جماعتوں کو وجود میں لانے میں اہم حصہ لیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان تحریکوں اور جماعتوں کو لے کر جولوگ اٹھتے ہیں ان کا مزاج، ان کا کردار حتیٰ کہ ان کی نفسیات تک انہیں رنگ و روغن دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ لوگ جماعت اور تحریک کے وجود میں آنے تک افکار و نظریات اور عملی جدوجہد کے جن مراحل سے گزرتے ہیں وہ اس جماعت اور تحریک پرلازماً اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں ایک مخصوص مزاج اور کردار بخشنے میں بنیادی حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے کسی جماعت یا تحریک کی تاریخ قلمبند کرتے یا اس کا تنقیدی جائزہ لیتے وقت ان احوال و ظروف، واقعات و حوادث، نظریات و تصورات اور سعی و عمل کی اس پوری تاریخ کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ جماعت یا تحریک عالم وجود میں آتی ہے۔ اسی طرح ان تمام عناصر کو بھی نگاہ میں رکھنا لازم ہے جنہوں نے اس جماعت اور تحریک کو ایک مخصوص مزاج، کردار اور رنگ و آب دینے میں حصہ لیا ہوتا ہے۔سیاسی ومعاشرتی اور فکری و نظریاتی پس منظر کسی جماعت یا تحریک کی تاریخ کا جزوِ لاینفک ہوتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اورحقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے ،ایسا کبھی نہیں ہوتاکہ کوئی داعی اپنی دعوت کے پہلے روز ہی سے کسی جماعت یا تحریک کی تشکیل اور اس کے مراحل کا ایک مکمل منصوبہ لے کر میدان میں آئے اور پھر اس نقشے(Blue-Print) کے مطابق مراحل پر مراحل اورمیدان پر میدان سر کرتا چلاجائے۔ اسے اپنے نصب العین اور قصد و مطلوب کو متعین عملی صورت دینے کے لیے ہی بسا اوقات لمبا فکری و ذہنی سفر کرنا پڑتا ہے۔ پھر اس نصب العین تک پہنچنے کے مراحل اور منازل ،راہ اور موڑ سب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اس طرح گویاوہ اپنے دعوتی سفر کا آغاز فکرو عمل کے افق پر پھیلے ہوئے دھندلکوں میں کرتا ہے۔کتاب و سنت کے دیے ہوئے اصولوں کو برتتے ہوئے وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے اس کی دعوت منطقی عمل کی صورت اختیار کرتی جاتی ہے اور گردو پیش کے سیاسی و معاشرتی(Socio-Political )حالات اور داخلی ماحول کے ساتھ کشمش اور تصادم کی جو نوعیت بھی ہوتی ہے اس کے فطری نتیجے میں اس سفر کے مرحلے اور منزلیں متعین ہوتی چلی جاتی ہیں۔ داعی کا یہ دعوتی سفر اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی کسی جماعت اور تحریک کی تاریخ کا یک تشکیلی حصہ بن جاتا ہے اور اسے یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ اس کا تعلق داعی کے فکری و ذہنی سفر سے ہے ، جماعت اور تحریک سے نہیں۔
ان حقائق کے پیشِ نظر وہ جماعت جو3 شعبان 1320 ھ (26اگست 1941ء) کو لاہور میں "جماعت اسلامی" کے نام سے قائم ہوئی اور تقریباً نصف صدی سے کارزارِ حیات کے مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی چلی جا رہی ہے، اپنا ایک تاریخی اور دینی و سیا سی پس منظر رکھتی ہے اور ایک تدریجی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔اس جماعت کے قیام کی ضرورت اس کے مقصد،اس کی تشکیل اور اس کے اب تک کے کام کواس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک جس خطے اور جس ملت میں یہ دعوت اٹھی اس کی تاریخ، اس کے آس پاس کی دنیا اور اس کے فکری،نظریاتی،سیاسی اور معاشرتی پس منظر اور اس کے بانی کے دعوتی سفر کو نظر میں نہ رکھاجائے۔
تاسیس و قیامِ جماعت
قیا م جماعت کے لیے اذان پکار دینے کے بعد، اس ضمن میں صفر1360ھ (اپریل1941ء) کے ترجمان القرآن میں اسلامی تحریک کے لیے کام کرنے والی جماعت کے نظریہ،مقصد،اور نصب العین سے اتفاق اور اس کے لیے مجوزہ نقشہ کار کے مطابق عملی جدو جہد کرنے کی تڑپ رکھنے والوں کے اجتماع کا اعلان شائع ہوا ۔ چنانچہ اس دعوت کے جواب میں لبیک کہنے کے منتظر افراد کی طرف سے اطلاعات پہنچنے لگیں۔
اہل جنون کی آمد
لوگ 28 رجب ہی سے آنے لگے۔ یکم شعبان تک تقریبا ساٹھ اصحاب پہنچ چکے تھے، باقی آنے والوں کا انتظار تھا۔ بعض دیگر وجوہ کی بنا پر بھی اجتماع یکم شعبان کو شروع نہ ہوسکا۔ یہ سارا دن آنے والوں نے باہمی ملاقاتوں ، تعارف اور تحریک کے متعلق تبادلہ خیال میں گزار دیا اور یہ سلسلہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں صبح سے شام تک جاری رہا۔شام کو لوگ دیرتک ترجمان القرآن کے دفتر میں بیٹھے رہے۔ تقریباً ہر شخص کے مرکزِ توجہ سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ وہ جن کی پکار ان سب کو یہاں کھینچ لائی تھی۔ لوگ مختلف نوعیت کے مسائل پیش کرتے اور سید صاحبؒانہیں حل کرتے رہے۔ نماز عشاءتک یہی رنگ محفل رہا۔
قافلہ شوق کا رنگ وآھنگ
اگلے روز 2شعبان1320ھ (26اگست1941ء) کو صبح آٹھ بجے باقاعدہ اجتماع شروع ہوا۔75افراد ہندوستان کے گوشے گوشے سے اسلامیہ پارک پونچھ روڈ لاہور کی مبارک (حال ریاض قدیر)مسجد کے سامنے فصیح منزل سے متصل ایک مکان مملوکہ مستری عبداللہ میں واقع ترجمان القرآن کے دفتر میں سمٹ آئے تھے اور ایک ایسا فیصلہ کرنے چلے تھے جو وقت اور تاریخ کے دھارے کو متاثر کرنے والا تھا۔ مندرجہ ذیل اصحاب تاسیسی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔
1 ۔ مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی
2 ۔ مولانا محمدمنظور نعمانی مدیرالفرقان بریلی
3۔ ملک نصراللہ خان عزیز بی اے(لاہور)بقول میاں طفیل محمد، ملک صاحب تاسیسی اجتماع میں شامل نہیں تھے۔
4۔ میاں طفیل محمد بی اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ کپورتھلہ
5 ۔ چوہدری عبدالرحمن صاحب (راہوں ضلع جالندھر)
6- مولانا سید عبدالعزیز شرقی(جالندھر)
7- چوہدری محمد اکبر ایم اے بی۔ٹی(سیالکوٹ)
8- مستری محمد صدیق صاحب سلطان پوری لودھی ریاست کپور تھلہ
9- حافظ فتح اللہ (راہول ضلع جالندھر)
10 - جناب نعیم صدیقی (فضل الرحمن)ضلع چکوال
11 - قمرالدین خان ایم اے بنارس
12 - مولانا صدرالدین اصلاحی ضلع اعظم گڑھ یوپی انڈیا
13 - مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری(فاضل دیوبند دارالارشاد مدراس)
14 - مولانا سید محمودجعفر شاہ پھلواروی خطیب شاہی مسجد کپورتھلہ
15 - مولانا نذیرالحق میرٹھی
16- ڈاکٹر سید نذیر علی زیدی (الٰہ آباد)
17- جناب محمد بن علی علوی کاکوروی،لکھنو
18- شیخ فقیرحسین بی اے سلطان پورلودھی ریاست کپورتھلہ
19- ماسٹرعزیز الدین صاحب شہرکپورتھلہ، قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد آکر آباد ہوئے۔کوہ نور مل کے پاس انہوں نے جماعت کو مقامی مرکز کے لیے اراضی دی۔
20 - شیخ نذر محمد (یہ شیخ فقیرحسین کے بھائی تھے)
21- شیخ فضل محمد
22- مولوی محمد علی ،فیروزپور
23- سید محمد شاہ ایم اے
24- چوہدری عبدالغنی گہلن، چک نمبر9نزد پتوکی ضلع قصور
25- قاضی حمیداللہ بی اے،سیالکوٹ
26- ملک غلام علی بی اے(جسٹس ریٹائرڈ)خوشاب
27- عبدالجبار غازی ایم اے بی ٹی(پرنسپل اینگلو عریبک کالج دہلی)
28- سید محمد حسنین جامعی بی اے
29- چوہدری نصرت حسین (گوجرہ)
30- چوہدری غلام جیلانی بی اے
31- شیخ عبدالحمید پھگوار ریاست کپورتھلہ
32- عطاءاللہ پتواکھالی(بنگال)
33- مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانوی
34- مولانا محمد علی کاندھلوی
35- مولانا محمد عبداللہ ،روڑی حصار
36- مولانا محمد عبداللہ(مدراس)
37- مولانا محمدالیاس ندوی گوندلوی ضلع گوجرانوالہ
38- مولانا الٰہی بخش ڈیرہ جاڑہ،سرگودھوی
39- مولانا عبدالقادر عاجز قصوری
40- محمد عبداللہ مصری (یوپی)
41- سید محمد یوسف (بھوپال)
42- چوہدری چراغ دین، سابق مینیجر ماہنامہ ترجمان القرآن (گورداسپور)
43- سردار محمد اکبر خان (کیمل پور)
44- سلطان محمود غازی، مردوال (خوشاب)
45- عبدالمجید صدیقی ،پرانی انارکلی (لاہور)
46- منظوراحمد
47- حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی (یوپی)
48- شمس الحق صدیقی (یوپی) سکھر آکر فوت ہوئے۔
49- حافظ محمد زکریا (امرتسر) سرگودھاآکرفوت ہوئے
50- ماسٹر حاجی محمد شفیع (امرتسر) گوجرانوالہ آکرفوت ہوئے۔
51- چوہدری رفیع الدین (بارہ بنکی) یوپی
52- مولوی محمد یونس (حیدرآباد دکن)
53- عبدالقادر صاحب (حیدرآباد دکن)
54- صوفی صابر علی (لدھیانہ) راولپنڈی میں وفات پائی۔
55- عطاءاللہ سجاد (کپورتھلہ)
56- سیدعظمت علی شاہ (کپورتھلہ) بعد میں اوکاڑہ آکر چوہدری عبدالرحمن وغیرہ کے ساتھ مل کر بس سروس قائم کی۔
57- حکیم سید محمد حسن بخاری (کپورتھلہ) ملتان آکرفوت ہوئے۔
58- حاجی محمد صاحب (پتوکی)
59- حافظ محمد شریف احسن (سرگودھا)
60- چوہدری محمد شفیع بی اے بی ٹی(گجرات)
61- چوہدری عبدالرحمن ( کپورتھلہ ) تقسیم کے بعد اوکاڑہ جماعت کے امیر رہے۔
62 - مولوی محمد فاضل ضلع گورداس پور
63 - حکیم شیر محمد (لدھیانہ) ضلع ملتان میں آکر آباد ہوئے اور وہیں فوت ہوئے۔
64 - مولوی محمد ابراہیم (فیروز پور)اب شہداد پور سندھ میں ہیں۔
65- بابا محمد بخش (سرگودھا)
66- بابا احمد بخش (سرگودھا)
67- حکیم محمد خالد (الٰہ آباد)
68- محمد اسحاق صاحب (الٰہ آباد)
69- ناظرشمسی (دہلی)پاکستان سروس سے ریٹائر ہوکراب گلبرگ لاہور میں ہیں۔
70- ماسٹر اکبر علی (فیصل آباد)
71- ڈاکٹر محمد اسلم چغتائی(امرتسر) سرگودھا میں فوت ہوئے۔
72- صابر علی صاحب (الٰہ آباد)
73- شاکر علی صاحب (الٰہ آباد)
74- ظہور احمد جاراللہ (الٰہ آباد)
75- عبدالمجید چھوٹانی (بمبئی)
76- مولوی عبدالقادر (پتوکی)
77- محمد انور (لاہور)
78- تسنیم قریشی (لکھنو)
79- مولوی امام الدین فائق (پٹنہ)
80- چوہدری شفیع احمد (یوپی)
جماعت اسلامی کی تاسیسی ارکان کی اس فہرست سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ سید مودودی کے اثرات کہاں کہاں پہنچ چکے تھے۔ ان میں قابل لحاظ تعداد علماءکی تھی۔ اسی تناسب کے ساتھ اعلیٰ جدید تعلیم یافتہ افراد تھے، ایسے اصحاب بھی تھے جو متوسط تعلیم یافتہ تھے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد وہ تھی جو کالجوں اور یونیورسٹیوں اور قدیم دینی مدارس سے تازہ دم فارغ ہوکر آئے تھے یا ہنوز قدیم و جدید درسگاہوں میں زیر تعلیم تھے۔ ان میں شہری بھی تھے اور دیہاتی بھی، سرکاری ملازم بھی تھے اور ہنر مند اور پیشہ ور بھی ، کالجوں اسکولوں اور مدرسوں کے اساتذہ بھی تھے اور ڈاکٹراور صحافی بھی، کاشتکار بھی تھے اور زمینداربھی، تاجر بھی تھے اور دستکار بھی۔ان کی اکثریت مسلم معاشرہ کے نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔خود سید صاحب کا تعلق بھی متوسط طبقہ ہی سے تھا۔ ان میں جو زمیندار تھے وہ بھی چھوٹے زمیندار تھے یا طبقہ اوسط سے آئے تھے۔ عمر کے لحاظ سے یہ لوگ انیس بیس برس سے لے کر چالیس پچاس برس کے پیٹے میں تھے۔ان میں سب سے معمر ڈاکٹر نذیر علی زیدی تھے جن کی عمر 52برس تھی۔خود سید مودودی اس وقت 38 برس کے تھے جیسا کہ ہر دعوت اور تحریک کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں،یہی کیفیت دعوتِ اسلامی کی تھی۔ اس پرلبیک کہنے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔اقتصادی اور معاشی اعتبار سے یہ حضرات چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ ترغریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔جن لوگوں کی اقتصادی اور معاشی زندگی مستحکم اور استوار ہوچکی تھی وہ بڑی حد تک خود کفیل تھے۔خوشحال عنصر نہ ہونے کے برابر تھا۔دینی فکر اور مسلک کے لحاظ سے یہ لوگ اہل السنہ کے تقریباً ہرمکتب فکر سے آئے تھے۔یہ لوگ بولی (Dialect) نسل، رنگ، لباس اورعام رہن سہن ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ پھر یہ جن علاقوں سے آئے تھے ان میں ہزاروں میل کی مسافتیں تھیں تاہم جس دین نے انہیں ایک امت بنادیا تھا اور ان کے اندر فکری و تہذیبی اشتراک پیدا کردیا تھا،اس نے ساری دوریاں اور فاصلے ختم کردیے تھے۔ ان کی سوچ یکساں تھی،ان کے جذبات یکساں تھے، ان کے دل ایک مقصد اور نصب العین کے لیے دھڑک رہے تھے۔
اجتماع کاپس منظر
پھر ان لوگوں کو محض کسی حادثے نے یہاں جمع نہیں کردیا تھا اور نہ انہیں بلانے والے نے اپنے دل میں اٹھنے والی کسی وقتی موج کی پکار پر اپنی قیادت و سیادت کا سکہ جمانے اور چودھراہٹ قائم کرنے کے لیے بلایا تھا۔ بلکہ اس کے پیچھے گہرے مطالعہ، سوچ بچاراور دعوت و تبلیغ کا ایک پورا دور کار فرما رہاتھا۔ سید مودودی کے اپنے الفاظ میں یہ ان کے 22 سال کے مسلسل تجربات، مشاہدات،مطالعے اورغوروخوض کا نچوڑتھا۔ جس نے ایک اسکیم کی شکل اختیار کی تھی اور جس کی طرف وہ گزشتہ نوبرس سے شب وروز بلاتے رہے تھے۔ پھر جماعت تشکیل دینے سے پہلے سید صاحب متواتر چار برس تک اس وقت برصغیر میں کام کرنے والی مسلمان جماعتوں اور قیادتوں کو توجہ دلاتے رہے کہ ان کے کرنے کاکام ہے تو یہ ہے۔ اگر ان کے پیش نظر آزاد ہندوستان یا پاکستان میں واقعی اسلامی نظام کا نفاذ ، مسلمانوں کا تہذیبی تحفظ اور اسلامی حکومت کا قیام ہے تو پھر انہیں اپنی جماعتوں کو اسلامی خطوط پر منظم کرنا اور اسلامی نصب العین کو مرکزِ جہدوعمل بنانا چاہیے۔ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے کارکنوں کے فکر و کردار کی تربیت اور ایک مشنری کی حیثیت سے اسلامی طریق کار کو اختیار کرتے ہوئے سعی و جہد کرنی چاہیے۔
افتتاحی خطاب
تاریخ ساز لمحات آپہنچے تھے۔ اجلاس کا افتتاح سید مودوی کے خطاب سے ہوا۔ یہ ایک طویل اور اہم خطاب تھا۔ ابتدا میں سید صاحب نے اپنے ذہنی سفر کی روداد بیان کی اور ان حالات پر تبصرہ کیا جن میں وہ مختلف مراحل سے گزر کر ان تاریخ ساز لمحات تک پہنچے تھے۔ اس کے بعد سید صاحب نے مجوزہ نئی جماعت کے متعلق مختلف بنیادی امور کی وضاحت کی اور ملک میں مسلمانوں کی دوسری جماعتوں کے موجودہوتے ہوئے ایک نئی جماعت کی تاسیس و تشکیل کے اسباب بیان کیے اور ان جماعتوں اور مجوزہ اسلامی جماعت اور تحریک کے درمیان اصولی فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک مسلمان جماعتیں یا تو اسلام کے کسی جزو کولے کر اٹھی ہیں یا کسی ایسے دنیوی مقصد کو جس کا اسلام کے ساتھ براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کی تنظیم دنیا کی غیر مسلم جماعتوں اور انجمنوں کے خطوط پرکی گئی ہے،ان میں ہر قسم کے لوگ اس مفروضے پر بھرتی کرلیے گئے ہیں کہ وہ مسلمان قوم میں پیدا ہوئے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان جماعتوں کے عام ارکان کی صفوں ہی میں نہیں کارکنوں اور لیڈروں کی صفوں میں بھی ایسے لوگ داخل ہوگئے جن کی نہ سیرتیں اور کردار لائق اعتماد تھیں اور نہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کے بار امانت کو اٹھانے کی اہلیت ہی اپنے اندر رکھتے ہیں۔پھر یہ جماعتیں صرف نسلی مسلمانوں تک محدود رہی ہیں، غیر مسلموں کے لیے ان کے اندر کوئی کشش اور جاذبیت نہیں بلکہ ان میں سے اکثر کی سرگرمیاں غیر مسلموں کے اسلام کی طرف آنے میں سد راہ بن گئی ہیں۔اس کے برعکس ہم پورے کے پورے اور عین اسلام کو لے کر چل رہے ہیں۔ہم ٹھیک وہ نظام جماعت اختیار کررہے ہیں جو شروع میں رسول اللہ کی قائم کردہ جماعت کا تھا، ہمارے جماعتی ضوابط ایسے ہیں کہ مسلمانوں میں سے صرف صالح عنصر ہی آگے بڑھے ، جو کلمہ طیبہ کے معانی و مفہوم اور مقتضیات کو جان کر اس پر شعوری ایمان لانے کا اقرار کرے۔ جماعت میں رہنے کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ اسلام میں جو کم سے کم مقتضیات ایمان ہیں ان کو پورا کرے، ہم نے جماعت کی دعوت ملک کے اندر یا عالم اسلام کے محض پیدائشی مسلمانوں تک محدود نہیں رکھی بلکہ اس کا خطاب تمام روئے زمین پر بسنے والی سعید روحوں سے عام ہے۔
پھر سید مودودی نے نئی جماعت کانام جماعت اسلامی رکھنے کی وجہ بتائی اور فرمایاکہ جب جماعت کا عقیدہ ، نصب العین ،نظام جماعت اور طریق کار بلا کسی کمی بیشی کے وہی ہے جو اسلام کا ہمیشہ رہا ہے تو اس کے لیے اسلامی جماعت کے سواکوئی دوسرانام نہیں ہوسکتا اور جب یہ عین اسلام کے نصب العین کی طرف اسلامی طریق پرہی حرکت کرتی ہے تو اس کی تحریک اسلامی تحریک کے سوا کچھ نہیں ہے۔
دو زبردست خطرات
پھر سید صاحب نے ان دو زبردست خطرات سے متنبہ کیا جن سے دور نبوت کے بعد اسلام کاکام کرنے والی جماعتیں دوچار ہوتی رہی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے آپ کو وہی حیثیت دینے لگتی ہیں جو انبیاءعلیہم السلام کے زمانے میں اسلامی جماعت کی تھی۔وہ اسلام و ایمان کو صرف اپنے اندر حصر کرلیتی ہیں۔ ان کے نزدیک جو شخص ان کی جماعت میں نہیں وہ مومن نہیں ہے۔یہ غلط فہمی اس جماعت کو مسلمانوں کا ایک فرقہ بنا کر رکھ دیتی ہے اور پھر اس کا سارا وقت اصل کام کی بجائے دوسرے مسلمانوں سے الجھنے اور مناظرے کرنے میں کھپ جاتا ہے،دوسرا یہ کہ ایسی جماعتیں جس شخص کو اپنا امیر یا امام تسلیم کرتی ہیں اس کو وہی حیثیت دے دیتی ہیں جو نبی کے بعد خلفائے راشدین کی تھی، جس کی گردن میں اس امام کی بیعت کا قلادہ نہیں ہوتا اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتی ہیں۔ اس طرح اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر اپنی ساری تگ ودو اپنے امیر یا امام کی امارت وامامت کو منوانے پر مرکوز کردیتی ہیں۔ سید صاحب نے ان دونوں غلط فہمیوں سے بچ کر چلنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ ہماری حیثیت نبی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی جماعت کی سی نہیں ہے جو دنیا میں واحد اسلامی جماعت کی ہوتی ہے اور جس کے دائرے سے باہر صرف کفر ہی ہوتا ہے، بلکہ ہماری حیثیت اس جماعت کی ہے جو اصل نظام جماعت کے درہم برہم ہوجانے کے بعد اس کو تازہ کرنے کے لیے اٹھتی ہے۔ایسی جماعتیں بیک وقت کئی ہوسکتی ہیں اور ان میں سے کسی کوبھی یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ بس ہم ہی اسلامی جماعت ہیں اور ہمارا امیر ہی امیر المومنین ہے۔ سید صاحب نے فرمایا کہ ہمیں اس غلو سے پرہیزکرنا اور فرقہ بننے سے بچنا چاہیے۔
اسلامی تحریک کی ہمہ گیری
تیسری بات جو سید صاحب نے اپنے خطاب میں فرمائی وہ جماعت اسلامی کے کام اور اس کے دائرہ عمل کے بارے میں تھی۔انہوں نے فرمایا کہ جماعت کے سامنے کوئی محدود کام نہیں ہے بلکہ یہ پوری انسانی زندگی پرحاوی ہے۔اسلامی تحریک ایک ہمہ گیر نوعیت کی تحریک ہے اور اس کو ہر قسم کے اور ہر درجے کی صلاحیت اور ہر میدان اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، البتہ یہ کام کوئی آسان اور ہلکا کام نہیں ہے، یہ بڑا ہی مشکل اور کٹھن کام ہے۔ دنیا کے پورے نظام ، اس کے اخلاق،تہذیب،سیاست، تمدن، معیشت اور معاشرت ہر چیز کو بدلنے اور اس کی جگہ خدا کی اطاعت پر مبنی نظام قائم کرنے کاکام ہے۔اس راہ پر قدم بڑھانے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کس خارزار میں قدم رکھ رہا ہے۔
دستور جماعت کی منظوری
افتتاحی خطاب کے بعد سید مودودی نے دستور کامسودہ پڑھنا شروع کیا۔ یہ مسودہ سید صاحب نے خود تیار کیا تھا۔کچھ کاپیاں چھپوا لی گئی تھیں اور تمام آنے والوں کودے دی گئی تھیں تاکہ وہ اس پر غور کرلیں۔ اس دستور کا ایک ایک لفظ پڑھا گیااور اس پر بحث ہوئی۔ ہرشخص کواظہار رائے کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ اجلاس دن بھر جاری رہا۔ مغرب کے قریب جاکر ہر مسئلہ پر بحث مکمل ہوگئی اور دستور بعض ترمیموں اور اضافوں کے ساتھ پورا کا پورا بااتفاق کلی منظور کرلیاگیا۔
دستورجماعت کی نظریاتی بنیاد
یہ ایک رسمی (Formal) قسم کا اورتنظیمی نوعیت اور عہدہ و مناصب کے حصول کا طریقِ کار متعین کرنے والا دنیوی دستور نہ تھا۔سید صاحب نے اس دستور کی مختلف امتیازی خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئے قیام جماعت کے بعد اگلے ہی ماہ تحریر فرمایا:
”اس دستور کی بنیاد جس خیال پر رکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اسلام میں سے کسی ایک مقصد کو لے کر نہ اٹھیں بلکہ اصل اسلام اور پورے اسلام کو لے کراٹھیں۔جس مقصد کے لیے انیباءعلیہم السلام دنیا میں تشریف لائے وہی ہمارا مقصد ہو، جس چیز کی طرف انہوں نے دعوت دی اسی کی طرف ہم دعوت دیں،جس طرز پر وہ ایمان لانے والوں کی جماعت بناتے تھے اسی طرز پر ہم جماعت بنائیں،جونظام جماعت ان کا تھا وہی ہمارا ہو،جن ضوابط کو وہ اپنی جماعت میں نافذ کرتے تھے انہی کو ہم بلا کسی کمی بیشی کے نافذ کریں اور جس طریقہ سے وہ اپنے نصب العین کے لیے جدوجہد کرتے تھے اسی طریقے سے ہم جدوجہد کریں۔
دستور کی بنیاد اور مرکز و محور لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کا عقیدہ قرار پایا۔ اس کی تشریح میں وہ سارے امور سمٹ آئے تھے جنہیں اسلام اپنے ماننے والوں پر اعتقادی طور پر لازم قرار دیتااور ان پر ان کی انفرادی واجتماعی زندگی کو استوار کرتا ہے۔اس زندگی بخش عقیدہ کو عمل کے پیکر میں ڈھالنا اور اس کو سربلند کرنا، خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے خدا کی زمین پر خدا کی حکومت۔۔۔حکومت الٰہیہ۔۔۔قائم کرنا جماعت اسلامی کا مقصد وجود اور نصب العین قرار پایا۔ دستور میں حکومت الٰہیہ کی تشریح بھی کی گئی تھی اور دنیا میں قائم دوسرے تمام نظام ہائے حیات کو مسترد کردیاگیا تھا کہ یہ نظام اللہ کے خلاف صریح بغاوت پر مبنی تھے۔ دستور میں کہا گیا تھا کہ "مومن کا کام اس بغاوت کو دنیا سے مٹانا اور خدا کی زمین پر خدا کے سوا ہر ایک کی خداوندی ختم کردینا ہے۔ مومن کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ جس طرح خدا کا قانونِ تکوینی تمام کائنات میں نافذ ہے اسی طرح خداکاقانون شرعی بھی عالم انسانی میں نافذ ہو۔ مومن کی تمام مساعی کا ہدف اور مقصود یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کوخدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالے اور صرف خداکابندہ بنائے"جماعت کے دروازے قوم،نسل اور ملک کی کسی تمیز کے بغیر ہراس مردوزن پر کھلے تھے جوعقیدہ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کواس کے پورے مفہوم کے ساتھ سمجھ کرشہادت دے کہ یہی اس کا عقیدہ ہے۔اس شرط کے سوا جماعت میں داخل ہونے کی کوئی شرط نہیں تھی،البتہ ادائے شہادت کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اپنی زندگی میں ان تغیرات کولانا ضروری تھا،کچھ فوری طور پر اور کچھ تدریج کے ساتھ۔دستور میں قرار دیاگیا تھا کہ ادائے شہادت کے بعد کسی شخص کی زندگی میں اگر یہ تغیرات رونما نہیں ہوں گے تو اسے جماعت میں نہیں لیاجائے گا اور اگر لیا جاچکا ہوگا تو اسے خارج کردیاجائے گا۔
"تغیرات جو ایک شخص کو اپنی زندگی میں بتدریج لانے تھے،ان کا دائرہ بڑا وسیع تھا اور یہ فکری وعملی دینی، اخلاقی، معاشرتی اور معاملات زندگی کے تمام گوشوں میں مطلوب تھے۔ مثلاً:دین کا کم سے کم اتنا علم حاصل کرنا کہ وہ اسلام اور غیر اسلام میں تمیز اور فرق کرسکیں۔تمام معاملات زندگی میں نقطہ نظر،طرزِ خیال اور عمل کو ہدایت الٰہی کے مطابق ڈھالنا اور اپنی پسند و ناپسند کے معیار اور وفاداریوں کے محورکورضائے الٰہی کے مطابق ڈھالنا اور اپنی پسند و ناپسند کے معیار اور وفاداریوں کے محور کو رضائے الٰہی کے تابع کرنا،رسوم جاہلیت سے اپنی زندگی کوپاک کرنا، فاسقین اور فجار اور خدا سے غافل لوگوں سے تعلقات منقطع کرنا اور صالحین سے رابطہ قائم کرنا،جاہلیت کے خادم اور حاکمیت رب العالمین کے مخالف اداروں سے تعلق توڑ لینا،اپنے معاملات کوراستی، عدل،خداترسی،بے لاگ حق پرستی پر قائم کرنا،اپنی دوڑ دھوپ اور سعی وجہد کو قیام حکومت الٰہیہ کے نصب العین پر مرتکز کرنا اور ان تمام مصروفیتوں سے دستکش ہوجانا جو اس نصب العین کی طرف نہ لے جاتی ہوں۔دستور میں قرار دیاگیا کہ جماعت میں کسی شخص کے مرتبہ و مقام کا تعین انہی تدریجی تغیرات کے ناقص اور کامل ہونے پر کیاجائے گا۔
نظم جماعت بالکل سیدھا سادہ تھا۔ اس میں شامل ہونے والوں کو جماعت اور اس کے مقصد و نصب العین کے ساتھ تعلق اور وابستگی کی بنیاد پر تین طبقات میں تقسیم کیا گیاتھا:۔
صفِ اول کے وہ لوگ تھے جو نصب العین کے حصول کی جدوجہد میں ہرقربانی کے لیے تیار ہوں، اپنے آپ کو کلی طور پر جماعت کے حوالے کردیں،جنہیں جماعت جب پکارے لبیک کہیں اور جو خدمت سونپے اسے انجام دیں اور جان،مال ،اولاد،عزیزو اقارب دوست غرض کسی چیز کوخداورسول اور مقصد اسلامی سے زیادہ عزیز نہ رکھیں۔ دستور کی رو سے یہی لوگ جماعت کے اصل کارکن اور کارفرما عنصر تھے اور رہنمائی اور سربراہی انہی کے ہاتھ میں تھی،احکام شرعیہ کی پابندی اور اس معاملے میں کسی قسم کی ڈھیل روا نہ رکھنا ان پر لازم تھا۔یہ بھی لازم تھا کہ وہ مسلمانوں کی زندگی کا عملی نمونہ پیش کریں اور رخصتوں کا سہارالینے کی بجائے عزیمت کی راہ اختیار کریں۔ غیرالہی عدالت میں یہ لوگ نہ مستغیث بن کرجاسکتے تھے نہ مدعی بن کر۔۔ مدعا علیہ یا مستغاث علیہ کی حیثیت سے عدالت میں جانے کی صرف اسی صورت میں اجازت دی گئی تھی کہ یا تو کسی غیر معمولی نقصان کا خطرہ ہو یا گواہ کی حیثیت سے انہیں طلب کیاجائے۔
صفِ دوم میں وہ لوگ شامل تھے جو اپنے آپ کو نہ توجماعت کے لیے کلی وقف کرسکتے ہوں نہ خطرات اور قربانیوں کا پورا پورا بار اٹھانے کی ہمت وطاقت رکھتے ہوں، مگر اپنے وقت ، اپنے مال اور اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کا ایک حصہ راہِ خدا میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ دینی فرائض اور احکامات الٰہی کی اطاعت کریں،حرام اور ناجائز وسائل کسب رزق اور مشاغل سے اجتناب کریں،جماعت اوراس کے نصب العین کے صدق دل سے وفادار رہیں، جماعت کی طرف سے جو خدمات سپرد کی جائیں انہیں راضی خوشی انجام دیں، دستور میں یہ طے کیاگیا کہ اس صف کے لوگوں کو ذمہ داری کا کوئی منصب نہیں سونپا جائے گا، البتہ وہ جماعتی مشوروں میں شریک ہوسکیں گے۔
صفِ سوم ان لوگوں کے لیے تھی جو کلمہ اسلام پراصولی حیثیت سے ایمان لائیں اور شخصی زندگی کی حد تک احکام شرعی کی پابندی بھی قبول کریں مگر غیر الٰہی نظام سے وابستہ اپنے مفادات کا نقصان گوارا نہ کرسکیں۔ انہیں دوسری وفاداریوں پر خدا کی وفاداری کو مقدم رکھنا ہوگا، وہ غیر الٰہی نظام کو ترقی درجات کا وسیلہ نہ بنائیں گے اور نہ ان کے لیے کوشاں ہوں گے اور جماعت کو ہرجائز امکانی طریقے سے مدد دیں گے،یہ اصحاب جماعتی مشوروں میں اپنے اخلاص اور جماعت کو ان پر جس قدر اعتماد ہوگااس کے مطابق شریک ہو سکیں گے۔
یہ تینوں درجہ بندیاں & |