JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
مسلمانوں کے مرکزمحبت پر حملہ
تحریر: قاضی حسین احمد
امیر جماعت اسلامی پاکستان

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص قوم،نسل، علاقے یاکسی خاص زبان والوں کے بجائے تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں اور سب کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ وہ لوگوں کا بوجھ اتارنے والے اور ان کی بندشیں کھولنے والے ہیں اور تمام انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔مسلمانوں کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ اس نبی کی نصرت کرو، اس کی پشتیبانی کرواور اس کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ کیونکہ اس کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہی تمھاری نجات ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے،وہی فلاح پانے والے ہیں۔“(الاعراف)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بغیرایمان نہیں ہے اورحضور کی محبت کو تمام محبتوں پر غالب کرنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اپنے والدین،اولاد اور تمام انسانوں سے محبوب نہ بن جاؤں۔“ کیونکہ وہ ہمارے ماں باپ اوراہل وعیال سے زیادہ ہمارے خیر خواہ ہیں اور اپنی برادری اور رشتہ داروں سے زیادہ ہمارا خیال رکھنے والے ہیں۔جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے والدین سے بھی زیادہ ہمارے خیر خواہ ہیں تو وہ بھی ہمیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہونے چاہییں اوران کا رشتہ تمام رشتوں سے مقدم ہونا چاہیے۔

خود اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تلقین کی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :”اے نبی، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ،اور تمھارے بیٹےاور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں،اور تمھارے عزیزو اقارب ،اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں،اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں،تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیزتر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔“(التوبہ :24)

اللہ اور رسول کی محبت لازم و ملزوم ہیں اوراللہ کی محبت کے حصول کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ضروری ہے۔فرمایا: ”اے نبی،لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو،اللہ تم سے محبت کرے گا۔“(اٰل عمران:31) ۔ اور سورہ الاحزاب میں فرمایا:

” درحقیقت تم لوگوں کے لیےاللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کے لیےجو اللہ اوریوم آخرکا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کویادکرے۔“

مسلمان جب حضور کا نام نامی لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں حضور کی محبت بٹھا دی ہے بلکہ یہ محبت ان کے خمیر میں ایسے شامل کردی ہے کہ کوئی دوسری محبت اس پر غالب نہیں آسکتی۔ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے مسلمان ماں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے بچے کی زبان پر سب سے پہلے اللہ اور رسول کا نام آئے اور وہ سب سے پہلے اللہ رب ذوالجلال اور مدنی کریم اسے آشنا ہو ۔ہم اپنے بچے کے کان میں اذان دیتےہیں تاکہ وہ لاشعور میں ہی اللہ کی وحدانیت اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے آگاہ ہوجائے۔

دنیا کے تمام لوگوں کو یہ بتانے اورسمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ ہمارے لیے ادب کی وہ جگہ ہے کہ اس کے اوپر کوئی ٹھیس ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ایک فارسی شاعر نے کہا ہے کہ ”آسمان کے نیچےادب کی ایک ایسی جگہ ہے کہ عرش سے بھی زیادہ نازک ہے،جنید اور بایزید جیسے اولیاءاللہ یہاں پر سانس روک کر آتے ہیں۔“
حضور کے ساتھ محبت اور عشق جزو ایمان ہے اور مسلمان اسی شمع محبت کے گرد اکٹھے ہیں۔حضور نبی کریم پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مرکز محبت ہیں۔ مغربی اقوام جان بوجھ کرخاکے اور کارٹون بناکر ہمارے مرکز محبت پر حملہ آور ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فحاشی اور بے حیائی پھیلا کراور فیشن،مادی ترقی اور اپنی اشیاءکو مسلمانوں کی ضرورت بنا کر ان کو اپنے گھیرےمیں لے لیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ مسلمان ہماری تہذیب و ثقافت کی گرفت میں ہیں اور ہماری تہذیبی یلغار نے ان کے دلوں سے ایمان اور حضورنبی کریم کی محبت کو نکال دیاہے۔ اور ان کے اوپر ہم نے ایسے لوگوں کو حکمران بنا دیاہے جن کے دل ایمان اور حضور کی محبت سے خالی ہیں۔اس یقین کی بنا پر انھوں نے زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ توہین آمیز کارٹونوں اور خاکوں کے ذریعےاسلام اور مسلمانوں پر یلغار کردی ہے۔گذشتہ سال سے یہ سلسلہ شروع ہوا،اور اب تک بیسیوں ممالک کے سینکڑوں اخبارات اور ہزاروں ویب سائٹس پر یہ کارٹون اورخاکے شائع ہوچکے ہیں۔ اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے، اور توہین آمیز خاکوں اور کارٹونوں کے ساتھ ساتھ اہانت رسول پر مبنی فلمیں بناکر مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے جا رہے ہیں۔ اس کوروزمرہ کا معمول بنالیا گیاہے تاکہ مسلمان تھک جائیں ، اسے روٹین سمجھ کر خاموش ہوجائیں اور اس کے بعد دین اسلام میں تحریف کی راہ ہموار کی جائے۔

اہل مغرب اظہاررائے کی آزادی پر زور دیتےہیں اورمسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیےاس کا سہارا لیتے ہیں اوریورپین کمیونٹی کہتی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ہمارا کلچر ہے،ہم اس پرکوئی پابندی نہیں لگائیں گے اور پریس کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔مگرڈنمارک کے جس اخبارنے ان خاکوں کو سب سے پہلے چھاپا،اسی نے عیسائی برادری کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو ہمارے لیے بھی محترم ہیں)کے خاکے چھاپنے سے انکار کر دیاتھا لیکن مسلمانوں کو گالی دینےاور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کی کھلی آزادی ہے۔مغربی ممالک میں ہولوکاسٹ کو جھوٹ یامبالغہ آمیزقرار دینااور یہ کہنا کہ جب جرمنی میں 60لاکھ یہودی تھے ہی نہیں تو وہ قتل کیسے ہوگئے،قابل سزاجرم ہے۔ایران کے صدراحمدی نژاد نے ہولوکاسٹ کومن گھڑت جھوٹ قرار دیاتو مغرب میں واویلا مچ گیا،اور گذشتہ سال ایک یورپی عدالت نے ہولوکاسٹ کو جھوٹ قرار دینےوالے مورخ ڈیوڈارنگ کو کئی سال قید کی سزا سنائی۔ یہ دوہرے معیار ہیں اور مسلمانوں کے خلاف زہراگلنے کو آزادی اظہار سےتعیبر کر لیا گیا ہے۔یہ چیزامت مسلمہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔

مغربی پریس میں مسلمانوں کے خلاف یہودیوں اور فنڈا منٹسلٹ عیسائیوں کے توہین آمیزمضامین چھپتے ہیں،جنھیں ہمارے انگریزی اخبارات نقل کرتے ہیں،ان میں کہا جاتا ہے کہ مسلمان حجاب،برقعے اور چادریں لے کریورپ میں آگئے ہیں اور چوہوں کی طرح بڑھتےجا رہے ہیں اور کوئی ان کا راستہ نہیں روکتا۔یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے لیکن ان لوگوں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا اورنہ ان کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے۔ الٹا مسلمانوں کو ہی انتہا پسند کہا جا رہا ہے۔

دنیا میں سواارب مسلمان بستے ہیں اور دنیا کے ایک چوتھائی حصے پر ان کی حکومتیں قائم ہیں،ان کے علاقے قدرتی خزانے اور وسائل سے مالا مال ہیں،ساری دنیا کی مشینری اس تیل سے چلتی ہے جو مسلمانوں کی زمین سے پیدا ہوتا ہے، اگرمسلمان مغرب کا مال تجارت خریدنے پر مجبور ہیں تو مغرب کا انحصار بھی مسلمانوں کے خام مال پر ہے۔57آزاد ممالک ہیں اوراوآئی سی کی صورت میں ان کی تنظیم بھی موجود ہے۔اس سب کچھ کے باوجودخنجرصرف مسلمانوں پرہی کیوں چلتا ہے اور صرف انھی کے جذبات ہی کیوں مجروح ہوتے ہیں؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک عرصے سے امت کاتصور ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے اورہمارے اپنے حکمران کہتے ہیں کہ امہ کہاں ہے؟استعمار نے ان کو چھوٹے چھوٹے گھروندوں میں تقسیم کر دیاہے اور یہ اسی پر خوش ہیں۔ ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اگرالگ الگ رہوگے اورہمارا ساتھ دو گے تو تمھاری جیب اپنی قوم کے خزانے سے بھری رہے گی ۔ایک استحصالی گروہ مسلمانوں کے اوپر مسلط کردیاگیاہے،کہیں آمر ہے، کہیں شیخ ہے،کہیں بادشاہ ہےاور کہیں فوجی حکمران ہے اور امریکہ ویورپ ان سب کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اسی لیے یہ لوگ تمام معاملات میں امت کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے امریکہ و مغرب کے ساتھی ہیں اور آج بھی عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے ظالموں کاساتھ دے رہے ہیں۔ان جیسے لوگوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا:

کل ایک شوریدہ بارگاہِ نبی پہ رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے ہیں
عجب ہیں یہ رہبران خودبیں خدا تری قوم کو بچائے
بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں

امت واحدہ کے تصور کو ختم کرنے کے لیےمسلمانوں کو جغرافیائی اور لسانی حدود کا پابندبنا دیاگیاہے اور ان میں قومی تعصب ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ علاقائی زبانوں اور قومیتوں اور اپنے مسلک اور مکتب فکر کو زیادہ محبوب بنا دیاگیاہے۔علامہ اقبال نے فرمایاتھا:

نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے

قومیت،زبان اور مسلک کو ثانوی درجہ دینےاورقومیت اسلام اور اللہ،رسول اور جہادکی محبت کو اپنا مرکز محبت بنا لینے سے امت کا شیرازہ مجتمع ہوگا اور قومیت اسلام زندہ ہو گی، اور امت کے اتحاد سے ہی حرمت رسول کا تحفظ ہوگا ۔
مسلمان خواہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو وہ توہین رسالت کو برداشت نہیں کر سکتا ہرمسلمان کی یہ خواہش ہے کہ وہ حرمت رسول پر قربان ہوجائے ۔امت مسلمہ میں عامر چیمہ شہید جیسے لاکھوں سپوت موجود ہیں جو آنحضور کی محبت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ الحمد للہ مومنین میں کوئی کمزوری نہیں ہے، کمزوری قیادت میں ہے۔مسلمان مدنی کریم کے عشق میں ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن ان کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے سینےعشق رسول سے خالی ہیں۔مسلمان عوام کے دلوں میں شمع رسالت روشن ہے، ان کے سینوں میں عشق نبی ہے۔ لیکن ان کے اوپر وہ لوگ مسلط ہیں جن کی فرنگیوں نے پرورش کی، انھیں غلامی کی تربیت دی اور پھرانھیں نواب اور حکمران بنایا۔ پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں ان کے تربیت یافتہ ڈکٹیٹر ،آمراور بادشاہ مسلط ہیں اور ان کے مفادات کو پورا کررہے ہیں۔یہ لوگ امریکہ اورمغرب سے اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں اورا پنی قوم کے ساتھ دغاکرکے اور اپنی قوم کی مصلحتوں کو نظر انداز اور اس کی تمناؤں کا خون کر کے امریکہ اور مغرب کے مفادات کو پورا کررہے ہیں۔ امت مسلمہ کی تمناؤں اور آرزوؤں کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ اور تعلق نہیں ہے۔ابھی پچھلے دنوں سینیگال میں او آئی سی کی سربراہی کانفرنس ہوئی ہے لیکن وہ مسلمانوں کے عقیدے سے جڑے اس اہم مسئلے پر کوئی متفقہ اور ٹھوس لائحہ عمل دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

مسلمان تمام پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں۔ اگر سب نبیوں پر ایمان نہ لائیں تو ایمان نامکمل ہے لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین اسوہ حسنہ ہے ۔ جو مسلمان حضور کی شفاعت کا طلبگار ہے، وہ سنت ثابتہ کی پیروی کرے ،حضور کی ناراضی سے بچے ۔ دشمنوں سے اصل انتقام یہی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے جذبے کو اجاگر کیاجائے اور سنت رسول کی پیروی کی جائے اورقرآنی نظام کے نفاذ اور غلبہ دین کے لیے ہر دم جدوجہد کی جائے۔تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مصطفوی تہذیب کے فروغ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیں،ہر جگہ سے فحش اور بےحیائی کی ساری چیزوں کو ختم کردیں اور جو مظاہر حضور کے امتی کو زیب نہیں دیتے،ان سے باز آجائیں،خواتین باوقار لباس پہنیں اور مرد باوقار کلچر اپنائیں اور حضور کی سیرت کو نمونہ بنا کر اخلاقی بلندی،عدالت،امانت اور صداقت کا اعلیٰ معیاراپنانے کی کوشش کریں،اور اس کو ایک تحریک کی شکل دے دیں تاکہ یہ پوری دنیامیں مسلمانوں پر اثر انداز ہو اور اس کے نتیجےمیں اسلامی اور مصطفوی تہذیب غالب آجائے۔



واپس اوپر^^designed by
aliftek