امرائے صوبہ جما عت اسلامی پاکستان
اسداللہ بھٹو امیرجماعت اسلامی صوبہ سندھ
مولانا عبدالحق ہاشمی امیر جماعت اسلامی صوبہ بلوچستان
قیمین صوبہ
سیدوقاص جعفری قیم جماعت اسلامی صوبہ پنجاب
شبیر احمد خان قیم جماعت اسلامی صوبہ سرحد
راشد نسیم قیم جماعت اسلامی صوبہ سندھ
عبدالکبیر شاکر قیم جماعت اسلامی صوبہ بلوچستان
لیاقت بلوچ
امیر جماعت اسلامی پنجاب
لیاقت بلوچ جنوبی پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ دسمبر 1952 ء میں ملتان میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ایم اے ماس کمیونیکیشن کے علاوہ گریجویشن میں قانون کی ڈگری حاصل کررکھی ہے.سکول کے دنوں میں لیاقت بلوچ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے۔ ان کی ضلعی اور صوبائی سطح پرمختلف ذمہ داریاں رہیں۔ وہ دو دفعہ ناظم اعلٰی اسلامی جمعیت طلبہ منتخب ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران انہوں نے طلبہ سیاست میں بھرپورحصہ لیا اور سیکرٹری جنرل کے علاوہ طلبہ یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے۔
1978 ء میں طلبہ حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہونے کے سبب انہیں ایشین سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کا صدر چنا گیا۔
وہ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (WAMY) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف اسلامک سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (IFSR) کےممبر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم اے میں پہلی پوزیشن اور گولڈ میڈیل حاصل کرنے کے باوجود لیاقت بلوچ نے عملی زندگی کی ابتدا صحافت یا لیگل پریکٹس سے کرنے کے بجائے سیاست کے میدان کا انتخاب کیا تاکہ عوام کی خدمت کر سکیں۔ ٹھنڈے اوردوستانہ مزاج کی وجہ سے وہ ملک کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ملک بھرکے مختلف مسلمان مکاتب فکر کے درمیان مصالحتی کوششوں کی بنا پر وہ 1996 ء سے 1997 ء تک ملی یکجہتی کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
وہ 1994 ء سے1997ء تک جماعت اسلامی پاکستان کے پولیٹیکل بیورو کے سیکرٹری اور اطلاعاتی کمیٹی کے ممبررہے۔ لیاقت بلوچ دو دفعہ لاہور سےقومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ انہوں نے ایوان زیریں میں پارلیمانی پارٹی کی قیادت بھی کی۔
جماعت اسلامی کے پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے انہوں نے اپنے دوادوار میں پارلیمانی تاریخ میں اچھی روایات قائم کیں۔
رکن کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں لیاقت بلوچ نے سائنس اور ٹیکنالونی پر سٹینڈنگ کمیٹی کی قیادت کی۔ وہ اسی ایوان میں پبلک اکاؤنٹس اور بزنس کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔
انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق اورخدمت کے نیٹ ورک کے قیام میں اہم کردار ادا کیاجو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے میں اہم کردارادا کررہا ہے۔اس نیٹ ورک نے بے شمار دکھی لوگوں کی داد رسی کی۔
لیاقت بلوچ نے ایران،چائنہ،ترکی،روس اور متعدد ایشیائی ممالک کے اعلٰی سطحی وفود کے ممبر ہونے کی حیثیت سے دورے کیے۔ اس کے علاوہ جماعت کی طرف سے مختلف سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں کی دعوت پر سعودی عرب،ہانگ کانگ، تھائی لینڈ،قطر،متحدہ عرب امارات،لندن، امریکہ،کینیڈا،ناروےاور بنگلہ دیش میں بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی غرض سے سفر کرچکے ہیں۔
.jpg)
سراج الحق
امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد
سراج الحق جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیراور صوبائی حکومت میں سابق سینئروزیر ہیں۔ میٹرک تک بنیادی تعلیم آٹھ مختلف سکولوں میں حاصل کی جس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج تیمر گرہ سے بی اے کی ڈگری لی ، پشاور یوینورسٹی سے بی ایڈ اور پھر ایم اے کیا۔ تعلیمی دور میں آٹھویں جماعت سے ہی کالجزیونیورسٹیز کی سطح پر ملک گیر تنظیم (اسلامی جمعیت طلبہ ) سے وابستہ ہو گئے ۔ تین سال صوبہ سرحد جمعیت کے ناظم رہے بعد ازاں 1998 میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بنے ۔ تعلیمی مراحل سے فراغت کے بعد جب عملی میدان میں گئے تو تقریباً ایک سال جماعت اسلامی کے کارکن کے طور پر کام کیا بعد میں رکن بن گئے ایک سال ضلع دیر میں جندول کے علاقہ میں رکن کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ۔ پھر جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے ۔ اکتوبر 2002 کےانتخابات میں دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بطور سینئر وزیر حکومت میں چار سال فرائض سر انجا م دیے۔ بعد ازاں 2003 میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر بنے۔سراج الحق کی درویش صفت طبعیت اور مجاھدانہ اوصاف کی بدولت تحریکی اور عوامی حلقوں میں انکو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔جماعت اسلامی صوبہ سرحد کی گراں بار ذمہ داری آپ جس منظم انداز میں نبھا رہے ہیں اس سے آپکی خداداد صلاحیتوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت میں آپکےمئوثر کردار کے اپنے اور بیگانے سب ہی معترف ہیں۔کئی غیر ملکی اداروں نے صوبہ سرحد میں اپنی سروے رپورٹوں میں صوبائی حکومت اور بالخصوص آپکے حکومتی کردار کی تعریف کی ہے۔
سراج الحق صاحب اردو،انگریزی،فارسی،عربی،پشتو اور دیگر زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں۔پشتو کے علاوہ اردو میں بھی آپکی تقریر عوامی حلقوں میں پسند کی جاتی ہے۔ آپ جماعت اسلامی اور صوبائی حکومت کی طرف سے مشرق وسطی اور کئی یورپی ممالک کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔آپکی صلاحیتوں اور اہم دینی و سیاسی حیثیت کی بدولت دنیا بھر سےآپکو عالمی کانفرنسوں میں دعوت دی جاتی ہے
اسد اللہ بھٹو
امیر جماعت اسلامی سندھ
اسداللہ بھٹو 1946 ء میں سکھر شہر میں پیدا ہوئے۔1967 ءمیں اسلامیہ کالج سے بی اے کیا جبکہ 69 ءمیں بدرعالم لا کالج سکھر سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ دسمبر1970 ءسے شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں۔آپ بچپن سے ہی تعلیمی وسماجی سرگرمیوں کی طرف مائل تھے۔ ساتویں کلاس میں ”انجمن شوق اسلام“ نامی بچوں کی تنظیم کے بانی صدر منتخب ہوئے۔اس کا مقصد طلبہ میں شوقِ علم اور محبت اسلام پیدا کرنا تھا۔غریب بچوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے اور روزگار کی فراہمی کے لئے1966ء میں ”سٹیزن سوشل ویلفیئر سوسائٹی“ بنائی ۔ سوسائٹی کے زیر اہتمام’ کوچنگ سنٹر‘ قائم کیا گیا جس میں 150 بچے شام کے اوقات میں مفت تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس وقت کی اقوام متحدہ کی سیکرٹری سوشل ویلفیئر نے سکھر کا دورہ کیا اور سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے سرٹیفیکیٹ دیا۔
سید مودودی کی تعلیمات سے متاثر ہو کر1969ءمیں جماعت میں شامل ہوئے،1973 ءمیں آپ کی رکنیت منظور ہوئی۔ 74 ءمیں مقامی جماعت کے امیربنے، اس کے بعد سے مسلسل مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے ہیں 1985 ءسے1991 ءتک جماعت اسلامی سندھ کے پولیٹیکل بیورو کے صدر رہے۔1996 ءسے2002 ءجماعت اسلامی سندھ کے امیراور بعد ازاں 2002 ءسے2006 ء تک جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیررہے۔اس دوران متحدہ مجلس عمل بنی توانھیں صوبہ سندھ کا صدر مقرر کیا گیا۔
اسداللہ بھٹو 2002 ء کے انتخابات میں کراچی کے حلقہ 253 سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔آپ ہیومن رائٹس نیٹ ورک پاکستان کے بانی جنرل سیکرٹری ہیں۔
مولانا عبدالحق ہاشمی
امیرجماعت اسلامی صوبہ بلوچستان
مولانا عبدالحق ہاشمی 30 ستمبر1963 ء کو کوئٹہ شہر میں پیدا ہوئے ۔ پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد قرآن مجید حفظ کرنے کے شوق میں فیصل آباد آگئے ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے انہوں نے 1977 میں قرآن مجید حفظ مکمل کیا۔ بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور والدین کی تربیت کی وجہ سے دینی لگاؤ رکھتے تھے۔ اسی شوق نے آپ کو قرآن و حدیث کے علوم سیکھنے پر مجبور کیا اور آپ نے جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن لاہور میں داخلہ لے لیا اور 1983 میں وفاق المدارس السلفیہ کے بورڈ سےایم اے عربی ، اسلامیات (درس نظامی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران آپ نے لاہور بورڈ سے میٹرک بھی کر لیا جبکہ بعد ازاں 1986میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ۔اے کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔
دینی ذوق ، تعلیمی لگن اور اعلیٰ اوصاف کی بدولت مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب میں اسکالر شپ کی بنیاد پر ایل ایل ایم (شریعہ )کرنے چلے گئے ، 1990میں ایل ایل ایم (شریعہ)کی ڈگری حاصل کی ۔ اسی دوران دو سال ناظم حلقہ جماعت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رہے۔
1990 تا 1996 چھے سال مدارس کمیٹی بلوچستان کے سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے جبکہ 1993 تا 2000 ء انٹرنیشنل اسلامک چیئرسٹی فاونڈیشن کویت کے نمائندے کی حیثیت سے سات سال بلوچستان میں تدریس کے فرائض بھی سر انجام ریتے رہے۔
دین کے ساتھ لگاؤ کے سبب بہت جلد سید ابو الاعلیٰ مودودی کی دعوت نے ان کے دل پر اثر کیا ۔ اور باقاعدہ جماعت اسلامی کے فعال رکن کی حیثیت سے جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے۔
1994 تا 1999جماعت اسلامی بلوچستان کے مالیات کے ناظم رہے۔ 1998 تا 2000 ء جماعت اسلامی صوبہ بلوجستان کے قیم (سیکرٹری )کےفرائض سر انجام دیتے رہےجبکہ بعد ازاں نائب امیر بنا دیے گئے۔ 2003 ءسے اب تک جماعت اسلامی صوبہ بلوچستان کے امیر کی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں۔
مولاناعبدالحق ہاشمی پر عزم ، زندہ دل اور جواں ہمت شخصیت کے مالک انسان ہیں۔امارت کے علاوہ الخدمت فاونڈیشن بلوچستان کے صدر بھی ہیں جبکہ جامعہ دراسات اسلامیہ اور جامعہ المحضات کوئٹہ میں تدریس کےعلاوہ بلوچستان کے حالیہ سیاسی مسائل کے حل کے لئے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔مولانا عبدالحق ہاشمی بلوچستان میں ایک عرصے سے موجود کشیدگی اور امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے تمام قوم پرست جماعتوں اور سیاسی ودینی حلقوں میں اتحاد کی فضاء قائم کر کے نصف پاکستان کی سیاست کو مستقبل میں بہتر ی کی طرف گامزن کرنےکے لیے کوشاں رہے۔
|