JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
(غازی عبدالقیوم شہید)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عین ایمان ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اللہ کے رسول کی شان اقدس میں ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ آج تک جس شخص نے بھی شانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں ادنیٰ گستاخی کی اسے انہوں نے معاف نہیں کیا اور اس شخص کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی چھوڑا ۔ لاہور کے ایک ہندو راجپال نے ایک گستاخانہ کتاب"رنگیلا رسول"لکھی تو اس وقت لاہور ہی کے ایک غیرت مند نوجوان غازی علم الدین آگے بڑھے اور اس ہندو کو اس کی گستاخی کا مزہ چکھا دیا۔ راجپال کو قتل کرنےکے جرم میں اس عاشق رسول کو عدالت عالیہ سے سزائے موت کا حکم سنایا گیا انہو ں نے اللہ کے رسول کی عزت و حرمت پر جان دے کر ابدی زندگی حاصل کر لی۔

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را

غازی علم الدین شہید کی محبت اور زبانوں پر اس مرد مجاہد کے تذکرے ہیں لیکن غازی عبدالقیوم کا کارنامہ عوام و خواص کی نظرو ں سے اوجھل ہے، ان کے نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

ابتدائی زندگی و تعلیم:

غازی عبدالقیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا۔ چھٹی جماعت پاس کر کے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کردیا اکثر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے ۔ اسکول چھوڑ کر قرآن مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگئے، صوم و صلٰوۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے۔
1932 ء میں ان کے والد عبداللہ خان صاحب انتقال کر گئے۔ ان کی چھ بہنیں تھیں جو کہ اچھے گھرانوں میں بیاہی گئیں،ایک بھائی جوان سے بڑے ہیں ان کا نام ہمایوں خاں ہے جو محکمہ امداد باہمی میں بحثیت ہیڈ کلرک، سپرنٹندنٹ ملازمت کرکے ریٹائر ہوچکے ہیں۔
جب ان کی عمر 21 ۔ 22 سال کی ہوئی تو 1934 ء میں ان کی شادی کرادی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعدان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا، وجہ یہ تھی کہ انکے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے، وہاں بھی ان کا زیادہ تر وقت صدر کی مسجد میں تلاوت قرآن، ذکر اللہ اور نوافل وغیرہ عبادات میں گزرتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے مسجد میں چسپاں ایک اشتہار پڑھا، واقعات پڑھ سن کر ان کو جوش آگیا، دوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھورام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے۔

نتھورام بدانجام کا حشر:

یہ 1933 ء کے اوائل کا ذکر ہے، جب سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدر آباد(سندھ) کے سیکریٹری نتھو رام نے "ہسٹری آف اسلام" کے نام کی ایک کتاب شائع کی، جس میں آقائے دوجہاں ، سرکار دوعالم کی شان اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا، مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑااضطراب پید اہوا، جس سے متاثر ہوکر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھو رام پر عدالت میں مقدمہ چلایاگیا، جہاں اس پر معمولی سا جرمانہ ہوا اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدل و انصاف کی اس نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھا دیا اوراس نے وی ایم فیرس جوڈیشل کمیشنر کے یہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔ کمشنر کی عدالت نے اس گندہ ذہن، شاتم رسول کی ضمانت منظور کرلی۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ بہت مضطرب اور فکر مند تھے کہ توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فتنے کا سدباب آخر کس طرح کیا جائے۔ہزارے کا رہنےوالا عبدالقیوم نام کا ایک نوجوان تھا جو کراچی میں وکٹوریہ گاڑی چلاتا تھا۔ جونا مارکیٹ کی کسی مسجد میں اس نے اس واقعہ کی تفصییل سنی اور یہ معلوم کرکے کہ ایک ہندو نے حضور سرورکائنات کی توہین کی ہے، اس کے غم و اضطراب اور اندوہ و ملال کی کوئی حد نہ رہی۔ ستمبر1934 ء کا واقعہ ہے کہ مقدمہ اہانت رسول کے ملزم نتھورام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جارہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بینچ پر مشتمل تھی۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہواتھا۔غازی عبدالقیوم نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلا کی قطار کے پیچھے نتھورام کی برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھو رام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھرپور وار کئے نتھورام چاقو کے زخم کھا کر زور سے چیخا اور زمین پر لڑکھڑا کرگر پڑا۔غازی عبدالقیوم نے پولیس کی گرفت سے بچنےاور فرار ہونے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی۔ اس نے نہایت ہنسی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ انگریز جج نے ڈائس سے اتر کر اس سے پوچھا: تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا؟غازی عبدالقیوم نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر تمہارے بادشاہ کی ہے۔ کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موت کے گھاٹ نہیں اتاردو گے؟اس ہندو نے میرے آقا اور شہنشاہ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ جسے میری غیرت برداشت نہیں کرسکی غازی عبدالقیوم پر مقدمہ چلا۔ اس نے اقبال جرم کیا۔ آخر کار سیشن جج نے اسے سزائے موت کاحکم سنایا ۔ غازی عبدالقیوم نے فیصلہ سن کر کہا:

جج صاحب!میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزادی ۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے، اگر میرےپاس ایک لاکھ جانیں بھی ہوتیں، توناموس رسالت پر نچھاور کردیتا"

اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی۔ دیندار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غازی عبدالقیوم کا قانونی دفاع کرنے کے لئے سامنے آگیا۔ سید محمد اسلم بارایٹ لاء کو عبدالقیوم کی پیروی کی سعادت حاصل ہوئی۔
لیکن اس مرد مجاہد(عبدالقیوم) نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے قانونی مشیر پر واضح کردیا کہ میں نے ماتحت عدالت میں جو اقبالی بیان دیا ہے، اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا۔ سید محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اورشہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خاں اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے ملک کے ممتاز علماء کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نقطہ نظر واضح کرسکیں، لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی۔ مقدمہ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی تھی کہ
"یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے ، تو وہ اسے موت کے گھاٹ اتاردے"
اپیل کی سماعت جسٹس دادیبا مہتہ(Dadiba Mehta) اور 9 ارکان جیوری کے سامنے شروع ہوئی۔ جیوری چھ انگریزوں، دو پارسیوں اور ایک گواہ عیسائی ممبر پر مشتمل تھی۔ عدالت کے باہر کم وبیش 25 ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبدالقیوم کے پیرو کار سید محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدام قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی۔ ان کی تقریر کے بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون و انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زریں حروف میں لکھا جائے گا۔
انہوں نے "اشتعال" کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا:" سوال یہ نہیں ہے کہ عبدالقیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ عبدالقیوم نے یہ اقدام انتہائی اشتعال کے عالم میں کیا ہے، تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے جس کی اجازت دفعہ 302 کے تحت قانون نے دے رکھی ہے۔ اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے یا کسی عورت کے معاملے میں قاتل کو"اشتعال" کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اصول عبدالقیوم کے مقدمے میں کیوں قابل قبول نہیں ہے جبکہ ایک مسلمان کے لیے ناموس رسول پر حملے سے زیادہ اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوسکتی"
وکیل صفائی کی تقریر کے دوران جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے اس اظہار خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟سید محمد اسلم نے اس موقع پر جواب دیا:
"جناب والا! مسلمان ، حکومت اور ہندو اکثریت کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں، مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے وہ ناموس رسالت کے خلاف اٹھنےوالی ہر آواز اور قوت کو ختم کر کے رہے گا۔ اس معاملے میں مسلمان کو تعزیرات ہند کی پرواہ ہے، نہ پھانسی کے پھندے کی" غازی عبدالقیوم کے پیرو کار سید محمد اسلم نے اقدام قتل کے لیے اشتعال کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیاتھا، اگر وہ تسلیم کر لیاجاتا، تو ناموس رسالت پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصور بھی نہ کرسکتا۔ لیکن عدالت عالیہ نے یہ اپیل خارج کردی۔ غازی عبدالقیوم کے لیے سزائے موت بحال رہی۔ پرجوش اور مضطرب مسلمانوں کے لیے یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا۔ بالآخر فروری 1935ء میں کراچی کے مسلمانوں نے ایک وفد حکیم الامت علامہ اقبال کی خدمت میں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وفد جس میں مولوی ثناء اللہ، عبد الخالق اور حاجی عبدالعزیز شامل تھے، لاہور پہنچا او رمیکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوکر اس مقدمے کی روداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس کے بعد عرض کیا کہ آپ وائسرائے سے ملاقات کریں۔ اپنے اثرورسوخ کوکام میں لائیں اور انہیں اس پر آّمادہ کریں کہ غازی عبدالقیوم کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی جائے۔ وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ سعی و توجہ فرمائیں ، تو پوری توقع ہے کہ غازی عبدالقیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومت ہند ضرور منظور کرلے گی"
رحم کی اپیل پر علامہ اقبال کا جواب:

علامہ وفد کی یہ گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔وفد کے ارکان منتظر اورمضطرب تھے کہ دیکھئے علامہ کیافرماتے ہیں۔

 توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملےگا کہ ایک عاشق رسول کا معاملہ دوسرے عاشق رسول کے سامنے پیش ہے۔ اس سکوت کو پھر علامہ اقبال ہی کی آواز نے توڑا۔ انہوں نےفرمایا : کیا عبالقیوم کمزور پڑ گیاہے؟ ارکان وفد نے کہا : نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے۔ اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی۔ وہ تو سارے زمانے سے کہتا ہےکہ میں نے شہادت خریدی ہے۔ مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو"
وفد کی اس گفتگو کو سن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا۔ انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجرو ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہوسکتا ہوں؟کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مرگیا تو شہید ہے"
علامہ کے لہجے میں اس قدر تیزی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرات نہ کرسکے۔ وفد کراچی واپس ہوگیا۔ غازی عبدالقیوم کوجس دن پھانسی دی گئی کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اضطراب کا یادگار دن تھا۔ دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش یہ شہادت ہمیں میسر آتی۔
لاہور میں غازی علم الدین اور کراچی میں غازی عبدالقیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبال نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرمادیا۔ یہ اشعار "لاہور اور کراچی" کے عنوان سے "ضرب کلیم" میں شائع ہوسکے ہیں مگر غازی عبدالقیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعہ کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے۔

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ! اے مرد مسلمان تجھے کیا یاد نہیں
حرف لاتدع مع اللہ اٰلھا آخر

لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے وقت جنازہ جلوس نکالے۔ لاکھوں نے ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی ، ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان نچھاور کرنےو الے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میوہ شاہ کے علاقہ قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر دفن کیاگیا۔

تحریر:"قاری فیوض الرحمن"



واپس اوپر^^designed by
aliftek