JusticeForPakistan.com
Listen Tafheem
Listen Tafheem
important contacts
محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔

یہ شخص ایک جاہل قوم اور ایک نہایت تاریک ملک میں پیدا ہوا تھا۔ چالیس برس کی عمر تک گلہ بانی اور سوداگری کے سوا اس نے کوئی کام نہ کیا تھا، کسی قسم کی تعلیم و تربیت بھی اس نے نہ پائی تھی ، مگر غور کرو، چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد کہاں سے اس کے اندر یکایک اتنے کمالات جمع ہوگئے؟کہاں سے اس کے پاس ایسا علم آگیا، کہاں سے اس میں یہ طاقت پیدا ہوگئی؟ایک اکیلا انسان ہے اور ایک ہی وقت میں بےنظیر سپہ سالار بھی ہے، ایک اعلیٰ درجہ کا جج بھی ہے، ایک زبردست مقنن بھی ہے۔ ایک بے مثل فلاسفر بھی ہے ،ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن بھی ہے، ایک حیرت انگریز ماہر سیاست بھی ہے۔پھر اتنی مصروفیتوں کے باوجود راتوں کو گھنٹوں اپنے خدا کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت بھی کرتا ہے۔ ایک بڑے ملک کی بادشاہی مل جانے پر بھی وہ ایک فقیر کی سی زندگی بسر کرتا ہے ۔ بوریے پر سوتا ہے، موٹا جھوٹا پہنتاہے۔ غریبوں کی سی غذا کھاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی فاقے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔
یہ حیرت انگیز کمالات دکھا کر اگر وہ کہتا کہ میں انسان سے بالاتر ہستی ہوں تب بھی کوئی اس کے دعوٰی کی تردید نہ کرسکتا تھا، مگر جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا؟اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب میرے کمالات ہیں، اس نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں، سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے جو کلام پیش کیاہے ، جس کی نظیر لانے سے سب انسان عاجز ہیں، یہ میرا کلام نہیں ہے نہ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔ یہ خدا کاکلام ہے اور اس کی ساری تعریف خدا کے لیے ہے۔ میرے جتنے کام ہیں یہ بھی میری اپنی قابلیت سے نہیں ہیں، محض خدا کی ہدایت سے ہیں، ادھر سے جو کچھ اشارہ ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اور کہتا ہوں۔ اب بتاو کہ ایسے سچے انسان کو خدا کا پیغمبر کیسے نہ مانا جائے۔ اس کے کمالات ایسے ہیں کہ تمام دنیا میں ابتدا سے لے کر آج تک ایک انسان بھی اس کے مانند نہیں ملتا۔ مگر اسکی سچائی ایسی ہے کہ وہ ان کمالات پر فخر نہیں کرتا۔ ان کی تعریف خود حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ جس نے یہ سب کچھ دیا ہے صاف صاف اسی کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں؟جب وہ خود اپنی خوبیوں کے متعلق کہتا ہے کہ یہ خدا کی دی ہوئی ہیں۔ تو ہم کیوں کہیں کہ نہیں یہ سب تیرے اپنے دماغ کی پیدا وار ہیں؟جھوٹا آدمی تو دوسروں کی خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ شخص ان خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جنہیں وہ آسانی کے ساتھ اپنی خوبیاں کہہ سکتا تھا، جن کے حاصل ہونے کا ذریعہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوسکتا تھا، جن کی بنا پر اگر وہ انسان سے بالاتر ہونے کا بھی دعوٰی کرتا تو کوئی اس کی تردید نہ کرسکتا تھا، پھر بتاو کہ اس سے زیادہ سچا انسان کون ہوگا۔
دیکھو، یہ ہیں ہمارے سرکار، تمام جہان کے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ان کی پیغمبری کی دلیل خود ان کی سچائی ہے۔ ان کے عظیم کارنامے، ان کے اخلاق ، ان کی پاک زندگی کے واقعات ، سب تاریخوں سے ثابت ہیں۔ جو شخص صاف دل سے حق پسندی اور انصاف کے ساتھ ان کو پڑھے گا اس کا دل خود گواہی دے گا کہ وہ ضرور خدا کے پیغبر ہیں۔ وہ کلام جو انہوں نے پیش کیا وہ یہی قرآن ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اس بے نظیر کتاب کو جو شخص بھی سمجھ کر کھلے دل سے پڑھے گا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ ضرور خدا کی کتاب ہے ۔ کوئی انسان ایسی کتاب تصنیف نہیں کرسکتا۔

(سید ابوالاعلیٰ مودودی)


واپس اوپر^^designed by
aliftek